قربانی - افشاں فیصل شیوانی

وہ آج بھی تھکا ہارا گھر لوٹا تو اس کی بیوی نے وہی سوال پھر سے دہرایا جو وہ پچھلے کئی دنوں سے کرتی آ رہی تھی۔

"قادر بخش! بات کی تم نے صاحب سے؟"

"نہیں آج بھی بات نہیں کر سکا " اس نے جواب دیا

"کب کرو گے؟ڈاکٹر نے کہا تھا جتنی جلدی ہو سکے آپریشن کروا لیں۔"

ان کے اکلوتے بیٹے کے دل میں سوراخ تھا اور ابھی کچھ دن پہلے ہی جب اس کے بیٹے نے سینے میں درد کی شکایت کی اور قادر بخش جب اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تو ڈاکٹر نے تمام ٹیسٹ کروانے کے بعد بتایا کہ اس کے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور آپریشن پر تین لاکھ کا خرچ آۓ گا۔

قادر بخش ایک مقامی فیکٹری میں ملازم تھا اور بارہ ہزار کی قلیل آمدنی میں ان کا گزارا بمشکل ہو پاتا تھا مگر پھر بھی وہ دونوں میاں بیوی اللہ کا شکر ادا کر کے کفایت شعاری کے ساتھ اپنی زندگی کی گاڑی چلا رہےتھے کہ اچانک یہ آفت ٹوٹ پڑی۔قادر بخش نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا مگر اب مجبوری کچھ ایسی آن پڑی تھی کہ اس کا صاحب سے بات کرنا ضروری ہو گیا تھا۔

دوسرے دن قادر بخش نے فیکٹری جاتے ہی مینیجر صاحب سے کہ دیا کہ جیسے ہی صاحب فارغ ہوں وہ قادر بخش کی ان سے بات کروا دیں۔آخر کھانے کے وقفہ کے بعد مینجر نے اسے بلوایا اور صاحب کے کمرے میں جانے کو کہا۔ اس کے صاحب ایک اللہ والے آدمی تھے اور قادر بخش کو پوری امید تھی کہ وہ اس کی مدد ضرور کریں گے اسی لیے وہ اپنے صاحب سے بات کرنے چلا آیا تھا۔

"صاحب آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے"

"ہاں ہاں قادر بخش! کہو، سب خیریت ہے؟" صاحب نے کہا

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

"صاحب! مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔"

"اچھا؟ خیر ہے ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ تمہیں مجھ سے سوال کرنے آنا پڑا؟ جبکہ ابھی چھوٹی عید پر ہی میں نے تم سب میں بونس تقسیم کیا تھا۔"صاحب نے سوال کیا

"صاحب! میرے بیٹے کے دل میں سوراخ ہے اور ڈاکٹر نے اس کے آپریشن پر تین لاکھ کا خرچہ بتایا ہے، میں نوکر آدمی بھلا اتنے روپوں کا حساب کیسے کروں؟ اسی لیے بڑی امید لے کر آپ کے پاس آیا ہوں،آپ مجھے یہ قرض دلوا دیں اور میں ہر مہینے اپنی تنخواہ سے کچھ پیسے کٹوا کر یہ قرض اتار دوں گا۔" قادر بخش نے اپنی فریاد بیان کی۔

صاحب نے کچھ سوچ کر کہا " دیکھو قادر بخش، تین لاکھ روپے کوئی چھوٹی رقم نہیں ہوتی،فیکٹری کی حالت تو تم جانتے ہو،فیکٹری سے تو میں تمہیں کوئی قرضہ نہیں دلوا سکتا مگر میں خود تمہاری تھوڑی مدد کر سکتا ہوں،میں تمہیں پچاس ہزار روپے دے سکتا ہوں، باقی تم کسی ویلفیئر ٹرسٹ میں چلے جاؤ وہاں شاید تمہارا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔"

"مگر صاحب میں اپنے بچے کا علاج زکٰوۃ خیرات کے پیسوں سے نہیں کروانا چاہتا،میں آپ سے قرضہ مانگ رہا ہوں صاحب جو میں آپ کو لوٹا دوں گا" قادر بخش نے لجاجت سے کہا

"قادر بخش تم جانتے ہو بڑی عید آنے والی ہے اور قربانی کے جانور پر ہی بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے، اب دیکھو نا قربانی تو فرض ہے اور فرض تو ادا کرنا ہی ہے اور پھر ویلفیئر ٹرسٹ جانے میں حرج ہی کیا ہے، ہزاروں لوگ وہاں سے مدد لیتے ہیں"،صاحب ابھی بات کر ہی رہے تھےکہ ان کا فون بج اٹھا "ہیلو! جی اشفاق صاحب، جی جی جانور لینے جانا ہے۔ آج ہی چلتے ہیں۔ جی جی اسلم صاحب تو جانور لے آئے ہیں۔ سنا ہے سات لاکھ کے جانور لاۓ ہیں۔ جی جی دس لاکھ تک کا میرا بھی ارادہ ہے۔ ۔ جی تین جانور لینے ہیں۔ ۔۔۔جی جی، کل چلتے ہیں۔ خدا حافظ!" صاحب نے فون بند کیا اور قادر بخش کی جانب متوجہ ہوئے

یہ بھی پڑھیں:   معدے میں تیزابیت کا علاج آپ کے کچن میں

"ہاں تو قادر بخش میں مینیجر سے کہہ دوں گا وہ تمہیں پچاس ہزار کا چیک دے دے گا۔ اور ہاں سنو! ایک جانور یہاں فیکٹری میں کٹے گا تم عید کے دن آ کر اپنے حصے کا گوشت لے جانا" یہ کہہ کر صاحب فائل پر جھک گئے اور قادر بخش سر جھکائے باہر نکل گیا۔