بچے آپ کی بات کیوں نہیں سنتے؟ - روبینہ شاہین

سندھ کے کسی گاؤں میں ایک رسم ہے، جب انہوں نے کسی درخت کو گرانا ہوتا ہے تو علی الصبح سارا گاؤں اٹھتا ہے اور اس درخت کو طعنے اور کوسنے دینا شروع ہو جاتا ہے۔ چند ہی دن میں وہ درخت سوکھ کر گر جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں چونکہ طعنوں اور کوسنوں کا کلچر عام ہے، سو بچوں پر بھی یہی آزمایا جاتا ہے۔ یوں ہم خود بچے کے اندر بے یقینی کا بیج بو دیتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا چلا جاتا ہے اور بچے ناکام سے ناکام ہوتے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر بطور انسان وہ ناکام ہیں۔ انہیں جینا آتا ہی نہیں کیونکہ انہیں جینا سکھایا ہی نہیں گیا۔

بے یقینی و محرومی کے شکار یہ نوجوان ایک ایسی منزل کے راہی ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ اس کے برعکس ایک اور مثال ہے تھامس ایڈیسن کی، جن کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے، بچے کو لیٹر دیا جاتا ہے، وہ اپنی ماں کو دکھاتا ہے۔ ماں اس کو سنبھال کے رکھ دیتی ہے۔ بچہ پوچھتا ہے ماں اس میں کیا لکھا ہے؟ ماں کہتی ہے کہ بیٹا اس میں لکھا ہے کہ آپ کا بیٹا اتنا ذہین ہے بڑا ہو کر سائنس دان بنے گا لیکن ہمارے سکول میں ایسے بچوں کے لیے جگہ نہیں حالانکہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ وہ بچہ ایڈیسن بنا۔ ایک ماں نے اسے ناکام طالب علم سے سائنس دان بنا دیا۔ دونوں طرح کی مثالیں عیاں کرتی ہیں کہ شاباشی اور حوصلہ افزائی کا کلچر بچوں کے لیے کتنا ضروری ہے؟

بچے اللہ کی امانت ہیں۔ بطور والدین یہ بڑا اہم نکتہ ہے کہ کل کو ہم ان کے ہر ہر عمل کے سامنے اللہ کے آگے جواب دہ ہیں۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور اسے اپنے مالک کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ اس آرٹیکل میں بچوں کو ہینڈل کرنے کا طریقہ سکھایا جائے گا۔

احساسات کو سمجھیں

ایک عام شکایت جو والدین کو بچوں سے ہے وہی بچوں کو والدین سے بھی ہے، وہ یہ کہ کوئی ہماری سنتا نہیں۔ بات ماننا اگلا مرحلہ ہے جب کہ بات سننا پہلا، جب پہلا مرحلہ ہی طے نہ ہو تو اگلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو سننے میں پہل کریں چاہے وہ بہت معمولی بات ہی کیوں نہ ہو۔ بچے کا کھلونا ٹوٹ گیا اب وہ زاروقطار رو رہا ہے مگر باقی سب ہنس رہے کہ اتنی سی بات پر کیوں رو رہا ہے؟ بات کھلونے کی نہیں، بات احساسات کی ہے۔ آپ بچے کے احساسات کو سمجھیں۔ وہ کھلونا اس کی کل کائنات تھا۔ لہٰذا بچے کے احساسات کو قبول کریں اور ان سے بحث مت کریں۔

بچے کو اگر اس کا چھوٹا بھائی برا لگتا ہے تو آپ کو بحثیت ماں اس کے احساسات کو سمجھنا چاہیے۔ ماں کی گود اس کی کل کائنات تھی، جس پر آج کوئی اور قابض ہو چکا۔ لہٰذا آپ سمجھیں، بڑے بچے کے سامنے کچھ عرصہ فیڈ مت کروائیں، اسے اٹھا کے لاڈ پیار مت کریں۔ کچھ ہی عرصے میں جب بڑے بچے کا ذہن اسے قبول کرلے تو یہ احتیاط ختم کر دیں۔ میں نے زیادہ تر گھروں میں یہی دیکھا ہے کہ جب نیا بچہ آتا ہے تو بڑے کو زچ کرنے کے لیے اسے بار بار پیار کریں گے، اٹھائیں گے تاکہ وہ روئے اور جیلس ہو۔ اس صورت حال کو بہت انجوائے کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک حرکت ہے۔

بات غور سے سنیں

بچے کی بات غور سے سنیں، اسے محسوس کروائیں کہ اس کا مسئلہ آپ کا مسئلہ ہے۔ ابھی کل کی بات ہے میرا ایک 6 کلاس کا سٹوڈنٹ مجھے یہ بتا رہا تھا کہ میرے والد میری بات نہیں سنتے۔ میں نے بہت کہا کہ وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں، آپ ان کو اپنا مسئلہ بتائیں تو سہی مگر وہ بضد تھا کہ وہ نہیں سنیں گے۔ اب دنیا کی کوئی طاقت آ جائے وہ اس بچے کے دماغ سے یہ بات نہیں نکال سکتی کہ والد میری کبھی نہیں سنیں گے کیونکہ باپ کے عمل سے بچے کے اندر یہ یقین پختہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا وہ کبھی نہیں مانے گا۔ یہی سے آپ کی اور بچوں کی خلیج بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔

ڈانٹ نہیں میٹنگ کی ضرورت

بچوں کو ڈانٹنے سے پرہیز کریں۔ ان کے ساتھ میٹنگ کریں۔ میٹنگ اور ڈانٹ ڈپٹ میں فرق ہوتا ہے۔ !!..How to talk so kids will listen & listen so kids will talkبڑی مشہور کتاب ہے جس کا دنیا کی سو زبانوں میں ترجمہ ہو چکا۔ ۔ اس کا مصنف لکھتا ہے کہ میٹنگ اور ڈانٹ میں فرق ہوتا ہے۔

  • ڈانٹ دوسرے لوگوں کے سامنے ہوتی ہے جب کہ میٹنگ تنہائی میں ہوتی ہے۔
  • میٹنگ میں مشترکہ بات چیت سے مسئلے کا حل ڈھونڈا جاتا ہے جبکہ ڈانٹ میں فیصلہ ٹھونسا جاتا ہے۔
  • میٹنگ خوداعتمادی میں اضافہ کرتی ہے جبکہ ڈانٹ خود اعتمادی کو کمزور کر کے رکھ دیتی ہے۔
  • میٹنگ سے بچے والدین کے قریب آتے ہیں جب کہ ڈانٹ سے دور چلے جاتے ہیں۔

بچے کو انتخاب کا حق دیں

بچے پر رعب جمانے کی بجائے اسے انتخاب کا حق دیں۔ مثلاً علی نے آج نہانا ہے مگر وہ کمپیوٹر پر بیٹھ کر اپنا فیورٹ گیم کھیل رہا ہے۔ آپ اسے کہیں گی کہ بیٹا اٹھو اور نہا لو! تو وہ کہے گا میرا دل نہیں چاہ رہا ماما!۔ اب آپ نے کہنا ہے کہ نہانا تو آپ نے ہے، اب یہ آپ کا انتخاب ہے کہ تین بجے نہا لو یا ساڑھے تین بجے۔ بچہ خوش ہو کر ساڑھے تین بجے نہانے پر رضامند ہو جائے گا، وہ بھی آپ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بغیر۔

یہی طریقہ نماز، ہوم ورک اور دیگر امور میں بھی اختیار کریں۔

نصیحت، مختصر الفاظ اور شائستہ اندازمیں

بچوں کے جذبات کو مجروح ہونے سے بچیں اور کم سے کم الفاظ میں نصیحت کریں۔ مثلاً نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ آپ بچے کے قریب جائیں گی، آرام سے چٹکی بجائے گی توجہ حاصل کرنے کے لیے اور کہیں گی، بیٹا نماز!اور اس دوران اپنا انداز اور لہجہ بالکل دھیما اور نارمل رکھنا ہو گا۔ کجا اس کے آپ کہیں کہ جب دیکھو ٹی وی، جب دیکھو موبائل۔ ان فضول کاموں کے علاوہ کچھ کرنا آتا ہو تو نماز پڑھو نا! طنز اور taunting سے سنورے کام بھی بگڑ جاتےہیں، سو اس سے پرہیز لازمی ہے۔ ہمارے دین اسلام میں طنز سے منع کیا ہے اور طنز کا مطلب ہے اگلے بندے کو سوئی چھبونا۔ سو طنز سے پرہیز ضروری ہے۔

آزما کر دیکھیں کہ دونوں طریقوں میں سے کون سا طریقے سے بچہ بات مانتا ہے۔

نوٹ پیڈ کا استعمال

کبھی کبھی جو مسئلہ تقریر سے حل نہیں ہوتا، اسے ایک تحریر حل کر دیتی ہے۔ مثلاًماں اپنی بیٹی کو بار بار کہہ کر تھک چکی تھی کہ وہ جب کمرے سے باہر نکلے تو لائٹ اور پنکھا بند کر کے نکلے۔ آخر اس نے اس مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ دروازے پر ایک کاغذ پر لکھ کر لگا دیا۔ آپ اگر کمرہ چھوڑنے لگی ہیں تو برائے کرم پنکھا اور لائٹ آف کردیں۔ لڑکی نے دروازےسے نکلتے ہوئے تحریر دیکھی اور پنکھا اور لائٹ بند کر دیا۔ اسی طرح مسنون دعاؤں کے اسٹیکر مختلف جگہوں پر آویزاں کر دیئے جائیں تو بھی بچوں کو روزمرہ کی دعاؤں کا آسانی سے عادی بنایا جا سکتا ہے۔

غلطی کا اعتراف کرنا اور سوری کہنا سکھائیں

بچے ایک ننھے پودے کی طرح ہوتے ہیں۔ ۔ جیسے کسی ننھی سی ڈالی کو جدھر چاہیں پکڑ کے موڑ دیں مگر جب یہی ڈالی بڑے درخت کی مضبوط شاخ بن جائے گی تو آپ جتنی طاقت لگا لیں نہیں موڑ سکتے۔ ۔ بچوں کو بھی یہی معاملہ ہے۔ جب چھوٹے ہوتے ہیں بات مانتے اور سیکھتے ہیں۔ بڑے ہوکر سکھانا انتہائی مشکل اور ناممکن کام ہے۔ اوائل عمری میں سیکھی ہوئی باتیں تا حیات یاد رہتی ہیں۔ اس لیے انہیں اپنی غلطی پر نادم ہونا سکھائیں اور جب غلطی سرزد ہو جائے تو سوری کہنا بھی۔ یہ چیز ان کو ضدی اور ہٹ دھرم ہونے سے بچائے گی۔

تعریف ایندھن ہے

اپنے بچوں کو وہ کام سکھائیں جو انہیں نہیں آتے۔ مثلاً اگر وہ بے پروائی سے کام کرتا ہے تو اس کا نام لا اُبالی مت رکھیں بلکہ اسے اپنے ساتھ لگا کر کام کرنا سکھائیں۔ اسے پہلے کام کر کے دکھائیں، پھر سمجھائیں۔ پھر اپنی موجودگی میں کام کروائیں اور وضاحت کے ساتھ تعریف کریں۔ تعریف تیل ہے، ایندھن ہے، توانائی ہے جو بچوں کو کام کرنے پر اکساتی ہے۔ اس سے گریز مت کریں۔

بچوں کو منظّم بنائیں

بچوں کو منظّم بنائیں۔ سونے کے وقت سونا اور کام کے وقت کام ہوناچاہیے۔ اس چیز کی عادت بچپن سے ڈالی جانی چاہیے۔ اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ فی زمانہ سونے جاگنے کے اوقات بڑے متاثر ہوئے ہیں۔ دن کو سونا کم عقلی اور بے برکتی کا باعث ہے۔ رات کی نیند انسان کو سوطرح کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ لہٰذا سونے جاگنے کے درست اوقات کی پابندی بچپن سے ہونی چاہیے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔

خود اعتمادی پیدا کریں

خود اعتمادی اور یقین کے بیج بچپن سے ہی بوئیں جائیں تو اچھا ہے۔ بچوں کو پیسے دے کر کہیں کہ یہ آپ کی رقم ہے اپنے لیے خود چیز خریدیں۔ اسے شیف تو کبھی ٹیچر بنائیں۔ اچھی پرفارمنس پر شاباش دیں۔ وضاحت کے ساتھ تعریف کریں اس ے بچوں میں کام کی عادت ڈیولپ ہوں گی اور اعتماد بھی آئے گا۔

سزا کیسے دی جائے؟

یہ بڑا مسئلہ ہے کہ بچوں کو سزا کیسے دی جائے؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات سب سے بہتر گائیڈ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ پہلے مر حلے میں اکیلے میں سمجھایا جائے، پھر بھی بات نہ بنے تو بول چال بند کر دی جائے یا کوئی ایسی چیز روک دی جائےجو بچے کو بہت مرغوب ہو یاجیسے کارٹون یا جیب خرچ۔ پھر بھی بات نہ مانے تو مار سکتے وہ بھی ایسی مار جسے منہ پر نہ مارا جائے اور نہ ہی جسم پر نشان پڑے۔ مار آخری مرحلہ ہے پہلا نہیں اور مارنے کے اصول بھی شریعت نے واضح کر دیے ہیں۔ سورۂ مائد ہ میں ہے کہ زخم کے بدلے زخم اور دانت کے بدلے دانت ہے۔ یعنی زخم تک پر قصاص لیا جا سکتا ہے۔ سو آپ ایسی مار نہیں مار سکتے جس سے زخم لگے۔

بچوں کے غلط اعمال کے کچھ نتائج ضرور ہونے چاہئیں جیسا کہ اگر بچہ برتن اٹھانا بھول جائے تو اسے بلوا کر اٹھائیں۔ بچے عام طور پر انکار کرتے کہ میں نے نہیں رکھے یہ برتن، ایسے میں بھی برتن انہی سے اٹھوائیں اور کہیں کہ آپ نے نہیں تو کسی اور بچوں نے رکھے ہوں گے لہٰذا سب مل کر اٹھائیں۔ بچے مار کی نسبت سزا سے جلدی سمجھ جاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنی غلطی اور نتائج میں تعلق نظر آ جاتا ہے اگر آپ تعلق واضح کر دیں تو۔

تنقید سے بچیں

تنقید سے جتنا ہو سکتا بچیں۔ بچے کو پاگل، بد تمیز، بے وقف، جھلی، بھلکڑ، کام چور، سست اور نالائق جیسے القابات نہ پکاریں۔ قرآن میں بھی برے القاب سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ان سے بچے کی عزت نفس متاثر ہوتی ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو نشانہ بنانے کی بجائے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں۔ اس پر بچوں سے مثبت طریقے سے بات چیت کریں۔

آج کا بچہ کل کا نوجوان ہے اس کے دماغ پر جو کچھ آپ نقش کریں گے وہی تحریر ہوگا۔ اس کی شخصیت کا بننا اور بگڑنا آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا جدید دور سے فائدہ اٹھایئے۔ یوٹیوب اور انٹرنیٹ سے بچوں کی تربیت کے کورسز موجود ہیں۔ ان سے رہنمائی لیں۔ قاسم علی شاہ اور ڈاکٹر غزالہ موسیٰ کی ویڈیوز موجود ہیں جو خاطر خواہ رہنمائی کرتی دکھائی دیتی

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */