قربانی شعائر اسلام - بنت طاہر قریشی

گزشتہ دنوں دو تین سالہ پرانے خواتین ڈائجسٹ میں ایک پاکستانی اداکارہ کا انٹرویو نظر سے گزرا جو بقرعید کے حوالے سے تھا۔ ان سے قربانی کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا جس کا محترمہ نے انتہائی نخوت وناگواری بھرا جواب دیا کہ وہ اور ان کے شوہر قربانی کے جانور کے پیسے کسی غریب کو یا کسی خیراتی ادارے کو دے دیتے ہیں اور ان کا خیال بلکہ تمام پاکستانی مسلمانوں کو" مشورہ " تھا کہ وہ سب بھی انہی کی طرح قربانی کے جانور کے پیسے کسی غریب کو دیں، اس سے ایک تو غریب کی مدد بھی ہوجائے گی اور دوسرے بقرعید پر اتنی "گندگی اور غلاظت" جو ہوجاتی ہے، اس سے بھی ہم "محفوظ" ہوجائیں گے۔

اس جواب پر مجھے کچھ ٹی وی کمرشلز اور سوشل میڈیا کے"روشن خیال" مسلمانوں کی وہ پوسٹیں بھی یاد آگئیں جو پچھلے کچھ سالوں سے بڑی پابندی اور منصوبہ سازی سے عین بقرعید سے کچھ عرصہ قبل پھیلائی جارہی ہوتی ہیں۔ جن میں کسی غریب ڈرائیور کے ایکسیڈنٹ کا ذکر ہوتا ہے مگر اس کا ظالم سیٹھ اپنے خرچوں کا رونا روکر اسے پیسے نہیں دیتا لیکن لاکھوں کا جانور لے آتا ہے۔ کسی مالی کی بیٹی کی شادی سر پر ہوتی ہے وہ مالک سے تنخواہ ایڈوانس مانگتا ہے اور اس کا مالک اس کو منع کردیتا ہے لیکن وہ بھی قربانی کے جانور خریدنے کے لیے لاکھوں روپے"اڑا دیتا"ہے وغیرہ وغیرہ۔ یقینا اس طرح کی درد انگیز کہانیاں جہاں ہمارے"امپورٹڈ" اور لبرل مسلمان طبقے کے دل کی ترجمان ہوتی ہیں، وہیں شاید ہمارے کچھ سادہ لوح مسلمان بہن بھائی بھی ان سے متاثر ہوتے ہوں گے۔

لیکن الحمدللہ ہر سال قربانی کرنے والوں کے اعدادوشمار پچھلے سال سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں، جو قربانی جیسے اہم فریضے اور شعائر اسلام کو ناپسند کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوتے ہیں۔ قربانی دین اسلام کا ایسا"شعار" ہے جو دور ابراہیمی علیہ السلام سے اب تک من وعن بغیر کسی تبدیلی کے چلا آرہا ہے۔ ہر ہر امت پر سنت ابراہیمی یعنی قربانی کو فرض قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اس فریضے کو ادا فرمایا اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر سال اپنے علاوہ اپنی امّت کے ان غرباء کی طرف سے بھی قربانی فرمایا کرتے تھے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل نہ صرف قربانی کی اہمیت و فضیلت پر دلالت کرتا ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ عمل اپنے مالدار امتیوں کے لیے بھی ترغیب ہے کہ اگر وہ بھی استطاعت رکھتے ہیں تو اپنی قربانی کے علاوہ ایک قربانی ان غریب امتیوں کے طرف سے بھی کردیں جو اس فریضے کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔

جہاں تک بات ہے قربانی کے جانور کی آلائشوں سے پھیلنے والی گندگی کی تو اس میں قصور وار آپ کے بلدیاتی ادارے ہیں ناکہ اللہ کا یہ حکم!

ہمارے سامنے سعودی عرب سمیت اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں پر ہماری ہی طرح قربانی کا فریضہ نہایت اہتمام سے انجام دیا جاتا ہے مگر وہاں صفائی ستھرائی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں حکومت نے باقاعدہ قربانی کرنے کی جگہیں متعین کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے جگہ جگہ جانور کی آلائشیں پڑی نظر نہیں آتیں۔

اگر ہماری حکومت اور بلدیاتی ادارے بھی قربانی کی جگہوں کو متعین کردیں اور پوری ذمہ داری کے ساتھ وہاں کی صفائی کا انتظام کیا جائے تو یقیناً ہمیں بھی کہیں گندگی اور آلائشیں پھیلی نظر نہیں آئیں گی۔

اس لیے درخواست صرف اتنی سی ہے کہ اپنے سسٹم کو سدھارئیے،اپنے اداروں اور ان میں کام کرنے والے افراد کی ہڈحرامی اور کام چوری کو ختم کیجیے، لیکن-- إسلام اور شعائر اسلام کو نشانہ بنانے سے احتراز فرمائیے، کیونکہ آپ کے ان اعتراضات اور اسلام بیزار خیالات کے اظہار سے لوگ شعائر اسلام پر عمل تو نہ چھوڑیں گے البتہ آپ کی اسلام کے چولےمیں چھپی "کفار و فجار سے محبت" کے بارے میں ضرور آگاہ ہوجائیں گے۔