اُٹھ بلھیا کوئی رخت وہاج لے - خالد ایم خان

"نئی تے بازی لے گئے کُتے، تیتھوں اُتے" بابا بُلھے شاہ کی یہ کافی جب میں نے پڑھی تو فوراً مجھے حضرت ڈاکٹر محمد علامہ اقبال ؒ کا لکھا "شکوہ" یاد آگیا کہ جب آپ نے "شکوہ" تحریر کیا تو پورے ہند کے علماء نے آپ پر کُفر کا فتویٰ لگا دیا لیکن جیسے ہی آپ نے "جواب شکوہ" تحریر کیا تو اُنہی تمام علماء نے اپنی انگلیاں اپنے دانتوں میں دبا لیں اور حیرانگی کے عالم میں آپ کو وقت کا سب سے بڑا عالم قرار دے دیا۔ پھر "جواب شکوہ" کا اختتام جس انداز میں اقبال ؒ نے کیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے

کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

یہ ایک ایسا جواب ہے کہ جس نے تمام مکتب فکر کے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ ہاں بے شک اس سے بہتر اور لاجواب جواب ممکن ہی نہیں۔ کھو گئے نہ جانے کہاں وہ لوگ جنہوں نے پوری اُمت مسلماں کی اصلاح کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھا لیا تھا؟ کھو گئے اور آج ایسا وقت آچکا ہے کہ جب اُمت مسلماں کا ہر دانشور، دانشور کم، ملازم اور غلام زیادہ دکھائی پڑتا ہے۔ کہیں کاغذ کے ٹکڑوں کی غلامی کی جاتی ہے تو کہیں حکومت وقت کا قرب حاصل کرپانے کی جستجو کی جاتی ہے۔ کتابیں صرف شو کیسوں اور الماریوں کی زینتیں بڑھانے کی خاطر خریدی جاتی ہیں۔ پڑھنے پڑھانے کا رواج تقریباً ختم ہو چلا ہے، اس لیے اب کتاب کی اہمیت ماند پڑ چکی ہے۔

جس ملک میں اچھی کتاب سے مہنگا جوتا خریدنا ضروری خیال کیا جاتا ہو تو پھر حالات کا شکوہ کیسا؟ جس ملک میں بچوں کو کتابیں پڑھنے کی ترغیبات دینے کے بجائے اُن کے ہاتھوں میں کھلونا ہتھیار تھما دیے جاتے ہوں وہاں تربیتی فقدان کا گلہ کیوں؟ جس ملک میں بدتہذیبی اور بدتمیزی پر بچوں کی سرزنش کرنے کے بجائے باپ اپنا سینہ چوڑا کرتے ہوئے یہ کہے کہ میرا پُتر جوان ہو گیا ہے تو پھر معاشرتی بگاڑ کا رونا کیوں؟ باشعور کہنے کو تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن شعورکی منزلیں کوسوں دور کیوں ؟ ہے اس کا کوئی جواب آج کے کسی بھی دانشور کے پاس؟ بس ایک ہی بات ہمیں سمجھ میں آتی ہے "چھڈو جی"۔ اس چھڈو جی کی پالیسی نے ہمیں آج اس حال کو پہنچا دیا ہے، ہم بھی اُس کبوتر کی مانند اپنی آنکھیں میچے بیٹھے ہیں جو کسی بھی آنے والی مصیبت میں اُس کا سامنا کرنے یا اُڑ جانے کے بجائے خوف کے مارے اپنی آنکھیں بند کرکے دُبک جاتا ہے کہ مصیبت ٹل گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

ہم نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت کی۔ پھر جن گلی محلوں کی "دانش گاہوں" میں، جس ماحول میں، ہمارے بچے تربیت حاصل کررہے ہیں اُس پر تو بس توبہ استغفار ہی کی جاسکتی ہے۔ والدین کی اپنے بچوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے چشم پوشی، یا پھر دڑ وٹ جانا ایک نہ ایک دن والدین کے سامنے بچوں کی اخلاقی تباہی کی صورت سامنے آتا ہے، ہمارے معاشرے کو آج اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ کہیں ون ویلنگ کے ذریعے جانیں گنواتے بچے تو کہیں اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں کرتے بچے، اپنے سے بڑوں کے ادب آداب تو اب گئے زمانوں کی باتیں ہو چکی، اب تو کوئی بزرگ جب کسی بچے سے راہ پوچھ لیتا ہے تو بچا آنکھیں گھما کر "او بابا! مجھے نہیں پتہ کسی اور سے پوچھو"کہتا ہے۔ مجھے ایک مرتبہ شاک لگا جب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب ایک چودہ پندرہ سال کے بچے نے ایک اسی پچاسی سالہ باریش بزرگ کے موٹر بائیک مار دی۔ بجائے اس کے کہ بچا شرمندہ ہوتا، معذرت کرتا، معافی مانگتا، ایک انتہائی غلیظ گالی منہ سے بکتے ہوئے کہا "بابا اندھا ہو گیا ہے کیا ؟ نظر نہیں آتا آگے موٹر سائیکل آرہی ہے؟ اُدھر جا کر مرو میری گاڑی کے نیچے کیوں آنے پر تُلا ہوا ہے تو؟ میں نے فوراً آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ "بیٹا! غلطی آپ کی ہے، آپ اُس طرف دیکھ رہے تھے جہاں آپ کی بہنیں کھڑی ہیں اور موٹر سائیکل اس غریب کو ماری" بچہ فوراً بول پڑا "او بھائی! میری کونسی بہنیں؟"میں نے غصے میں گھورتے ہوئے کہا "جاتے ہو یا بلواؤں تمہارے باپ کو؟" بڑبڑاتے ہوئے یہ جا وہ جا ہوگیا۔ بزرگ کی آنکھوں میں جھلملاتے موتیوں نے میرا سر ندامت سے جھکا دیا۔

کہاں جارہے ہیں ہم اور کس بات پر اترا رہے ہیں ہم لوگ؟ کس بات کا غرور ہے ہمیں؟ جہالت کی بدترین مثال ہے یہ، بدترین شکل ہے یہ، ہم لوگ واقعی کتوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہے ہیں کیونکہ کتا بھی اپنے مالک کی وفاداری کرتا ہے سو جوتے کھانے کے بعد بھی مالک کا در نہیں چھوڑتا جبکہ ہم لوگ دکھانے کو عبادتیں، ریاضتیں کرتے ہیں۔ ٹھیک کہا بلھے شاہ نے کہ

راتیں جاگیں کریں عبادت

راتیں جاگن کُتے

تیتھوں اُتے

یہ بھی پڑھیں:   سوال کرنے کی ہمت - قادر خان یوسف زئی

مالک دا مُل در نہ چھڈدے

پانویں وجن جُتے

تیتھوں اُتے

آجکل حج کا سیزن ہے، معذرت کے ساتھ سیزن لکھ رہا ہوں ویسے تو حج عالم اسلام کا ایک اہم رکن ہے لیکن ؟ بے شک اللہ ذوالجلال مسبب السباب ہے، خالق ہے، رازق ہے۔ اُس کی رحمت بے پناہ وسیع ہے، وہ جسے چاہے نواز دے، فقیر کو بادشاہ کردے، بادشاہ کو فقیرلیکن ہم انسان اپنے لیے مسائل کھڑے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ آج یہ عالم ہے کہ حج جیسی سعادت بھی اب صرف خواص ہی کے حصہ میں آتی ہے دو وقت کی روٹی اور بھوک سے جوجتی عوام کے پاس اتنا پیسہ کہاں کہ وہ حج کی سعادت حاصل کرسکیں؟ یہاں ایک عام متوسط گھرانے کے افراد مہنگائی میں ہوشربا اضافے کے سبب قربانی جیسے اہم فریضہ ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں تو حج تو بہت دور کی بات دکھائی دینے لگ چکی ہے جہاں جانے کے لیے پہلے تو سرکاری اور نیم سرکاری بینکوں میں درخوستیں جمع کروائی جاتی ہیں اور درخواستیں بھی زیادہ تر بینکوں میں موجود بینک کے بڑے کھاتہ داروں کی منظور ہوتی ہیں غریب بے چارہ تو اول درخواست جمع کرانے کا اہل ہی قرار نہیں پاتا اور اگر کہیں سے اللہ نے کرم کردیا اور درخواست منظور ہو بھی گئی تو پھر اتنا پیسہ کہاں سے لائے کہ ایک حج کا اپنا فریضہ ادا کرپائے؟ چاہیے تو یہ ہے کہ ملک کا ہر وہ امیر آدمی جو بذات خود دو چار مرتبہ حج کی سعادت حاصل کر چکا ہے اور مزید حج ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو اُسے چاہیے کہ اپنی دولت پر چند غریب لوگوں کو، نادار لوگوں کو، مفلس لوگوں کو ایسے لوگوں کو جن کا کوئی وسیلہ نہیں ہے حج کرنے کا اُن کو اپنے خرچے پر حج کروائے جس سے اللہ بھی خوش ہوگا اورجو روز قیامت آپ کے کام بھی آئے گا۔

آپ یقین جانیں اللہ کو آپ کی ایسی عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے، اللہ کو آپ کے اندر کی انسانیت کی ضرورت ہے، اللہ آپ کے خلوص کو دیکھتا ہے، آپ کی نیک نیتی کو دیکھتا ہے اور یہاں اسی مقصد کی خاطر بابا بُلھے شاہ کا وہ آخری جملہ اس نظم کا بیان کیا تھا میں نے یہ ہی وہ سعادت ہے، یہ ہی وہ انسانیت ہے وہ عمل ہے جس سے میرارب پیار کرتا ہے جو میرے رب کو قبول ہے

اُٹھ بلھیا کوئی رخت وہاج لے

نئی تے بازی لے گئے کُتے

تیتھوں اتے