ماورائے عدالت قتل فقہاء احناف کی نظر میں - محمد احمد رضا ایڈووکیٹ

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس کے مطالعے اور عمل سے کوئی بھی معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے لیکن افسوس کہ ہماپنی کم عملی کی وجہ سے اسلام کے ناقدین کو انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

چند سالوں سے ہمارے ہاں قانون ناموس رسالت کا مسئلہ زبان زد عام ہے۔ یہ انتہائی حساس اور دقیق مسئلہ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شریعت مطہرہ کے جید علماء کے علاوہ کوئی اس پر زبان درازی نہ کرتا لیکن ہمارے معاشرے کے ہی بعض مقررین نے اسے ایک عوامی مسئلہ بنا کر رکھ دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئے روز کوئی نہ کوئی کسی دوسرے کو گستاخ قرار دے کر قتل کرنے چڑھ دوڑتا ہے اور اپنے آپ کو غازی سمجھتا ہے۔ قتل ما ورائے عدالت کو جائز بلکہ عین شریعت سمجھنے والے تمام مسلمان نہیں بلکہ ایک مکتب فکر کے چند لوگ ہیں جبکہ اسی مکتب فکر کے بیشتر علماء کے ہاں قتل ما ورائے عدالت جائز نہیں۔ میں نے مجوزین کے دلائل دیکھے، دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ یہ لوگ کیوں امت مسلمہ کو گمراہ کر رہے ہیں؟ بیشتر دلائل جو پیش کیے جاتے ہیں کہ صحابہ نے فلاں کو قتل کر دیا، جب ان روایات کو مطالعہ کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود حکم دیا تھا۔ کیا قتل ما ورائے عدالت کے مجوزین رسول اللہ ﷺ کو شارع، قاضی القضاۃ نہیں مانتے؟ (معاذ اللہ)۔ جواب ہو گا کہ یہ تو عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ قاضی القضاۃ ہیں، تو جب رسول اللہ ﷺ قاضی القضاۃ ہیں تو پھر حضور ﷺ کے حکم کے بعد ماورائے عدالت کیسے؟ اس کے علاوہ چند ایک دیگر روایات پیش کی جاتی ہیں جن پر اگر اہل علم سے رجوع کیا جائے یا ان روایات کی اصل کتب اور ان کی شروحات ہی پڑھ لی جائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان میں سے اکثر روایات ضعیف ہیں، اور ضعیف روایت سے حد یا حد کا طریقہ کار کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟ پھر تمام فقہاء (حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، حنابلیہ) میں سے کسی نے ان روایات کو ذکر کر کے قتل ما ورائے عدالت یا کسی بھی قسم کی کوئی سزا جو ماورائے عدالت ہو اس کو جائز نہیں لکھا۔

حیرت ہے ان احباب پر جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاید امت کی تاریخ میں یہ روایات سمجھ ہی ان کو آئی ہیں۔ بہرحال، میں یہاں روایات کا ذکر نہیں کر رہا بلکہ حنفی المذہب ہونے کے ناطے فقہاء احناف کی معتبر کتب سے حوالہ جات پیش کر رہا ہوں کہ سزا دینے کا اختیار کے پاس ہے۔ گستاخ رسول ﷺ کے قتل ما ورائے عدالت کے مجوزین کا گروہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق ظاہر کرتا ہے لہٰذا فقہاء احناف کی تصریحات کی طرف جانے سے قبل ان کی خدمت میں امام احمد رضا خان صاحب کے فتاویٰ رضویہ سے ایک اصول پیش ہے۔

فتاوی رضویہ سے ایک اہم اصول:

آپ فتاوی رضویہ، جلد: 4، کتاب الصلٰوۃ، صفحہ: 361 پر لکھتے ہیں کہ

ظاہر الروایۃ و نص صریح امام اعظم مصح و مرجح کے ہوتے ہوئے روایت نوادر کی طرف رجوع بوجوہ ممنوع و مدفوع کما حققنا کل ذلک فی فتاوئنا۔ یعنی جو مسئلہ فقہ حنفی کی ظاہر الروایات میں ہو اور امام اعظم سے واضح طور پر منقول ہو تو اس صورت میں ہم نادر الروایات کی طرف رجوع نہیں کریں گے، گویا حنفی ہونے کا مطلب ہے کہ بہر صورت اگر امام صاحب کا واضح قول موجود ہے تو اسی پر عمل ہو گا نہ کہ کسی اور کے قول و فتوی پر۔

لہٰذا جہاں فقہ حنفی کی صراحت موجود ہو وہاں ایک حنفی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے استدلال کرتا پھرے، بلکہ ایسے استدلال کرے جو فقہ حنفی میں بیان کردہ اصول و فروع کے ہی خلاف ہوں۔

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول:

اس ضمن میں پہلا حوالہ امام اعظم کے شاگرد، قاضی امام ابو یوسف کا ہے۔ اس حوالے کو درج کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال نہ ابھرے کہ امام ابو یوسف نے تو قتل کی اجازت دی ہے تو ہم اس پر قاضی کی قید کیوں لگا رہے ہیں، ملاحظہ کریں: امام ابو یوسف نے لکھا ہے کہ من سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسلم عیاذا بِاللَّه. قَالَ أَبُو یوسُف: وَأَیمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَذَّبَهُ أَوْ عَابَهُ أَوْ تَنْقُصُهُ؛ فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَبَانَتْ مِنْهُ زَوْجَتُهُ؛ فَإِنْ تَابَ وَإِلا قُتِلَ.

جو شخص رسول اللہ ﷺ کو گالی دے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ جو کوئی مسلمان رسول اللہ ﷺ کو گالی دے، آپ کو جھٹلائے، آپ میں عیب نکالے یا آپ کی تنقیص کرے، پس تحقیق اس نے کفر کیا اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی۔ پس اگر وہ توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔

قارئین اگر فقط عبارت کو دیکھا جائے واقعی ایسا لگتا ہے کہ امام ابو یوسف کا حکم مطلق ہے یعنی کوئی بھی قتل کر دے۔ حالانکہ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکم امام ابو یوسف کی کتاب الخراج میں ہے جو درحقیقت امام صاحب نے خلیفہ ہارون الرشید کو خط لکھا تھا۔ یعنی ہارون الرشید کو یہ احکامات لکھ کر دیے تھے۔ اب کم از کم یہ تو واضح ہو گیا کہ کتاب الخراج میں جتنے بھی احکام ہیں وہ ایک خلیفہ کو لکھے گئے ہیں کہ وہ ان احکامات کو نافذ کرے۔ لہٰذا فقط عبارت پڑھ کر یہ اخذ کرنا کہ قتل ما ورائے عدالت کا حکم ہے انتہائی غیر معقول اور کج فہمی اور کم علمی پر مبنی سوچ ہے۔

امام سرخسی کا قول:

امام اعظم علیہ الرحمۃ کے مذہب فقہ حنفی پر عمل پیرا ہونا شمس الائمہ محمد بن احمد بن ابی سھل السرخسی المتوی 483 ہجری کی المبسوط کے بغیر ممکن نہیں۔ امام سرخسی کی المبسوط پر فقہاء احناف کا عملا اجماع ہے۔ ہمارے ہاں بھی بریلوی اور دیوبندی دونوں مکاتب فکر حنفی ہونے کے ناطے امام سرخسی کی المبسوط کے پابند ہیں۔ المبسوط للسرخسی وہ کتاب ہے جس کے خلاف فتوی نہیں جا سکتا۔ اور امام سرخسی اپنی المبسوط میں، باب الجمعہ میں شہر کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ؛ وَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ فِی بَیانِ حَدِّ الْمِصْرِ الْجَامِعِ أَنْ یكُونَ فِیهِ سُلْطَانٌ أَوْ قَاضٍ لِإِقَامَةِ الْحُدُودِ وَتَنْفِیذِ الْأَحْكَامِ.

ہمارے نزدیک یعنی احناف کے نزدیک ظاہر اور واضح مذہب شہر کی تعریف کے بارے میں یہ ہے کہ (شہر وہ ہوتا ہے جہاں) احکام کے نفاذ اور حدود کو قائم کرنے کے لیے سلطان یا قاضی موجود ہو۔

قارئین! امام سرخسی کی عبارت واضح ہے کہ کہ حدود قائم کرنا اور شریعت کے احکام نافذ کرنا سلطان اور قاضی کا کام ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا یا اس کا مفہوم مخالف جائز ہوتا یعنی کوئی بھی احکام نافذ کرنے کا اختیار رکھتا تو امام سرخسی یہ عبارت کیوں لکھتے ؟ لہٰذا ہمارے آئمہ کے نزدیک یہ ہی مذہب ہے کہ حدود اور شریعت کے احکام نافذ کرنا سلطان اور قاضی کا کام ہے نہ کہ کسی انفرادی شخص کا۔ ممکن ہے ذہن میں سوال آئے کہ اگر حکام یا قاضی نہ کریں تو پھر ہم کیا کریں؟ تو فقہاء احناف کے احکامات کی روشنی میں اگر بالفرض قاضی یا سلطان احکام و حدود جاری نہ کرے تب بھی کسی انفرادی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے۔ اگر ہم غلط ہیں تو برائے کرم فقہاء احناف کی بارہ تیرہ سو سال کی تمام کتب سے صرف ایک جزی ہی نکال کر ہمیں دکھا دیں کہ ایسی صورت میں قانون ہاتھ میں لینا جائز ہے۔

فقہاء احناف کا ایک اور مسلمہ اصول و ضابطہ پیش خدمت ہے کہ

أَرْبَعٌ إلَى الْوُلَاةِ / أربع إلى الولاة وذكر منها الحدود چار چیزیں والی (سلطان یا قاضی) کے دائرہ اختیار میں ہیں ان میں سے کوئی ایک کام بھی کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ان میں سے ہی ایک کام حدود کا نفاذ کرنا ہے۔ قاضی یا سلطان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس اختیار نہیں کہ وہ حدود یا شریعت کے احکام کو طاقت کے زور پر نافذ کرے۔ قارئین یاد رکھیں کہ یہ اصول فقہاء احناف کا اپنا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے۔ صاحب محیط نے اس کو باقاعدہ ولنا قولہ ﷺ کہہ کر بیان کیا ہے (یعنی ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ کا یہ قول حجت ہے، اس کے بعد مندرجہ بالا اصول)۔ اس اصول و ضابطہ کے حوالہ جات:

المبسوط للسرخسی، باب شرائط الجمہ۔ العنایہ شرح الھدایہ، فصل کیفیۃ الحد و اقامتہ۔ العنایۃ شرح الھدایہ، باب الوطء الذی یوجب الحد و الذی لا یوجبہ۔ البنایۃ شرح الھدایہ، باب حد العبد۔ المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی، الفصل الخامس و العشرون فی صلاۃ الجمعۃ۔ البحر الرائق شرح کنز الدقائق، و لا یحد السید عبد ہالا باذن امامہ۔ الھدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی، فصل فی کیفیۃ الحد و اقامتہ۔ الاختیار لتعلیل المختار، فصل حد الزنا۔ فتح القدیر، فصل فی کیفیۃ الحد و اقامتہ۔ التنبیہ علی مشکلات الھدایہ، فصل فی کیفیۃ الحد و اقامتہ۔ الاتجاھات الفقھیۃ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری، نصاب قصع الید فی السرقۃ

قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ ایک اصول جسے تمام فقہاء احناف نے بالاجماع بیان فرمایا، اور پھر یہ اصول خود بنایا ہوا بھی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ مبارک ہیں۔ الدکتور عبد المجید محمود عبد المجید نے اپنی کتاب الاتجاھات الفقھیۃ عند أصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری (یعنی تیسری صدی ہجری تک فقہاء کے مسائل اخذ کرنے کے قواعد کون کون سے تھے) میں لکھا ہے کہ قد روی عن عدد من الصحابة مرفوعًا: أَرْبَعٌ إلَى الوُلَّاةِ: الحُدُودُ، وَالصَّدَقَاتُ، وَالجُمُعَاتُ، وَالفَیءُ۔ بہت سے صحابہ سے مرفوعا مروی ہے کہ (یعنی صحابہ کرام علیھم الرضوان کے ہاں بھی یہ ہی أصول و ضابطہ تھا کہ) چار چیزیں قاضی/ سلطان کا حق ہیں؛ حدود، صدقات، جمعات اور فیء۔

اگر قاضی یا سلطان یا حاکم عالم شریعت نہ ہو تو:

امام احمد رضا خان نے فتاوی رضویہ، جلد : 4، کتاب الصلوۃ، صفحہ 357 تا 360 پر ایک استفتاء کے جواب میں یہ وضاحت کی ہے کہ اگر قاضی یا سلطان / حاکم عالم نہ ہو، یعنی وہ شریعت کے أصول و ضوابط نہ بھی جانتا ہو تو لازم ہے کہ وہ اپنے ساتھ کسی صاحب شریعت کو رکھے۔ اس صورت میں بھی صاحب شریعت مفتی بغیر قاضی کے حکم جاری نہیں کر سکتا، بلکہ قاضی یا حاکم اس سے فتوی طلب کرے گا اور اس کی روشنی میں جواب دے گا۔ فتاوی رضویہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں؛

اکابر نے اس کی یہ توجیہ فرمائی کہ حاکم عالم نہ ہو تو عالم کا ہونا بھی لازم۔ غیاثیہ میں ہے۔ قال الشمس الائمۃ السرخسی ظاہر المذہب ان المصر الجامع مافیہ جماعت الناس واسوق التجارات وسلطان اوقاض یقیم الحدود وینفذالاحکام ای یقدر علی ذلک و یکون فیہ مفت ان لم یکن القاضی او السلطان بنفسہ مفتیا۔ شمس الائمہ سرخسی فرماتے ہیں کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ جامع شہر وُہ ہوگا جس میں کچھ محلے ہوں اور بازارِ تجارت، سلطان یا قاضی جو حدود کو قائم اور احکام کو نافذ کرے یعنی اس میں ان کے قیام اور نفاذ کی قدرت ہو اوراگر قاضی یا سلطان خود مفتی نہ ہوں تو وہاں کسی نہ کسی مفتی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ( فتاوٰی غیاثیہ باب الجمعۃ وشرائطہا مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۳۸)

امام طاہر بخاری نے فرمایا: قال امام السرخسی فی ظاہر المذھب عندنا ان یکون فیہ سلطان وقاض لاقامۃ الحدود وتنفیذ الاحکام ویشترط المفتی اذالم یکن القاضی اوالو لی مفتیا۔

امام سرخسی نے فرمایا ہے کہ ظاہر مذہب میں ہمارے ہا ں یہی ہے کہ وہاں اقامتِ حدود اور تنفیذِ احکام کے لیے قاضی یا سلطان کاہوناضروری ہے اور جب قاضی یا والی خود مفتی نہ ہو تو وہاں امام سرخسی نے مفتی کا ہونا شرط قرار دیا ہے۔ (خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث والعشرون فی صلاۃ الجعۃ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئتہ ۱/۲۰۷)

فتح میں فرمایا: اذ کان القاضی یفتی ویقیم الحدود اغنی عن التعدد۔ جب قاضی خود فتوٰی دیتا ہواور حدود نافذ کرتا ہوتو وہاں الگ مفتی کا ہونا ضروری نہیں۔ (فتح القدیر، باب الصلٰوۃ المجعۃ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۲/۲۵)

قارئین ملاحظہ کریں کہ مفتی یا کوئی بھی عالم دین اپنی مرضی سے احکامات جاری نہیں کر سکتا حتی کہ اس صورت میں بھی جب قاضی، جج، عدالتیں، یا حکام شریعت نہیں جانتے۔ ان حالات میں حکام اور قاضیان پر لازم ہے کہ وہ کسی مفتی اور صاحب شریعت کو حدود و احکام کے نفاذ کے لیے ساتھ رکھیں۔

اس سے قبل جو اصول بیان کیا گیا اس کی وضاحت بھی امام احمد رضا خان صاحب کے فتاوی رضویہ میں موجود ہے۔ یعنی کوئی ایک بھی حنفی عالم ایسا نہیں جس نے مندرجہ بالا اصول و ضوابط کا انکار کیا ہو یا ان کے مخالف فتوی دیا ہو یا احکام نافذ کرنے کی اجازت دی ہو۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف:

مندرجہ بالا أصول و ضوابط پر ہی علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسائل ابن عابدین کے رسالہ نمبر 15 بنام" تنبیہ الولاۃ و الحکام علی احکام شاتم خیر الانام " کے صفحہ 344 پر اس لکھتے ہیں کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی آراء کو شریعت کا پابند رکھیں، ہم نبی اکرم ﷺ کی شریعت کے مکلف ہیں (یعنی شریعت پر عمل ہی ہم پر لازم ہے) اس حیثیت سے جہاں شارع کا حکم ہو کہ قتل کردو، وہاں ہم قتل کر دیں، اور جہاں حکم ہو کہ قتل نہ کرو تو وہاں ہم قتل نہیں کر یں گے کہ ہمارے پاس نص قطعی نہ ہو اور نہ ہی ہمارے مجتھد کی طرف سے حکم منقول ہو، پس ہم توقف کریں گے اور اور ایسا نہ کہیں گے ہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہماری محبت تقاضی کرتی ہے کہ ہم (فلاں گستاخ کو) قتل کر دیں۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کی محبت کی شرط اتباع ہے نہ کہ ابتداع یعنی بدعت۔ پس ہمیں ڈرنا چاہیے کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اس مقتول (جسے ہم نے اپنے عشق و جذبات میں قتل کر دیا) اس کے خون کے بارے میں پہلا سوال کریں گے۔ علامہ شامی کے الفاظ ملاحظہ ہوں؛

و لبس لنا ان ننصب بآرائنا حدوادا و زواجر و انما کلفنا بالعمل بما ظھر انہ من شرع نبینا ﷺ فحیث قال لنا الشارع اقتلو قتلنا و حیث قال لا تقتلوا ترکنا و حیث ل منجد نصا قطعیا، ولا نقلا عن مجتھدنا مرضیا، فعلینا ان نتوقف و لا نقول محبتنا لنبینا ﷺ تقتضی ان نقتل من استطال علیہ و ان اسلم لان المحبۃ شرطھا الاتباع لا الابتداع فاننا نخشی ان یکون ﷺ اول من یسالنا عن دمہ یوم القیمۃ فالواجب علینا الکف عنہ حیث اسلم و حسابہ علی ربہ العالم بم فی قلبہ کما کان ﷺ یقبل الاسلام فی الظاھر۔

قارئین یہاں بھی یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں کہ علامہ ابن عابدین کے اس رسالہ کا نام ہی اس بات پر واضح ہے کہ آپ کا یہ رسالہ حکام کے نام ہے نہ کہ عام عوام الناس کے نام۔ اور اس کے باوجود علامہ ابن عابدین جو عصر حاضر کے تمام احناف (بریلوی ہوں یا دیوبندی یا دیگر احناف) سب کے نزدیک متفق شخصیت ہیں، آپ کے فتاوی شامی اور رسائل سے فتاوی دیے جاتے ہیں، فقہ حنفی میں اس موضوع پر باقاعدہ پہلی تحقیق و کتاب آپ ہی کی ہے، آپ سے قبل تمام فقہاء احناف نے اس کو کتاب الارتداد وغیرہ میں بیان فرمایا ہے۔ اور آپ علیہ الرحمۃ احکام کو تنبیہ کرتے ہوئے بھی واضح لکھ رہے ہیں کہ اگر نص قطعی موجود نہ ہو اور ہمارے آئمہ کی تصریحات موجود نہ ہوں تو ہم فقط اپنے عشق اور محبت و جذبات کی بنا پر قتل نہیں کر سکتے۔ یہ رسالہ آپ کا گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر ہے جیسا کہ نام سے واضح ہے۔ گویا کہ آپ نے واضح لکھ دیا کہ نص قطعی کے عدم وجود پر یا فقہاء کے واضح احکامات نہ ہونے پر ہمارے پاس (حکام کے پاس بھی) اختیار نہیں کہ وہ کسی کو اپنے عشق، محبت، جذبہ میں گستاخ قرار دے کر قتل کر دیں تو عام عوام الناس کو یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟؟

اس موضوع پر عصر حاضر کی محقق شخصیت جسٹس مفتی تقی عثمانی صاحب نے مختصر وقت میں مدلل گفتگو فرمائی کہ کسی کے پاس اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی معاملے میں قانون ہاتھ میں لے۔ آپ کی یہ گفتگو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ لہٰذا وہاں سنا جا سکتا ہے۔

ہمارے وہ قارئین جو حنفی بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لیے اوپر امام احمد رضا خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی رضویہ کی عبارت واضح ہے، اس کے باوجود یہاں ہم امام احمد رضا خان صاحب علیہ الرحمۃ کے فتاوی رضویہ سے مزید جزیات پیش کر کے آپ کے خلیفہ حضرت مولانا امجد علی اعظمی صاحب کی بہار شریعت کے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں؛ ملاحظہ فرمائیں:

1. اسحٰق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری و مسلم مصنف میں مکحول سے راوی، امیر المؤمنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا:لا والذی اصطفٰی محمدا علی البشر لا افارقک قسم اس کی جس نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔ یہودی بولا: واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا، امیر المؤمنین نے اسے طمانچہ مارا، وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم اس طمانچہ کے بدلے اسے راضی کردو (یعنی ذمی ہے)۔ فتاوی رضویہ۔ جلد نمبر: 15۔ صفحہ: 661-664

قارئین ملاحظہ فرمائیں جہاں گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت ہے وہاں ایک یہودی کو گستاخی کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طمانچہ مارا تو پیارے آقا و مولا شارع ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس طمانچے کے بدلے اس یہودی کو راضی کرو۔ یہ روایت ہمیں اس بات کا ہی درس دیتی ہے کہ جب تک قاضی و سلطان کا حکم نہ ہو اس وقت تک کوئی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ ورنہ پیارے آقا ﷺ اس یہودی کو راضی کرنے کا حکم نہ دیتے۔

2. بالجملہ اشخاص مذکورین کے کفر وارتداد میں اصلاً شک نہیں، دربارہ اسلام ورفع دیگر احکام ان کی توبہ اگرسچے دل سے ہو ضرور مقبول ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ سلطان اسلام انہیں بعد توبہ و اسلام صرف تعزیر دے یا اب بھی سزائے موت دے وہ جو بزازیہ اور اس کے بعد کی بہت کتب معتمدہ میں ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کے یہی معنی ہیں اور اس کی بحث یہاں بیکار ہے، کہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکام،صدہا خبیث، اخبث، ملعون، انجس ہیں کہ کلمہ گو بلکہ اعلٰی درجہ کے مسلمان مفتی واعظ مدرس شیخ بن کر اللہ ورسول کے جناب میں منہ بھر کر ملعونات بکتے، لکھتے، چھاپتے ہیں اوران سے کوئی تو کہنے والانہیں۔ فتاوی رضویہ۔ جلد: 14۔ صفحہ نمبر: 302-306

قارئین یہاں امام احمد رضا خان صاحب نے واضح فرما دیا کہ اسلامی سلطنت کا سلطان انہیں سزا دے گا۔ پھر فرماتے ہیں کہ بعد توبہ سزا تعذیر ہو گی یا حد اس کی بحث بیکار ہے، کہ کہاں سلطان اسلام اور کہاں سزائے موت کے احکام۔ یعنی ان کے دور میں تو نہ اسلامی حکومت تھی اور نہ مکمل احکام تھے، بہت لوگ گستاخی کرتے تھے، لکھتے اور چھاپتے تھے۔ اس کے باوجود امام احمد رضا خان نے تمام احکام سلطان کے ہی ذمہ رکھے، کسی بھی شخص کو خود احکام نافذ کرنے کی اجازت نہ دی۔

1. حد قائم کرنا بادشاہ اسلام یا اس کے کے نائب کا کام ہے یعنی باپ اپنے بیٹے پر یا آقا اپنے غلام پر نہیں قائم کر سکتا۔ بہار شریعت، حصہ 9، حدود کا بیان بحوالہ الفتاوی الھندیہ المعروف عالمگیری، کتاب الحدود۔

مندرجہ بالا عبارت میں قارئین ملاحظہ کریں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان کے خلیفہ مولانا امجد علی اعظمی بہار شریعت میں کس قدر واضح لکھ رہے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے یا آقا اپنے غلام پر بھی حد جاری نہیں کر سکتے چہ جائیکہ کوئی عام انسان کسی دوسرے انسان پر جس پر وہ حاکم بھی نہیں ہے، اس پر فقط اپنے عشق یا ایک آدھے قرینے کی بنیاد پر قتل کر دے اور حد جاری کر دے۔

2. کسی کے کلام میں چند معنی بنتے ہیں، بعض کفرکی طرف جاتے ہیں، بعض اسلام کی طرف تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اسی مسئلے میں آگے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوا کہ کلمہ کے کفر ہونے سے قائل کا کافر ہونا ضرور نہیں۔ بہار شریعت، حصہ نہم، مرتد کا بیان بحوالہ رد المحتار، کتاب الجھاد، باب المرتد، مطلب: فی حکم من شتم دین مسلم۔

3. مرتد اگر ارتداد سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مرتدین مثلا کسی نبی کی شان مین گستاخی کرنے والا کہ اس کی توبہ مقبول نہیں۔ توبہ قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بادشاہ اسلام اسے قتل نہ کرے گا۔ بہار شریعت، حصہ نہم، مرتد کا بیان بحوالہ الدر المختار، کتاب الجھاد، باب المرتد۔

قارئین مندرجہ بالا قوانین اور مسائل بالکل واضح ہیں۔ مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہاں ضمنا دو اصول بہار شریعت سے ہی پیش ہیں؛ ان پر گفتگو خلاصہ میں ہو گی۔

4. مفتی ناقل کے لیے یہ امر ضروری ہے کہ قول مجتہد کو مشہور و متداول (یعنی مروجہ) و معتبر کتابوں سے اخذ کرے، غیر معتبر کتب سے نقل نہ کرے۔ بہار شریعت، حصہ 12، افتاء کے مسائل بحوالہ الفتاوی الھندیہ المعروف فتاوی عالمگیری، کتاب ادب القاضی۔

5. امام ا‏عظم رضی اللہ عنہ کا قول سب پر مقدم ہے پھر قول امام ابو یوسف پھر قول امام محمد پھر امام زفر و حسن بن زیاد کا قول البتہ جہاں اصحاب فتوی اور اصحاب ترجیح نے امام اعظم کے علاوہ دوسرے قول پر فتوی دیا ہو یا ترجیح دی ہو تو جس پر فتوی یا ترجیح ہے اس کے موافق فتوی دیا جائے۔ بہار شریعت، حصہ 12، افتاء کے مسائل بحوالہ رد المحتار، کتاب القضاء۔

قارئین، ناقدین، مخالفین اور علماء کی خدمت میں دست بدستہ عرض:

فقہ حنفی کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی صورت بھی کسی انفرادی شخص کو قانون کے نفاذ کا اختیار نہیں ہے۔ اگر مجوزین حنفی ہیں اور اپنے آپ کو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مقلد مانتے ہیں تو فقہاء احناف سے کوئی ایک جزی ہی پیش کر دیں کہ گستاخ کو بغیر عدالت و قاضی کے حکم کے کسی بھی شخص کے لیے قتل کرنا جائز ہے۔ دین جذبات کا نام نہیں ہے۔ ہم دین کو اپنے جذبات کے تابع نہیں کر سکتے ہیں۔ ہمارے جذبات جو بھی ہوں، ہمارا عشق ہمیں جو بھی کہے لیکن ہمیں دین و شریعت کے تابع رہنا ہو گا۔ خدارا! امت کو گمراہ نہ کریں اور اپنے جذبات، شوق اور عشق کے چکر میں رسول اللہ ﷺ کی امت کو قتل و غارت میں نہ سکھائیں۔ اللہ کریم ہمیں شریعت مطہرہ کا پابند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!