"ذہین ہتھیار اور انسانیت کا مستقبل" - محمد اشفاق

ہالی ووڈ کی مشہور فلم سیریز "ٹرمینیٹر" میں دوسرے سیارے سے آنے والی مشینوں کے ساتھ انسانوں کی جنگ دکھائی گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو جس تیزی سے ہتھیاروں کی صنعت میں استعمال کیا جا رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شاید مستقبل قریب ہی میں انسانوں کو اپنی بنائی ہوئی مشینوں ہی سے مقابلہ کرنا پڑ جائے۔ دلچسپ بات یہ کہ ٹرمینیٹر فلم میں بھی انسانوں اور مشینوں میں جنگ کا سال 2029ء ہی بتایا گیا ہے۔

گزشتہ ایک عشرے میں نینو ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت نے جہاں انسانوں کے بہتر اور روشن مستقبل کے ہزارہا امکانات وا کر دیے ہیں۔ وہیں دنیا کی چند بڑی طاقتیں سائنس کی اس ترقی کو ایسے ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کر رہی ہیں، جو مصنوعی ذہانت، جدید کیمروں، انتہائی حساس سینسرز اور انتہائی درست (accurate) گلوبل پوزیشننگ سسٹم سے لیس ہوں۔ ان ہتھیاروں کی خوبی یہ ہوگی کہ یہ ٹارگٹ کے چناؤ، اس پر حملے کی طاقت اور وقت کا فیصلہ کرنے میں بڑی حد تک، شاید سو فی صد خودمختار ہوں گے۔ ایسے ڈرونز جو ہزاروں میل دور سے کنٹرول کیے جانے کی بجائے خود فیصلے کرنے کے مجاز ہوں۔ ایسے میزائلز جو ہدف کا انتخاب خود کریں، ایسی 'آرمرڈ وہیکلز' جو بغیر کسی انسان کے نگرانی اور دفاع کا کام کر سکیں۔ ایسے روبوٹس جنہیں انسانوں سے پہلے جنگ کے میدان میں بھیجا جا سکے۔

شاید یہ سب کچھ آپ کو کسی سائنس فکشن فلم کے مناظر لگ رہے ہوں، مگر بہت جلد آپ ان امکانات کو حقیقت کے روپ میں دیکھ رہے ہوں گے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مصنوعی ذہانت کے حامل ہتھیاروں کی تیاری کے لیے اگلے تین سال میں 18 ارب ڈالرز کا بجٹ منظور کیا ہے۔ چین نے چند ماہ قبل ایک ایسے سپرسونک میزائل کی تیاری کا اعلان کیا تھا جو زیادہ بہتر مصنوعی ذہانت رکھتا ہوگا۔ یاد رہے کہ بیشتر کروز میزائلز کسی نہ کسی سطح تک ذہین ہوتے ہیں۔ مگر اب جو میزائل تیار ہونے جا رہے ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ صورتحال کی مناسبت سے اپنی رفتار اور بلندی میں کمی بیشی کر سکیں گے، بلکہ اپنے ہدف کا تعین بھی خود کریں گے۔ امریکہ اور چین کے علاوہ روس وہ تیسری طاقت ہے جو کہ ان "خودمختار ہتھیاروں" کی تیاری میں گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ ان تین ممالک کے علاوہ چھوٹے ممالک میں جنوبی کوریا اور اسرائیل بھی اس میدان میں خاصی پیشرفت کر چکے ہیں۔

سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ پرائیویٹ انڈسٹری خصوصاً سلیکون ویلی کی بہت سی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔ امریکی دفاعی ماہرین سنجیدگی سے یہ سوچ رہے ہیں کہ ملٹری اپنی تحقیقات پر بہت سا قیمتی وقت اور سرمایہ برباد کرنے کی بجائے کیوں نہ ان کمپنیوں کی ریسرچ سے فائدہ اٹھائے؟ چین اور روس کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات ہیں کہ وہ ان ہتھیاروں کی تیاری کسی حد تک آؤٹ سورس کرنے جا رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کی مشہورزمانہ کمپنی سام سنگ نے ایسا آٹومیٹک سرویلنس اینڈ رسپانس سسٹم تیار بھی کر لیا ہے، جسے شمالی کوریا کی سرحد کے ساتھ نگرانی کے لیے نصب کیا جا رہا ہے۔ سام سنگ کا یہ سسٹم اہم دفاعی تنصیبات، لیبارٹریوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ مکمل خودکار بلکہ خودمختار ہے۔ جدید گنوں سے لیس یہ سسٹم خطرے کی صورت میں حملہ آور پر خواہ وہ زمین پر ہو یا فضا میں، فوری جوابی حملہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

ان ہتھیاروں کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ کیونکہ مشینیں خواہ کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو جائیں، وہ جذبات و احساسات سے محروم ہوتی ہیں۔ یہ ہتھیار اپنے ہدف پر طاقت کا بے رحمانہ استعمال کریں گے اور شاید سویلنز اور فوج میں فرق بھی ملحوظ نہ رکھیں۔ اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہر کمپیوٹر پروگرام کی طرح انہیں بھی ہیک کیا جاسکتا ہے اور اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ دہشت گرد افراد، تنظیمیں اور ممالک باآسانی ان خوفناک ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ چونکہ اس میدان میں ہونے والی زیادہ تر پیشرفت پرائیویٹ سیکٹر کی مرہون منت ہوگی، اس لیے یہ اندیشہ بہت سنجیدہ اور وزنی ہے کہ کوئی بھی مناسب دام دے کر یہ ٹیکنالوجی حاصل کر سکے، کیونکہ تاحال اس ٹیکنالوجی کے لیے کسی قسم کے قواعد و ضوابط یا نگراں ادارے وجود میں نہیں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ماہرین ہی اقوام متحدہ اور ان طاقتور ممالک سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان ہتھیاروں کی تیاری کو ہر صورت میں روکا جائے۔

حال ہی میں دنیا کی ذہین ترین گاڑی تیار کرنے والی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک، مشہور امریکی سائنسدان ڈاکٹر والش، سمیت ایک سو پندرہ کے قریب سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین نے جن کا تعلق ان تمام ممالک سے ہے جو اس خوفناک دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری میں پیش پیش ہیں، اقوام متحدہ کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ انسانیت کو بچانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو روکا جائے، یا اس کے لیے کڑے قواعد و ضوابط تیار کئے جائیں۔ یہی خط یہ مضمون لکھنے کی وجہ بنا۔

کیا ہماری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرنے جا رہی ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com