کمیونیکیشن سکلز - حفصہ عبدالغفار

"مجھے لکھنا سیکھنا ہے، مجھے بولنا سیکھنا ہے، مجھے خود اعتمادی چاہیے۔"
ایک بات کہوں؟ آپ لکھنا چاہے نہ سیکھیں، بولنا چاہے نہ سیکھیں، خود اعتمادی کی ورکشاپس چاہے نہ اٹینڈ کریں،
بس سوچنا سیکھ لیں۔
بس ایکسپوئیر حاصل کرلیں، سوشل اور والنٹئر ورک کریں، مسئلوں میں پڑیں گے تو
آپ لکھاری بھی بن جائیں گے،
آپ سپیکر بھی بن جائیں گے اور خود اعتمادی بھی خود ہی آ جائے گی۔

سچ کہتے ہیں کہ انعام ہر کوئی چاہتا ہے، قیمت ادا کرنا کوئی نہیں چاہتا، تو اس سب کی قیمت ادا کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ ایسا بھی ہوگا کہ لوگ آپ کی 'آل راؤنڈ پرسنالٹی' پہ رشک کر رہے ہوں گے اور آپ شدید ڈپریشن میں خود کو کوس رہے ہوں گے کہ کہاں پھنس گیا ہوں۔
کبھی اچھے لکھاری اور اچھے مقرر کے ساتھ وقت گزاریں اور جانیں کہ یہاں تک پہنچنے میں انہوں نے کیا کیا دیکھا۔
ڈیل کارنیگی صاحب نے اس کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
" Living, feeling, thinking, enduring the slings and arrows of outrageous fortune—that is the finest preparation ever yet devised for either speaking or writing.'

وژنری انسان بن جائیں، لکھاری اور مقرر نہ چاہتے ہوئے بھی بن جائیں گے۔ انسان کی فکر، اس کی جسمانی طاقت اور اس کی ذہانت ایسی چیزیں ہیں جو آؤٹ لیٹس خود ہی تلاش لیتی ہیں۔ جب کسی معاملے میں آپ کا ایک نقطہ نظر ہوگا تو وقت آنے پہ وہ خود ہی باہر نکل آئے گا۔

ہاں! الفاظ کے داؤ پیچ اور فصاحت و بلاغت ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی، لیکن یہ دونوں تو تحریر و تقریر میں ثانوی اہمیت کی حامل ہیں۔ آپ بات اچھی کریں، آپ کے خیال میں ندرت ہو تو سادہ سے سادہ الفاظ اور انداز بھی چلے گا۔

اسپیکرز اور رائٹرز میرے نزدیک دو طرح کی ہوتے ہیں۔ نیچرل اور فیک۔ فیک سے مراد وہ جو کسی ایک سے تقریر لکھواتے ہیں، کسی دوسرے سے لب و لہجہ درست کرواتے ہیں اور سٹیج پہ جا کہ چند منٹ کی اداکاری دکھا آتے ہیں۔ ہماری جامعات میں رائج ڈیکلیمیشن فارمیٹ اس کی بہترین مثال ہے۔

آپ کا مقصد نیچرل سپیکر بننا ہونا چاہیے تب ہی عملی زندگی میں فائدہ ہے۔ اس کا طریقہ یہی ہے جو اوپر گزر چکا۔ باقی فیک اسپیکرز تو وہ بھی ہیں جو زمانہ طالب علمی میں کل پاکستان تقریری مقابلہ جات جیت لیتے ہیں اور عملی زندگی میں چند الفاظ بھی نہیں بول پاتے۔

ہاں، زمانہ طالب علمی میں آغاز میں، عارضی طور پر فیک اسپیکر بننا بھی بہت کام آتا ہے۔ لیکن اس کا وقت بس ٹین ایج تک رہنا چاہیے۔ اس سے آپ کا لب و لہجہ بہت بہتر ہو جاتا ہے۔ خود اعتمادی بھی آ جاتی ہے-

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.