نکلے سائیکل کی تلاش میں - کامران امین

تحریر کے پہلے حصے "میری مرحومہ سائیکل" کو احباب نے شرف پذیرائی بخشا، چونکہ پاکستان میں خود سے کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ دوست احباب " چھپا ہوا ٹیلنٹ " پہچان کر بڑی اصرار و منتیں کر کے کتاب لکھواتے یا شاعری کرواتے ہیں، لہٰذا مجھے بھی احباب کے پرزور اصرار پر یہ دوسرا حصہ تحریر کرنا پڑ رہا ہے باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

تو جناب میری سائیکل گم ہونے پر عرصہ تک قر ب و جوار ساتھیوں میں جشن کی سی کیفیت رہی۔ لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ آثار قدیمہ سے میری جان چھوٹی اور بار بار میرے پیسوں سے مٹھائیاں کھا کھا کر میرے درد کو اور جلا تے رہے۔ کئی احباب نے لگے ہاتھوں اس صدمے کا اظہار بھی کیا کہ میں کیوں نہ گم ہوا؟ اس سے آپ ان کے پیار کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس اہم موقع پر بہت سارے احباب نے نئی سائیکل لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن یہ وعدہ بھی اس وعدے کی طرح رہا جو سیاست دان الیکشن سے پہلے کرتے ہیں۔ کچھ ساتھیوں نے ایک عدد کٹورا لے کر ایک چوک میں بیٹھنے کا بھی مشورہ دیا لیکن ایسے "قیمتی مشوروں" کو ہم نے درخور اعتنا نہ جانا۔ چونکہ ہم سائیکل سے صرف سواری ہی نہیں بلکہ بوقت ضرورت بار برداری کا کام بھی لیا کرتے تھے اس لیے ہفتہ ایک صورتحال بہت دشوار رہی۔ گھر سے انڈوں اور ٹماٹروں سمیت جملہ خوردنی اشیا ختم ہو گئیں اور پیدل جا کر کون لائے؟ اسی دوران "خفیہ ایجنسیوں" نے یہ اطلاع بھی فوراً پہنچائی کے عنقریب گھر کے کاکروچ بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر دھرنا دینے والے ہیں۔ لہٰذا فوراً ساتھیوں سے صلاح مشورے شروع ہوئے۔ کچھ نے کہا اب بجلی پر چلنے والی موٹر سائیکل لی جائے لیکن ایک صاحب نے سائیکل کے وہ فائدے گنوائے کہ محسوس ہوا تار عنکبوت میں سب سے اہم چیز سائیکل ہی تھی۔ دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ جیسے دار و سکندر سائیکل سواری کی حسرت لیے دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس پر طرہ یہ کہ آج تک سارے بڑے بڑے سائنسدان جیسے نیوٹن اور آئن سٹائن، سائیکل ہی چلایا کرتے تھے لہٰذا ہمیں اس فضیلت سے بالکل محروم نہیں ہونا چاہیے۔ پھر حادثے کی صور ت میں سائیکل کے ساتھ اپنی ہڈیاں سلامت رہنے کا بھی امکان باقی رہتا ہے لیکن موٹر سائیکل چلاتے ہوئے جنت، یا جہنم، میں جانے کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ اس آخری بات نے ہمیں قائل کر ہی لیا کیونکہ ابھی تو دنیا دیکھنی باقی ہے۔ تو طے یہ ہوا کہ ہم سائیکل ہی خریدیں گے لیکن اس دفعہ ایسی سائیکل لیں گے جس کی رفتار کم زیادہ ہو سکے (گیئروں والی سائیکل) تاکہ اگر کبھی ہمیں سائیکل کو جہاز بنانے کا دل کرے تو فی الفور اس خواہش پر عمل ہو سکے۔

یونیورسٹی کے ارد گرد سائیکلوں کی بے شمار نئی اور پرانی دکانیں ہیں، جن میں چلنے والی، اور نہ چلنے والی سائیکلیں، انتہائی مہنگے نرخوں ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہاں قریب سے استعمال شدہ سائیکلیں نئی حالت میں اچھی قیمت پر مل جاتی ہیں۔ استعمال شدہ سائیکلوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ استعمال شدہ ہوتی ہیں یعنی اس بات کے بارے میں تاریخی ثبوت بہر حال موجود ہوتے ہیں کہ وہ سائیکل پیڈل گھمانے سے چلتی بھی ہے۔ استعمال کنندہ کی جسمانی اور روحانی حالت سے یہ بات با آسانی سمجھی جاتی ہے کہ عین ایام جوانی میں سائیکل کا چال چلن کس طرح کا ہوتا تھا؟ لہٰذا بندہ دھوکا کھانے سے بچ جاتا ہے۔ چنانچہ پہلی فرصت میں تو پرانی سائیکل دیکھنے کا ہی سوچا گیا۔ میں چونکہ شاپنگ کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا اور پھر شاپنگ کرنے کے جملہ تاریخی لمحات، جیسا کہ قدیر خان کی کباڑیوں کی دکان سے ایٹم بم کے سامان کی خریداری، جیسےاہم موقع پر ہم غیر حاضر تھا، لہٰذا کچھ تجربہ کار حضرات سے صلاح مشورے کے بعد ایک جان پہچا ن والی دکان پر جانا طے پایا۔ تو جناب ہم جملہ ڈھیر سارے احباب کے ایک عدد سائیکل فروش کی دکان پر پہنچے جس کے بارے میں ہمارا غالب گمان یہ تھا کہ وہ کم از کم ہمیں ایک ایسی سائیکل ضرور عنایت کرے گا جو خرید کر ہم ٹور ڈی فرانس میں پہنچ جائیں گے۔ اور اگر وہاں سارے ہی اناڑی ہوں تو جیتنے کا خواب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سائیکل فروش نے بغور ہم سب کا جائزہ لیا اور پھر دور اندھیرے میں ایک طرف اشارہ کر کے کہا ابھی صرف یہی ایک سائیکل دستیاب ہے۔

سائیکل فروش نے جس طرف اشارہ کیا وہاں کوئی سائیکل نما چیز دو ٹائروں پر کھڑی نظر آئی۔ خوب غور سے دیکھنے کے بعد ہمیں اس میں اور سائیکل میں کافی مشابہت محسوس ہوئی لیکن پھر یہ خیال دامن گیر ہوا کہ نہ جانے یہ کونسے تاریخی عجائب گھر سے چرائی گئی ہے جو بعدمیں پولیس ہمیں دھر لے۔ سائیکل فروش نے بڑے فخر سے بتایا کہ آج تک اس سائیکل پر 4 حضرات بالکل صحیح سلامت پی ایچ ڈی کر کے جا چکے ہیں لیکن یقین کریں اگر اس بارے میں تاریخی شواہد بہت مضبوط نہ ہوتے کہ محمد شاہ تغلق کی موت گھوڑے سے گر کر ہوئی تھی، تو ہم یہ ضرور سمجھتے کہ اس کی موت اسی سائیکل سے گر کر ہوئی ہوگی۔ا س کے ٹائروں کے بارے میں تو ہمارا یہ اندازہ ہے کہ اس بگھی سے اتارے گئے ہوں گے جو جہانگیر نے نور جہاں کے لیے بنوائی تھی۔ اس کی چین کے بارے میں بھی راوی خاموش ہے لیکن عین امکان یہی ہے کہ جہانگیر نے تیز ترین عدل فراہم کرنے کے لیے محل کے باہر جو زنجیر لٹکائی ہوئی تھی یہ اسی کا ایک ٹکڑا ہے۔ بہرحال دکاندار نے بہت اصرار کیا کہ ہمیں اس سائیکل نما چیز کی سواری سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور ہم بھی یہ سوچ کر کہ کہیں تاریخ میں اپنا نام لکھوانے سے محروم نہ رہ جائیں اس پر سوار ہو گئے۔ پیڈل گھماتے ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ وہی سائیکل ہے جس پر پہلی بار ہاتھی سوار ہوا تھا اور پھر یار دوستوں نے اسے دیکھ کر ایک شعر بنا لیا تھا۔ اس کے ٹائر گھومتے ہی دنیا گھومنے کا احساس ہوا۔ سائیکل کا پرزہ پرزہ با آواز بلند اپنے وجود کی گواہی دیتا تھا۔ میرا ماننا ہے کہ ایسی آٹھ دس سائیکلیں اگر ہر ملک میں موجود ہوتیں تو صورِ اسرافیل کی ہر گز ضرورت پیش نہ آتی۔ ممکن ہے دوسری جنگ عظیم میں اس سائیکل سے سائرن کا کام بھی لیا گیا ہو۔ عین ممکن تھا کہ میں ان ساری خصوصیات سے متاثر ہو کر وہ سائیکل خرید لیتا، جملہ احباب نے مل کر منع کیا اور یوں میں ایک دفعہ پھر 'آثار الصنادید' میں ایک اہم اور نادر سائیکل سے محروم رہ گیا۔

اس کے بعد کے تاریخی حالات و واقعات کے لیے مزید انتظار کیجیے۔

Comments

کامران امین

کامران امین

مصنف کا شمار باغ، آزاد کشمیر کے قابل نوجوانوں میں ہوتا ہے اور آج کل وہ ’’یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز‘‘ سے نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ تعلیم اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ باالخصوص چین میں تعلیم کے خواہش مند طلبا رہنمائی کے لیے ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.