بھارتی مسلمان اب مزید عدم تحفظ کا شکار - کاشف نصیر

ہندوستان کی سپریم کورٹ کے ایک سیاسی فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کو مسلم پرسنل لاء میں تین طلاقوں سے متعلق نئی قانون سازی کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ فیصلے میں جہاں ایک ہی مجلس میں تین طلاق کے تصور کو ہندوستانی دستور سے منافی قرار دیا گیا ہے وہیں اسے مسلمانوں کا مذہبی قانون تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر موودی نے اس فیصلے کو مسلمان خواتین کی آزادی کی جناب پہلے خوشگوار قدم سے تعبیر کیا ہے۔

تین طلاق کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے ہندوستان میں ایک اہم سیاسی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف برسراقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے کو گاہے بگاہے پارلیمنٹ، ذرائع ابلاغ اور سیاسی اجتماعات میں اٹھاتی رہی ہے تو دوسری طرف مسلمان رہنما اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اس معاملے کو مسلمانوں کا داخلی مذہبی معاملہ باور کراتا آیا ہے۔ بی جے پی کے نزدیک صرف تین طلاق ہی واحد مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کا بنیادی مطالبہ مسلم پرسنل لاء کا مکمل خاتمہ کرکے تمام ہندوستان پر یکساں سول لاء کا نفاذ ہے۔

بی جے پی یورپ اور امریکہ کی مثال دیتی ہے جہاں مسلمانوں کے لیے پرسنل لاء کا تصور نہیں ہے جبکہ مسلمان رہنماؤں کے نزدیک ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کا مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں سے تقابل درست نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کا آئین انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے فیملی لاء میں شرعی احکامات کی پیروی کرسکیں۔ کئی علماء یہ نقطہ بھی پیش کرتے آئیں ہیں کہ جو مسلمان پرسنل لاء سے مطمئن نہیں ہیں، وہ عام باآسانی سول لاز کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

اصولی طور پر یا تو ہندستان میں مسلم پرسنل لاء سرے سے ہونا نہیں چاہیے اور اگر اسے برقرار کھنا ہے تو پھر مسلمانوں کے پرسنل مذہبی لاء کی تفہیم کا حق کسی غیرمسلم کو کیسے دیا جاسکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں کچھ مسیحی خواتین سے چرچ کے رہبانہ تصورات کے خلاف پٹیشن داخل کروائیں اور پاکستان کی عدالت اور پارلیمنٹ کے مسلمان اراکین مسیحیت کی تفہیم شروع کردیں۔ یہی وجہ ہے ہندوستان کے اہل حدیث اور اہل تشیع مکاتب فکر بھی جو ایک مجلس میں تین طلاق کے قائل نہیں ہیں، اس فیصلے اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے حکومتی عزائم کو اپنے مذہب میں مداخلت تصور کررہے ہیں۔

ان حالات میں بھلے ہندوستانی پارلیمنٹ تین طلاق پر پابندی لگادے اور خلاف ورزی پر سزا تجویز کردے، عملی طور پر مسلم سماج میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ لوگ بدستور تین طلاقیں دیں گے اور اس کے بعد رجوع کو گناہ سمجھا جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسا موجودہ حالات میں تین طلاقوں کے بعد کوئی جوڑا رجوع کرنا چاہے تو وہ عام سول لاز کے زریعے دوبارہ شادی کرلیتا ہے لیکن بریلوی اور دیوبندی پس منظر رکھنے والا مسلمان سماج اس تعلق کی مذہبی حیثیت کو قبول نہیں کرتا۔

یوں عملی طور پر وہ مسائل تو جوں کے توں رہیں گے جن کو اس معاملے میں مداخلت کے لیے جواز بنایا گیا ہے مگر دوسری طرف عام ہندوستانی مسلمان جو پہلے ہی نئی حکومت کے کھڑے کیے گئے گائے کے ذبیحے، بندے ماترم، دہشت گردی، حب الوطنی اور گھر واپسی تحریک ایسے مسائل میں گھرا خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگا ہے، مزید عدم اعتماد کا شکار ہوگا۔ وہ دل کے نہاں خانے میں یہ سوچے گا ضرور کہ کہیں 70 سال پہلے جناح درست اور آزاد غلط تو نہیں تھے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */