یہ پیارا پرچم - انعام الحق

جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا، دشمن بھی جانتا تھا کہ جب تک یہ جھنڈا گرا نہیں تب تک مسلمان بکھریں گے نہیں، ایک ہاتھ کٹا تو دوسرے میں لے لیا، وہ بھی کٹا تو دونوں کٹے بازوں سے سینے سے لگا لیا، سینے پے تلوار کر وار ہوا تو جب تک سانسیں چلتی رہیں جھنڈا گرنے نہیں دیا، مبادا یہ علامتی بلندی گر گئی تو اس کے آس پاس لڑتے یہ مسلمان تتر بتر نہ ہوجائیں۔ اس جنگ میں ہزاروں لڑے، ایک سے بڑھ کر ایک عظیم شخصیت، بہادری میں ایک دوسرے کو مات دیتے مجاہدین لیکن جب بھی معرکہ موتہ کا تذکرہ چھڑتا ہے، جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا نام کسی کونہیں بھولتا، جنہوں نے اپنی ملت کے تشخص کی علامتی تعبیر کو گرنے نہ دیا۔

دنیا اس کو ایک مسلمان لیڈر کی حیثیت سے جانتی ہے، اسے اپنے وطن، اپنی قوم، اپنی زبان، اور اپنے دین سے محبت ہے جس کا اظہار وہ ہر جگہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قوم نے گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زمام اقتدار اس کو سونپ رکھی ہے، لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب دکھتے ہیں، اور اس کی آواز پر لبیک کہنے میں دیر نہیں کرتے، اس کو اس کے مشن سے وابستگی سے مربوط کردیجیے، یا اس کی طلسماتی شخصیت کا سحر کہیے، لیکن میری نظر میں اس کا سبب اس کے وہ ظاہر ی اعمال ہیں جس کی وجہ سے قوم اس پر فخر محسوس کرتی ہے، اس کی زبان پر اکثر یہ جملہ ہوتا ہے: ایک ملک، ایک قوم، ایک پرچم، اس نے دنیا کے ہر فورم پر اس پرچم کی قدر کر کے دکھائی وہ بیسیوں لیڈروں کے بیچوں بیچ دھیرے سے جھکتا ہے، اپنی قوم اور اپنے وطن کے پرچم کو اٹھاتا ہے، چومتا ہے اور اپنی جیب میں ڈال دیتا ہے۔ ایسا کئی بار ہوا اور اب تو یہ بات اس کی پہچان سی بن گئی ہے۔

پرچم، جھنڈا، علم یہ سب نام ہیں اس علامتی ٹکڑے کے جو کسی قوم، کسی ملت، کسی گروہ کی پگڑی، عزت، اور شرف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلند ہو تو قوموں کے چہروں پر رونق آتی ہے اور اس کی توھین کو دشمنی اور بغاوت کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔قومی اور مذہبی پروگراموں میں یہ لہرائے جاتے ہیں، اس کے بیج بنا کر سینوں پر سجائے جاتے ہیں،یہ جذبات کو جلا بخشتے ہیں، اس سے در ود یوار سجائے جاتے ہیں، اس کی سربلندیوں سے اپنی بلندیوں کی امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے۔

لیکن اس سے اگلا مرحلہ بہت تکلیف دہ ہے، جب یہ پرچم ایک عام کاغذ کے ٹکڑے کی طرح پھٹ کر گلیوں میں، نالیوں میں اور سڑکوں اور کوڑے دانوں میں نظر آتے ہیں، جب بلندیوں پر سجے یہ پرچم موسم کی ریشہ دوانیوں سے ریشہ ریشہ ہو جاتے ہیں، اور اس کو بلند کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ان کی نعلین پاک کی شبیہ کا جوپرچم چھت پر لگایا تھا اس کا رنگ موسم کی سختی کی نذر ہو چکا ہے، اور اس کا کپڑا اب تار تار ہو رہا ہے، جب بھول جاتے ہیں کہ ملک وملت کے عزت کا سبز ہلالی پرچم جو کسی درخت کی چوٹی پر لگایا تھا وہ اب جھک کر کانٹوں میں الجھ کر زخمی زخمی ہے۔

آپ محبت و عقیدت کے کسی بھی تقاضے کے لیے درودیوار سجا لیجیے، پوری پوری گلیوں کو جھنڈیوں کی لڑیوں سے جگمگا دیجیے، سب سے اونچا اور سب سے بڑا پرچم آپ کی چھت پے نظر آئے، ایک دن نہ سہی پورا سال لہرائے رکھیے لیکن جب دیکھیں کہ اب رنگ اڑنا شروع ہوگیا ہے، کپڑے کی تاریں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چھوڑ رہی ہیں تو اس کو ادب کے ساتھ، محبت کے ساتھ، عقیدت کے ساتھ اتاریے، اور سنبھال کر رکھ لیجیے اور اس کی جگہ نیا پرچم بلند کر دیجیے۔ کاغذی جھنڈیاں تو چند دن کی مہمان ہوتی ہیں اس لیے اس سے پہلے کہ وہ ٹوٹ ٹوٹ کر، پھٹ پھٹ کر نالیوں اور کوڑے دانوں میں پہنچنے لگ جائیں انہیں اتار کر رکھ لیجیے تاکہ پھر کسی موقع پر کام آسکیں،کسی منچلے کوآپ پر توہین، خیانت اور گستاخی کا الزام لگا کر پورے محلے کو آپ کے دروازے پر نہ کھڑا کر نے کا موقع نہ مل سکے۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.