سکئی سر اور جناتی جھیل - سید رحمان شاہ

مجھے روانگی کی وہ صبح روزِ حاضر کی طرح یاد ہے۔ روانگی کی صبح، جب میں اور عرفان مائد کی پوٹوہار جیپ میں اپنی وادی سے روانہ ہوئےتھے۔ صبح صبح بوندا باندی ہوئی تھی اور اب جو دھوپ نکلی تو منظر لاجواب تھا۔ فضاء صاف تھی، آسماں نیلگوں اور اس نیلاہٹ میں کچھ شوخ بادل، فیلِ بے زنجیر کی مانند فضاء میں اڑتے تھے، میرا دل بالکل نہیں کر رہا تھا کہ واپس جاؤں کیونکہ نہ کچھ آوارہ گردی و کوہ نوردی کی تھیع نہ پہاڑوں سے کچھ باتیں کی تھیں۔

وادئ بٹیلہ کے بازار سے نکل کر جب ہم تھوڑا آگے آئے۔ یہاں اک چھوٹا سا دریا عبور کر کے، جسے شیریں دریا کہتے ہیں، جب میں نے ویسے ہی پیچھے اپنی وادی کے پہاڑوں کی طرف دیکھا کہ جیسے کوئی ہمیشہ کے لیے کسی جگہ سے جا رہا ہو اور جاتے وقت اک طائرانہ نگاہ اپنی بستی اپنے لوگوں پر ڈالے، تو ویسے ہی جب میں نے نگاہ ڈالی تو دور ایک پہاڑ کی نوکیلی چوٹی نے میری نگاہ اپنے طرف کھینچ لی، جیسے گرداب اپنی طرف کچھ کھینچ لیتا ہے۔ ان دنوں میرے ذہن میں سکئی سر کے خیالات بہت زیادہ تھے اور میں نے سوچا کہ شاید یہی سکئی سر ہے۔

" کیا وہ سکئی سر ہے؟" میں نے ڈرائیور مائد سے پوچھا۔ میری نظریں اس چوٹی پر ہی تھیں۔

" کیا وہ تمام پہاڑوں میں سب سے زیادہ بلند ہے؟" مائد کی نظریں بالکل سامنے سڑک پر تھیں

" ہاں...ہاں!"

" جی یہی سکئی سر ہے"

میرے ہوش و حواس اڑ گئے۔ میں دیر تک اسے دیکھتا رہا اور پھر جب مائد نے ایک موڑ عبور کیا تو وہ چوٹی میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔
خدا شاہد ہے کہ تمام سفر میں سکئی سر کی وہ نوکیلی شاہگوری نما چوٹی میرے نظروں کے سامنے تھی۔ میری حالت عجیب سی تھی۔ میرا دل وہاں کہیں سکئی سر کی قراقرمی چٹانوں میں رہ گیا تھا یا شاید میرا دل اس نادیدہ جھیل میں ڈوب گیا جو بقول کسے، سکئی سر کے دامن میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (7) – احسان کوہاٹی

جب مانسہرہ اپنے گھر پہنچا تو تب بھی وہ چوٹی میرے نظروں کے سامنے تھی۔ مجھے اس چوٹی سے عشق کو گیا تھا، بلکہ ہوگیا ہے اور جب عشق سچا ہو تو کبھی بھولا نہیں جاتا۔ یقین مانئے اس سے دو تین روز بعد میں نے خواب دیکھا کہ میں سکئی سر کے دامن میں ہوں۔ اک سفید لینڈ سکیپ ہے، اور اس لینڈ سکیپ کے اخیر میں ایک برف پوش نوکیلی چوٹی ہے۔

بعد اس کے میں ہرروز اسے سوچتا رہا۔ گاؤں سے جو لوگ بطور مہمان ہمارے ہاں آتے، سب سے بارے سکئی سرپوچھتا رہتا کہ جیسے کوئی محب اپنی اس محبوبہ کے احوال پوچھتا ہے، جو کسی اور علاقے میں رہائش پزیر ہوتی ہے۔ کچھ مہمان مجھ سے بہت تنگ آگئے کہ یہ احمق پہاڑوں کہ بارے میں کیوں پوچھ رہا ہے؟

پھر، گوگل دیوتا سے درخواست کی کہ مجھ کو میری محبوبہ کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر دیں۔ گوگل نے بس اتنا ہی کہا کہ مسٹر! وہ 15387 فٹ بلندی پر رہتی ہے۔

میں نے جب والد صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے کہ وادئ بٹیلہ سے تقریباً دو دن پیدل پا جانے کے بعد آتا ہے اور یہ بھی بتایا کہ جب وہ شکار کرنے پہاڑوں میں جاتے تھے تو انہوں نے دور سے اسے دیکھا تھا۔

چنانچہ بعد اُس کے میرا عشق مزید زور آور ہوتا گیا۔ میں اپنی محبوبہ قریب سے دیکھنا چاہتا تھا اور آج صبح صبح مجھے گل رحمان صاحب کی آئی ڈی سے سکئی سر کی تصاویر ملیں۔ میں نے اسے بانقاب دیکھا اور قریب سے دیکھا اور وہ جھیل دیکھی، جس کے پانیوں میں میرا دل ڈوب چکا ہے۔ گل رحمان صاحب گورنمٹ پرائمری سکول پاشتو میں استاد، یا شاید ہیڈ ماسٹر، ہیں۔

ان شاءاللہ اگر عمر رہی تو گل رحمان صاحب کی سنگتی میں سکئی سر کے دامن تک جائیں گے اوراگر سکئی سر پر بسیرا کرتے جنات نے اجازت دی تو سکئی سر ٹاپ تک چلا جاؤں گا!