پہلی کرن کے دیس تک، جاپان کی سیر (2) - عبد الباسط بلوچ

جہاز کے انجن سٹارٹ ہوگئے اور کافی دیر تک مختلف قسم کی آوازیں آتی رہیں۔ ساتھ بیٹھا دوست واقف حال تھا، بڑبڑاتا دکھائی دیا لیکن کچھ سمجھ نہ آیا۔ چہرے کے تیور بتا رہے تھے کہ آوازیں پریشان کن ہیں۔ اب ہمارے لبوں پر اللہ کے ناموں کا ورد تھا۔ ایسی آوازیں سن کر دل کی کیفیت پتلی ہوتی نظر آئی۔ حوصلے کو جگایا، دل کو سمجھایا کہ کن توہمات کا شکار ہے؟ بہرحال، جہاز کے انجن کافی دیر تک چلتے رہے اور تب مجھے لاہور کی وہ لوکل بسیں اور ویگنیں یاد آ گئیں جن کے ڈرائیور سواری کو دیکھ گاڑی کو 'ریس' دیتے ہیں اور چلنے کا ڈرامہ کرتے ہیں لیکن گاڑی چلتی ان کی مرضی کے وقت پر ہی ہے۔

ابھی ہم انہی سوچوں میں گم تھے کہ دو کڑی نما آنٹیاں آ دھمکیں اور ہمارے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان کو دیکھ کر کوئی اضافت قلبی و نظری کا احساس نہیں ہوا بلکہ اس معاملے میں فیصل موورز والے پی آئی اے سے زیادہ باذوق محسوس ہوئے۔ ہم سوچتے ہی رہ گئے کہ وہ جن کی تصاویر اخباروں میں شائع ہوتی ہیں وہ کدھر ہیں؟ جواب ملا، صرف اشتہاروں میں!

خدمت گزاری، جو عورت کی سرشت میں ہے، اس کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر ہر ایک کے سامنے منافقت بھری مسکراہٹ میں بدل کو ان لوگوں کو کیا ملا؟ دماغ کچھ ٹھکانے پر آیا ہی تھا کہ آواز گونجی، یہ من بھاتی آواز تھی کہ مسافر اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لیں، ہم ہوا کے دوش پر پردیس روانہ ہونے والے ہیں۔ پھر جہاز رن وے پر آیا، دوڑا اور اڑ گیا۔ جڑواں شہروں کی روشنیوں نے وہ سماں باندھ رکھا تھا کہ دل چاہ رہا تھا کہ اتر کر انہی کو دیکھتا رہوں، آخری اپنی جو تھیں۔

جہاز کیا اڑا، دل بھی اڑنے لگے۔ اب حوصلے سے خدمات لینی شروع کردیں۔ جہاز کچھ مزید بلند ہوا تو ایک اور آواز گونجی کہ ہم تقریباً چار گھنٹے 50 منٹ کے بعد بیجنگ پہنچیں گے۔ ہم نے جب دائیں بائيں دوستوں کی طرف دیکھا تو سب 'وادئ نوم' کے سفر پر تھے اور ہم تھے کہ نہ سو پائے، نہ جاگ سکے۔ پوری توجہ جہاز کی کھڑکی پر تھی کہ نیچے کیا نظارے ہیں؟ کچھ روشنیاں نظر آئیں، ہم اور غور سے دیکھتے کہ شاید کوئی اور نظارہ بھی ملے لیکن دو گھنٹے تک ہم مزید کچھ دیکھنے میں ناکام رہے۔ کیونکہ ہم جہاز کے سب سے آخری حصے میں تھے جس کے عقب میں کھانے کا سارا انتظام تھا اس لیے کھانے میں بھی ہم سبقت لے گئے۔ تب ایک اور نظارہ دیکھنے کو ملا، آنٹیوں کے ساتھ دو باقاعدہ انکلز بھی وارد ہوئے۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ کپتان وغیرہ سیر کو نکلے ہیں لیکن پتہ چلا کہ یہ غلمان پی آئی اے ہیں۔ جنت کے ان خدمت گزاروں کے بارے میں تو پڑھا تھا کہ نو عمر اور خوبصورت ہوں گے لیکن پی آئی اے والوں نے ڈھلتی عمر کے خدمت گزار رکھ کر حساب برابر کردیا۔ شاید اس لیے کہ ان کی شکل اور عمر دیکھ کر دوبارہ کچھ مانگنے کی جرات نہ کی جائے۔

نیند تو آنکھوں سے روٹھ چکی تھی، اس کو منانا اور اسمبلی سے واک آؤٹ کرتے سیاسی مداروں کو منانا ایک جیسا تھا، اس لیے ہم نے بھی لفٹ نہ کروائیں۔ ہر سیٹ کی پشت پر لگے ایل سی ڈی ڈسپلے بھی بند۔ ہم سمجھے بعد میں چلیں گے لیکن جاپان آ گیا لیکن وہ نہ چلے۔ ہیڈ فون مانگا تو بھی اپنا ہی استعمال کرنے کا حکم ملا۔ ایک بات جو بہت عجیب لگی کہ پانی یا مشروب دینے کا انداز وہی عام بسوں والا تھا۔ آپ گلاس ان کے آگے کریں اور وہ انڈیل دیں گے۔ اب تو بسوں میں بھی ترقی ہو گئی ہے کہ مشروبات کے کین ملنے لگے ہیں لیکن پی آئی اے میں ایسا ہونے کی وجہ کنجوسی ہےیا کچھ اور؟ اللہ جانے!

لیں جی بیجنگ کے مضافات میں پہنچتے ہی جہاز کی بلندی کم ہوئی اور ہم جو رات کے اندھیرے میں نکلے تھے جہاں سورج پوری جولانی پر دیکھا۔ چین کا فضائی نظارہ پہاڑوں پر سبزے اور آبادیوں سے ہوتا ہوا کارخانوں سے برآمد ہوتے ہوئے دھوئیں تک پہنچا۔ پھر اعلان ہوا کہ کچھ ہی دیر میں ہم بیجنگ میں اتریں گے جہاں ہمارا قیام تقریباً ایک گھنٹے کا ہوگا۔ ہم خوش کہ چلو ایک منزل تو کٹی۔ جہاز اترے، مسافر اترے اور لاہور آنے والی بس کی جو صورتحال ٹھوکر نیاز بیگ پر ہوتی ہیں، وہی کچھ اس جہاز کی بیجنگ میں تھی۔ زیادہ تر لوگ اتر گئے اور بہت کم سواریاں رہ گئیں۔

چین کا یہ دارالحکومت 1046 قبل مسیح میں قائم ہوا یعنی اسے تین ہزار سال سے زیادہ ہو چکے ہیں یعنی 30 صدیاں۔ یہ ڈویژن ہے جس کے تحت 16 اضلاع آتے ہیں اور آبادی دو کروڑ 17 لاکھ ہے اور نصف آبادی دیہات پر مشتمل ہے۔ یہاں موسم معتدل ہی تھا تقریباً 11 ڈگری سینٹی گریڈ لیکن ایک دوست کے مطابق بیجنگ میں ہر وقت موسم ایسا ہی رہتا ہے جیسا ہمارے ہاں دھند میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ہے یہاں کی فیکٹریاں، جو پیسہ اور دھواں اگل رہی ہیں اور انسان کو نگل رہی ہیں۔

(جاری ہے)

Comments

عبدالباسط بلوچ

عبد الباسط بلوچ

شعبہ صحافت سے خاص محبت رکھنے والے۔ ایم ایس سی کیمونیکیشن اسٹڈیز، ایم فل اسلامک سٹڈیز اور اب پی ایچ ڈی جاری

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */