قربانی اور ملحدوں سے "اعوذ" پڑھنے کا حکم - حامد کمال الدین

اِس تحریر میں ملحدین کے وہ طبقے مخاطب ہیں جو ہر سال ہمارے حج و قربانی کے موقع پر ’غریب کی بچی کے بن بیاہے‘ رہ جانے کے درد بھرے تار چھیڑتے ہیں پھر جیسے ہی ہمارے اِن شعائر کا وقت گزرتا ہے یہ اپنے وہ سب ساز اور آہیں سمیٹ کر رکھ دیتے ہیں، جہاں پورا سال یہ اپنے ہر ’فیسٹی ول‘ اور ہر ’نائٹ‘ سے محظوظ ہوں گے اور ’غریب کی بچی‘ یہ پورا عرصہ اِن کی موج مستیوں سے محظوظ ہوتی رہے گی!


ملحدو!
دوسری ملتوں کو تو بےشک دلیل ہی درکار ہو گی؛ اور ان کو اللہ کے فضل سے ہم دلیل ہی دیتے ہیں۔
لیکن تم وہ ملت جس کے بُغض اور بددیانتی کی نشاندہی کردینا ہی ہم کو کفایت کرتا ہے!!!

’شوق‘ کا دنیا میں کوئی مول نہیں... تو ’’شعائر‘‘ تو اس سے کہیں بڑی چیز ہے! کیا نہیں ہے؟
’’شعائر‘‘... یعنی اپنے معبود کےلیے سچے جذبے کے ساتھ کچھ پیش کرنا۔ معبود جو تمہاری یا کسی اور کی مرضی کا پابند نہیں؛ وہ اشارہ کر دے تو اُس سے نہ پوچھا جائے کہ کیوں؛ اور نہ اُس کی فرمائش کے آگے ’معاشی و مالیاتی‘ مشورے دیے جائیں کہ وہ چیز کیوں طلب کرتے ہو یہ کیوں نہیں لے لیتے!

’’معبود‘‘ جو ’محبوب‘ سے بہت اوپر کا درجہ ہے!!!

یہاں شادی بیاہ پر آپ کیا کچھ نہیں لٹاتے! ’پاس‘ یا ’پروموشن‘ ہوجانے ایسے ایک معمولی واقعے پر لوگوں نے یہاں کیسی کیسی اہتمام کی ’پارٹیاں‘ نہیں کی ہوتیں؟ ’تقریبات‘ پر کیا نہیں ہوتا؟ اِن ’خوشیوں‘ اور اِن ’مواقع‘ پر وہ کتنا کتنا پیسہ نہیں بہا دیتے؟ (جسے ’مذہب‘ بہرحال ایک ضبط دیتا ہے؛ یعنی اسراف و فضول خرچی کے حوالے سے اپنے ماننے والے کو اس پر کچھ حدود و قیود کا پابند کرتا ہے؛ اور یہ بات اللہ کے فضل سے ہر کسی کو معلوم ہے)۔ اِس مالیاتی اسراف پر جو اکثر و بیشتر ہوتا ہے، کسی ملحد کو البتہ کبھی غشیاں نہیں پڑیں۔ نہ اس کے خلاف ان کے ہاں تحریک اٹھانے کی نوبت آئی۔ ایسے کسی موقع پر جہیز کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے ان کو آپ نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔

تو پھر ’’شعائر‘‘ تو اس سے کہیں بلندتر ایک چیز ہے۔ ’’شعائر‘‘ کو دمڑیوں سے ماپنے کی بات کیوں کرتے ہو؟؟؟

’’شعائر‘‘ کی یہ حیثیت اے ملحدو تم بھی جانتے ضرور ہو، مگر مسئلہ دیانت کا ہے!!! مثلاً ’ہیپی نیو ایئر‘ کی شراب و کباب/ہوٹلنگ اور ’ویلنٹائن‘ وغیرہ تمہارے ہاں کچھ ’’شعائر‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں؛ جن کا موازنہ ہمارے ’’شعائر‘‘ سے ہو تو نہیں سکتا، لیکن پھر بھی تمہارا ذوق و شوق اُس وقت دیدنی ہوتا ہے اور آدمی کو کچھ وقت کےلیے محسوس ہوتا ہے کہ تم مادہ کے پجاری بھی ایک ملت ہو؛ کیونکہ اُس دن تم اشیاء کو ’پیسوں‘ کی نظر سے نہیں دیکھ رہے ہوتے!!! تمہیں معلوم ہے، ’یہی رقم کسی کے جہیز پر دے دینے‘ کی بات وہاں پر کی جائے تو تم جل بھن کر رہ جاؤ گے اور ایسی بات کرنے والے کی عقل اور ذوق پر ماتم کرو گے! ’’شعائر‘‘ اسی چیز کو کہتے ہیں! شکر ہے تمہارے ہاں کوئی چیز ایسی پائی جاتی ہے جہاں تم ’پرائس ٹیگ‘ سے اوپر ہو کر سوچنے کا تصور کر سکو! تم نے نوٹ کیا، ’ہیپی نیو ایئر‘ یا ’بسنت‘ یا ’ویلنٹائن‘ کے موقع پر ہم صرف تمہارا بطلان کرتے ہیں؛ ’اس پیسے کے کسی اور مصرف‘ والی بات کرنا اس مقام پر بھی گھٹیا جانتے ہیں!!! اس لیے کہ ’’شعائر‘‘ ایک چیز ہی ایسی ہے جسے اس کا ماننے والا ’پیسوں‘ کی نظر سے دیکھنے کا روادار نہیں رہتا، اگرچہ وہ کیسے ہی غلط مذہب پر قائم کیوں نہ ہو۔ دیکھو، باطل معبود پر مرنے کے ہم ضرور خلاف ہیں لیکن ’عبادت‘ کے معنیٰ کی قدر کرتے ہیں! ہم جذبوں کی تحقیر نہیں کرتے؛ صرف ان کے صحیح محل کے تعین پر زور دیتے ہیں!

البتہ ’اسی رقم سے کسی غریب کے ہاتھ پیلے کرنے‘ ایسی تحریک جو تم ہمارے شعائر کے موقع پر بےتحاشا چلاتے ہو، ایسی کوئی ’مخلصانہ‘ تحریک تم اگر اپنے ہیپی نیو ایئر اور ویلنٹائن کے موقع پر چلاؤ اور ’وہی پیسہ‘ اس ناؤ نوش پر لگانے سے یکسر روک دینے کا یہ ’حکیمانہ‘ شور اگر تم اپنے اُن تہواروں پر الاپو... تو ہم کہیں، واقعتاً تم اِس مسئلہ پر کسی ’دلیل‘ ہی کے ضرورتمند ہو۔ مگر تم ایک قبیلہ جس سے ہمیں صرف ’’اعوذ‘‘ پڑھنا ہوتی ہے! ’دلیل‘ کا تمہارے ساتھ کیا کام!

یہی تو وجہ ہے، تمہیں آج تک کسی ملت نے سنجیدگی سے نہیں لیا!!! دنیا کی ہر ملت کسی یقین اور محبت پر قائم ہوگی، سوائے تمہارے جو شک اور بغض اور ناانصافی پر قائم ہے... اور ناانصافوں کو خدا ہدایت نہیں دیتا۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

یہ وجہ ہے کہ دنیا میں ہر ملت کا گھر بسا، سوائے تمہارے۔ تاریخ اس پر گواہ ہے۔ تمہارا اپنا گھر کبھی نہ ہوا؛ تم البتہ ہر گھر کے اٹھائی گیرے۔ دزدِ نیم شب کہ جس کا سب گزارہ بستے گھروں میں نقب لگانے پر رہا۔ کیونکہ گھر محبت اور یقین پر بنا کرتے ہیں؛ شک اور بغض پر گھر بھلا کب بنتے ہیں۔ یہ سب لُوٹنے کے اوزار ہیں نہ کہ بسنے کے سامان! ہر ملت تم سے ’اعوذ‘ ہی پڑھتی رہی؛ اور تم ہر دور اور ہر ملت کے وسواس الخناس، جسے ہر کسی کے شعائر میں بھنگ ڈالنے اور ہر گھر کی خوشی پر بین کرنے کی ذمہ داری سونپ رکھی گئی ہے!

ہیپی نیو ایئر، ویلنٹائن اور بسنت منانے... اور تھرکنے ناچنے والی ملت! غریب کےلیے تمہاری پریشانی...؟؟؟ سبحان اللہ!!!

تسلی رکھو، ہمارے شعائر میں تو غریب کا باقاعدہ حصہ رکھا گیا ہے؛ اور یہ آیت ہماری اِن قربانیوں ہی سے متعلق ہے:

فَکُلُوا مِنۡھَا وَأطۡعِمُوا الۡبَائِسَ الۡفَقِیۡرَ (الحج: 28)

’’ان (قربانیوں) سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ‘‘۔

اور بلاشبہ یہاں کثیر مخلوق ایسی ہے جنہیں پورا سال گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا... سوائے جس دن ہمارے شعائر ہوتے ہیں۔ ہمارے شعائر کے دن پوری قوم کا پیٹ بھرتا ہے؛ اور غریبوں کے چہرے پر بھی کچھ رونق اور خوشی عود کر ہی آتی ہے؛ اور یہ بات تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ ’’خدا کی رحمت‘‘ اس دن تمام اہل زمین محسوس کرتے ہیں... اور کیا بعید اُس دن شیاطین تک کو بھُنا گوشت ملتا ہو؛ کہ خدا کی رحمت اِس جہان میں منکروں تک کو پہنچتی ہے!

پس ہمارے شعائر کی رِیس تو تمہارے بس کی بات نہیں؛ تم بات کرو اپنے شعائر کی؛ جو نری ہوس اور خودغرضی پر قائم ہیں... مانند ’ہیپی نیو ایئر‘، ’ویلنٹائن‘ اور ’بسنت‘!!!

تم غور کرو تو تمہارا ’ہیپی نیو ایئر‘ اور ’ویلنٹائن‘ یا ’بسنت‘ وغیرہ منانا، اُن مواقع پر پیسہ لٹانے میں تمہارا ایک خاص لطف اور تسکین پانا، اس ’خرچے‘ پر اعتراض یا تعجب کرنے والے ایک ’کم نظر‘ کو تمہارا انتہائی قابلِ ترس جاننا اور ایسے ’محرومِ تماشا‘ کےلیے ’ذوقِ تمنا‘ کا آرزومند ہونا... غور کرو تو ان سب اشیاء کے باطل اور لغو ہونے کے باوجود، تمہارے اس میں سوچنے اور سمجھنے کےلیے بہت کچھ ہے۔ ’ملت‘ کے معانی سے یکسر بےنیاز ہونا گویا انسان کےلیے ممکن ہی نہیں! ذرا سوچو، تمہارے بھی تہوار ہوتے ہیں!!!

اندازہ کرو اِس جہان میں تم جیسی ایک ملت بھی، جس کا معبود ہے ہی مادہ، اپنے ’شعائر‘ کے موقع پر ’اخلاص‘ اور ’قربانی‘ کے کچھ معانی سے واقف ہو ہی جاتی ہے! تو پھر ذرا ہماری بابت سوچو جو روزِ ازل سے چلی آتی، انبیاء کی پیروکار، ایک حقیقی ملت ہیں اور زمین و آسمان کی مالک ہستی کو پوجتے اور ایک ابدی جہان میں اُس کی رضا کے خواستگوار ہوتے ہیں؛ ایک ابدی جہان جو تمہارے افق سے بلندتر ایک تصور ہے؛ مگر خدا نے اپنے فضل سے ہمیں عنایت کر رکھا ہے!!!

پس ’عبادت‘ تو تم بھی کسی نہ کسی چیز کی کرتے ہی ہو، اور اس کےلیے ایک بےکیفی کے تصور سے بھی کچھ نہ کچھ آشنا ہو۔ البتہ سچے لازوال معبود کو پوجنے میں جو بےخودی ہمیں عطا ہوتی ہے، وہ تمہارے تصور سے فزوں تر ہے۔ ہم کس لطف اور کس نعمت میں ہیں، یہ تو تمہیں کبھی ہدایت ہی ملے تو تمہیں اندازہ ہو!

’دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے‘!

یہاں تو ’ویلنٹائن‘ ایسا ایک ہوس پرست تہوار منانا اور اس کےلیے جذبات میں آنا بھی ایک خاص ’ذوق‘ چاہتا ہے! خود اس سے ’محروم‘ رہنے والے کےلیے بھی اِن لوگوں کے پاس تعجب، ترس اور ’چچچ‘ ہی ہوتی ہے...! یعنی بیچارہ جو ویلنٹائن سے لطف تک نہیں لے سکتا!

تو ملتِ ابراہیمی کے ایک شعار سے، جو قربانی اور وفا کے معانی سے لبریز ہے، جِلا پانا... کیا ہر ذوق اور ہر سطح کے آدمی کو نصیب ہے!؟


نوجوانو! یہ خدا کی وہ مخلوق ہے جس کے ساتھ بحث اور حجت بازی کی ضرورت نہیں؛ اِس سے صرف ’اعوذ‘ پڑھی جاتی ہے۔ تسلی رکھو، ہماری قربانیاں ’’غریب‘‘ کا خوب پیٹ بھرتی ہیں، الحمد للہ۔ اِن ظالموں کی کھوکھلی ’غریب پرستی‘ کا صرف ایک جواب: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔

اور... آمَنۡتُ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ

Comments

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین

حامد کمال الدین ایقاظ (ماہنامہ، ویب سائٹ) کے ایڈیٹر، اور 20 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ دین سے وابستہ تحریک اور معاشرہ، اصولِ سنت، تجدید اور تجدد کے مابین خط فاصل کا بیان ان کا دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!