موٹر وے پولیس بھی گئی کام سے – احسان کوہاٹی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب سیلانی کی آزادی سلب ہونے جارہی تھی اور وہ اس خوشی میں پھولوں سے سجی کار میں بیٹھا کوہاٹ سے تربیلا اُڑے چلا جا رہا تھا۔ سبک رفتار کار کے پیچھے باراتیوں سے بھری بس بھی ایئر بس بنی ہوئی تھی ۔ لانگ روٹ پر چلنے والی بسیں ویسے بھی فٹ ہوتی ہیں اور یہ تو کراچی سے پشاور چلنے والی ہینو بس تھی ۔ شادمانی کے گیتوں نے ڈرائیور کو خاصا پرجوش کر دیا تھا۔ وہ تیز رفتاری سے دولہے کی کار کے پیچھے لپک رہا تھااور قریب تھا کہ اوور ٹیک کر کے آگے ہی نکل جائے، جانے کہاں سے موٹروے پولیس کی گاڑی بتی گھماتے ہوئے بس کے پیچھے ایسے جھپٹی جیسے چیل کسی چوزے پر جھپٹتی ہے ۔ موٹروے پولیس کی گاڑی دیکھتے ہی بس ڈرائیور کا سارا جوش صابن کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اس نے بس روڈ کے ایک طرف روک دی ۔ سیلانی کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ڈرائیورنے عقبی آئینوں میں یہ منظر دیکھ کر کار کی رفتار بھی آہستہ کرلی ۔ سیلانی نے گردن گھما کر استفسار طلب نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تو اس نے انگوٹھے سے پیچھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

"موٹروے والے آگئے ہیں "

سیلانی نے اسے کار ریورس کرکے بس کے پاس لے جانے کے لیے کہا ڈرائیور نے کار ریورس کی اور سیلانی دولہا بنا نیچے اتر کر موٹر وے پولیس اہلکاروں کے پاس گیا، اپنا تعارف کرایاا ور کہا "ہم آپ کے مہمان ہیں کچھ خیال کریں ،ہمیں پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے"

جواب میں انہوں نے سیلانی کو مسکرا کر مبارکباد دی اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہاآپ سب ہمارے مہمان ہیں ،چائے پیئیں، کھانا کھائیں، ہمیں خوشی ہوگی لیکن چالان تو ہر حال میں کٹے گا"

دوسرے نے تیرہ سو روپے کا چالان کاٹتے ہوئے کہا "آپ مہمان ہو اس لیے ہاتھ ہلکا رکھا ہے"

سیلانی کچھ نہ کہہ سکا بس جزبز ہو کر رہ گیا۔ بس ڈرائیور نے بھی خاموشی سے چالان لے لیااس نے حسب معمول چائے پانی کی پیشکش کی، نہ معنی خیز انداز میں کسی خدمت کا پوچھا کیونکہ اسے علم تھا یہ موٹر وے پولیس ہے کسی شہر کی راشی ٹریفک پولیس نہیں۔

جنید جمشید مرحوم بھی بتاتے تھے کہ ایک بار انہیں بھی موٹر وے پر تیز رفتاری کی حد عبور کرنے پر روک لیا گیا،انہوں نے گاڑی روکی اور نیچے اتر آئے ۔ موٹر وے پولیس کے پٹرولنگ افسر وں نے جب انہیں دیکھا تو گرمجوشی سے ہاتھ ملایا،حال چال پوچھا اور سیلفی بنانے کی اجازت لے کر سیلفیاں بنائیں، پھر معذرت خواہانہ انداز میں چالان بھی تھما دیا ۔ جنید جمشید کہتے ہیں مجھے وہ چالان وصول کرتے ہوئے دلی خوشی ہوئی ۔ قانون کی بالادستی کے یہ مظاہرے موٹر وے پولیس کے اہلکار بلاناغہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ قانون پسند شہری ان بااخلاق اہلکاروں کی فرض شناسی پر چالان وصول کرتے ہوئے زیادہ افسردہ نہیں ہوتے۔ انہیں یہ احساس رہتا ہے کہ اسپیڈو میٹر پر 120کا ہندسہ عبور کرنے والاکوئی ایم پی اے، ایم این اے بھی ہوا تو اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا کیونکہ یہاں موٹروے پولیس ہے ۔ لیکن سیلانی نہایت افسردگی اور بوجھل دلوں کے ساتھ اپنے ہموطنوں سے اب یہ اطمینان چھین رہا ہے، انہیں بتا رہا ہے کہ اس مثالی ادارے کو بھی اب افسر شاہی،بدنظمی اور کرپشن کی گھن لگنا شروع ہو گئی ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں 45سینٹی گریڈکی گرمی میں کسی بدمست گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے بلا خوف وخطر اور کسی دباؤ کے چالان کرنے والے دن اب گزر گئے۔ اس فورس میں اب ایسے پٹرولنگ افسر بھی ہیں جو ٹریفک رولز کو روندتے ہوئے جانے والی لینڈکروزر یا مرسڈیزکو دیکھ کر آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ اپنی فرض شناسی کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اس وی آئی پی کو گزرجانے دیتے ہیں ۔ انہیں تلخ تجربہ بتاتا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی میں سوارکوئی بھی بااثر شخص اس کے ڈی آئی جی سے کہہ کر اس کا کہیں دور دراز مقام پر تبادلہ کراسکتا ہے۔ آپ کہیں گے سیلانی الزام لگا رہا ہے، ایک بے داغ کردار والے ادارے کی ساکھ پر انگلی اٹھا رہا ہے تو سیلانی سب انسپکٹر شاہد اقبال کا استعفٰی اٹھا کردکھا دے گا،اس استعفے کی کہانی کے پیچھے ہی وہ اس پٹرولنگ افسر تک پہنچا جو فرض شناسی کی سزا بھگت رہا ہے لیکن پہلے شاہد اقبال سے مل لیں۔

سب انسپکٹرشاہد اقبال نے سال بھر پہلے ہی موٹروے پولیس کی وردی پہنی تھی۔ تاریخ میں پی ایچ ڈی کی تیاری کرنے والا شاہد اقبال مختلف نوجوانوں میں سے ہے، ان نوجوانوں میں سے جن کے ضمیر بالکل درست حالت میں کام کررہے ہوتے ہیں۔ شاہد اقبال نے اپنے آپ کو موٹر وے پولیس کے لیے پیش کیا، کڑے امتحانوں اورانٹرویو کے مراحل سے گزر کر اسے موٹروے پولیس کا حصہ بنے کے لیے منتخب کیا گیا لیکن سال بھر میں ہی شاہد اقبال اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ اس نے استعفٰی لکھ کر اپنے افسر کی میز پر رکھ دیا۔ اس نے استعفٰی میں لکھا کہ موٹروے پولیس اپنے مقصد سے ہٹ رہی ہے،اس کے قیام کے مقاصد میں ٹریفک قوانین کی عمل داری کے ساتھ ساتھ شاہراہوں پر خدمت بھی شامل تھی لیکن اب یہ پرائیوٹ اداروں کی طرح کام کرنے لگی ہے۔ یہاں پٹرولنگ افسروں کوگشت کرکے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے بجائے تھوک کے حساب سے چالان کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ۔ افسران بالا کی طرف سے باقاعدہ ٹارگٹ دیے جاتے ہیں اور یہ ہدف پورا کرنے کے لیے پٹرولنگ افسران گشت کے بجائے کہیں ناکہ لگا کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یہ سب پڑھ کر سیلانی سے رہا نہیں گیا۔ اس نے تگ و دو کرکے کسی نہ کسی طرح شاہد اقبال کا سیل نمبرلے ہی لیا اور فرصت ملتے ہی نمبر بھی گھمادیا

"آپ شاہد اقبال بات کر رہے ہیں؟"

"جی "

"میں کراچی سے سیلانی بات کر رہا ہوں ،امت اخبار کاکالم نگار ہوں ،آپ کے استعفے کا پتہ چلا حیرت ہوئی۔ آجکل تو لوگ چپڑاسی کی نوکری نہیں چھوڑتے اور آپ موٹروے پولیس کو چھوڑ کر جارہے ہیں؟"

"سر!میں خود کو یہاں مس فٹ محسوس کرنے لگا ہوں، اب یہ وہ والی موٹر وے پولیس نہیں رہی ہمیں پٹواری بنا دیا گیا ہے "

"کس کا پٹواری؟"

"نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کا۔۔۔اب ہمارے افسران کے ذہن میں ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کی روک ٹوک نہیں بلکہ چالان ہوتے ہیں کیونکہ اب چالان ہی کارکردگی کا پیمانہ بن گئے ہیں۔ نیشنل ہائی ویزاتھارٹی کو ان چالان کا بڑا حصہ جاتا ہے "

شاہد اقبال نے بتایا کہ "اس کے ساتھ ساتھ افسران کا رویہ بھی بڑا افسوس ناک اور تضحیک آمیز ہوتا ہے ہمارا تمسخر اڑایا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے"

شاہد اقبال کے دوسرے الزام پر سیلانی نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا تو اس نے پہلے الزام کو بھی سو فیصد درست قرار دیا اور کہنے لگا"سیلانی بھائی! یہاں ایسی افسر شاہی ہے کہ آپ کی سوچ ہوگی۔ یہاں بھی اب بہت سی خرابیاں آچکی ہیں ۔ میں نام نہیں بتاؤں گا لیکن میرے ایک دوست کو ایک "صاحب" کا چالان کرنے پر سزا کے طور پر چار سو کلومیٹر دور ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اس سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ اس نے اس صاحب کو روکا اور چالان کاٹ دیا۔ وہ بہت اچھلا، چیخا، چلایا، چالان پھاڑ کر پھینک دیا اور دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا۔ اس نے جا کر ہمارے افسران میں سے کسی کو فون کیا جس کے بعد میرے دوست کا ٹرانسفر کر دیا گیا۔ سچی بات ہے اس واقعے کے بعد تو میں بھی "محتاط" ہو گیا ہوں، پڑی لکڑی نہیں لیتا"۔

چالان والی کہانی سیلانی کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اس نے معاملہ سمجھنے کے لیے ایک افسر کو فون کیا اسے یقین دلایا کہ اس کا نام کہیں ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ تب سیلانی کے سیل فون کے ریسیور سے اس کی آواز آئی"پہلے نیشنل ہائی وے اتھارٹی ،چالان کا 27فیصدفائن کلیکشن یونٹ کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں رقم ڈلواتی تھی۔ پھر اس نے یہ یونٹ ختم کرکے یہ ذمہ داری ہم پر لگا دی۔ اب اگر کسی بیٹ میں چار گاڑیاں ہیں تو فی گاڑی ایک لاکھ روپے ماہانہ چالان کرتی ہے اور یہ رقم این ایچ اے کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے ۔"

"یہ این ایچ اے کون ہوتی ہے؟"سیلانی نے جھنجھلا کر پوچھا

"بھائی !این ایچ او تو وزیر اعظم کی منہ چڑھی ہے ۔ اس کے چیئرمین کا تقرربراہ راست وزیر اعظم کرتا ہے ۔ اب چیئر مین صاحب جو چاہے کرتے پھریں انہیں کون پوچھے ؟ سنا ہے ہمارے ایک آئی جی کلیم بھٹی صاحب نے اس چالان والے معاملے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس پر ان کی چھٹی کر دی گئی" سیلانی کو اپنے اسی دوست سے پتہ چلا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بیٹربننے کے بعد بھی موٹر وے پولیس کو کچھ نہیں ملتا۔ ان کی گاڑیوں کی حالت ،کیمپ آفسز کا حال برا نہیں بہت برا ہے ۔ کیمپ آفس وہ جگہ ہے جہاں موٹروے پولیس کے اہلکار رہتے ہیں۔ اس کیمپ آفس میں انہیں ایک کمرا رہنے کے لیے دے دیا جاتا ہے جس میں دو لوہے کی چارپائیاں اور ایک جستی الماری،ایک چھت کا پنکھا اور ٖڈھیروں کھٹمل اور مچھر ہوتے ہیں ۔ اس کمرے میں کوئی میز کرسی بک شیلف قسم کی "غیر ضروری" چیز نہیں ہوتی ،یہ عیاشی وہاں رہنے والوں کو اپنی جیب سے کرنی ہوگی۔

سیلانی کو تو اس دوست نے ٹھنڈی سانس بھر کر یہ بھی کہا کہ سندھ میں برا حال ہے یہاں کے بیٹس کے کیمپ آفس کا کک اکثر آن ڈیوٹی بڑے صاحب ہوتا ہے اور ہم انڈے فرائی کرکے کھارہے ہوتے ہیں۔ سیلانی نے یہ ساری صورتحال لے کر ایڈیشنل آئی جی کلیم امام کو فون کیا۔ ان کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ ڈسپلن کے معاملے میں سخت افسر ہیں۔ انہوں نے بہت سے افسروں کو بھی نکیل ڈال کر سمجھایا ہے کہ مغل شہزادے نہ بنیں ۔ محکمے میں ان کی شہرت ایک اچھے ہمدرد اور سخت افسر کی ہے۔ سیلانی فون کان سے لگائے اس ہمدرد افسر سے بات کرنے کا متمنی رہا لیکن بات نہ ہوسکی ۔ اس نے منہ بنا کر فون ایک طرف کررکھ دیااور اپنے کام میں لگ گیاتھوڑی دیر بعد فون کی گھنٹی نے اسے متوجہ کیا دیکھا تو اسکرین پر کلیم امام صاحب کا نام ظاہر ہو رہا تھا۔ سیلانی نے انہیں سلام کیا اور مدعا عرض کرتے ہوئے کہا کہ کچھ وقت درکار ہے محکمے کے اشوز پر بات کرنی ہے۔

"اچھا !پھر ذرا ٹھہر جائیں میں ٹینس کھیل لوں، پھر بات کرتے ہیں "لیکن کلیم امام صاحب سے بات نہ ہو سکی، وہ بھول گئے۔ سیلانی نے آئی جی صاحب شوکت حیات صاحب سے رابطہ کیا۔ ان کے پی او ایس سعید خٹک نے کال وصول کی اور سیلانی کی بات سن کر آئی جی صاحب سے رابطہ کرا دیا۔ سیلانی نے شوکت حیات صاحب کے سامنے شاہد اقبال کااستعفٰی اور کیمپ آفسز کی حالت زارسامنے رکھ دی۔ شوکت حیات صاحب نے سکون سے سیلانی کی بات سنی اور یقین دلایا کہ وہ شاہد اقبال والے معاملے کو خود دیکھیں گے کیمپ آفسز کے بارے میں انہوں نے تسلیم کیا کہ حالت اچھی نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ محکمے کے پاس اپنی عمارتیں نہیں ہیں۔ آئی جی صاحب کا اعتراف اور یقین دہانی کے ساتھ سیلانی دو دن تک ان کے پی او ایس سعید خٹک کے فون کا انتطار کرتا رہا مگر ان کا فون تو نہ آیا البتہ ان کی جگہ کلیم امام کے آئی جی موٹر وے بننے کا نوٹیفکیشن آگیا۔ اس تبدیلی سے سیلانی نے موٹروے پولیس کے اہلکاروں کو سکون کا سانس لیتے دیکھا۔ اس کے دوستوں کا کہنا تھا کہ شاید ادارے کی تنزلی کے سفر کی رفتار آہستہ ہو جائے، سیلانی نے فوراً آمین کہا ۔ ۴۷ء کے بعد اس ملک نے تنزلی کا سفر ہی کیا تھا اس سفر میں دم لیتے ہوئے اگر کوئی ایک آدھ اچھا کام ہوا تو ان میں موٹروے پولیس کا قیام بھی تھا۔ اس ادارے پرقوم کا فخر بجا ہے۔ سیلانی کے پاس کلیم امام صاحب کے آئی جی موٹروے پولیس کا نوٹیفکیشن بھی آگیا، جسے وہ پرسوچ نظروں سے نظروں سے دیکھتا رہا ،دیکھتا رہا دیکھتا رہااور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اپ کا کالم پڑها تو سوچا کچه معلومات اور بهی شئر کرلو.
    اسلاماباد اتے یا جاتے ہوئے کئی ڈرایئوروں سے اسلام اباد کے نئے ٹول پلازے کے بارے میں پوچها کہ یہاں اسلام اباد اور لاہور کی گاڑیوں سے یکجا ٹیکس لیتے ہے یہ ہمارا کافی وقت ضایع کر رہی ہےتو سب ڈراییور وں نے جواب کچه یوں دیا
    یہ کام ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہے
    کیونکہ لاہور سے انیوالے گاڑیوں سے ہمارا رابطہ ہوتا وہ ہم یہا ں سے ٹوکن لیتے اور اسلام اباد کے قریب قیام و طعام کے مختلف بات روموں میں وہ ٹوکن لاہور کے گاڑیوں ک لیے رکه کر ان کو جگہ بتا دیتے
    یوں ہم پشاور ،مردان یا چارسدہ کے ٹول پلازہ پر ای ٹیگ والی لایئن پر نکلتے
    اور لاہور والے وہ ٹوکن اٹها کر یہا پشاور،مردان یا چارسدہ کے ٹول پلازے پر دےدیتے
    یو ہم روزانہ موٹروے کو لاکهوں روپے کا چونا لگادیتے.
    اس کا مثال کچهیوں دیا فرض کرے لاہور سے مردان 3200 ٹیکس ہے اور اسلماباد سے مردان 800. تو اسلام اباد کی ٹوکن دے کر 800 روپے ٹیکسدے کر موٹروے کو2400 روپےکاروزانہ چونا لگا کر بچت کرتے.
    اسلام اباد کے جو گاڑی والے ٹوکن لا کر رکه دیتے اس کو ایک دو موبائیل کارڈ دیتے.
    جب ٹول پلازوں پر کچه اہلکار شکی ہوئے تو اس کو ہم فی گاڑی 500 تک روپے دیتے. تو پهر بهی ہمیں 1500 سے 1900 تک بچت کرتے.''
    اب اسلام اباد انٹر چینج سے باہر ٹول پلازہ لگا ہے اور میں اسلام اباد ایا نہیں عید کے بعد ارادہ ہے
    کوئی نئی خبر تهی تو یہا لکهوں گا انشاء اللہ.