نادرا اسلام آباد میں ایک انتہائی برا تجربہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بلیو ایریا اسلام آباد میں نادرا کے آفس میں ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے (24/7) خدمات کی سہولت دستیاب ہے۔ چند مہینے قبل اس سروس سے فائدہ اٹھایا اور بہت اچھا تجربہ رہا جس کے بعد کئی دوستوں کے سامنے نادرا کے اسٹاف کی کارکردگی کو سراہا اور انھیں بھی اس آفس کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔ تاہم آج بہت ہی تلخ اور افسوس ناک تجربہ ہوا۔

میں اپنی فیملی کے ساتھ تقریباً پونے دس بجے آفس پہنچا اور دوسرے فلور پر "ایگزیکٹو سروسز" کے لیے گیا۔ وہاں دیکھا تو عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ معلومات فراہم کرنے والے کاؤنٹر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ ڈیٹا فیڈ کرنے والے مختلف کاؤنٹر پر کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ کئی لوگوں نے ٹوکن لیے ہوئے تھے اور خاموش (بے حس و حرکت) بیٹھے تھے۔ ایک اہلکار کچھ دیر بعد ڈیسک پر نظر آیا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ دس بجے نئی شفٹ شروع ہوگی اور اس کے لیے اسٹاف ابھی نہیں آیا۔ (واضح رہے کہ نادرا.کی ویب سائٹ پر اب بھی لکھا ہوا ہے کہ تیسری شفٹ رات کے ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوتی اور صبح ساڑھے آٹھ بجے ختم ہوتی ہے۔ https://www.nadra.gov.pk/rho-islamabad/) بہرحال ہم نے بھی ٹوکن لیے اور انتظار میں بیٹھ گئے۔ دس بجے دو کاؤنٹرز پر اہلکار بیٹھ گئے اور ٹوکن نمبر پکارے جانے لگے۔ چار پانچ نمبر تو ویسے ہی چلے گئے کیونکہ ٹوکن لینے والے موجود نہیں تھے۔ بالآخر دو افراد ان کاؤنٹرز پر آگئے اور ان کے لیے کارروائی شروع ہوئی۔ تقریباً دس بج کر دس منٹ پر ایک تیسرا اہلکار بھی آکر بیٹھ گیا تو اس کاؤنٹر پر بھی ایک شہری کے لیے کارروائی شروع ہوگئی۔

تاہم اس کے ساتھ ایک عجیب معاملہ شروع ہوا۔ کئی نادرا اہلکار ایک دوسرے کو پکار کر گپ شپ کرنے لگے۔ پھر جو بیٹھے ہوئے تھے ان میں بھی دو اٹھ کر گپ شپ میں مشغول ہوگئے۔ تیسرے اہلکار نے ایک صاحب کو فارغ کیا اور پھر موبائل پر گفتگو میں مشغول ہوگیا اور اس کی یہ کال دس منٹ تک چلتی رہی!

اتنے میں دیکھا کہ ایک صاحب نے "سیور فوڈز" کا بڑا شاپر اٹھایا ہوا ہے اور مختلف اہلکاروں میں کچھ بانٹ رہا ہے۔ پہلے میرا خیال تھا کہ وہ شاید پلاؤ کباب لایا ہوگا لیکن پھر دیکھا کہ کسی کو اس نے ماچس پکڑائی تو کسی کو سگریٹ کا پیکٹ! بہرحال دس منٹ مزید گزر گئے اور ابھی تک ایک شخص کو بھی فارغ نہیں کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اصل خطرہ؟ حامد میر

اتنے میں ایک اور افسوس ناک منظر دیکھا کہ ریسیپشن پر بیٹھے صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر یکے بعد دیگرے تقریباً دس ٹوکن نکال لیے۔ پھر انھیں اپنے سامنے کمپیوٹر کے قریب رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر کوئی دوست یا جاننے والا بعد میں آئے تو یہ ٹوکن اسے احتیاط کی زحمت سے بچائے۔ عام لوگوں کے لیے لیکن اس کا ایک مزید نقصان یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اگر وہ ٹوکن لیتے وقت دیکھتے کہ ان کا ٹوکن تیس کے بجائے چالیس نمبر بعد آرہا ہے تو وہ شاید حوصلہ ہار کر واپس ہی چلے جائیں!

دس بج کر تئیس منٹ پر ایک صاحب آئے اور بائیومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کرنے والی مشین پر انگوٹھا لگا کر حاضری لگوائی۔ اس کے بعد وہ بھی گپ شپ میں مصروف ہوگیا۔ اس کو دیکھ کر تین کاؤنٹرز پر بیٹھے افراد میں سے دو اٹھ کر اس کی میز پر آگئے اور مزید گپ شپ شروع ہوگئی۔ پھر آخری کاؤنٹر والا بھی اٹھ گیا۔ چھے کاؤنٹرز پہلے ہی سے closed تھے!

جب سات آٹھ منٹ مزید گزر گئے تو بالآخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ میں اٹھا اور ریسیپشن پر بیٹھے اہلکار سے پوچھا کہ اس آفس کا کوئی انچارج ہے؟ پہلے تو اس نے سنی ان سنی کردی لیکن جب میں نے یہی بات انگریزی زبان میں اور سخت لہجے میں پوچھی تو اس نے اس بندے کی طرف اشارہ کیا جو خود دس بج کر تئیس منٹ پر آیا تھا! ابھی میں اس کی طرف جا ہی رہا تھا کہ تین چار اہلکار لپک کر آئے اور ہر ایک پوچھنے لگا کہ کیا مسئلہ ہے۔ میں ایک کو بتا رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن دوسرا جھپٹ کر کچھ اور کہنے لگا۔ میں اسے بتا رہا تھا تو تیسرا اور پہلا کچھ اور بولنے لگا۔ مجھے حیرت سے زیادہ صدمہ پہنچا۔ میں نے انھیں ریسیپشن والے اہلکار کے کمپیوٹر کے سامنے پڑے دس ٹوکن دکھا کر کہا کہ یہ دیکھیں، یہ کیا ہورہا ہے؟ چھ کاؤنٹرز کیوں بند ہیں۔ باقی دو کیوں اٹھے؟ تیسرا موبائل پر کیوں اب تک لگا ہوا تھا؟ اتنی دیر میں دو تین مزید اہلکار آگئے تھے اور ہر ایک اپنی بولی بول رہا تھا۔ میں ان کے نام نہاد انچارج سے بات کرنے اس کی طرف بڑھا تو وہ اپنی میز سے اٹھ کر دوسری میز پر گیا اور وہاں گپ شپ کرنے لگا۔ میں نے کہا کہ یہ کیا مذاق ہے؟ یہ انچارج صاحب تو بات بھی نہیں سن رہے اور یہ تو خود دس بج کر تئیس منٹ پر آئے ہیں۔ جو چار پانچ اہلکار میرے اردگرد جمع ہوگئے تھے وہ بدتمیزی پر اتر آئے۔ میں نے انھیں کہا بھی کہ میں یونی رسٹی میں پروفیسر ہوں، لیکن وہ انتہائی بے ہودہ لہجے میں کہنے لگے کہ آپ کوئی بھی ہوں، آپ بیٹھ جائیں یا تشریف لے جائیں! اس وقت بڑی شدت سے احساس ہوا کہ اگر میں واقعی یونیورسٹی میں پروفیسر نہ ہوتا تو کم از کم اپنی پختون جبلت پر عمل تو کرسکتا!

یہ بھی پڑھیں:   اصل خطرہ؟ حامد میر

بہرحال میں نے انھیں کہا کہ یہ معاملہ میں ایسے تو ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔ نادرا کے ان اہلکاروں کا رویہ تو تھا ہی افسوس ناک لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک بلکہ عبرتناک رویہ ان "عوام" کا تھا جو اس سارے معاملے کو گونگوں اور بہروں کی طرح دیکھتے رہے، اور کبھی مجھے اور کبھی ان کو دیکھتے رہے! پہلے میرا خیال تھا کہ لوگ غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے لیکن کوئی ایک آدھ شخص غلط کو غلط کہنے لگے تو باقی اس کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ جاتے ہیں۔ تاہم ان لوگوں کی بے حسی دیکھ کر معلوم ہوا کہ اب ایسا بھی نہیں ہوتا!

فیملی ساتھ تھی۔ اس لیے میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ میں وہاں سے چلا آؤں ورنہ کم از کم یہ تو کر ہی سکتا تھا کہ ان "سرکاری اہلکاروں" کو عمران خان کی زبان میں اور ان "عوام" کو حسن نثار کی زبان میں کچھ مناسب القابات دے دیتا۔ کچھ اور فائدہ نہ ہوتا، کتھارسس ہی ہوجاتی!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.