غیبت کیا ہے؟ - ابوالوفا محمد حماد اثری

گندی مکھی کا کردار تو آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا، وہ گند پر بیٹھتی، گند کو کھاتی اور گند کومعاشرے میں پھیلاتی ہے۔ غیبت ایک گندی مکھی ہے۔ یہ انسانوں کی برائیاں تلاشتی، کمیاں اچھالتی اور معاشرے میں اس کو اگلتی رہتی ہے۔مکھی میں غیبت کے بعض اوصاف پائے جاتے ہیں، ورنہ تو وہ غیبت کے پاسنگ بھی نہیں۔

غیبت کئی امتیازات اپنے وجود میں ایسے رکھتی ہے، جو مکھی کے پاس بھی نہیں، گویا مکھی میں وہ صلاحیت ہی نہیں۔ بقول کسے :

یہ نہ تھی تمہاری قسمت کہ 'شبیہ غیبت' ہوتی

مکھی کا کام اگر گندا ہے، تو شکل وصورت بھی بری ہے، جس کے پاس ہونے سے گھن آتی ہے اور اسے اڑا دیا جاتا ہے۔ غیبت مگر حسین دوشیزہ کے جیسی ہے، جس کا قرب تو گویا عاشقوں کی عید ہوتی ہے۔ مکھی کی اپروچ صرف اتنی ہے کہ وہ گند کو دیکھتی اور اس سے رسم و راہ رکھتی ہے۔ غیبت مگر اس سے آگے کی چیز ہے، اسے برائی تلاش کرنے پر نہ ملے تو تخلیق کر لیتی ہے۔ مکھی کو یہ کام تن تنہا سر انجام دینا پڑتا ہے اور غیبت کے پا س پورا لشکر ہے۔یہ اجتماعوں میں اپنا کام کرتی ہے، بیٹھکوں میں اپنے جراثیم چھوڑتی، محفلوں میں وائرس پھیلاتی، جلسوں کو گدلاتی اور گھروں میں کھلے عام دندناتی پھرتی ہے۔

الفاظ، قلم، آنکھیں، ہاتھ، سر یا دوسرے اعضاء، اس کے معاون ہیں۔ الفاظ کے ذریعے ہو یاقلم کے ذریعے، آنکھ، ہاتھ، سر یا دیگر اعضا کے اشاروں اور کنایوں کی راہ سے، یہ اپنا کام کرتی اور بہت خوبی سے کرتی ہے۔

بقول شخصے، ہر وہ راہ جس سے انسان کو حقیر باور کروایا جاسکتا ہے، غیبت کہلاتی ہے۔

وہ لنگڑا ہے، دیکھو نا چلتا ہے کیسے ہے؟ کھی کھی ٹھی ٹھی، غیبت کی ایک قسم ہے۔

میں مصنف ہوں، وہ کیسا عجیب لکھتاہے؟ ہاہاہاہا۔ غیبت اسے بھی کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

واہ رے مولانا، واہ رے مفتی صاحب! ہمیں درس کیا دیتے ہو اور خود کیا گل کھلاتے رہتے ہو؟

مسلک کے مخالفین میں وہ برائی ہے، وہ بیہودگی ہے، وہ واہی تباہی ہے کہ پناہ بخدا!

میری پارسائی کا زعم مجھ سے کہلواتا ہے کہ فلاں سیاست دان برا ہے، فلاں ایسا ہے ویسا ہے، میں نام تو ان کا نہیں لیتا مگر آپ تو سمجھتے ہیں۔

ارے صاحب ! آپ کب آئے، کہیے آپ کے محلے دار "شین "کے حالات و کوائف کیا ہیں؟ بس جی اللہ اس کی اصلاح فرمائے، اللہ ہمیں ایسی حرکتوں سے محفوظ رکھے، اللہ اسے ہدایت دے۔

ان کے جیسا زہر سانپوں اور بچھوؤں کے پاس بھی دستیاب نہیں ہوتا ہے۔حبیب کائناتؐ نے، بنت صدیق کائناتؓ سے کہاتھا

لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ (سنن ابی داود: 4875)

آپ کے یہ الفاظ سمندر میں ڈال دئیے جائیں تو اسے بھی کڑوا کر دیں۔

أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟

ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ

جانتے ہو غیبت کیا ہے؟

اپنے بھائی کا ایسا ذکر جو اسے اچھا نہ لگتا ہو

وہ برائی اگر اس میں ہے تو یہی غیبت ہے، وہ برائی اگر اس میں نہیں ہے تو بہتان ہے بہتان۔

جانتے ہو یہ الفاظ کس کے ہیں؟

اے زعم تقویٰ کے مارے علماءو مفتیان شہر! او علماء کی خطائیں تاڑتے دانشوران ملت!

محمد عربیﷺ کی لفظوں کو جاننے کی کوشش کرو،ازراہ کرم! آپؐ کے فرامین کو سمجھو اور غیبت سے چھٹکارا پالو، اپنے کی ہو یا پرائے کی، غیبت غیبت ہے۔

اور فلسفوں سے بحث کرنے کے بجائے اتنا یاد رکھو کہ تمہارے نبیؐ نے اس منع فرمایا ہے، تمہارے محبوبؐ کو اس سے چڑ تھی

بس اسی بات پر ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا