عقیدہ فضیلت اور فساد فی الارض - عمر ابراہیم

بلا شبہ، ابلیس جس عقیدہ فضیلت پر مردود قرارپایا، اُسی عقیدے کی ترویج پراُس نے سب سے زیادہ کام کیا، اسے مؤثرترین ہتھیار بنایا، اُسے ہرامت کا فتنہ بنایا۔ انسانوں کا سب سے زیادہ خون ناحق نسل پرستی اور قوم پرستی کے سرہے۔ شیطان کا یہ عقیدہ فضیلت بنی اسرائیل نے حرز جاں بنایا اوراس کا علم اٹھایا، بڑی بڑی اقوام پیروی میں خاک وخون ہوگئیں۔ ایک پرفریب وقفے کے بعد، آج کا منظرنامہ پھروہی بن رہا ہے۔ تہران اور ریاض سے واشنگٹن اوربرلن تک نسل پرست پھرخون کے پیاسے ہورہے ہیں، یہ سب الل ٹپ نہیں، عالمی طاغوت کا ایجنڈا ہے۔ عقیدہ فضیلت کے دہشت ناک سائے حرکت میں ہیں۔ عالمی حالات کا سرسری سا جائزہ جنگ سازی کی نوعیت واضح کررہا ہے۔

یوں امریکا کی بنیاد ہی نسل پرستانہ قتل عام پر پڑی۔ کروڑوں 'ریڈ انڈینز' کے خون سے اس سرزمین کی آبیاری ہوئی۔ تاہم آج کے واقعات ترقی یافتہ معاشرے کا منظر نامہ ہیں۔ امریکا کے نسل پرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفید فام فسطائیت کولائسنس جاری کردیا ہے۔ شارلٹس ولے، ورجینیا میں سیاہ فاموں کے خلاف پرتشدد واقعات پیش آئے، جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بھڑکایا۔ ایک سفید فام نسل پرست نے مظاہرین پرگاڑی چڑھادی، جس میں ایک خاتون جان سے گئی۔ بوسٹن میں سفید نسل پرستی کے خلاف شاندارریلی ہوئی، جسے پولیس نے کچل دیا، بہت سارے سیاہ فام حراست میں لیے گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پولیس اہلکاروں کا باقاعدہ شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ کا یہ رویہ نیا نہیں، اور نہ ہی پہلی بارسامنے آیا ہے بلکہ عالمی طاغوت نے ٹرمپ کا انتخاب جن صفات پرکیا ہے، نسل پرستی ان میں نمایاں ہے۔ سن 1973ء میں امریکی محکمہ انصاف نے ٹرمپ اور اس کے باپ پرنسلی امتیاز برتنے کا الزام لگاکر مقدمہ قائم کیا تھا۔ یہ دونوں باپ بیٹے ہاؤسنگ پراجیکٹ میں سفید فام افراد ہی کوسرمایہ کاری کا موقع دے رہے تھے۔ انہوں نے افریقی امریکیوں پرسرمایہ کاری کے دروازے بند کردیے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکنزکومجرم اور رذیل پکارا۔ سیاہ فاموں اورلاطینی آبادیوں کودوزخ قراردیا۔ غرض امریکا میں نسل پرستی کی فتنہ گری سرکاری سرپرستی میں فروغ پارہی ہے۔

بات صرف امریکہ کی داخلی پالیسی کی نہیں، خارجہ پالیسی بھی مکمل طورپرنسل پرستوں اورقوم پرستوں کے مابین جنگ سازی پرمبنی ہے۔ شمالی کوریا سے امریکہ کی چھیڑ چھاڑ کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ دنیا میں اس وقت قوم پرستی کا سب سے خوفناک جذبہ شمالی کوریا میں پایا جاتا ہے۔ امریکہ کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ اگرکسی قوم میں ہے، تووہ شمالی کوریا ہے۔ پیانگ یانگ کی قوم پرستی نازی ازم جیسی ہے، جسے بھڑکانا امریکہ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ ہولناک کھیل ٹرمپ جیسے احمق حکمران کے ہاتھوں کا ناریل بن سکتا ہے۔ جنوبی کوریا کے ساتھ امریکہ کی اشتعال انگیز مشقیں جزیرہ نما کوریا میں جنگ کی آگ بھڑکانے کا آسان نسخہ ہے۔ اس کا مقصد کسی طرح چین کی تجارتی مصروفیات کو جنگی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش ہے۔ چین کے اس محاصرے میں ایٹمی قوت بھارت بھی مہم جوئی دکھارہا ہے۔ سکم کی سرحدی پٹی پربھارت کی اشتعال انگیزی روزکی خبرہے۔ غرض جزیرہ نما کوریا سے گوادر تک قوم پرستوں کے ہاتھوں ایٹمی جنگ بھڑکانے کی خوفناک کوششیں کی جارہی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے انخلاء بھی فی الوقت زمینی حقائق سے مشروط کردیا ہے، ٹرمپ پالیسی تقریرمیں بھارت کوعلاقائی غنڈہ بناکرپیش کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا کے گاڈ فادرکم جونگ اُن دھمکی دے چکا ہے کہ اگر زیادہ غصہ دلایا گیا تو بحرالکاہل میں امریکی علاقے گوام کو ایٹمی میزائلوں سے تباہ کردے گا۔

آسٹریلیا نے بھی امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مشقوں میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، جسے پیانگ یانگ نے خودکشی کے مترادف قرار دیا۔ غرض آسٹریلیا سے چین تک کا علاقہ ایٹمی جنگ کے دہانے پرنظرآتا ہے۔ یہ سب کس لیے ہورہا ہے؟

یورپ میں نسل پرست اور قوم پرست رجحان دن بہ دن دہشت ناک ہورہا ہے۔ تارکین وطن، مسلمان اقلیت، اور دیگر نسلی ولسانی اکائیاں امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ بلکہ بات اور بھی بہت آگے جاچکی ہے۔ تارکین وطن کے خلاف پالیسیاں اور مہمات تشکیل پارہی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ جرمنی میں پھرنازی ازم سراٹھارہا ہے۔ جگہ جگہ دیوارون پر نازی سمبل سواسٹیکا پینٹ کیا جارہا ہے۔ عالمی جنگوں والا قوم پرست یورپ پھربڑی خونریزی کیلئے تیار کیا جارہا ہے، دہشت ناک حالات کا عادی بنایا جارہا ہے۔ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟

امریکہ کی خارجہ پالیسی کا سب سے فعال حصہ مشرق وسطٰی کی تباہ کاری ہے۔ یہاں ٹرمپ کا حالیہ دورہ ریاض سمجھنا کافی ہے۔ عرب اور فارسی نسل پرست حکومتوں کے درمیان علاقائی خونریزی پراربوں کھربوں ریال جھونکے جارہے ہیں۔ خطے میں اسلحے کی درآمد مسلسل ہے۔

ابلیس کا عقیدہ فضیلت پوری دنیا میں فتنہ وفساد چاہتا ہے، تاکہ انسانوں کی تمام رذیل نسلیں باہم کشت وخون میں خاک ہوجائیں۔ سوائے ایک نسل کے، افضل ترین بنی اسرائیل کے سواباقی سب غلام ہوجائیں یا فنا ہوجائیں۔ کیونکہ تالمود ایسا ہی کہتی ہے۔ رومن ایمپائر سے کلیسا، اورروشن خیالی سے مابعد جدیدیت تک تالمود کی یہی فتنہ پروری فساد فی الارض ہے۔ اس کا مقصد عالمی حکومت کا استحکام ہے، جوفساد پرقائم ہے۔

تاہم عقیدہ فضیلت میں ایک سُقم رہ گیا ہے، ہمیشہ یہ سُقم رہ جاتا ہے۔ عقیدہ فضیلت محض عقیدہ ہی ہے۔ دراصل فضل رب کا ہے، جس کے حکم سے کائنات قائم ہے، اور جس کے حکم سے متقی لوگوں کی فضیلت پرہمیشگی کی مہر ثبت کی جاچکی ہے۔