اسلام، ٹیکنالوجی اور مغرب زدگی - حافظ محمد زبیر

مسلم معاشروں میں دو قسم کے طبقات مغرب زدہ ہیں؛ ایک وہ جو مغرب کو پڑھ کر اس سے متاثر ہو گئے اور دوسرے وہ جو مغرب کو پڑھ کر رد عمل کی نفسیات [psychology of reaction] کا شکار ہو گئے۔ یہ دوسرا طبقہ اگرچہ مغرب کا شدید ناقد ہے لیکن مغرب نے ان پر پہلے طبقے سے زیادہ گہرا اثر چھوڑا ہے۔ یہ اثر نیوٹن کے تیسرے قانون کے عین مطابق ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے جو قوت میں برابر لیکن سمت میں مخالف ہوتا ہے۔

مغرب کے فکری اثر سے اگر کوئی طبقہ کسی قدر محفوظ ہے تو وہ، وہ طبقہ ہے جسے مغرب کو پڑھنے کی نعمت میسر نہیں ہے یا آسان الفاظ میں جنہیں اتنی انگریزی نہیں آتی کہ وہ مغرب کو پڑھ سکے اور اس پڑھنے کے نتیجے میں اس سے متاثر ہونے کے اسباب اور رستے ہی پیدا کر سکے۔

پس سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں اگر کوئی معتدل رائے سامنے آ سکتی ہے تو اس کی امید روایتی علماء کے طبقے سے کی جا سکتی ہے۔ اور ان سب کا اس پر تقریبا اتفاق ہے کہ ٹیکنالوجی ویلیو نیوٹرل ہے، بھلے انہوں نے ان الفاظ کو استعمال نہ کیا ہو یا وہ ویلیو نیوٹرل کی اصطلاح کو نہ جانتے ہوں لیکن ان کے فتاوی کا خلاصہ یہی ہے، جمع کر کے دیکھ لو۔
ٹیکنالوجی کے بارے میں جو رائے "انصاری" مکتب فکر نے پھیلا اور عام کر دی ہے، وہ نہ تو سو فی صد درست ہے اور نہ ہی سو فی صد غلط ہے۔ لیکن انہوں نے اللہ کے فضل و کرم سے نوجوان اسکالرز کی ایک ایسی جماعت ضرور پیدا کر دی ہے جو اسمارٹ فون جیب میں رکھ کر اس کی شناعت ومضرت پر ایسی عمدہ گفتگو کر سکتے ہیں کہ کسی دار العلوم کے آخری درجہ کے طلباء تو کجا دار الافتاء کے مفتی بھی مسحور ہو جائیں۔

یہ اس ماڈرن سوسائٹی میں رہتے ہوئے ٹیکنالوجی کے استعمال نہ کرنے کے بارے ایک ایسے شاذ مؤقف پر ضد کر رہے ہیں کہ جس میں امت تو کجا ان کی اولاد کو بھی پناہ نہیں ملے گا۔ یہ دین ایسے موقف کا حامل کیسے ہو سکتا ہے کہ جس پر اربوں کی امت کی بجائے چار افراد کو لانا مشکل ہو جائے۔ فقہاء اور مفتی بھلے مغرب کو ککھ نہ جانتے ہوں، اور یہ ان کی خوبی ہے اور تمہاری خامی ہے، لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ کل کلاں کو تمہاری نسلیں بھی انہی کے بیانیے کی روشنی میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

جدید ٹیکنالوجی کے ضرر اور نقصانات سے انکار نہیں ہے لیکن اس کے بارے جو مؤقف آپ لوگ پیش کر رہے ہیں، وہ امت کو ایک فتنے سے نکال کر دوسرے فتنے میں ڈال دینے کے مترادف ہے۔ اور اس رہبانیت کے لیے صوفیانہ ڈسکورس سے کمک لینا مزید ایک حماقت ہے کہ وہ سب کا سب ضعیف اور موضوع روایات پر کھڑا ہے۔ امت اگر مجموعی حیثیت میں کسی ڈسکورس پر کھڑی ہو سکتی ہے تو وہ فقیہانہ اور قانونی ہے نہ کہ صوفیانہ اور اخلاقی۔ صوفیانہ اور اخلاقی ڈسکورس کوئی علمی پوزیشن لینے کے لیے بنیاد بن ہی نہیں سکتا، البتہ اس سے کسی علمی پوزیشن میں اعتدلال لانے کے لیے ضرور مدد لی جانی چاہیے۔

یہ صوفیانہ ڈسکورس ہی کے فضائل وبرکات ہیں کہ آج اکثر کو صحیح بخاری کی اس مستند ترین روایت کا علم نہیں ہے کہ بڑے گھر اور کھلے مکان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نعمت اور فضل قرار دیا لیکن یہ ضعیف روایت سب کو حفظ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے "چوبارہ" بنانے کو اتنا ناپسند فرمایا کہ انہوں نے اسے گرا دیا تھا۔ ایک اور اعتبار سے بھی عرض کر دوں کہ یہ امت اپنی اجتماعی حیثیت میں گناہ گار ہے، لہذا اسے چلانے کے لیے گناہ گار مفتی زیادہ کارآمد ہیں، بنسبت متقی صوفیوں کے۔ مزید تفصیل اگر اللہ نے چاہا تو کسی مستقل تحریر میں عرض کر دوں گا۔

ٹیکنالوجی کے مضر اثرات سے انکار نہیں ہے لیکن ٹیکنالوجی کو معاشرے کے لیے زہر ثابت کرنے کے لیے جس طرح کا استدلال کیا جا رہا ہے، وہ بھی ایک لطیفے سے کم نہیں ہے۔ ذرہ سا غور کریں تو ٹیکنالوجی پر کی جانے والی اس معاصر نقد کا حکیمانہ پن، بازاری پن محسوس ہونے لگتا ہے۔

"انصاری" مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک قابل دوست نے ٹیکنالوجی کے رد میں یہ مثال بیان فرمائی کہ بائیک کو ہی دیکھ لو۔ جس طرح بائیک پر دو افراد بیٹھے ہوتے ہیں یعنی آگے پیچھے، اگر یہ بائیک کے بغیر اس حالت میں بیٹھے ہوں تو تمہارے ذہن میں کیا خیال آئے گا؟ تو بھئی برا ہی خیال آئے گا، اچھا خیال کیا آئے گا۔ تو یہ ہے ماڈرن سواری کی نحوست! اب بھی افسوس ہوتا ہے ان علماء پر جو ٹیکنالوجی کو "ویلیو نیوٹرل" سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے ایسا کیوں کیا؟ عمر ڈابا

یہ مثال سن کر میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ "اسلامی سواری" اونٹ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو لوگ بیٹھتے تھے تو کیسے بیٹھتے تھے؟ اب بتلائیں کیا آپ کی اسلامی سواری "ویلیو ںیوٹرل" ہے۔ بھئی، ٹیکنالوجی پر ضرور تنقید کریں، اس تنقید میں ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں، بس مبالغہ تھوڑا کم کر لیں۔ ہم بحثیت مسلمان جن المیوں سے دو چار ہیں تو ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے زاویہ ہائے نگاہ یعنی چیزوں کو دیکھنے کے اینگلز خراب ہو چکے ہیں، اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں۔

ایک اسٹوڈنٹ نے کہا کہ سر! دیکھیں کہ "کوکا کولا" کی بوتل کو الٹا کریں تو جو انگریزی میں "کوکا کولا" کے الفاظ لکھے ہیں، یہ "لا مکہ لا محمد" بن جاتا ہے۔ تو بھئی، سوال یہ ہے کہ تمہیں کہا کس نے کہا کہ تم اسے الٹا دیکھو۔ بنانے والے نے اسے سیدھا بنایا ہے، بس سیدھی طرح دیکھو۔ ہمیں ہر چیز کو الٹا دیکھنے کی عادت ہی کیوں پڑ گئی ہے؟ الٹا دیکھنے سے تو کچھ بھی کچھ بن جائے گا۔

قرآن مجید ہی کے حروف کو ذرہ الٹا کر کے دیکھ لو تو نتیجہ معلوم ہو جائے گا۔ اور تمہیں یہ بھی بتلاتا چلوں کہ بدترین جادو قرآن مجید کے حروف کو الٹا کرنے سے ہی پیدا کیا جاتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کسی اچھے جادوگر سے پوچھ لو۔ ٹیکنالوجی پر رد سے انکار نہیں ہے لیکن اعتدلال کی بہت ضرورت ہے کہ بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے بات بگڑتی چلی جا رہی ہے۔