گستاخوں کی شفاعت - علی عمران

کئی سال پہلے کی بات ہے، وادی سون سکیسر کے دیہات میں ہماری تشکیل تھی. وہاں کی صورتحال تب بڑی ہی دلدوز اور دردناک تھی. ہر گاؤں، ہر بستی اور ہر قریہ ہی "شریف" تھا. ہم کسی کی آنکھ بچاتے، کسی کے ہاتھ سے بچتے، کسی کی لات کھا کے، کسی کی کھا جانے والی نظروں کے تیر سہتے تشکیل کا وقت پورا کر رہے تھے. اکثر کیا ساری ہی بستیاں قریباً غیر موافق اور کام سے انجان بھائیوں کی تھیں. قریبی بستیوں میں دیوبندیوں کے ساتھ نظریاتی اور عقیدے کی چشمک نے ان بستیوں کے باسیوں کو بھی سراپا جلال بنایا ہوا تھا. غرض بڑی کڑکی کا زمانہ تھا، اوپر سے تھا بھی رمضان. ایک بستی سے دوسری بستی میں جانا جان جوکھوں کا کام لگا کرتا تھا. منہ بند ہوتا روزے کی وجہ سے، اندیشوں کے سانپ ہر وقت سر نکالے ہمیں نکالنے کے خوف سے لرزاتے رہتے تھے. سفر بھی لمبا ہوتا تھا، منہ بھی خشک، لوگوں کی بھی ناموافقت، راستے بھی انجانے کہ بستی کے لوگ اس انگلی کو دھونا بھی واجب سمجھتے تھے، جس سے ہمارے منزل کی نادانستہ طور پر رہنمائی کر دی ہو.

واقعہ ہے تب کا، جب ایک بستی سے دوسری بستی میں جانا تھا. ساتھ میں اللہ کی شان! تھے بھی سارے بابے. کسی رہبر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. پچھلی بستی میں وقت مسجد میں نہ گزار سکے تھے. احباب نے مسجد کی نجاست کے خطرے کی وجہ سے اندر جانے سے منع کیا تھا. ان کا حکم سر آنکھوں پر رکھنا تھا، سو رکھ لیا تھا. بہرحال جب ہم توکل علی اللہ پو پھٹتے ہی چلے تو پھر دوپہر ہوگئی، مگر بستی تھی کہ نظر ہی نہ آتی تھی. ساتھی بوڑھے، سفر پہاڑی، سردی کے سامان کی وجہ سے بوجھ بہت زیادہ، ساتھ میں کھانے پینے کا سارا سامان بھی اٹھایا ہوا تھا کہ گاؤں دیہاتوں میں گستاخوں کو کچھ بیچ کر شفاعت تھوڑی خراب کرانی تھی، سو لدے پھندے اوپر ہی اوپر چڑھائی کا سفر جاری تھا اور ٹھنڈے موسم میں بھی ہر ہر مسام جاں سے پسینے چھوٹ رہے تھے. اس پورے سفر میں کوئی انسان کی ذات نہ اس کا کوئی ہمزاد دِکھا، بلکہ بغیر کسی مبالغے کے، کوئی پرندہ بھی نظر نہیں آیا تھا. بہرحال امیر صاحب نے بلآخر فرمایا کہ بھائی، بہت مشکل ہوگئی ہے، کہیں بھی کوئی بستی نظر آئے، تو اس میں چلے جانا ہے. ہم نے ترحم آمیز نگاہوں سے امیر صاحب کو دیکھا، مگر وہ تھکن، بھوک اور پیاس سے نڈھال بابوں کو دیکھ رہے تھے. جن کو دیکھ کر مجھے کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی. بہرحال میں اور ایک اور ساتھی دور دور تک دیکھ آئے، تو دور سے کسی بستی کے آثار نظر آگئے. ہم یوں خوش ہوئے، جیسے ہفت اقلیم کا خزانہ ملا ہو. واپس آکر ساتھیوں کی ہمت بندھائی. کچھ دیر آرام کرایا اور پھر چل پڑے. ابھی بستی کے خدوخال پوری طرح واضح نہیں ہوئے تھے، کیونکہ سامنے درختوں کا سلسلہ تھا کہ ایک ساتھی نے سامنے کے رخ پر متوجہ کیا. دیکھا کہ کچھ بھائی کلہاڑے ہلا ہلا کر بستی میں آنے کے سنگین نتائج سے خبردار کرنا چاہتے ہیں، مگر ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم ہر خطرے کو جھیلنے کے لیے تیار تھے، رات گزارنے کی عیاشی کے بدلے میں. پرجوش تو بہت لگ رہے تھے، مگر جب ہم ان کے پاس پہنچے تو ہمارے ہونٹوں پر پڑی ہوئی پیڑیاں، لرزتے ہاتھ، بھوک، پیاس سے نڈھال چہروں کو دیکھ کر ان کی کلہاڑیاں اٹھی ہی رہ گئیں. ہمارے امیر صاحب نے بڑی لجاجت سے عرض کیا کہ رمضان ہے، شام کا وقت قریب ہے، تھکن کے مارے ہیں، رات گزارنے دو. انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا. پھر گویا ایک نتیجہ پر پہنچتے ہوئے ان کے سرپنچ نے کہا، "ٹھیک ہے یہ گستاخ ہیں، پَرانسان تو ہیں. آج رات ٹھہرا لیتے ہیں. مسجد کا کیا دوبارہ دھو لیں گے.

ہم نے ان کی رحمدلی، انسان پروری اور ہمدردی کی تعریف کی، اور ان کے ساتھ چل پڑے. مسجد میں سامان رکھا. ابھی مغرب میں کچھ دیر تھی. عین مغرب کے وقت ایک صاحب کلہاڑا لے کر آگئے، اور گستاخوں کو فی الفور مسجد خالی کرنے کا الٹی میٹم سنا دیا. ہم نے ساتھیوں کو سمجھایا تھا کہ ابھی عشق کے امتحان اور ہوں گے، لہذا آپ لوگوں نے کسی کی بات کا کوئی جواب نہیں دینا، بھلے وہ مارے، ڈانٹے، برا بھلا کہے، سامان اٹھا کر پھینکے. آپ نے بس سر جھکا کر ذکر کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنا ہے. بہرحال وہ صاحب خوب گرجے برسے. کلہاڑی لے کر ہر ایک کو مارنے کے لیے دوڑتے، پھر پاس پہنچ کر گالی گلوچ پر اکتفا کر لیتے. مگر ہمارے ساتھی خاموش ہی رہے. آخر ان کو کچھ اور سمجھ نہ آیا تو بسترے اٹھا کر باہر پھینک دیے، اور بڑبڑاتا ہوا چلا گیا. ہم نے اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے بسترے پیچھے موجود جوہڑ میں نہ پھینکے، ورنہ کڑاکے کی سردی ہمارا کڑاکا ضرور نکال دیتی.

رات کو تراویح سے پہلے ہم نے ساتھیوں کو بستی میں پھیلا دیا کہ تھوڑا سا تعارف ہوجائے اور کچھ لوگ نماز کے لیے آجائیں، کیونکہ شام کو کوئی نہیں آیا تھا. مَیں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ایک صاحب کے پاس بیٹھا اور کچھ دل لگی کی باتیں کیں. کچھ تعارف ہوا. پھر کچھ ہلکی پھلکی بات رکھی. ساری عرض معروض کے بعد فرمایا: "مولوی صاحب. مانتا ہوں آپ لوگ ہم سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہو، زیادہ روزے رکھتے ہو، حج زکوۃ سب ہم سے زیادہ کرتے ہو، پر ایک بات سن لو، کل جب قیامت کا دن ہوگا تو ہم تو عشق مصطفیٰ کی وجہ سے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر جنت میں چلیں جائیں گے اور آپ لوگ حساب کتاب دیتے رہ جائیں گے."
میری آنکھوں میں آنسو آگئے. عرض کیا "بھیا کل جب آپ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ کر جانے لگو، تو اس گستاخ کی تلاش بھی کرلیجیے گا، تاکہ آپ کے واسطے سے ہم بھی امیدواران شفاعت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہوجائیں.
وہ ہکا بکا مجھے دیکھتا ہی رہ گیا.

کچھ دیر بعد اس نے میرے چہرے پر نظریں گاڑ کر پوچھا، "تمھیں غصہ نہیں آیا میری بات پر؟"
"آپ نے دیکھا مجھے غصہ کرتے ہوئے؟"
"اسی بات پر تو مَیں حیران ہوں. حالانکہ میرا خیال تھا کہ آپ اچھل پڑیں گے. اچھا ایک بات بتائیں! یہ ہمارے لوگ آپ کو گستاخ کیوں کہتے ہیں؟"
"آپ پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو؟"مَیں نے پوچھا.
"جی! مَیں کراچی میں کچھ عرصہ رہ چکا ہوں. وہاں پڑھے لکھوں کی صحبت میں کچھ دیر رہا ہوں. ایک دو دفعہ دعوت اسلامی کے قافلوں میں بھی گیا ہوں."
"پھر آپ ہی بتائیں کہ آخر یہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں؟"
وہ کچھ کسمسایا. تھوڑی دیر تک اپنے سر کو کجھاتا رہا، پھر بولا "یار! سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آتی اس بات کی. یہ دیوبندی لوگ نمازوں کا بھی ہم سے زیادہ اہتمام کرتے ہیں، روزے ثوابی بھی رکھتے ہیں. کراچی میں مَیں نے دیکھا، ان کے خیرات و صدقات سے اتنے بڑے بڑے دیوبندی مدرسے چل رہے ہیں. کچھ عرصہ قبل ایک تبلیغی جماعت آئی تھی ہمارے گاؤں میں. اس کو تو ہم نے دھکے دے دے کر اور ڈنڈے ٹھڈے مارمار کر بھگا دیا تھا. ان میں ایک بوڑھا بابا تھا، مَیں اسے مارنے لگا تو اس نے کہا، "بیٹا مَیں روزانہ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتا ہوں.مجھے بتاؤ!میں گستاخ ِرسول کیسے ہوں؟
پَر اس وقت ہمارا امام صاحب موجود تھا، اس نے اتنا اکسایا ہوا تھا کہ مَیں نے طمانچہ پھر بھی اس کے منہ پر جڑ دیا اور چیخا، "تم میلاد نہیں مانتے تو میلاد والے آقا پر درود پڑھنا بھی تمھیں کوئی فائدہ نہیں دےگا. تم کچھ بھی کرو، گستاخ ہی رہوگے. تم دیوبندی ہو ہی گستاخ!" اور دھکے دے دے کر اسے مسجد سے باہر نکال دیا. وہ بوڑھا مسجد کے دروازے سے باہر پکے فرش پر گر گیا. پھر گرتا پڑتا اٹھا اور درد بھری آواز میں کہنے لگا، "بیٹا مَیں بھی بریلوی ہوں. مَیں بھی ایسا تھا. تمھاری طرح ان لوگوں کو دھکے دے کر نکالتا تھا. ہماری مسجد میں ان کی جماعت آئی تھی. مَیں مسجد میں پہنچا، تو یہ لوگ آپس میں نماز صحیح کرا رہے تھے. میں ان کے قریب ہی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا. میری نماز جیسی تھی، بس مجھے ہی پتہ ہے. نماز خاک پڑھنی تھی، مَیں تو ان کی سننے کھڑا تھا، تاکہ کوئی غلط بات زبان سے نکالے اور مَیں ان پر ٹوٹ پڑوں. وہاں کھڑے کھڑے مجھ پر انکشاف ہوا کہ مَیں اپنے آپ کو عاشق رسول ضرور کہتا ہوں مگر مجھے تو صحیح نماز بھی پڑھنی نہیں آتی. انہوں نے ایک حدیث آپس میں پڑھی. آقاعلیہ السلام نے فرمایا، "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے." میں نے دل میں کہا، عشق کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، وہی چیز میری آنکھوں کا سرمہ بننا چاہیے. اس وجہ سے مَیں بستر اٹھا کر ان کے ساتھ چلا آیا. "بابا یہ کہہ کر چلا گیا اور مجھے سوچنے کے لیے چھوڑ گیا. تب سے لیکر اب تک میں سوچ ہی رہا ہوں.. یہی سوچ کہ دیوبندی گستاخ کیوں ہے؟"

"پھر کس نتیجہ پر پہنچے؟ مَیں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا،
"کراچی میں رہتے ہوئے مجھے کچھ اندازہ ہوگیا تھا کہ ایسا کیوں ہے؟ میرا خیال ہے کہ دیوبندی مولویوں نے کچھ ایسی کتابیں لکھی ہیں، جن میں گستاخانہ باتیں ہیں. انھی باتوں سے یہ سارا میدان گرم ہے."
مَیں نے کہا، "دیکھو! میں تمھیں ان بات کی حقیقت بتاتا ہوں. بات یہ ہے کہ جب ایک آدمی ایک چیز کی صفت بیان کر رہا ہوتا ہے تو اس کے بیان سے مقابل کی چیز پر باوجود احتیاط کے، زد پڑتی جاتی ہے. اچھا ایک بات کا جواب دو، وسیع سڑک پر تم نے دیکھا ہے کہ ڈرائیور کی تھوڑی سی بےخیالی سے گاڑی لہرانے لگتی ہے."
"ہاں! مَیں نے کراچی میں یہ منظر بہت دیکھا ہے. اپنے یہاں تو سڑک ایک خواب ہے."
"تو کیا وہ روڈ کی حد سے باہر نکل کر فٹ پاتھ پر چڑھ کر الٹ بھی جاتی ہے؟"
"نہیں عام طور پر تو ڈرائیور اسے قابو کرلیتا ہے. کبھی کبھار ہی کسی گاڑی کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آتا ہے. ورنہ عام طور پر تو ڈرائیور متوجہ ہو جاتا ہے."
"سواریوں کا کیا ردعمل ہوتا ہے؟"
"وہ تو ایک دم چیخ وپکار شروع کر دیتی ہیں. بعض ڈرائیور پر چیخنے لگتے ہیں اور بعض دیندار لوگ توبہ استغفار بھی کرنے لگتے ہیں."
"زبردست! اب سنو. علمائے دیوبند کی جن چیزوں کو لے کر انھیں کیا، ہر دیوبندی عقیدے والے کو گستاخ کہا جاتا ہے، ان کی حقیقت بھی عموماً ایسی ہی ہے. جو باتیں ان کی گستاخیاں سمجھی جا رہی ہیں، ان میں وہ حد شریعت کے اندر ہیں. وہ اسی روڈ پر ہی چل رہے ہوتے ہیں. حد شریعت میں بعض اوقات حقیقتاً ایسا ہوجاتا ہے کہ اپنے مؤقف کے حق میں بات کرتے ہوئے تھوڑی سی بے احتیاطی سے اس کےمقابل پر بظاہر کوئی حرف آتا نظر آتا ہے، اگرچہ حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں. وہ جملہ یا وہ کلام حد شریعت سے باہر نہیں نکلتا، جس پر یہ لوگ وہ چیخ پکار اور اودھم مچا دیتے ہیں کہ الامان والحفیظ. حالانکہ وہ بات حدشریعت سے باہر نہیں جاتی، اگرچہ بےفکری کی وجہ سے قابل تعریف بہرحال نہیں ہوتی. اور اس لائق ہوتی ہے کہ اسے بدلا جائے. حقیقت یہ ہے کہ دو مخالف جہتوں میں ہر لحاظ سے توازن رکھنا مشکل ہوجاتا ہے. مگر جیسے گاڑی کا لہرانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اسی طرح یہ جملہ بھی ہوتا ہے. اس وجہ سے کئی مرتبہ تو خود صاحب کتاب خود متنبہ ہوا، کئی مرتبہ دوسرے علماء حق نے تنبیہ کی اور اس کو خیال آگیا. اگر تو وہ چیز حقیقتاً نامناسب تھی تو ہٹا دی گئی، برسرعام اس کا اظہار بھی کیا گیا اور اس پر معافی بھی مانگی گئی."

"کیا اسی طرح ہے بات؟"
"جی بالکل"
"ہمارے بریلوی علماء کو بھی اس کا پتہ ہے؟ "
مَیں نے کہا. "ظاہر ہے سب کچھ ان کے سامنے ہی ہے."
"پھر وہ کیونکر گستاخ کہتے اور کہلواتے ہیں؟"
وہ حیران ہوگیا تھا.
"یاد ہے آپ نے اس بابا کو کیا جواب دیا تھا. آپ نے کہا تھا تم کچھ بھی کرو، تم گستاخ ہی رہوگے. تم دیوبندی ہو ہی گستاخ!"
اس نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا جیسے وہ ساری بات سمجھ گیا ہو.
چند دن بعد جب ہم جارہے تھے، تو وہ ہمارے ساتھ تھا، کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا.

احباب! جنید جمشید بھائی اور حالیہ چنیوٹ سانحے سے اندازہ ہوتا ہے کہ
کہ ہمارے بڑے بڑے بزعم خویش علاموں سے وادی سون کا وہ جاہل آدمی بہتر تھا.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.