بیانیہ فیشن - طاہر علی بندیشہ

چونکہ فیس بک نے اپنے خیالات کو بلا کسی روک ٹوک کے دوسروں تک پہنچانے کی سہولت بہم پہنچا رکھی ہے تو یار لوگ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے خیالات و افکار دوسروں تک پہنچانے میں دن رات تگ و دو میں مصروف ہیں۔ لائیکس اور کمنٹس کی صورت میں بیانیہ کے مقبول و مسترد ہونے کا میکانزم بھی مہیا ہے۔

کچھ عرصے سے فیس بک اور کئی اردو ویب سائٹس پر ایک بیانیہ بہت پڑھنے کو مل رہا ہے کہ شادی کے معاملے میں لڑکیوں کی انا کو ٹھیس پہنچنا۔ یوں تو اس موضوع پر زیادہ خواتین نے ہی لکھا ہے مگر مرد حضرات نے اپنا روایتی رویہ "جی آپی آپ نے بہت اعلی لکھا"، "شاندار لکھا"، "عصر حاضر کے سب سے بڑے ایشو پر لکھ کر آپ نے قلم کا حق ادا کر دیا" جیسے تبصروں نے ہماری فی میل لکھاریوں کو خوب داد دی۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ انہوں نے غلط لکھا۔ ہاں! ایسا ہوتا ہے۔ خواتین رشتہ دیکھنے جاتی ہیں، مختلف سوالات کرتی ہیں، اگر پسند نہ آئے تو انکار کر دیتی ہیں۔ کچھ مطالبات غیر اخلاقی اور رذیل حرکات کے ضمن میں آتے ہیں جیسا کہ جہیز کا مطالبہ کرنا یا لڑکی کے جاب ہولڈر ہونے کی تانگ رکھنا مگر مہذب طریقے سے لڑکی کے خاندان کے بارے میں جاننا، لڑکی کی عادات کے بارے میں جاننا کیسے قابل اعتراض یا گردن زدنی ہو گیا کہ قلم کے ہتھیار لے کر پترکارنیاں پیچھے پڑ جائیں؟ میرا سوال ہے ان سب سے جو لڑکیوں کے غم دبلے ہوئے جا رہے ہیں، کیا لڑکی والے، لڑکے اور لڑکوں والوں سے ایسے سوال نہیں کرتے کہ لڑکا کرتا کیا ہے؟ تنخواہ کتنی ہے؟ گھر میں کتنے دیتا ہے؟ اس کا اپنا خرچہ کتنا ہے؟ گھر اپنا ہے یا کرائے پر ہے؟ کرایہ پر ہے تو کتنا کرایہ ماہانہ ہے؟ اپنا کب تک لیں گے؟ داڑھی رکھی ہوئی ہے؟ مونچھیں بڑی ہیں؟ ایک دوست سے کل ہی بات ہو رہی تھی، بتا رہا تھا یار چھوٹے بھائی کی بس شادی رہ گئی ہے۔ پوچھنے پر کہنے لگا دیکھنے آتے ہیں اور یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے " منڈا موٹا ہے "۔

یہ بات سچ ہے کہ لڑکیوں کو جب کوئی دیکھنے آتے ہیں تو وہ نروس ہو جاتی ہیں مگر ایسا ہی معاملہ لڑکوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کوئی مجھے بھی بتاؤ کہاں ہیں وہ بھولے بھالے شریف لوگ جو آنکھیں بند کر کے اپنی بیٹیوں کے ہاتھ دوسروں کو دینے کو تیار ہیں؟ بھئی ہر کسی کو حق ہے چاہے وہ لڑکے والے ہیں یا لڑکی والے ایک دوسرے کے بارے میں جانیں، بوجھیں، پرکھیں، گڈا گڈی کا کھیل نہیں ہے ،عمر بھر کا ساتھ ہے، زندگی بھر کا ساتھ ہے۔

اصل جوہر تو ہر دو فریق کا چھے سات ماہ یا سال میں کھل کر سامنے آتا ہے مگر پہلے ظاہر پھر باطن والا معاملہ کرتے ہوئے کم از کم جتنا ظاہری طور پر جان سکتے ہیں اتنا تو جاننا ہر دو فریق کا پورا پورا حق ہے۔ شاید بات کڑوی ہو جائے مگر بات ہے سچ کہ رشتے ہونے ہوانے میں ستر فیصد ہاتھ ماں باپ کی عائلی زندگی اور پھر بقیہ کا تیس فیصد بیٹے بیٹی کا چال چلن اور سگھڑ پن ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جن والدین نے اچھی اور باہمی پیار محبت کے ساتھ زندگی گزاری ہوتی ہے اور پھر آگے وہی عمدہ تربیت اور دل موہ لینے والی عادات و خصائل اور خوش اخلاقی اپنے بچوں کو منتقل کی ہوتی ہیں۔ ان ماں باپ کو اپنے بچے اور بچیوں کے لیے رشتے لینے نہیں جانا پڑتا بلکہ جو جوہر شناس لوگ ہوتے ہیں وہ گھر آ کر لے اور دے جاتے ہیں۔ اور تو اور خاندان والے ہی نہیں چھوڑتے ایسے سگھڑ رشتے اور اس کے برعکس سب بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

ہمارا معاشرہ زیادہ تر مشترکہ خاندان والا معاشرہ ہے یہاں پر ایک لڑکے لڑکی کی شادی صرف دو افراد کا ملن نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کا ملن ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کے بارے میں جاننا ضروری ہے کہ کل کلاں کو کوئی ایک فریق کسی دوسرے فریق کے لیے ندامت و عار کا باعث نہ بنے۔ اسی لیے فقہ میں بھی نکاح کے لیے کفاء کے مسئلہ کو ترجیح دی گئی ہے۔ فقہ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں کہ کفاء کیا ہے؟

خصال الكفاءة المرعية عند الفقهاء : مذهب الجمهور أنه يراعى في الكفاءة أريعة أشياء : الدين والحرية والنسب والصنعة؛ فلا تزوج المسلمة من كافر، ولا الصالحة من فاسق، ولا الحرة من عبد، ولا المشهورة النسب من الخامل، ولا بنت تاجر أو من له حرفة طيبة ممن له حرفة خبيثة أو مكروهة، فإن رضيت المرأة أو وليها بغير كفء صح النكاح

قانونی(شرعی) کفائت کی خصائل فقہاء کے نزدیک:

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وہ کفائت میں چار چیزوں کا خیال کرتے ہیں: دین، آزادی، نسب اور صنعت و حرفت۔ پس تو نہ شادی کر مسلمان کی کافر سے، نیک کی بد سے، اور مشہور نسب والے کی غیر معروف نسب والے سے اور نہ ہی تاجر کی بیٹی یا وہ جس کا پیشہ بہت اچھا ہو اس سے جس کا پیشہ نیچ یا مکروہ ہو۔ اگر عورت یا اس کا ولی راضی ہے تو پھر بنا کفائت کے بھی نکاح صحیح ہے۔واضح رہے یہ لڑکی والوں کے لیے ہے۔کہ لڑکی نسب لڑکے کے نسب سے بلند ہو گا تو وہ باعث عار ہو سکتا ہے اگر لڑکی یا اس کے ولی کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو کوئی حرج نہیں۔

مذاهب الفقهاء في اشتراط الكفاءة النسبيَّة: النسب من الخصال المعتبرة في الكفاءة عند الحنفية، والشافعية، والحنابلة

کفائتِ نسبی کا نکاح کے لیے شرط ہونے کے بارے میں فقہاء کا مذہب:

یہ بھی پڑھیں:   آئیے نکاح آسان بنائیں، مہم چلائیں - عارف جتوئی

کفائت میں نسبی خصائل معتبرۃ تینوں مذاہب احناف، شوافع اور حنبلیہ کے نزدیک شرط ہے۔

اچھا بر ڈھونڈنا کیوں ضروری ہے اور ہر دو فریق کو اس کا حق ہے :

عرب لوگ اپنے حسب و نسب کے معاملے میں بہت حساس ہوتے تھے۔ان کے بچوں کی ہونے والی ماں یا ان کی ہونے والی بہو رنگ روپ میں کم ہو تو ہو مگر شرافت و عفت میں اس کا معیار بہت بلند کے طالب ہوتے تھے۔ ذیل میں کچھ امثلہ پیشِ خدمت ہیں۔

اکیم بن صیف جو عہد جاہلیت کے حکماء اور دانشوروں میں ایک ممتاز مقام پر فائز تھے جن کی دانائی اور عقلمندی سے متاثر ہو کر کسریٰ نوشیرواں نے ان کے بارے میں کہا تھا "لَوْ لم یکن لِلعربِ غَیرہٗ لَکفی" اہل عرب میں اگر اس کے سوا کوئی اور دانا مرد نہ بھی ہوتا تو یہ ایک ہی ان کو کافی تھا۔ اس نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔

"یَا بُنَیّ یحملنّکم جمالُ النساء عن صَراحة النسب فان المناکح اللئيمة مُدْرَجَة للشرفٖ"۔

" اے میرے بیٹو! عورتوں کا ظاہر حسن و جمال تمہیں نسب کی پاکیزگی غافل نہ کردے کیونکہ کم نسب خاندانی شرف کو خاک میں ملا دیتی ہیں "۔

ابوالاسود الدوئلی نے اپنے بیٹوں سے کہا

" میں نے تم پر احسان کیا جب تم چھوٹے تھے اور جب تم بڑے ہوئے اور اس سے بھی پہلے کہ تم پیدا ہوتے "

بیٹوں نے پوچھا اپ نے ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ایسا کونسا احسان ہم پر کیا ہے۔ جواب میں ابوالاسود نے کہا میں نے تمہارے لیے ایسی ماؤں کا انتخاب کیا جن کی وجہ سے تمہیں کوئی گالی نہیں نکال سکتا"۔

الریاشی ایک عرب شاعراپنے بچے کو کہتا ہے!

فاَوّل احسانی الیککم تخیریْ۔۔۔۔۔لماجدۃ العراق بادٍ عفافھا

"پس میرا پہلا احسان تم پر یہ ہے کہ میں نے تمہارے لیے ایسی ماں پسند کی ہے جو عراق کے بلند مجد و شرف والے خاندان سے عفت والی تھی"۔

اس تحریر میں جیسا کہ شروع میں ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ دونوں خاندان اچھا بر ڈھونڈنے میں برابر کے حقدار ہیں۔ لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ لڑکے والوں کو ہی کیوں مطعون کیا جائے؟ لڑکی والوں کا حق بھی ہے کہ وہ لڑکا دیکھ بھال کر اپنی بیٹی کا ہاتھ دیں اور لڑکی والے ایسا کرتے بھی ہیں۔ بہت سارے نخرے ہیں، اعتراضات ہیں، جنہیں پنجابی میں کہتے ہیں کیڑے نکالنا۔ آخر پر جانبداری سے کام لیے ہوئے ایک شعر پر بات ختم کروں گا۔

بد باپوں کے بیٹے نیک ہو سکتے ہیں علؔی

بد عورت کا پی کر دودھ اچھا ہو یہ نادر ہے