اس بے حسی کا کچھ تو مداوا ہو - فارینہ الماس

رشتے پیدائشی اور وراثتی ہوں یا ہمارے خود کے بنائے، ان کی بہار ہی ہمیں ہمارے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ ان کے سہارے ہی ہم زندگی کی سبھی کلفتوں اور تلخیوں کو سہنے اور پچھاڑنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ ان کے نہ ہونے سے انسان اپنی ذات کی تنہا ئی کے روگ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ عمر بھر بالکل ایسے ہی بھٹکتا رہتا ہے جیسے صحرا میں رستہ بھولا ہوا مسافر۔ قابل افسوس امر ہے یہ کہ اب انسان رشتوں کی اس بہار کو آزار سمجھنے لگا ہے، اس کے تئیں ان سے منہ چھپا کر جینے میں ہی زندگی کی آسانیاں ہیں۔ جھٹلائے ہوئے ان رشتوں کی اہمیت کا احساس اسے اس پل ہوتا ہے جب مادی اشیاءکے تمام تر حصول کے بعد بھی سکون جیسی نعمت اس کی زندگی سے کوسوں دور رہ جاتی ہے۔ یا جب وقت کے کسی گھاؤ کو بھرنے کے لیے مادی نہیں انسانی سہارا اور الفت درکار ہو۔ تب معلوم پڑتا ہے کہ انسان کا سارا منظر اور پس منظر درحقیقت انسانوں سے ہی ممکن ہے۔ ہماری نیکی، بدی، خوشی، غمی،گناہ ثواب کے سبھی معیار انسانوں سے ہو کر ہی گزرتے ہیں۔ ہمار ی تمام تر زندگی ہی انسانوں کے کسی نہ کسی احسان سے جڑی ہوئی ہے، لیکن ہم ان انسانی رشتوں کے کفران نعمت سے اپنی عمر کو محرومیوں کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔

انسانی بےقدری کی سب سے بڑی مثال ماں باپ کے مقدس رشتے کی بے حرمتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”جس نے انسان کا شکر ادا نہ کیا اس نے خدا کا شکر ادا نہیں کیا“، اور وہ انسان جس نے اپنے والدین کو اس کی پرورش کی تکالیف سہتے اور رنج اٹھاتے دیکھا، پھر بھی وہ اپنے ماں باپ کے احسانات کو نہ مانا، وہ بھلا اس خدا کے احسانات کو کیا مانے گا جو اسے سب کچھ عطا کرتا ہے اور نظر بھی نہیں آتا۔ والدین سے بدسلوکی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دنیا کے بہت نامور لوگ بھی اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنے سگے باپ تک کے بےرحمانہ قتل میں ملوث پائے گئے۔ طاقت اور اقتدارکی خاطر اپنے مہان باپ کو مار دینا ایک قدیمی چلن ہے جو تاریخ کے مطالعے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ مہا بھارت میں ارجن کا قتل اس کے بیٹے کے ہاتھوں ہونا، ایڈی پس کا اپنے باپ کو قتل کرنا، قرآن پاک لکھ کر یا ٹوپیاں سی کر گزارہ کرنے والے اورنگ زیب کے ہاتھوں اس کے سگے باپ کو زندان میں ڈالے جانا، یہ تاریخ کے انتہائی تاریک واقعات ہیں۔ گو کہ آج کے تہذیب یافتہ ممالک میں بوڑھے لوگوں کی افادیت تقریباًختم ہو کر رہ چکی ہے۔ ماں باپ کو ایک ایسا بوجھ سمجھا جاتا ہے جو انسانی ترقی میں مخل ثابت ہوتا ہے، اور تیزی سے مادی ترقی کی منازل طے کرتے انسان کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ اپنے بوڑھے والدین کا سکھ دکھ بانٹ سکیں۔

”چین“ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بوڑھے والدین سے اولاد کی بےرخی اور بے التفاتی کچھ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ”بزرگوں کے حقوق“ کے لیے ایک ایسا قانون بنانا پڑا جس میں وہ اولاد جو اپنے الدین سے دور یا الگ رہتی ہے، اسے تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے والدین سے وقتاً فوقتاً ملاقات کرتے رہیں، ورنہ انھیں قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق چین میں اٹھارہ کروڑ کی آبادی ساٹھ سال سے زائد عمر پر مشتمل ہے اور 2030ء تک یہ تعداد دوگنی ہو جانے کا امکان ہے۔ اٹھارہ کروڑ کی اس آبادی کو نوجوان اولاد کی جس بے اعتنائی اور بے رخی کا سامنا ہے، اس کی مثالیں دل پسیج دینے والی ہیں۔ تقریباً کچھ ایسا ہی صنعتی اور معاشی طور پر ترقی یافتہ ملک جاپان کے ساتھ بھی ہے اور یہاں تو بےحسی کچھ اس قدر سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے کہ اکثر تنہائی کا شکار ضعیف لوگوں کی خود کشی کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ یہاں تقریباً 70 افراد یومیہ خودکشی کر رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت تنہائی کا شکار بوڑھے لوگوں کی ہے۔ 2015ء میں ایک بلٹ ٹرین میں تنہائی کا شکار، 71سالہ شخص نے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کی۔ جنوبی کوریا میں بوڑھے خودکشی اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے خاندان کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، البتہ وہ اپنی لاغر اور بے سہارا زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے فاقے کرتے ہیں ۔
یورپ میں بہت طویل مدت سے بوڑھے لوگوں کے مسائل کا حل اولڈ ہومز کی صورت تلاش کر لیا گیا ہے۔ گو کہ حقیقی رشتوں سے محرومی ان کی روح کو گھائل کیے رکھتی ہے لیکن ان مصنوعی گھروں میں بھی انہیں کچھ نہ کچھ سماجی و معاشرتی مصروفیت اور بہتر حالات فراہم کر کے ان کی تکلیفوں کا خاطر خواہ ازالہ ممکن ہو ہی جاتا ہے۔ گھر والوں کی بے اعتنائی لاحق ہو تو حکومت خود اس ذمہ داری کو نبھاتی ہے۔ ہالینڈ کے اولڈ ہومز کی انتظامیہ نے وہاں مقیم بوڑھوں کی تنہائی کا مداوا کرنے کے لیے ایک انوکھا اور دلچسپ حل نکالا۔ انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ روزانہ ایک گھنٹہ اولڈ ہوم کے بوڑھوں کے ساتھ بیتائیں گے تو انہیں بلا معاوضہ رہائش فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے دو ہی اچھے - قدسیہ ملک

ہم ایک مدت تک یورپ کو بزرگوں سے کیے جانے والے ناروا سلوک کے لیے لعنت ملامت کرتے رہے لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ خود ہمارا ملک اور دیگر ایشیائی ممالک بھی اس غیر انسانی فعل سے دور نہ رہ سکے۔ نہ صرف ایشیائی بلکہ مسلم ممالک بھی کہ جو اس حکم خداوندی کو بخوبی جانتے ہیں کہ اپنے بوڑھے والدین کے سامنے اف تک نہ کرو، وہ بھی اپنے بوڑھے والدین سے انتہائی لرزہ خیز اور غیر انسانی سلوک کے مرتکب پائے جاتے ہیں۔ یہاں اولڈ ہومز کی تعداد تو ضرورت سے انتہائی کم ہے۔ اور جو موجود ہیں، وہ بوڑھے ماں باپ سے اٹے ہوئے ہیں۔ پھر معاشرتی بدنامی سے بچنے کے لیے بھی ان کے لیے گھروں میں ہی ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ ان سے جلد چھٹکارہ ممکن ہو سکے۔ اور ایسی بھی مثالیں تعداد میں کم نہیں جن میں بوڑھے اور لاغر افراد سے جان چھڑانے کے لیے انہیں جان سے ہی مار دینے کا مکروہ فعل اپنایا گیا۔ چند ماہ قبل ایک نوجوان کی ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جو اپنی دکان کے ایک تاریک گوشے میں کھڑا، اسے ملنے کو آنے والے بوڑھے والدین پر تھپڑوں کی بارش کر رہا تھا۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مناظر تھے۔ والدین کو معمولی معمولی تنازعوں پر جان سے مار دینے کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں دھکے دے کر گھر سے نکال دینا تو اب بہت عام ہو چکا ہے ۔جس طرح ان واقعات کا تعلق کسی ایک خطے سے نہیں اسی طرح ان کا تعلق کسی ایک طبقے سے بھی نہیں رہا۔ بےحسی اور بے مروتی کے واقعات ایسے بھی ہیں کہ امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ آفیسرز تک کو، بچے مرنے کے لیے گھر کے ایک تاریک گوشے میں رکھ چھوڑتے ہیں اور ان کے مرنے کے بعد بچوں کے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ان کا لاشہ دفنا سکیں۔ یہ کام بھی رشتے داروں یا دوستوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہماری معاشرت کا سب سے بڑا رواج خود اس امر کے بڑھاوے کا سبب بن رہا ہے اور وہ رواج ہے جائیداد کا حصول ۔

یہ بھی پڑھیں:   تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

بھارت میں وجے پت سنگھانیا کی کہانی آج کل زبان زدعام ہے۔ بھارت کا وہ سابق امیر ترین شخص جو کبھی بارہ ہزار کروڑ روپے کا مالک تھا۔ جس نے اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹے کے نام کر دی اور بیٹے نے اپنے باپ کے اس محبت و اپنائیت کے فعل کا صلہ یہ دیا کہ باپ کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دیا۔ آج وہ ممبئی کی سڑکوں پر کسمپرسی کی حالت میں جوتے چٹخاتا پایا جاتا ہے۔ وہ والدین جو تمام عمر اولاد کے سکھوں کی خاطر دکھ کے پاپڑ بیلتے رہتے ہیں اور بچوں کی اچھی زندگی کے لیے اپنا ضمیر تک بیچ دیتے ہیں، ان کی اولاد جائیداد کی خاطر ان کے انتقال کی منتظر پائی جاتی ہے۔ یا انہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر باہر کے ممالک میں جا آباد ہوتی ہے۔

پاکستان کے نامی گرامی سہگل خاندان کا سربراہ بستر مرگ پر پڑا تھا اور اس کی اولاد زمین جائیداد کے لیے باہم دست و گریباں تھی۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت پڑھے لکھے ریٹائرڈ افسروں کو ان کے بڑھاپے میں اولاد نے گھر کے ایک تنگ و تاریک کونے میں ڈال دیا اور ان کے مر جانے پر بھی ایسی بے رخی دکھائی کہ ان کو کفنانے اور دفنانے کا فریضہ دور کے رشتہ داروں یا دوست احباب نے ادا کیا۔ گزشتہ سال دہلی کی ایک عدالت نے ایک بڑے دلچسپ مقدمے کا قابل تعریف فیصلہ سنایا۔ یہ کیس ایک بیٹے اور اس کے والدین کے درمیان چل رہا تھا۔ اور اس کی وجہ بیٹے کا اپنے والدین کو خود ان کے بنائے گھر سے نکال باہر کرنے پر والدین نے اس پر کر رکھا تھا۔ ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ بیٹا اپنے والدین کی محنت سے بنائی گئی جائیداد کی ملکیت کا کوئی قانونی حق نہیں رکھتا۔ بیٹا شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ، یہ والدین کی مرضی ہے کہ وہ اسے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دیں یا نہ دیں۔ اس کے بیٹے اور ان کی بیویاں نافرمان تھیں۔ اور والدین سے برے سلوک کے مرتکب پائے گئے تھے، سو والدین یہ کیس جیت گئے، اور ان کی اولاد کو ان کے گھر سے بے دخل ہونا پڑا۔ اسی طرح 2016ء میں انڈین سپریم کورٹ نے ایک کیس کے سلسلے میں یہ فیصلہ دیا کہ والدین کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائیداد اپنے بیٹے کی بجائے بیٹی کو دے سکیں۔

مائیکرو سافٹ کے بانی اور دنیا کے امیر ترین انسان بل گیٹس کا ایک فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے یہ اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا کہ وہ اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم نہیں کریں گے۔ ایسے اقدامات سے والدین خود کو ایک بڑی محرومی اور عدم تحفظ کے احساس، اور اپنے بچوں کے ہاتھوں استحصال سے بھی بچا سکتے ہیں۔

والدین کو اولاد کی اعلیٰ تربیت اور تعلیم کا ذمہ دار ضرور ہونا چاہیے لیکن انہیں اپنی اولاد کی محبت کا اس قدر محتاج نہیں ہونا چاہیے کہ آنے والے وقتوں میں اولاد ان کی تذلیل و بےحرمتی میں بھی عار محسوس نہ کرے۔ ہمارے ملک میں والدین کے تحفظ کے لیے بھی قوانین بننے چاہییں۔ شدید قسم کی انسانی بے حسی کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی کچھ اقدامات کی ضرورت ہے مثلاً سعودیہ میں سپریم جسٹس کونسل نے عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کیا جس کے مطابق والدین پر تشدد یا ان کی ہتک کے مرتکب ہونے والوں کو ایک مقررہ عرصے تک قبریں کھودنے اور مردے نہلانے کی سزا دی جائے گی۔ کوئی ایسا قانون اور اصول پاکستان میں بھی ہونا چاہیے تاکہ اس ظلم عظیم کو ڈھانے والے اپنا انجام بھی یاد رکھ سکیں۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.