جب اسٹیبلشمنٹ غلطیاں کرتی ہے - محمد عامر خاکوانی

سیاسی گرما گرمی جاری ہے، روزمرہ واقعات پر لکھنا آسان رہتا ہے اور قارئین کے لیے بھی اسے سمجھنے میں دقت نہیں رہتی۔ کسی فکری یا مستقل اہمیت کے موضوع پر لکھنا زیادہ وسیع حلقے کو اپنی طرف نہیں کھینچ پاتا۔ اس کے باوجود سوچا کہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اتنی لمبی چوڑی بحثیں، بیانات چلتے رہتے ہیں تو اس ایشو کو کھول کر بیان کیا جائے۔ اسی لیے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی ترکیب پر تفصیل سے لکھا (اٹھارہ اگست)، دوسرے حصے (بیس اگست کو شائع ہوا) میں وضاحت سے لکھا کہ عوام اپنے حکمران کس لیے منتخب کرتے ہیں اور انہیں کون سے بنیادی کام سرانجام دینے ہوتے ہیں، اس تفصیل کو دیکھنے سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہمارے سول حکمران عوام کے مینڈیٹ کی کس طرح توہین کرتے ہیں۔ انہیں کبھی کسی نے نہیں روکا کہ ملک میں پولیس کا نظام ٹھیک کریں، صحت، تعلیم ،صاف پانی، روزگار کے مسائل حل کریں، معیشت درست کریں۔ میرے نزدیک یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ستر سال سے ملک کے معاملات میں دخل دے رہی ہے اور کسی حکومت کو کچھ نہیں کرنے دیتی۔ یہ سفید جھوٹ اور محض جذباتی، بےمغز پروپیگنڈہ ہے۔

ملٹری اسٹیبلشمنٹ وجود میں ہی ایوب خان کے بعد آئی۔ شروع کے آٹھ نو برس تو ا س میں سے نفی کرنے پڑیں گے۔ اس زمانے کے شرمناک سیاسی بلنڈر اورایک رات میں اپنی پارٹی چھوڑ کر نئی جماعت بنانے جیسے سیاہ واقعات کے بارے میں جاننا ہو تو ممتاز مؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب ”مسلم لیگ کا دور حکومت“ پڑھنا چاہیے۔ آدمی ہکا بکا رہ جاتا ہے کہ یہ نامی گرامی سیاستدان اخلاقیات کی اس طرح دھجیاں بھی اڑا سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی بھٹو صاحب سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سے میاں نواز شریف تک کس سیاستدان نے سچے دل سے ڈیلیور کرنے کی کوشش کی؟ کس نے ملک میں جمہوریت اور جمہوری روایات مستحکم کرنے کی سعی کی۔ بھٹو صاحب نے اپوزیشن کو بےرحمی سے کچلا، اپنے مخالف صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا، اپنی پارٹی کے جے اے رحیم جیسے ممتاز لوگوں کو بھی ذلیل کیا۔ بھٹو صاحب کے دور ہی میں ڈاکٹر نذیر، خواجہ رفیق جیسے لوگ شہید ہوئے۔ احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں ان کے والد قتل ہوگئے۔ یہ سب بھٹو صاحب کی سحرانگیز شخصیت کے متضاد رنگ ہی ہیں، جنہیں مٹانا ممکن نہیں۔ بی بی کا دور بھی سب کے سامنے ہے، جو غلطیاں انہوں نے کیں وہ بھی ہر ایک نے دیکھیں۔ غلام اسحاق خان کے خلاف نعرے اور پھر وقت پڑنے پر اسی غلام اسحاق خان کے ساتھ مل کر نواز شریف حکومت بدلنے کی سازش۔ میاں نواز شریف کے تینوں ادوار کا تجزیہ کرنا کون سا مشکل ہے؟ انہوں نے سیاسی سسٹم کو کرپٹ کر کے اسے ہائی جیک کیا اور سیاسی جماعتوں کو یوں مافیاز کی شکل دے دی کہ ان کے دور کا تجزیہ کرتے ہوئے گاڈ فادر سے تشبیہہ دینا پڑی۔ محمد خان جونیجو ہماری سیاسی لاٹ میں سے نسبتا بہتر اور شفاف شخص تھے۔ اگرچہ پانچ نکاتی پروگرام کے نام پر ڈویلپمنٹ فنڈز ارکان اسمبلی کو دینے کی بدعت انھی کے سرجاتی ہے۔

یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ سیاستدانوں کی تمام تر غلطیوں، نااہلیوں اور بلنڈرز کے باوجود یہ طے ہوچکا کہ اقتدار سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں مختلف تجربات سے انسانی دانش اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پرامن انتقال اقتدار کا سب سے مناسب طریقہ جمہوریت ہے۔ اس پر اجتماعی انسانی دانش کا اتفاق ہے۔ آج کی دنیا میں غلاموں، کنیزوں کا کوئی تصور موجود نہیں، اگر کوئی شخص غلام یا کنیز رکھنے کی بات کرے تو اسے دماغی معائنہ کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ اسی طرح آج کی دنیا میں جمہوریت کے حوالے سے بھی تقریباً ویسا ہی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جن ممالک میں معروف انداز کی جمہوریت نہیں، وہ بھی اپنے اپنے نظام کو عملاًجمہوری کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ بادشاہت اب صرف قبائلی معاشروں تک محدود ہو چکی۔ پاکستان میں بھی اب لازمی ہوچکا کہ صرف سیاسی اور جمہوری پراسیس کے ذریعے ہی حکومت میں آیا جائے۔ پاکستانیوں نے اپنے تجربات سے یہ بھی اخذ کر لیا ہے کہ صدارتی نظام کے بجائے ہمارے لیے پارلیمانی نظام ہی موزوں ہے۔

بات سیاستدانوں کی غلطیوں سے شروع ہوئی تھی، دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی غلطیوں کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔ الا ماشاءاللہ کوئی کسر انہوں نے بھی نہیں چھوڑی۔

اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام تھا نہ ہی یہ کردار ان کے لیے موزوں تھا۔ ان کا کام پیچھے رہ کر ریاست کی مستقل نوعیت کی پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا تھا، جسے چھوڑ دیا گیا۔ ایوب خان نے اس کی ابتدا کی۔ ایوب راج کے دس برسوں پر مختلف آرا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کچھ اچھے کام کیے تو بعض بڑی غلطیاں بھی کیں۔ زیادہ نقصان یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندانہ جذبات بڑھتے گئے۔ ایوب اس کا حل نہ نکال سکے۔ وہ سویلین بن جانے کے باوجود فوج کا چہرہ ہی سمجھے جاتے تھے۔ اس لیے بنگالیوں میں احساس محرومی بڑھتا گیا کیونکہ وہ فوج سے باہر تھے اور فوجی حکومت انہیں غیر لگتی تھی۔ اعتماد سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اگر مادر ملت فاطمہ جناح کو الیکشن جیتنے دیا جاتا تو ممکن ہے پاکستان کا نقشہ بہت مختلف ہوتا، قوی امکان ہے کہ پاکستان دولخت بھی نہ ہوتا۔ یحییٰ خان پر ملک توڑنے کی براہ راست ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کے حوالے سے مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔ جنرل ضیاءالحق کے دور کے بارے میں آج غیر جانبداری سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ بھٹو صاحب اور جنرل ضیا ءمیں یہی فرق ہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے المیہ نے ان کی عیوب کو ڈھانپ لیا۔ ان کی برائیاں ان کے ساتھ ہی دفن ہوگئیں اور ایک سافٹ امیج باقی رہ گیا۔ جنرل ضیاءکی شخصی اچھائیاں ان کے طیارے کے حادثے کے ساتھ ہی چلی گئیں اور ان کی برائیاں نمایاں ہوگئیں۔ مزید ستم یہ ہوا کہ ان کے دور کی بعض خامیاں خوب پروان چڑھیں۔ لسانی سیاست کا جن بوتل سے ایسا باہر آیا کہ واپس ہی نہیں جا پا رہا۔ برادری ازم نے ہمارے پورے سیاسی کلچر کو گندا کر دیا، عام شہریوں کو افغان گوریلا جنگ میں استعمال کرنے کی حکمت عملی ایسی تباہ کن ثابت ہوئی کہ آج ہر تجزیے میں اسی کا ذکر ہوتا ہے۔ حال یہ ہے کہ جنرل صاحب کی اپنی اولاد بھی ان کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہی۔ ان کے پسندیدہ اور مقرب صحافی جنرل کی برسی کے موقع پر بھی دو سطریں لکھنا گوارا نہیں کرتے۔ یہ وہ انجام ہے جو اکثر ڈکٹیٹروں کے حصے میں آتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں خوبیاں ڈھونڈنا آسان نہیں۔ فواد چودھری یا ماروی میمن کے پرانے ٹی وی انٹرویو دیکھے جائیں تو ممکن ہے کچھ مدد ملے۔ مشرف کی بدی بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ لال مسجد آپریشن ہو یا نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت، یہ دونوں ایسے بلنڈر تھے، جن کے مضمرات کا ریاست کو مسلسل سہنے پڑ رہے ہیں ۔ دو بار آئین توڑنے، عدلیہ کی تضحیک کرنے والا ڈکٹیٹر آج ملک سے باہر خوار ہو رہا ہے۔ جو خود کو سب کچھ سمجھتا تھا، آج ملک میں قدم بھی نہیں رکھ پا رہا۔ یہ اس لیے ہوا کہ ان چاروں نے اقتدار میں آنے کی غلطی کی۔

اسٹیبلشمنٹ اگر براہ راست اقتدار میں آجائے تو دو بڑے نقصانات ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح سویلین پارٹنر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں، اس لیے تمام تر بدنامی صرف فوج ہی کے حصے میں آتی ہے۔ وہ فوج شروع میں جس کے آنے پر مٹھائیاں بٹتی رہیں اور اشیائے صرف کے نرخ آدھے کم ہوگئے تھے، مشرف دور میں اسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت اس قدر شدید ہوگئی کہ جوانوں کو یونیفارم پہن کر بازار جانے سے روک دیا گیا۔ چھوٹے صوبوں کا فوج میں زیادہ حصہ نہیں، اس لیے ہر فوجی دور چھوٹے صوبوں کے عوام میں شکایات اور محرومیوں کی ایک نئی تلخ فصل کاشت کر دیتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست حکمرانی کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہوا کہ پیچھے رہ کر کوئی اصلاح کرنے والا نہیں رہا۔ ڈائریکٹر خود سٹیج پر چلا جائے تو پھر ڈرامہ نہیں چل سکتا۔ ہمارے عوام کے اندر جمہوریت کے لیے ایک خاص انداز کی کشش موجود ہے۔ اسی وجہ سے ہر ڈکٹیٹر کے آنے کے کچھ عرصے بعد مزاحمت شروع ہو جاتی ہے۔ ادھر ڈکٹیٹر اپنے اقتدار کو جائز اور قانونی ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے لیے جعلی ریفرنڈم اور کبھی غیر جماعتی، کبھی کنٹرولڈ الیکشن کرانے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود کام نہ بنے تو پیٹریاٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ڈکٹیٹر نے چودھری برادران اور نیب زدگان پیٹریاٹ سے کام چلانا ہے تو پھر پیپلزپارٹی کی براہ راست حکومت کیا بری تھی؟ ویسے بھی دنیا بھر میں فوجی آمروں کا دور لد چکا۔ ان کو کہیں پسند نہیں کیا جاتا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اب اپنا کردار بدلنا چاہیے۔ انہیں زیادہ براڈ بیسڈ سٹرکچر بنانے کے ساتھ لو پروفائل میں رہنا سیکھنا ہوگا۔ جنرل راحیل شریف کا سٹائل درست نہیں تھا۔ آرمی چیف کو لو پروفائل میں رہ کر اہم نیشنل سکیورٹی ایشوز پر فوکس رکھنا چاہیے۔ ہر معاملے کا کریڈٹ لینا اور اپنی امیج بلڈنگ اس اہم ترین عہدے کے لیے موزوں نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */