محبت کی بھینٹ - لبیق افضل

اکثر اوقات ہم محبت محبت میں ہی اگلے کو مار دیتے ہیں۔ اپنے تئیں ہم اگلے کا بھلا سوچ رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارا یہ بھلا سوچنا اگلے کو کس مشکل میں ڈال دیتا ہے، وہ ہم بلکل نہیں سوچتے۔ ہم بس اپنی محبت کا راگ الاپتے رہتے ہیں کہ میں یہ تمھارے بھلے کے لیے ہی سوچ رہا ہوں۔

اس کی سب سے عمدہ مثال ہمارے وہ بچے ہیں جو ہر سال میڈیکل کالجوں میں داخلے کا امتحان یعنی MDCAT دیتے ہیں۔ آج بھی MDCAT ہوا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ستر ہزار بچوں نے ٹیسٹ دیا جن میں سے قریباً 3300 لوگوں کا ایڈمیشن ہوجائے گا اور باقی کہ 66700 بچے آج اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی کرچیاں سمیٹنے میں مصروف ہوں گے۔ ان میں سے شاید 20 فیصد وہ ہوں گے جنھیں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا اور وہ کل سے ہی دوسرے شعبوں کے متعلق سوچنا شروع کر دیں گے مگر باقی کہ 80 فیصد وہ لوگ ہیں کہ جن کی زندگی، شخصیت اور سوچ پر اس سانحے کے دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔

اس سب میں، میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم ایک Depressed Nation کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو کل کو اگر کسی دوسری فیلڈ میں چلے بھی جاتے ہیں تو پھر بھی دل میں ایک کسک لیے پھرتے ہیں کہ کاش میں ڈاکٹر بن جاتا۔ مجھ میں کیا کمی تھی۔ ممکن ہے سب ایسا نہ سوچیں لیکن ایک کثیر تعداد زندگی کے ہر موڑ پہ نہ سہی لیکن کسی نہ کسی موڑ پہ ایسا ضرور سوچتی ہے۔

اس سب میں جہاں قصور حکومت کا ہے کہ وہ میڈیکل کالجوں میں سیٹیں نہیں بڑھا رہی تو اس سے کہیں زیادہ قصور حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں ان تمام والدین کا ہے جو ہمیشہ اپنے بچوں کا ”بھلا“ سوچتے ہیں۔ آج اگر ان 70,000 بچوں سے پوچھا جائے کہ ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے تھے تو بمشکل آدھے بچے ایسے ہوں گے جن کا اپنا شوق ہوگا، باقی تمام کے تمام بچے اس Emotional Blackmailing کا شکار ہو کر اس شعبے کی طرف مائل ہوتے ہیں جو ان کے والدین ان کا بھلا سوچتے ہوئے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت تو آج بھی زندہ ہے - مسزجمشیدخاکوانی

خاندان میں اپنا نام اونچا کرنے کے لیے، کل کو بیٹی کا اچھی جگہ رشتہ کرنے کے لیے اور خود جو چیز حاصل نہ کر سکے، اس کو اپنی اولاد میں دیکھنے کے لیے اولاد کو اس ظلم کی بھینٹ چڑھا دینا کہاں کی محبت ہے؟ بہت سے لوگوں کو شاید یہ لگے کہ خود تو داخلہ ہو گیا ہے تو اب باقی سب کو گمراہ کر رہا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے، آپ بچوں کو ضرور میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلوائیں لیکن ایک بار بغیر کسی پریشر کے ان سے ان کی پسند بھی پوچھ لیں۔

کیونکہ درحقیقت اگر آپ میڈیکل کالجوں میں بھی دیکھیں تو ایک بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جو کبھی میڈیکل میں آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ کوئی اور کام کرنا چاتے تھے لیکن چونکہ والدین کی محبت کی پاس داری اور رشتہ داروں میں رعب جمانا لازم تھا، اس لیے دھکے سے اس شعبے میں آگئے۔ اور اب ادھر آ کر بھی وہ اپنا سہی سے Input نہیں دے پاتے کیوں کہ وہ کبھی ادھر آنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ جس کا نتیجہ یوں برآمد ہوتا ہے کہ وہ بار بار فیل ہوتے ہیں، وارڈ میں جانے سے گریزاں ہوتے ہیں اور ادھر ادھر کی مصرفیات میں راہِ فرار تلاش کرتے ہیں۔ کیا اس سے ان بچوں کی حق تلفی نہیں ہوتی جو واقعی میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور 0.1 نمبرز سے رہ گئے۔ یہی دھکے سے ایم بی بی ایس میں آئے ہوئے بچے اگر اپنی پسند کی فیلڈ میں جاتے تو یقینا بڑا نام کماتے۔

والدین کے بقول پاکستان میں ڈاکٹر اور انجینیر کے علاوہ کسی شعبے کا ”سکوپ“ نہیں ہے۔ میں کوئی Follow Your Passions جیسی بات نہیں کروں گا حالانکہ میرا ماننا یہ ہے کہ سکوپ فیلڈ کا نہیں ”انسان“ کا ہوتا ہے۔ خیر یہ ایک لمبی بحث ہے، فی الحال صرف دلیل کے ساتھ بات ہوگی۔

ذرا گھڑی کو الٹا گھمائیں اور آج سے دس پندرہ سال پہلے کے زمانے میں پہنچیں۔ تب کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ میں Wedding Photographer بنوں گا؟ نہیں کیونکہ اس زمانے میں شادیوں میں فوٹوگرافی کرنے والے کے متعلق یہ گمان رکھا جاتا تھا کہ یہ کوئی اپنے وقت کا فارغ ترین انسان ہے، جسے کوئی اور کام دھندہ نہیں ملا اور اب پانچ چھ سو روپے دیہاڑی پر آتا ہے اور شادی میں فوٹو کھینچتا ہے۔ یعنی ایک ایسا شعبہ تھا جس میں کوئ جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب حالات آپ کے سامنے ہیں لوگ فوٹوگرافی میں لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ خود میری گلی میں ایک اخیار غنی نامی فوٹوگرافر ہے جو ایک شادی کی کوریج کا کم از کم پانچ سے چھ لاکھ روپے لیتا ہے اور دو دو مہینوں تک اس کی ایڈوانس بکنگ ہوتی ہے۔ اور ابھی اس کی عمر بمشکل 25,26 سال ہوگی۔ بیرونِ ملک شوٹنگ کے لیے بھی جاتا رہتا ہے۔ اور اگر یہ ”سکوپ“ اور ”پیسہ“ ہی کیرئیر سلیکٹ کرنے کا معیار ہے تو وہ اس عمر کے ڈاکٹروں سے لاکھ گنا بہتر زندگی گزار رہا ہے، کیوں کہ اب فوٹوگرافی بھی باقعدہ آرٹ بن چکی ہے، اور اس نے اس آرٹ کو سیکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سمجھوتے کی شادیاں - عابد محمود عزام

غرض یہ کہ انسان جس شعبے میں بھی محنت کرتا ہے، وہ اپنا نام ضرور بنا لیتا ہے، تو ایسے میں والدین کا اپنے بچوں پر صرف یہ دو فیلڈز مسلط کر دینا ان کے مستقبل کے ساتھ نا انصافی ہے۔ خدارا اپنے بچوں کو اس Depressed Nation کا حصہ مت بننے دیں۔

اگر آج آپ کا بیٹا یا بیٹی MDCAT میں ناکام ہوگیا ہے تو اسے فلاں فلاں کے بچوں کے طعنے مت دیں۔ اس نے یقیناً بہت محنت کی ہوگی، آپ کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے، لیکن شاید قسمت اسے کسی اور عظیم مقصد کے لیے چننا چاہتی ہے تو بس آپ اس کا ساتھ دیں۔ اس کی ہمت بندھائیں۔ اس کو اتنا اعتماد دیں کہ وہ آپ سے کھل کے شیئر کر سکے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ اپنے رشتہ داروں سے مقابلے بازی اور معاشرے کا خوف دل سے نکال دیں کیوں کہ یہ رشتہ دار اور معاشرہ صرف باتیں کرتے ہیں کوئی آپ کے بجلی کے بل نہیں بھرتا، کوئی مشکل کے وقت آپ کی مدد نہیں کرتا۔ آپ کی اولاد یقیناً ایک دن آپ کا سہارا بنے گی۔ اور آج آپ کا ایک بول اس کا ٹوٹا ہوا حوصلہ واپس لا سکتا ہے، اور وہ کل کو کسی اور شعبے میں بھی آپ کا نام روشن کر سکتا ہے۔