ڈاکٹر بہو کی تلاش - لبیق افضل

چند سال قبل غیر میڈیکل گھرانوں کے لیے ڈاکٹر بہو کا رشتہ ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل تھا جتنا لیبر روم میں کسی مرد ڈاکٹر کو ڈھونڈنا. اس لیے دور اندیش مائیں اپنے لاڈلوں کے لیے ڈاکٹر بہو ان کے جنم لیتے ہی ڈھونڈنا شروع کر دیتی تھیں.

انڈسٹری کا قانون ہے کہ جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے تو اس کی سپلائی بھی بڑھانی پڑتی ہے. ڈاکٹر بہو نامی برانڈ کی اس قدر ڈیمانڈ دیکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے میڈیکل کالجوں میں خواتیں کا مخصوص کوٹہ ختم کیا اور اوپن میرٹ کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ ساسوں کے نصیب میں ڈاکٹر بہو آ سکے. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 300 کی کلاس میں 80 لڑکے اور 220 لڑکیاں پائی جاتی ہیں. لہذا بہت سے انجینئر اور بینکر حضرات کی مائیں بھی اس سے مستفید ہوتی نظر آتی ہیں.

ہر ڈاکٹر کی شادی لیڈی ڈاکٹر سے ہو جائے، یہ تو عین ممکن ہے لیکن ہر لیڈی ڈاکٹر کی شادی ڈاکٹر سے ہو سکے، یہ حقیقت کے منافی ہے. لہذا برانڈڈ ڈاکٹر بہو کی اس بہتات کا ایک خوش آئند نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بیچارے کمپاؤڈر حضرات کی بھی قسمت چمک اٹھی۔ لیکن قسمت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ میں نے بہت سی معصوم الفطرت ماؤں کو اپنے ہوس زدہ، چیچک شدہ نمونوں کے لیے ڈاکٹر بہو کا رشتہ اس قدر بےتابی سے ڈھونڈتے دیکھا ہے جسے موت کا فرشتہ مرنے والے کو ڈھونڈتا ہے۔

لیکن کچھ حضرات یہ کام میڈیکل کالج میں داخلے کے ساتھ خودی شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ان کے بقول ہاؤس جاب کے بعد FCPS کی تیاری اور MCAT کے بعد ڈاکٹر بیگم کی تلاش وقت سے پہلے ہی شروع کر دینی چاہیے، ورنہ ڈارون کی Survival of the fittest والی تھیوری کے مصداق آپ کمپیٹیشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال سے نبٹنے کے لیے مختلف طبی کالجوں میں مختلف قسم کے ٹوٹکے آزمائے جاتے ہیں، جن سے مچھلیاں فائنل ائیر میں ہی مچھیروں کے جال میں آجاتی ہیں، اور پھر ان میں سے ایک سنہری مچھلی کو پہلے ”جان“ بنا کر اور پھر حق مہر کے عوض تا عمر کے لیے وبالِ جان بنا کر فیس بک پر بھی milestone اچیوو کیا جاتا ہے۔

قبل از مسیح سے برصغیر میں یہ قاعدہ چلتا آ رہا ہے کہ شادی کے لیے لڑکی، لڑکے سے کم از کم دو تین سال چھوٹی پسند کی جاتی ہے۔ مگر فی زمانہ ضلع بھر کے میڈیکل کالجوں کے طلبہ نے اس قاعدہ کو صدرِ الباکستان کی طرح نکر سے لگایا ہوا ہے۔ جس کے نتائج کچھ یوں برآمد ہو رہے ہیں کہ شادی کے لیے لڑکے کلاس فیلوز کو چھوڑ کر سینئرز تک رسائی حاصل کر بیٹھے ہیں۔ اور تین دن قبل جن کے نام آپ کو فیس بک سٹیٹس میں ”بیسٹ سینئر آپی، لولی جونئیر“ وغیرہ وغیرہ کی صورت میں نظر آتے ہیں، مہینے بعد انھی کے نام شادی کارڈ پہ فلاں وڈ فلاں اور فیس بک پر ”تو جو ملا تو ہوگیا سب حاصل“ کے کیپشن کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

مگر ان سب حالات میں بھی کچھ حضرات ایسے رج کے سنگل ہوتے ہیں جتنا سنگل عید کے دن ڈیوٹی پر موجود ایک بیچارہ ہاؤس آفیسر ہوتا ہے۔ برانڈڈ ڈاکٹر بہو کے اس سمندر میں پانچ سال الٹے سیدھے غوطے کھانے کے باوجود بھی ان کے حصے میں محلے کی وہی ٹیوشن والی باجی آتی ہے، جس نے گھریلو سیاست میں FCPS کا پارٹ ون کلئیر کیا ہوتا ہے، اور باقی ٹریننگ کے لیے آپ کے گھر آ جاتی ہے۔ ہمیں ایسے متاثرین سے دلی ہمدردی ہے اور ان کے بہتر مستقبل اور برانڈڈ چیزوں تک رسائی کے لیے دل سے دعا کرتے ہیں۔