طلبا کی مجروح عزت نفس - حنظلہ عماد

طلبہ و طالبات کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن تب جب ان کے اندر اعتماد کی دولت ہے۔ عزت نفس مجروح ہو، اعتماد میں کمی ہو تو ایسا ممکن نہیں اور ہمیں اپنے معاشرے میں کثیر تعداد ایسے ہی طلبہ کی نظر آتی ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی یہ بہت بڑی خامی ہے جسے درست کرنا بہت ضروری ہے۔ دراصل خود اعتمادی کی کمی ہی وہ وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے گریجویشن اور ماسٹرز کرنے والے طالب علم بھی عملی میدان میں کوئی بھی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ بی اے یا ایم اے پاس طالب علم سے کسی بھی موضوع پر دو منٹ بات کرنے کا کہہ دیں، وہ ہونقوں کی طرح آپ کا منہ دیکھے گا۔پہلا جواب عموماً یہی ملتا ہے کہ یہ ہمیں پڑھایا نہیں گیا، حالانکہ یہ انتہائی بھونڈا جواب ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف نصاب کی کتابیں رٹنا نہیں ہوتا بلکہ طلبا کے لیے علم و آگہی کے دروازے کھولنا ہوتا ہے تاکہ وہ جی بھر کر اپنے علم کی پیاس بجھا سکیں اور معاشرے کو درپیش مسائل کا حل دریافت کریں۔مگر ہمارے ہاں صورتحال برعکس ہے۔ تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طلبا مسائل حل کرنے کی بجائے خود مسائل کی وجہ بن رہے ہیں۔

مثلاً یونیورسٹی یا کالج کے نوٹس بورڈپر تعلیمی وظائف حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی فہرست آویزاں کی جاتی ہے۔ اگر یہ وظائف تعلیمی قابلیت یا اعلیٰ کارکردگی کی بیناد پر ہوں تو طلبا نوٹس بورڈ پر اپنا نام دیکھ کر یقیناً خوشی محسوس کرتے ہیں اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے ہیں۔ مگر ایسے طلبا جو اپنے مالی حالات کے باعث مجبور ہوں اور ضرورت کی بنیاد پرانہیں تعلیمی وظائف دیے جائیں تو ان کا نام نوٹس بورڈ پر آویزاں کرنا سراسر تذلیل ہے۔ جس طالب علم کو ضرورت کی بنیاد پر تعلیمی وظیفہ دیا جاتاہے اس کی عزت نفس اس اعلان سے مجروح ہو کر رہ جاتی ہے۔ تعلیمی ادارے کے تمام طلبا و دیگر لوگ اس بات سے واقف ہوجاتے ہیں کہ فلاں طالب علم اس قدر غریب ہے کہ اس کے والدین تعلیمی اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کر پارہے، اسی لیے وہ حکومت یا دیگر تعلیمی وظائف دینے والوں سے مدد کا خواہاں ہے۔

بظاہر یہ صورتحال اس قدر سنگین محسوس نہیں ہوتی مگر جس طالب علم کا نام یوں نوٹس بورڈ پر آویزاں ہوتاہے، اس کی حالت بہت عجیب ہوتی ہے۔ وہ اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں تعلیمی میدان میں تو شاید نمبر وغیرہ لے کر پاس ہو جائے مگرعملی زندگی میں ہمیشہ کے لیے اعتماد کی کمی اس کا مقدر ٹھہر جاتی ہے۔ ایسے طالب علم اپنے تعلیمی ادارے میں بھی نظریں چراتے پھرتے ہیں۔ یہ بات بجا ہے کہ بہت سے طالب علم دھوکے کے ذریعے اپنے آپ کو غریب ظاہر کرتے ہیں اور یوں کسی کا حق مارتے ہوئے ان پیسوں سے عیاشی کرتے ہیں۔ ایسے طلبا کے لیے یہ معاملہ بالکل معمول کے مطابق ہے مگر کوئی بھی حقدار طالب علم اس میں نہایت سبکی محسوس کرتا ہے کہ اس کی غربت کا چرچا ہو اور ہر کوئی اس کے حالات سے واقفیت حاصل کرے۔ معاملہ صرف طالب علم کا نام نوٹس بورڈ پر آویزاں کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ تعلیمی وظائف کے لیے کیے جانے والے انٹرویو بھی اس معاملے میں سنگین کردار ادا کرتے ہیں۔ طالب علم سے ایسے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ جو اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے میں بھرپور کردار اد اکرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ طالب علم کی تحقیق کرنا ضروری ہے کہ آیا وہ مستحق بھی ہے یا نہیں؟ مگر تحقیق کرنے اور طالب علم کو زچ کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے اور ہمارے ارباب اختیار کو اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

یہی نہیں، اس سے پہلے جب طالب علم سکول میں اپنے تعلیمی سفر کاآغاز کرتا ہے تو اس موقع پر اسے بھرپور اعتماد دینے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر اس کا اہتمام بھی شاذ ہی کیا ہے۔عموماً تعلیم کے سفر کا آغاز طلبا کی سزا سے ہوتا ہے۔ کسی بھی طالب علم کی غلطی پر پوری کلاس کے سامنے اسے بے عزت کیا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر بہت کم یہ اہتمام ہوتا ہے کہ طالب علم کی غلطی کا اصل محرک جانتے ہوئے اسے غلطی سدھارنے کا موقع دیا جائے بلکہ پہلی ہی غلطی سنگین شمار ہوتی ہے اور طالب علم دو صورتوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ اولا ًوہ اعتماد کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے، اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتا۔ یوں ایک با صلاحیت نوجوان معمولی سی غلطی کے باعث اپنی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ دوئم ایسا طالب علم وقت گزرنے کے ساتھ ڈھیٹ ہوجاتا ہے اور اس پر بعد ازاں کسی مار یا ڈانٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ یہی طالب علم جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ایک بے حس فرد کاکردار اداکرتا ہے جسے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں سے کچھ خاص غرض نہیں ہوتی ہے۔ یوں ایک بے حس معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

مزید برآں، کالج اور یونیورسٹی میں بھی اس معاملے پر کچھ خاص دھیان نہیں کیا جاتا بلکہ عموماً کلرک اور دیگر عملہ طلبا کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔فیس بھرنی ہو یا معمولی نوعیت کا کوئی بھی کام ہو اس کے لیے طلبا سے بلا مقصد چکر لگوانا اور ان کو ذلیل کرنا ان افراد کا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس کلچر کے باعث طلبا میں ایک سنگین خرابی در آتی ہے جسے چاپلوسی کہا جاتا ہے۔ طلبا عموماً اساتذہ ا ور دیگر ماتحت عملے کی چاپلوسی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ انداز بعد ازاں ان کی عادت بن جاتا ہے اور عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی یہ عادت ان میں موجود رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشر ے میں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کی اکثریت چاپلوسی کے ذریعے اپنا کام نکلوانے کی کوشش کرتی ہے۔

متذکرہ بالا مسائل بظاہر بہت معمولی نوعیت کے ہیں مگر درحقیقت ان ہی مسائل کے باعث ہماری معاشرتی زندگی میں بہت سا بگاڑ در آیا ہے۔ ابتدا بہت معمولی عمل سے ہے مگر اس کا نجام نہایت خطرناک ہے۔ ان حالات میں ہمارے ارباب اقتدار اور وزارت تعلیم کو سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غوروخوض کی ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com