ماہِ جشن - انس بن علی

وقت ایسا بدلا کہ چیزوں کی ہیئت ہی بدل گئی۔ جو روشن مینار شمار ہوتے تھے وہ آب کسی آغوش کی تلاش میں ہیں۔ ایک قحط ہے، آدمی ڈھونڈنا محال ہوگیا۔ یقین والے بد گمانی کا شکار ہو گئے اور پریشاں حال یقینِ مُحکم کے عَلم بردار بن کے ابھرے۔ معا شرے نے اپنے نئے معیار متعین کیے۔

آزادی کا مہینہ گزر رہا ہے، معلوم ہوا قوم 70 واں یوم ٓزادی خوب جوش سے منا رہی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ صدقہ چراغاں کی نذر ہو رہا ہے۔ مزار اقبال و قائد پر وزیروں نے پھول چڑھائے، پورا دن فنکاروں نے لائیو شوز سے ماحول گرمائے رکھا اور سب سے بڑھ کر دن کا آغاز 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ آزادی کا نیا بت تراشا گیا ہے اور بڑی محنت سے پا لش والے مصروف عمل ہیں۔

جشن تو بنتا ہے۔ ۔ ۔ اپنی حالت زار کا جشن، دہشت گردی کی امپوڑٹد جنگ میں 40 ہزار پاکستانی مرنے کا جشن، ریمنڈ ڈیوس کی بندہ مارنے کے بعد پرتپاک رخصتی کا جشن، غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بننے کاجشن، سارے صوبوں کے حقوق "برابر" ملنے کا جشن، تھر میں ہزاروں بچوں کو صرف پانی نہ ملنے سے مر جانے کا جشن، قومی قرضوں کے بڑھنے کا جشن، بلدیہ فیکٹری میں 200 بندوں کے ذمہ داروں کے خلاف "کارروائی" کا جشن، عدالتوں میں رشوت کا جشن، شرح سود برقرار رہنے کا جشن یا اللہ سے کیے گئے وعدے توڑنے کا جشن!

کچھ لوگ اب بھی کہیں گے کہ ہم ایک Resilient قوم ہیں، ابھی تک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں۔ نقشے پرتو موئن جو دڑو بھی موجو د ہے۔ یہ وقت ہے اعتراف کرنے کا، صحیح رخ کے تعیّن کا، پاکستان نے تو قائم رہنا ہی ہےمگر اللہ قادر ہے اس بات پر کہ کسی اور قوم کویہ کشادگی عطا کر دے۔ صرف عرض یہ ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں کیونکہ کراچی جا نے والی گاڑی کبھی محض اُمید کے بل پر گلگت نہیں جا سکتی۔درحقیقت، اصل اور نقل گڈ مڈ ہو گیا۔ حروف کی اہمیت معنی سے زیادہ ہو گئی ہے اور تحریر محض الفاظ تک محدود رہ گئی ہے۔ عمارتیں بلند ہیں، یقین کم، معیارات بدل گئے ہیں، انسان گھٹ گئے ہیں اور سائے بڑھ گغے ہیں۔

مختار مسعود کا وہ فقرہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے کہ

" کتنی ہی گاڑیاں روزانہ سیکریٹریٹ داخل ہوتی ہیں مگران موٹر کاروں میں بیٹھنے والے کتنے ایسے ہیں جن کو یاد ہو کہ پچھلے نسل کویہاں سجدہ کرنا پڑا تھا کہ موجودہ نسل اس کرّوفر کے ساتھ بیٹھ کر حکومت کر سکے۔غفلت نہ تو تاریخ معاف کرتی ہے اور نہ ہی شریعت، اس لیے کیا حیرت کہ آئندہ کسی نسل کو اسی سڑک پر سجدہ سہو بھی کرنا پڑے " (آوازِِ دوست)

بس میں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ سجدہ سہو کی گنجائش بھی نمازکے اختتام سے پہلے ہی ہوتی ہے، اس کا بعد نہیں!