تخلیق آدم میں اسلام و سائنس کی مطابقت - زبیر مشتاقی

دور حاضر میں سائنسی ترقی نقطۂ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ جدید سے جدید آلات وجود میں آرہے ہیں حتی کہ آواز کی رفتار سے تیز جہاز بنا لیے گئے ہیں۔ تصویریں اور آوازیں، سیکنڈوں میں دنیا کےایک کونے سے دوسرے کونے تک، پہنچنے لگی ہیں۔

موجودہ سائنسی ترقی اور قرآن مجید کے بیان کردہ حقائق میں مطابقت پائی جاتی ہے البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ آج سائنس تحقیق کے بعد جو کچھ بھی بتلا رہی ہے، وہ قرآن مجید میں چودہ سو سال پہلے بیان فرمادیا گیا ہے۔ اب انسان کی تخلیق کو ہی لے لیں، پانی کے قطرے سے لیکر بچے ولادت تک، تمام مراحل کو قرآن میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے: انا خلقناہ امشاج نبتلیہ ہم نے انسان کو مشترکہ مادہ سے بنایا یعنی ماں کے انڈےاور باپ کے قطرے سے پیدا کیا۔ سائنس نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ نر کے کروڑوں خلیات میں سے ایک سیل اور مادہ کے چار لاکھ انڈوں میں سے ایک انڈہ شکم مادر میں ملتے ہیں تواستقرار حمل ہوتا ہے۔

اسی طرح جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق نطفہ (spermatic liquid)، بعض ایسی رطوبات سے بنتاہے، جو مختلف غدود سے آتی ہیں۔ علم الجنین(embryology)کی رو سے یہ ثابت شدہ امر ہے کہ جنین(fetus)کے اندر انثیین (testis) یا خصییے، وہ غدود ہوتے ہیں جن سے مادہ منویہ بنتا ہے، یہ ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان اور گردوں کے پاس ہوتے ہیں۔ قرآن اس بات کی نشاندہی یوں کرتا ہے: خلق من ماء دافق۔ یخرج من بین الصلب والترائب یعنی (انسان)کو اچھلتے ہوئے پانی کے قطرے سے پیدا کیا گیا ہے، (جو)سینے اور پشت کے درمیان سے نکلتا ہے۔

علم تشریح الاعضاء (anatomy)نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ مرد کا پانی جو(semen)پر مشتمل ہوتاہے، پشت اور سینے کے درمیان سے نکلتاہے۔

تخلیق انسانی کے اگلے مرحلے کو قرآن مجید یوں بیان فرماتا ہے خلق الانسان من علق یعنی انسان کو خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ "علقہ" خون کے ایسے لوتھڑے کو کہا جاتا ہے,جو ایسے ہی خون چوستا ہے، جیسے جونک چوستی ہے۔

پروفیسر کیتھ مور، سربراہ اناٹومی، ٹورونٹو یونیورسٹی، کینیڈا، کا بیان ہےکہ "میں نے مائکرو سکوپ لگا کر دیکھا، تو اس لوتھڑے (جو رحم مادر میں جنین کی صورت ہوتا ہے) اور جونک میں کوئی فرق نہیں پایا۔ جس طرح جونک خون چوستی ہے ٹھیک اسی طرح جنین (علقہ) بھی رحم سےخون چوستا ہے۔ "

رحم مادر میں بچہ کی تدوین کے اگلے مرحلے کو قرآن پاک نے "مضغہ" کا نام دیا ہے.عربی میں "مضغہ"دانتوں سے چبائے ہوئےمادہ کو کہا جاتا ہے۔ اس وقت جنین کی بھی یہی حالت ہوتی ہے، ایسے ہی دکھتا ہے جیسے دانتوں سے چبایا گیا ہو۔ اس حالت میں کچھ اعضاء مکمل ہو جاتے ہیں اور کچھ نا مکمل رہتے ہیں۔ چنانچہ "سورہ حج" میں اس مرحلہ کی وضاحت بھی "مکمل" اور "نامکمل "کے ہی الفاظ سے کی گئی ہے۔

بعد ازاں یہ جنین، ہڈیوں اور گوشت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جس کو قرآن مجید نے "عظاما" سے تعبیر کیا۔ موجودہ دور میں یہ بات کہ جنین سے ہڈیاں و گوشت بنتی ہیں، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بلکہ اب تو الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے آسانی سے تبدیلی کے اس مرحلے کا پتہ چل جاتا ہے۔

1981میں ڈاکٹر کیتھ مور نے، سعودی عرب کے شہر دمام میں ہونے والی ساتویں میڈیکل کانفرنس میں اظہار کیا تھا "اگر تیس سال پیچھے جائیں تو عمل تولید کے آدھے مراحل کاسائنس دانوں کو علم نہیں تھا، لیکن حیرانگی والی بات ہے:محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتویں صدی عیسوی میں اتنا تفصیل سے بیان فرمادیا۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر تھے اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ "

اس سے یہ بات ہمیں سمجھ آتی ہے جو جو باتیں حضور علیہ السلام نےچودہ سو سال پہلے بیان فرمادیں، ابھی ان میں سے بعض تک سائنس کی رسائی ہوئی ہے۔ باقی عقل محض کی پہنچ سے دور ہیں۔ جس کی ایک مثال یہاں عرض کر رہا ہوں تدوین و ترویج بنی آدم کے متعلق سائنس کہتی ہے کہ انسان بندر سے ترقی کر تے کرتے، موجودہ ہئیت تک پہنچاہے جبکہ انسانیت کی ابتدا کو قرآن مجید یوں بیان کرتا ہے خلقکم من نفس واحدہ، ثم جعل منہا زوجھا و انزل لکم من الانعام ثمانیت ازواج، یخلقکم فی بطون امہتکم خلقا من بعد خلق فی ظلمت ثلث کہ (ہم نےپہلے) آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا,پھر انہی کی پسلی سےان کی زوجہ محترمہ کو پیدا فرمایا۔ ، (پھر ماں باپ کا سلسلہ چلا کر) تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین پردوں کے اندر(ماں کا پیٹ، رحم، جھلی)، تمھیں یکے بعد دیگرے، کئی طرح سے تخلیق کیا۔ (سورہ زمر)

سوال ہوتا ہےکیا تخلیق کیا؟ صانع کی کاریگری کا عمدہ ترین شاہکار، سردی کی صبح کی دھوپ کی نرم و نازک کرنوں کی مانند، شکم مادر سے ایک ننھی منی، معصوم سی مخلوق نمودار ہوتی ہے۔ پھولوں سے زیادہ کومل، کلیوں سے زیادہ نازک، چندن سی رنگت لیے اس "احسن تقویم" کو دیکھ کر ہر شخص باری تعالیٰ کی حمد و ثنا کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔

الغرض ان سب تحقیقات کو جان لینے کے بعد بھی کسی مسلمان کے عقائد میں ذرہ برابر بھی اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین پرغیر متزلزل ایمان رکھتا ہے اور ایمان رکھنے پر کسی عقلی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔ البتہ کسی پر الحاد کا رنگ چڑھا ہوا ہو، تو بلا تعصب، خالی الذہن ہو کرقرآن مجید میں غور و فکر کرےتو حق و باطل کو پہچان لے گا اور مفکر کو ان شاءاللہ ضرور بالضرور نفع ہوگا۔