ان 'زبردستوں' سے اب نپٹ ہی لیا جائے - سید عارف مصطفیٰ

یہ ملک ایسے نہیں چلے گا، ہرگز نہیں چل سکتا، کیونکہ قاعدے قوانین پر عمل سے انکار تہذیب کی موت ہے اور معاشرے کا کوڑھ۔

آج جس طرف بھی نظر ڈالی جائے ہر طرف منہ زوریوں کی فصل لہلہا رہی ہے۔ ، کہیں کالا کوٹ پہن کرعدالتوں میں توڑپھوڑ کی جارہی ہے، تو کہیں اسٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالے جدید مسیحاؤں کے غول ہسپتالوں میں بیمار اور سسکتے مریضوں کو تڑپا رہے ہیں اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ، یہ تو ہیں پڑھے لکھوں کی جہالت کے مناظر لیکن، ایک بدبودار منظر نامہ اور بھی ہے کہ جس میں سڑکوں پر کھڑے آئل ٹینکروں کے پس منظر میں کلف لگی پھڑپھڑاتی شلوار قمیض پہنے شور مچاتے دھمکاتے پھنّے خان ہڑتال کرکے انسانی تحفظ پر مبنی کسی ملکی قانون کو نہ ماننے کا صاف اور دو ٹوک اعلان کرتے پھر رہے ہیں ، کیونکہ یہ دراصل وہ زور آور ہیں کہ جو جب بھی موقع ملتا ہے ان قوانین کو ٹھوکر ماردیتے ہیں اور پھر اپنے ناجائز مطالبات منوانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی روک دیتے ہیں اور اپنے آئل ٹینکر کھڑے کردیتے ہیں اور یوں ملک کی معشت کا پہیہ جام کرڈالتے ہیں۔

وکیلوں کا احوال جانیے تو پتا چلتا ہے کہ خود ہی ہر طرف قانون کو اپنے پیروں تلے روندتے نظر آتے ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی معاملے پر رولا ڈال دیتے ہیں۔ ابھی جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ پہلے ایک جج کے خلاف ملتان بار وکلاء کی طالبانیت دیکھنے میں آئی اور پھر لاہور ہائیکورٹ بار کے چنیدہ وکلاء کی بدمعاشی انتہا کو پہنچی ، ہائیکورٹ کا دروازہ تک توڑ ڈالا، ایک جج کے نام کی تختی بھی اکھاڑ ڈالی۔

یہ سب بہت دنوں سے ہورہا ہے اور ہوتا چلا جارہا ہے اور اب ملک میں ان جیسے وکلاء کی وجہ سے شرفاء کی اکثریت نے اپنے بچوں کو وکیل بننے سے روک دیا ہے کیونکہ وہ انہیں پڑھے لکھے 'گینگسٹر' کے روپ میں نہیں دیکھنا نہیں چاہتے۔ یقیناً سب وکلاء ایسے نہیں ہیں لیکن جو ایسے نہیں ہیں وہ ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لیں تو بہتر ہے کیونکہ مافیا کے سامنے پھر یہی آپشن سب سے سہل ہے۔ دوسری طرف وکلاء تحریک چلانے والے شرفاء تو کونوں میں بیٹھے نظریں‌ چرا رہے ہیں لیکن اس تحریک کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والے احسن بھون وغیرہ ٹائپ کے یہ کالے کوٹی گلو بٹ اس پیشے کی تقدیس کو آئے روز اور بات بے بات چوراہے چوبارے پر بری طرح پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ ان سرکشوں کا سرغنہ احسن بھون وہی شخص ہے کہ جو وکلاء تحریک کے عین آزمائش کے زمانے میں افتخار چوہدری کو بیچ رستے میں دغا دے کے پرویز مشرف سے مل گیا تھا اور اس نے اپنی اس منافع بخش حرکت اور غداری پر اس ڈکٹیٹر سے جج کی کرسی خیرات میں پائی تھی۔ اب لگتا یہ ہے کہ یہی احسن بھون ایک بار پھر کالے کوٹ کی تذلیل کا ارادہ کیے بیٹھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دھونس اور دھمکی کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہوا جائے اور شرپسندی کرنے والے وکلاء خواہ کتنا ہی ہنگامہ کیوں نہ کریں ان کو گردنوں سے پکڑ پکڑ کے جیلوں میں ٹھونس کے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت نپٹا جائے۔

ادھر لاہور میں ینگ ڈاکٹرز نے ہر چند دن بعد جو طوفان بدتمیزی مچارکھا ہے اس نے عوام کو عاجز کرکے رکھ دیا ہے۔ وہ بری طرح سے رل گئے ہیں اور علاج کے لیے دھکے کھانے پر مجبور کردیے گئے ہیں لیکن جب مسیحا ہی جلّاد کا دل سینوں میں لیے پھریں تو ان کے کسی مطالبے کو آخری سمجھنا محض حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ نجانے کب سے ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب ان کی بلیک میلنگ سے تنگ آکر صوبائی حکومت ان کے چند مطالبات منظور کرلیتی ہے تو وہ اس کا جشن مناکے تازہ دم ہوکے پھر نئے مطالبات کی فہرست لے کر آجاتے ہیں اور عوام و انتظامیہ، دونوں کو خون کے آنسو رلاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی بےلگامی روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے اور ان میں خوف خدا کی رمق بھی نظر نہیں آتی۔ مسیحائی کے نام پر بنی اس تنظیم کی اخلاقی کیفیت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں زبردستی گردے نکال کے فروخت کردینے والے جلّاد صفت ڈاکٹروں کا جو ریکٹ پکڑا گیا تھا اس کا کرتا دھرتا اسی ینگ ڈاکٹرز تنظیم کا جنرل سیکریٹری تھا۔

عوام کی بھاری اکثریت اپنے علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتالوں کے اخراجات کی سکت نہیں‌رکھتی، اس لیے سرکاری ہسپتالوں ہی کا رخ کرنے پر مجبور ہے لیکن وہاں ہونے والی آئے دن کی ہڑتالوں نے ان ہسپتالوں کو بھیانک روپ دیدیا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ملازمت میں موجود ڈاکٹروں‌ کی سروس کو ' لازمی سروس' کیڈر کا حصہ بنادیا جائے اور ان کے مابین کسی بھی قسم کی انجمن سازی پر پابندی عائد کردی جائے تاہم ان کے جائزمسائل کی شنوائی کے لیے ہر سرکاری ہسپتال میں ایک کوآرڈینیٹر متعین کیا جائے جو پولیس سروس سے ہو۔ ڈاکٹروں کی جانب سے علاج سے انکار کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیدیا جائے اور ان کے بائیکاٹ کو اسی قانون کی شقوں کے تحت ڈیل کیا جائے اور ہڑتال پر جانے والوں کی قطعی طور پر کوئی بات ہرگز نہ سنی جائے۔ مزید یہ کسی بحران کی صورت میں آرمی کے ڈاکٹرز اور پرائیویٹ اسپتالوں اور کلینکس کے ڈاکٹروں کی خدمات مستعار لے لی جائیں اور ہڑتالی و انکاری ڈاکٹرز کو کسی صورت کام پر واپس نہ لیا جائے بلکہ ترنت جیلوں میں ٹھونس دیا جائے۔

جہاں تک آئل ٹینکرز کا معاملہ ہے تو اس انتہائی حساس کام کو چند لالچی و سرکش لوگوں کا یرغمالی نہ بننے دیا جائے اور اس اہم کام کو کسی بھی طرح کی بلیک مینگ سے محفوظ کیا جائے اور منہ زوروں کے چنگل سے نکال لیا جائے کیونکہ ایسے لوگ کبھی اپنی ہڑتال کی وجہ سے پیٹرول کے اسٹاک کو کمترین سطح پر لے جاکے ایک بڑا بحران کھڑا کرسکتے ہیں اور دشمن ملک کو جارحیت کے لیے راغب کرسکتے ہیں - لہٰذا اب ضروری ہوچلا ہے کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے کام کو اب فوج کی تحویل میں دیا جائے جو کہ اس کا ایک الگ شعبہ 'لاجسٹک کور' بناکے اس امر کو یقینی بنائے کہ ملکی معیشت کا پہیہ کبھی نہ رک سکے اور کوئی فرد یا گروہ اپنی منفعت اندوزی یا کسی اور ناجائز مفاد کی خاطر شہریوں کو ان کی نقل و حرکت اور کاروبار کے آئینی حق کو مجروح نہ کرسکے اور نہ ہی کسی طور ملکی معیشت کا بازو کبھی مروڑ سکے۔

اب ملک کو چلانا ہے تو ضابطوں اور قاعدوں کو بروئے عمل لانا ہوگا ورنہ یہ بہتر ہے کہ فاٹا کی مانند اس سارے ملک کو قبائلی علاقہ ڈکلیئر کرکے آئین و قانون کی پاسداری کی اہمیت کے راگ الاپنے بند کردیے جائیں ۔