مہمانانِ رحمٰن سے چند گزارشات، خطبۂ حرم مکی

تعارف خطیب

جسٹس ڈاکٹر صالح بن محمد بن ابراہیم بن محمد  بن ناصر آل طالب عرب کے معروف قبیلے بنو طے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے  سلجھے ہوئے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ سن بلوغ کو پہنچنے سے پہلے ہی قرآن کریم حفظ کر لیا۔پرائمری، مڈل اور ہائی سکول کی تعلیم ریاض کے سکولوں سےحاصل کی۔ ریاض ہی کی شریعہ فیکلٹی سے 1994ء میں بیچلرز کیا۔ 1997ء میں تقابلی فقہ میں ماسٹرز کیا۔جسٹس مقرر ہوئے ۔  بطور  جج انٹرنیشل  لا پڑھنے  حکومت نے برطانیہ بھیجا۔ اسی دوران  امام حرم لگا دئیے گئے ۔ امامت حرم کو ترجیح دیتے ہوئےآپ برطانیہ سے چند دیگر مختصرکورسز کر کےو طن لوٹ آ ئے۔5 نومبر 2002ء سے اب تک امام اور خطیبِ حرم ہیں۔    آپ سعودیہ کے مختلف شہروں میں قاضی  بھی رہ چکے ہیں اور 1999ء سے لے کر اب تک مکہ مکرمہ کی ہائی کورٹ  میں جسٹس بھی ہیں۔ آپ نے دینی علم شیخ ابن باز اور ابن جبرین جیسے  جید ترین علما سے حاصل کیا۔ قرآن اور علم قراءات بھی  محمود عمر عسکر جیسے نامی قراء سے سیکھا۔سعودی شہر رابغ میں جمعیت تحفیظ القرآن کے سربراہ  رہ چکے ہیں۔کئی  آرکنائزیشنز کے ممبر ہیں اور پاکستان سمیت دنیا کے متعددممالک کے دعوتی دورے کر چکے ہیں۔

پہلا خطبہ:

الحمد للہ! تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اسی نے بیت اللہ کو اپنا گھر منتخب فرمایا ۔ اسے بت پرستی سے پاک فرمایا، اسی نے بیت اللہ کو ہر دور میں پاکیزہ رکھا اور اسے محفوظ مقام بنایا۔ اسی نے بیت اللہ کے علاقے میں تلبیہ کی آوازوں کو بلند کرنے کا انتظام فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور منتخب  رسول ہیں۔ ان کے فرمان برداری کرنے والوں کے لیے کامیابیاں اور ان کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے دردناک سزائیں ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر اور موت تک حق پر ثابت قدم رہنے والوں پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، کیونکہ انسان کے اعضا سے کی جانے والی ساری عبادتوں کا مقصد تقویٰ ہی ہے، تو بھلی نیت اور بہترین عمل سے تقویٰ حاصل کرو۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘ (توبہ: 119)

اے بیت اللہ کے حاجیو! اے مسجدِ رسول ﷺ کی زیارت کرنےوالو! یہ اللہ کا عظیم گھر ہے، یہ بیت اللہ کا حرم ہے ۔ یہی وہ جگہ ہے کہ جس کے شوق میں تم نے اب تک کی زندگیاں گزاری ہیں اور جس کی طرف رخ کر کے تم نے اب تک رکوع اور سجدے کیے ہیں۔

یہی نبی اکرم ﷺ کی درس گاہ ہے۔ جبریل ﷤ نے یہیں طواف کیا۔ انہی جگہوں نے وحی نازل ہوتے دیکھی اور وحی کی پہلی آیات یہیں گونجیں۔ یہی ہے وہ جگہ جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی پھیلانے اور پھر قیامت کے قریب واپس سمیٹ لینے  کے لیے منتخب فرمایا، جسے مسلمانوں کا قبلہ اور مرکز بنایا۔ ارکان اسلام میں کوئی ایسا رکن نہیں جو کسی جگہ سے جڑا ہوا ہو سوائے اس فریضے جو اس زمین سے جڑا ہوا ہے۔

تو یہاں آنے کی امیدیں پوری ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کیجیے۔ یہاں پہنچنا آپ کو مبارک ہو اور یہاں کی برکات آپ کی بھلائی کا ذریعہ بنیں!

اے مسلمانو!

یقیناً ان دنوں امت اسلامیہ عظیم ترین دنوں سے گزر رہی ہے، ان دنوں اسلام کا ایک عظیم فریضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ ان دنوں میں اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف فرماتا اور خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے، پھسلے قدم پھر سے جما دیتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے۔ یہ ہے حج کا فریضہ اور یہ ہیں ذو الحجہ کے پہلے دس دن۔ یہی قرآن مجید میں  مذکور ’’معلوم‘‘ دن ہیں اور یہی ’’گنے چنے‘‘ دن ہیں۔

بیت اللہ کا حج اتحاد اور توحید کی علامت ہے۔ یہ معاہدوں کے اعلان کا موسم ہے۔ یہ حقوق کی پاسداری کا وقت ہے۔ یہ جان، مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کی گھڑی ہے۔

کیا شان وشوکت والی جلالت، خوبصورتی اور کشش ہے، بیت اللہ میں آنے والے حاجیوں کے منظر میں، مشاعر مقدسہ کے راستوں میں، ایک ہی لباس میں ملبوس، ایک ہی طرح کے حال میں آنے والے حاجیوں میں اور سب سے بڑھ کر حاجیوں کے تلبیے میں!

’’حاضر ہوں! اے اللہ! میں حاضر ہوں! حاضر ہوں! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے! میں تیرے لیے حاضر ہوں! تعریف بھی تیری ہے، ساری نعمتیں بھی تیری ہیں اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں!‘‘

’’تلبیہ پڑھنے والوں کی خوشی کے کیا کہنے۔ ان کا رب تو بڑا ہی عظیم اور بڑا ہی بلند ہے۔ جو اس رب کے لیے حاضر ہو جائے اور اس کا تلبیہ پڑھے، وہ کب ناکام ہو سکتا ہے؟ یہ بول بھی کتنے بھلے لگتے ہیں جب حاجیوں کے منہ سے نکلتے ہیں! حج اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے۔  سب مل کر کہتے ہیں: اے اللہ! ہم تیرے لیے حاضر ہیں۔‘‘

دلوں میں بسنے والی جگہ کو دیکھ کر بھرے جذبات سے دل بھر آئے ہیں، تمناؤں کو حقیقت میں بدلتا دیکھ کر آنکھیں نم ہو گئی ہیں، اب دلوں کو اللہ سے رحمت کے سوا کوئی تمنا نہیں رہی، اللہ سے ملاقات کے شوق سے بڑھ کر دل میں کوئی شوق نہیں رہا! دنیا کی زیب وزینت اور خوبصورتی کو سب پیچھے چھوڑ آ ئے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا وفد پورا ہو چکا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’تاکہ (حاجی) وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں۔‘‘ (حج: 28)

یہ حاجی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے متلاشی ہیں۔ یہ سب اللہ کو راضی کرنے میں کوشاں ہیں اور پاکیزہ ترین جگہ کی طرف بڑھتے آ رہے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی  اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا ۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا  وہ امن والا ہو گیا۔‘‘ (آل عمران: 96-97)

حاجی اس بابرکت وقت میں حضرت ابراہیم ﷤ کی ہر دم تازہ رہنے والی پکار پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ ابراہیم﷤ کے لیے فرمانِ الٰہی تھا:

’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار آئیں۔ تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں۔‘‘ (حج: 27-28)

حاجی دین اسلام کا پانچواں فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس گھر کا حج کرے۔‘‘ (آل عمران: 97)

یہ ہیں بیت اللہ کے حاجی! جو تلبیہ پڑھ رہے ہیں، دعائیں مانگ رہے ہیں، اللہ کی رحمت کا سوال کر رہے ہیں اور اس کے عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں، کیونکہ انہی بابرکت مقامات پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، یہیں خطائیں دھلتی ہیں اور یہاں سے حاجی یوں پلٹے ہیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔ دنیا کے کسی اور مقام کو یہ فضیلت حاصل نہیں ۔

تو اے مسلمانو! بیت اللہ کی قدر کرو! اس جگہ کے تقدس اور وقت کی برکت کو ملحوظ رکھو! آپ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے:

’’جس نے اللہ کے اس گھر کا حج کیا اور اس دوران نہ کوئی گناہ کیا اور نہ گناہ کی کوئی بات کی تو وہ یوں لوٹے گا کہ گویا آج ہی پیدا ہوا ہو۔‘‘ (بخاری)

اسی طرح فرمایا:

’’ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک کے گناہ عمرے کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کوئی نہیں ۔‘‘ (بخاری)

اللہ تمہاری نیکیاں قبول فرمائے! تمہارے گناہ اور غلطیاں معاف فرمائے! تمہیں حج مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! اور تمہاری خواہشات پوری فرمائے!

اے دنیا کے مشرق اور مغرب میں بسنے والے مسلمانو! اے بیت اللہ کے حاجیو!

یہ دن نیکی اور بھلائی کے دن ہیں اور بھلائی میں مقابلہ کرنے والوں کے لیے بہترین میدان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان دنوں کی قسم کھائی ہے۔ فرمایا:

’’قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔‘‘ (فجر: 1-2)

ان دنوں کی نیکی کا اجر بہت زیادہ ہے۔ ان دنوں کی قدر وقیمت بھی بہت بڑی ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:

’’سال کے کسی دن میں نیکی اتنی افضل اور اللہ تعالیٰ کے ہاں  اتنی پسند نہیں ہے جتنی ان دنوں میں ہے‘‘ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ کیا اللہ کے راہ میں جہاد بھی ان دنوں کی عبادت سے افضل نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں! جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں کی عبادت سے بہتر نہیں ہے۔ ہاں! اگر کوئی شخص اپنی جان اور اپنا مال لے کر نکلے اور پھر نہ مال لے کر لوٹے اور نہ جان، تو اس کا عمل ان دنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔‘‘(بخاری)

اسی طرح فرمایا:

’’تو ان دنوں میں کثرت سے لا الٰہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد للہ پڑھا کرو۔‘‘ (مسند احمد)

اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر! لا الٰہ الا اللہ! اللہ اکبر! اللہ اکبر! وللہ الحمد!

یہ بھی پڑھیں:   لوگوں نے پوچھا ہے - مفتی منیب الرحمن

یہ بابرکت دن مسلمان کو سنت پر عمل پیرا ہونے کی، کئی قسم کی عبادتیں کرنے کی، اللہ کی طرف لوٹنے اور نفس کو پاکیزہ کرنے کی  ترغیب دیتے ہیں۔

نبی اکرم ﷺ کے فرمان: ’’سال کے کسی اور دن میں نیکی اتنی افضل اور اللہ کو اتنی پسند نہیں ہوتی‘‘ سے پتا چلتا ہے کہ ان دنوں میں ہر قسم کی نیکی اللہ کو محبوب ہے۔ چنانچہ مسلمان کو تازہ دم ہو کر عبادت میں اعلیٰ ترین درجے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی خواہشات کو لگام دینی چاہیے،  بظاہر دلفریب دنیا کی زیب وزینت سے کچھ دیر کے لیے دور ہو جانا چاہیے۔

اے بیت اللہ کے حاجیو!

حج کے اعمال شروع ہونے لگے ہیں، تو انہیں شروع کرنے سے پہلے حج کے احکام سیکھ لو۔ عبادت کرنے سے پہلے عبادت کا طریقہ اچھی طرح جان کر درست طریقے سے عبادت یقینی بناؤ۔ عبادت کے لیے وقت نکالو اور جس کام آئے ہو اسی کام پر سارا وقت لگاؤ۔ عبادت اور فرمان برداری میں وقت گزارو کیونکہ سستی یا کاہلی کی تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نہ مل پائیں گی۔

کثرت سے دعا کرو اور دعا میں انکساری اختیار کرو! ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہو! نبی ﷺ کا فرمان ہے:

’’کعبے کا طواف، صفا اور مروہ کے درمیان سعی اور کنکریاں مارنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنا ہی ہے۔‘‘ (ابو داؤد، ترمذی)

تو جب تم عرفات پہنچو تو اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور بہت دعائیں مانگو! اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرو اور اس سے دنیا وآخرت کی بھلائیاں مانگو۔ بار بار دعا کرو اور اس عظیم جگہ  کھڑے ہو کر مکمل عاجزی کے ساتھ دعا کرو اور قبولیت دعا کی بہت امید  بلکہ پختہ یقین رکھو! کیونکہ حج عرفات ہی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’سب سے افضل دعا عرفات کے دن کی دعا ہے اور وہ بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام﷩ نے کی ہے، وہ دعا ہے: ’’لا اله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ‘‘۔ ‘‘ (ترمذی)

جو شخص حج نہ کر رہا ہو  تو اس کے لیے عرفات کے دن کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ روزہ رکھنے کے ساتھ اللہ سے یہ امید بھی رکھی جائے کہ اللہ اس روزے کی وجہ سے دو سالوں کے گناہ معاف فرما دے گا۔ یہ حکم نبی ﷺ کی حدیث میں آیا ہے، جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

سیدہ عائشہ ﷞ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عرفات کے دن سے زیادہ آگ سے بچائے جانے کی امید کسی اور دن نہیں کی جا سکتی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے قریب ہو جاتا ہے اور فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:  یہ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ (مسلم)

فرمانِ الٰہی ہے:

’’پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو، جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر لو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔‘‘ (بقرۃ: 198-200)

الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، الله أكبر، الله أكبر، ولله الحمدُ.

اے بیت اللہ کے حاجیو!

مشاعر مقدسہ کی فضا میں تکبیر کی آوازیں بلند کیجیے، تاکہ یہ فضا تکبیر سے گونج اٹھے اور اس بابرکت سرزمین پر قربانی کے جانور ذبح کیجیے ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تمنائیں اور دعائیں رکھیے، اپنے بزرگوں کی طرح ان وادیوں اور مقامات میں چلیے اور ہر وقت یاد رکھیے کہ آپ ایسے حرم میں ہیں کہ جس میں آنا ہر مسلمان کی تمنا اور دلی خواہش ہے۔

حج کے فرائض یوں بخوبی ادا کیجیے کہ گویا یہ آخری عمل ہیں۔ آخری عبادت سمجھ کر حج کیجیے، حج کی عبادت اس یقین سے کیجیے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے۔ یہ چند گھڑیاں اور لمحات ہیں جن کے بعد انسان پھر ایسے زمانے میں چلا جائے گا جو اس زمانے سے یکسر مختلف ہو گا اور ایسی جگہ پر ہو گا جو اس جگہ سے بالکل مختلف ہو گی۔ تب ان نیکیوں کا وقت گزر چکا ہو گا، دن بہت آگے جا چکے ہوں گے اور اس کی سواری اسے وہیں لے  جا چکی ہو گی جہاں سے وہ آیا ہے۔

اے مسلمانو!

حج کے ان مقامات پر اس منظر کو دیکھ کر بندے کو اخوت اور اتحاد کی حقیقت صحیح طرح سمجھ آ جاتی ہے۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو عطا فرمائی تھی۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’تم اُس احسان کو بھی یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے کہ  اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔‘‘ (آل عمران: 103)

مسلمانوں کے درمیان تفرقہ بازی کی ہر شکل جاہلیت کی شکل ہے۔ ان کا ہر جھگڑا تاریک تاریخ کا حصہ ہے اور اس کا اضافہ ہے۔ اتحاد اور اتفاق سے، انسان تو انسان، ساری کائنات درست ہو سکتی ہے۔ مؤمن مسلمان کو تو اتحاد واتفاق کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتحاد سے نوازا بھی ہے۔

جو شخص مسلمانوں میں اختلاف کا کوئی راستہ کھولتا ہے وہ اتحاد واتفاق کی نعمت کی ناشکری کرتا ہے، جاہلیت کی عادت اپناتا ہے، اپنی قوم کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے اور اپنی امت سے دھوکا کرتا ہے۔

مقدس مقامات، مواقع  اور عیدیں امت اسلامیہ کے ہر فرد کے لیے سلامتی کی ضمانت کا کام کرتی ہیں۔ مسلمان ایک دوسرے سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، وہ عید کے موقع پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اگر وہ ایک دوسرے سے لڑائی میں بھی ہوں تو عیدوں سے ان کے تنازعات ختم ہو جاتے ہیں۔

ایمانی اجتماعیت سے بڑھ کر کون سا منظر خوبصورت ہو سکتا ہے؟ اس میں امت اسلامیہ متفق نظر آتی ہے اور اس میں اسلامی اخلاق اور اقدار ظاہر ہوتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی اور  کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔‘‘ (بقرۃ: 197)

اس موقع پر رواداری، نرمی، مساوات، عدل، اخوت اور  محبت  اپنانی چاہیے، اختلافات سے گریز   کر کے  بھائی چارے جیسے عظیم اخلاق  دکھانے چاہیں ۔

حج کا یہ اجتماع امت کی ترقی کی راہ ہے، اس کے ذریعے سے امت میں وحدت اور اجتماعیت ہی آتی ہے۔ اس میں رواداری اور اختلافات سے گریز ہی نظر آتا ہے۔ یقیناً بیت اللہ  آمد کا موقع یہ حق رکھتا ہے کہ جس میں لوگ اپنے معاملات سدھار لیتے ہیں۔ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور صفیں درست کر لیتے ہیں۔ اگر اسلام نہ ہو تو پھر وحدت اور اتحاد و اتفاق بھی نصیب نہیں ہو سکتا۔

دینی شناخت ہی ہمارا حقیقی شرف ہے اور یہی سب سے  بڑی عزت ہے۔ ہاں حالات کے اتار چڑھاؤ سے یہ شناخت کمزور ہو سکتی ہے مگر  ختم نہیں ہو سکتی۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس کی  طرف انبیائے کرام بلاتے رہے ہیں۔ سارا قرآن اللہ تعالیٰ  کا کلام ہے اور لوگوں کے لیے یہ آخری کتاب ہے۔ محمد ﷺ خاتم النبیین  اور رب العالمین کے آخری پیغمبر ہیں۔

اس دین کی شناخت کس طرح کمزور پڑ سکتی ہے، یا اسے کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ یا اس شناخت پر دوسری قومی یا ملکی شناخت کو ترجیح کس طرح دی جا سکتی ہے؟

اے پروردگار! ہمارے معاملات سدھار دے! امت محمدیہ کو ہدایت اور سنت پر اکٹھا فرما! مسلمانوں کے دل جوڑ دے، فتنوں اور جنگوں کی آگ تھما دے اور اے پروردگار! اپنی رحمت ناز فرما!

فرمانِ الٰہی ہے:

’’اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو اور اگر کہیں  گھیر لیے جاؤ تو جو قربانی میسر  ہو، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جاؤ)، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور ا گر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے دنوں میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہوگا سفر حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے پس اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو۔‘‘ (البقرۃ: 196-197)

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم اور سنت رسول میں برکت عطا فرمائے! آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں! اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کا مطلوب طالب علم- شاہد محی الدین

دوسرا خطبہ

تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ وہی رحمٰن ورحیم ہے۔ وہی یوم جزا کا مالک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی حقیقی بادشاہ ہے اور ساری چیزیں واضح کرنے والا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور صادق وامین رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم ﷤ اور ان کے بیٹے بھی اسی وادی میں تھے۔ انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی، پھر خلیل اللہ نے حج کیا اور حج کے لیے لوگوں کو پکارا۔ پھر نسل در نسل ساری امتوں کے لوگ حج کے لیے چلے آتے رہے۔ وہ اس بابرکت زمین پر اپنے گناہ دھونے کے لیے آتے اور اپنے پروردگار کے ساتھ تجدید عہد کرتے۔

سب سے بڑا معاہدہ اور عہد جو انسان نے کیا ہے وہ توحید کا عہد ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ "میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ (الحج: 26)

جب ہمارے نبی ﷺ کو مبعوث کیا گیا، تو اس وقت لوگ سیاسی اور اخلاقی طور پر جاہلیت کے دور میں تھے۔ تہذیب وتمدن کے اعتبار سے انتہائی پسماندہ زندگی گزار رہے تھے۔ بے کار اور بے مقصد  زندگی جی رہے تھے، آپ ﷺ نے  انہیں سب سے پہلے توحید کی طرف بلایا اور دین میں آنے والوں کے عقائد کی تصحیح پر خصوصی توجہ دی۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ (انعام: 162-163)

چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی ساری زندگی توحید کی تبلیغ ہی میں گزاری۔ آخری لمحے تک توحید کی حمایت کرتے رہے اور لوگوں کو توحید پر اثر انداز ہونے والی چیزوں سے خبردار کرتے رہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پیغامات لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (یونس: 106-107)

اسی طرح فرمایا:

’’تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔‘‘ (عنکبوت: 17)

اور  فرمایا:

’’آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں۔ اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے‘‘ (احقاف: 5-6)

جب ابراہیم ﷤ نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تو انہوں یہ دعا کی:

’’اے رب، ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا۔‘‘ (بقرۃ: 128)

مسلمان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا جائے، اس کی فرمان برداری کی جائے اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری کا اظہار کیا جائے۔

عبادت کا طریقہ سکھانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عبادت کے طریقے میں بھی پیروی لازمی ہے، سنت پر چلنا ضروری ہے۔ تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیجیے اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہے ۔

حج کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہے جو اس کی روح کے خلاف ہیں۔ اس میں توحید کے سوا کسی چیز کی طرف بلانا درست نہیں، اس میں توحید اور سنت کے سوا کوئی نعرہ نہیں۔ دین اللہ ہی کا، شریعت بھی اسی کی اور جسے اللہ اور اس کے رسول کا کوئی پیغام مل جائے تو اس کے لیے باقی ساری چیزیں چھوڑکر حق کی اتباع ضروری ہے۔ قرآن وسنت کے پیغامات کو کسی دوسرے کے قول کی بنا چھوڑنا درست نہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔‘‘ (نور: 63)

اے بیت اللہ کے حاجیو!

نبی کریم ﷺ بعض مقامات ب‎پر دعا کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ مسلمان کے لیے بہت مناسب ہے کہ وہ بھی ان مقامات پر دعا کا خاص اہتمام کرے۔ ان مقامات میں عرفات کا دن، بالخصوص دن کا آخری حصہ، مزدلفہ میں نماز فجر کے بعد روشنی ہو جانے تک، ایام تشریق میں چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں  مارنے کے بعد اور اسی طرح صفا اور مروہ پہاڑ کی پہاڑیوں پر  دعا کرنا بھی شامل ہے۔

تو اپنے حج کو مکمل کرنے کی پوری کوشش کیجیے۔ کوئی کام کرو یا نہ کرو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ اپنے اعمال اور مقاصد میں اخلاص اختیار کیجیے۔ سنت اور ہدایت کی اتباع کیجیے۔ حج کا اجر کم کرنے والی چیزوں سے بچو۔ ہر معاملے میں نرمی، سکینت اور اطمئنان کا خاص خیال کیجیے۔ نرمی اپنائیے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے۔ خاص طور پر رش کے موقع پر، طواف کے دوران، کنکریاں مارتے وقت اور مسجد حرام کے دروازوں پر۔ عبادت کی اہمیت اور فضیلت کو ذہن نشین رکھیے۔

یہ بھی جان لیجیے کہ سعودی عرب کی حکومت اپنی تمام تر توانائیوں سے آپ کی خدمت میں ہے۔ وہ آپ کے حج کو آسان بنانا چاہتی ہے۔ حج کے تمام تر قیود وضوابط آپ کے بھلے کے لیے وضع کیے گئے ہیں اور یہ ساری کوششیں آپ ہی کے لیے ہیں۔

تو ہدایات پر عمل کیجیے، جیسے بتایا جائے ویسا کیجیے۔ خوب خیال رکھو کہ تم اللہ کے گھر میں ہو۔ بہترین رویہ اور بہترین اخلاق کا مظاہرہ کیجیے، سکینت اور وقار مت چھوڑیے۔ کوشش کیجیے، حق کے قریب قریب رہنے کی کوشش کیجیے، خوش ہو جائیے  اور اللہ سے بھلی امید رکھیے، کیونکہ آپ ایک کریم رب کے سامنے ہو۔ اللہ آپ کا حج قبول فرمائے، آپ کی محنت کا صلہ عطا فرمائے اور آپ کے گناہوں کو معاف فرمائے۔

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

نظر ثانی:  حافظ یوسف سراج

بشکریہ، پیغام ٹی وی

Comments

محمد عاطف الیاس

محمد عاطف الیاس

عاطف الیاس مغل نے ام القریٰ یونیورسٹی، سعودی عرب سے گریجویشن جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ اسلامی فکر وتہذیب میں ایم فل یو ایم ٹی، لاہور سے جبکہ لیڈز یونیورسٹی سے لسانیات میں بھی ایم فل کیا۔ سعودی عرب میں پڑھنے اور بیس برس گزارنے کے باعث عربی زبان وادب اہل زبان کی طرح بولتے اور سمجھتے ہیں۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ سے بطور ریسرچ سکالر اور مترجم وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.