ماہ ذی الحج، پہلے دِس دِن، فضیلت، مسائل اور غلطیاں - عادل سہیل ظفر

ذی الج کے پہلے دس دِن بہت فضلیت والے ہیں، لیکن ہماری بگڑی ہوئی عادات کا شِکار ہو کر ہمارے درمیان اپنی اَصلی حالت کھو چکے ہیں اور دیگر دینی معاملات اور عِبادات کی طرح اِن دِنوں کا حال بھی بے حال کیا جا چُکا ہے۔

یہ دس دِن حج کرنے والے اور نہ کرنے والے سب ہی مُسلمانوں کے لیے بہت فضلیت والے ہیں اور سب کے لیے اُن کے اکیلے، لاشریک خالق و مالک اللہ تبارک و تعالیٰ نے حُکم فرمایا ہے وِ یَذکُرُوا اسَّمَ اللَّہِ فِیۤ اَیَّامٍ مَعلُومَاتٍ اور وہ اللہ کے نام کو یاد کریں معلوم شدہ دِنوں میں (سُورت الحج(22)/ آیت 28)

عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے معلوم شدہ دِنوں کی تفسیر میں کہا کہ"یہ ذوالحج کے پہلے دِس دِن ہیں اور گنتی کے دِنوں کی تفسیر میں کہا کہ یہ اَیامِ تشریق ہیں " (صحیح البُخاری /کتاب العیدین / باب فضل العمل فی اَیام التشریق)

عبداللہ ابنِ عبَّاس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا مَا الْعَمَلُ فِى أَيَّامِ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِى هَذِهِ اِن دس دِنوں میں کیے جانے والوں کاموں(یعنی نیک کاموں )سے زیادہ بہتر کام اور کوئی نہیں

صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا "کیا جِہاد بھی نہیں ؟ "

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا وَلاَ الْجِهَادُ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَىْءٍ جِہاد بھی نہیں، سوائے اِس کے کہ کوئی اپنا مال اور جان لے کر نکلے اور اُس میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ آئے یعنی، صِرف وہ جِہاد اِن دس دِنوں کے عمل سے زیادہ بہتر ہے جِس میں مُجاہد کی جان اور مال دونوں ہی اللہ کی راہ میں کام آ جائیں(صحیح البُخاری /حدیث 929 /کتاب العیدین /باب 11)

اِن دس دِنوں میں ہی اِسلام کے پانچ اَرکان میں سے ایک کو ادا کرنے کا وقت ہوتا ہے اور وہ رکن ہے حج

حج کی فرضیت

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے وَ لِلَّہِ عَلیٰ النَّاسِ حِجّ ُ البَیتِ مَنِ اَستَطاعَ اِلَیہِ سَبِیلاً، وَ مَن کَفَرَ فَاِنَّ اللَّہَ غَنِيٌ عَنِ العَلٰمِینَ اور لوگوں میں سے جِس کی قُدرت میں ہو اُس پر اللہ کے لیے ( اللہ کے ) گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور جو انکار کرے گا، تو اللہ سب جہانوں سے غنی ہے(سورت آل عمران(3)/ آیت 97)

لہٰذا ہر وہ مُسلمان جو حج کے لیے اللہ کے گھر تک پُہنچنے اور حج کرنے کی طاقت رکھتا ہے، یعنی مالی اور جسمانی طاقت تو اُس پر حج کرنا فرض ہو جاتا ہے۔

حج کی فضلیت

ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ جِس نے(اللہ کے) اِس گھر کا حج کیا، اور جنسی معاملات میں ملوث ہونے، اور گُناہ کرنے سے باز رہا تو وہ اُس دِن کی طرح واپس آئے گا جِس دِن اُس کی ماں نے اُسے جنم دِیا تھا(صحیح البُخاری/حدیث /1819کتاب المحصر/باب19 /صحیح مُسلم /حدیث/3357کتاب الحج/باب79)

یومِ عرفات

اِن دس بلند رتبہ دِنوں کا نواں دِن وہ ہے جِس دِن حاجی میدانِ عرفات میں قیام کرتے ہیں، یہ ہی وہ قیام ہے جِس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےفرمایا الْحَجُّ عَرَفَةُ حج عرفات (کا قیام) ہے (سُنن ابن ماجہ/حدیث /3129کتاب المناسک/باب57،سُنن الترمذی/حدیث898،المُستدرک الحاکم/حدیث /1703کتاب الصوم/ اول کتاب المناسک، حدیث شریف صحیح ہے)

جِس قیام پر اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اَظہار کرتا ہے إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِى الْمَلاَئِكَةَ بِأَهْلِ عَرَفَاتٍ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِى شُعْثاً غُبْراً اللہ عزّ وجلّ (یوم) عرفات کی شام میں اھل عرفات کے بارے میں اپنے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو میرے اِن بندوں کو کہ میرے پاس گرد و غبار سے اٹے ہوئے آئے ہیں (مُسند اَحمد /حدیث/8268 مُسند ابی ھُریرہ رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث رقم 950،صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ/حدیث 1868)

یہی وہ دِن ہے کہ جِس دِن میں اللہ تعالیٰ دوسرے دِنوں کی نسبت سب سے زیادہ بندوں کی مغفرت کرتا ہے مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِى بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ یوم عرفات کے علاوہ کوئی اور دِن ایسا نہیں جِس میں اللہ دوسرے دِنوں کی نسبت سب سے زیادہ اپنے بندوں کی بخشش کرتا ہے اور بے شک اللہ نیچے تشریف لاتا ہے اور اپنے اُن بندوں کے بارے میں فرشتوں کے سامنے اظہار فخر کرتا ہے اور کہتا ہے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟ (صحیح مُسلم/حدیث/3354کتاب الحج /باب79)

جومُسلمان اِس قیام میں شامل نہیں ہوتے لیکن اِس دِن کا روزہ رکھتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن لوگوں کو اِس دِن کا روزہ رکھنے کی صُورت میں ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے کے گُناہ معاف ہونے کی خوش خبری دِی صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِى قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِى بَعْدَهُ عرفات کے دِن کے روزے کےبارے میں مجھے اللہ سے یقین ہے کہ اُس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک گذرے ہوئے سال اور ایک یومء عرفات کے بعد والے سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے(صحیح مُسلم/حدیث/2803کتاب الصیام/باب36)

عید ا لاَضحی

اِن دس دِنوں کا دسواں دِن حج کرنے اور حج نہ کرنے والوں کے لیے اللہ کی راہ میں جانور قُربان کرنے کا دِن ہے

اور حج کرنے والوں کے لیے اپنے اَحرام سے حلال ہو جانے کا دِن ہے

اور سب مُسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے(سُنن ابو داؤد، سُنن النسائی، سُنن الترمذی )

پہلے دس دِنوں میں کی جانے والی غلطیاں

حاجی اور غیر حاجی اِن دس دِنوں میں اپنے اپنے فرائض ادا کرنے میں نہ صِرف کوتاہی کرتے ہیں بلکہ بہت سی غلطیاں کرتے ہیں جو غلطیاں عام طورنظر آتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں

(1) لوگ عام طور پر اِن دس دِنوں کو دوسرے عام دِنوں کی طرح گُزار دیتے ہیں اور اِن میں نیک کاموں کی کثرت کرنا تو درکنار کوئی بھی نیک کام عام معمولات سے زیادہ نہیں کرتے

(2) تسبیح (سُبحان اللَّہ)، تکبیر (اللَّہُ اَکبَر)، تہلیل (لا اِلہَ اِلَّا اللَّہ) اور تحمید (الحَمدُ للَّہ) نہیں کی جاتی یا بہت ہی کم کی جاتی ہے، جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اِن دس دِنوں میں گلیوں بازاروں میں اللہ کی تکبیریں بُلند کیا کرتے تھے(صحیح البُخاری /کتاب العیدین /باب فضل العمل فی اَیام التشریق)

(3) تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کو با جماعت کیا جانا

(4) مَردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی با جماعت ا ور بُلند آواز کے ساتھ اِس تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید میں شامل ہونا

(5) تسبیح، تکبیر اور تہلیل اور تحمید کے ساتھ موسیقی کو شامل کرنا یا رقص کرنا یا کسی اور انداز میں بد مستی کے مظاہرے کرنا

(6) تسبیح، تکبیر اور تہلیل اور تحمید کو خلافِ سُنّت اپنے الفاظ میں، اپنی گنتی میں، اپنے انداز میں ادا کرنا

(7) تسبیح، تکبیر اور تہلیل اور تحمید کو عام جگہوں پر با آوازِ بُلند نہ کہنا

(8) سارے کے سارے دس دِنوں کا روزہ رکھنا، یہ کام بھی خِلافِ ءسُنّت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کبھی اِن دس دنوں کے روزے نہیں رکھے سوائے 9 ذی الحج یعنی قیامِ عرفات کے دِن کے، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَائِمًا فِى الْعَشْرِ قَطُّ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ذی الحج کے اِن پہلے )دس دِنوں کے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (صحیح مُسلم/حدیث/2846کتاب الاعتکاف/باب4 صَوْمِ عَشْرِ ذِى الْحِجَّةِ)

(10) اَیامِ تشریق، یعنی گیارہ، بارہ، تیرہ ذی الحج کے روزے رکھنا

(11) عید کی نماز پڑھنے سے پہلے سنت سمجھ کر کچھ کھانا پینا، جیسا کہ عید الفطر میں کیا جاتا ہے

(12) بغیر کِسی عُذر کے عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنے کی بجائے کِسی مسجد میں پڑھنا

(13) عید کے دِن کو یا اِن دِنوں میں کِسی اور دِن کو (یا اِن کے علاوہ سال کے کِسی بھی دِن کو) قبرستان یا کِسی خاص قبر کی زیارت کے خاص کرنا

(14) عید ملنے کے نام پر حلال و حرام کی تمیز ختم کر کے، محرم نا محرم کا فرق مٹا کر، شرم و حیا کو رُخصت کر کے، غیرت و حمیت کا جنازہ نکال کر، عید ملن اَجتماع کرنا، ایسی ملن پارٹیاں جِن میں سب بھائی، بہنیں، دیور، بھابھیاں، انکل، آنٹیاں اور کزنز موجود ہوتے ہیں اور کِسی شرعی حد کا خیال اور لحاظ کیے بغیر ہوتے ہیں، اور کہتے ہیں "پردہ تو نظروں کا ہوتا ہے" گویا اِن کی نظریں پاک ہیں اور جِن پر سب سے پہلے پردہ کا حُکم نازل ہوا تھا اُن کی نظریں پاک نہ تھیں، کُچھ اپنے تئیں اِن سے بھی زیادہ مضبوط دلیل رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے سُنائی دیتے ہیں کہ "دِل صاف ہونے چا ہِئیں" گویا اِن کے دِل تو صاف ہیں اور جِن پر سب سے پہلے پردہ کا حُکم نازل ہوا تھا اُن کے دِل صاف نہ تھے، اِنِّا لِلِّہِ و اِنَّا اِلیہِ راجِعُونَ، و اللَّہُ المُستعَانُ۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.