مُسلمان اور کافر کے درمیان فرق - عادل سہیل ظفر

ہم مسلمانوں میں سے کئی لوگ اِس غلط فہمی کا شِکار ہیں کہ اہل کتاب لوگ کافر نہیں ہیں، اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اِس حقیقت کو جانتے ہیں کہ اہل کتاب کافر ہیں، لیکن اپنی ذاتی مصلحتوں یا نفس کی اطاعت میں اِس حقیقت کو مانتے نہیں، بلکہ دوسروں کو بھی اِس حقیقت سے دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آئیے دیکھتےہیں کہ اِنسانوں میں سے مسلمان اور کافر کی پہچان کی کیا کسوٹیاں ہیں ۔ اِسلام اور اِیمان دو الگ الگ اِلفاظ ہیں، لیکن تقریباً ایک ہی معنی اور مفہوم رکھتے ہیں۔ اِسی طرح مسلمان اور مؤمن تقریباً ایک ہی معنی اور مفہوم رکھتے ہیں، جی ہاں! اِسلام اور اِیمان، مُسلمان اور مؤمن میں فرق یقیناً ہے، جیسا کہ ہمارے رب اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم اِیمان لائے، آپ فرمایے کہ تُم لوگ اِیمان نہیں لائے، بلکہ تُم لوگ یہ کہو کہ ہم نے اِسلام قبول کیا ہے، اور اِیمان تو ابھی تمہارے دِلوں میں داخل نہیں ہوا (سُورت الحجرات(49)/آیت 14)

پس یقیناً اِسلام اور اِیمان میں فرق ہے، لیکن وہ فرق بہر صُورت دائرہ اِسلام سےخارج کرنے والا نہیں، جبکہ اِسلام ومُسلمان، اور کفر و کافر، بالکل مختلف چیزیں، بالکل مختلف شخصیات ہیں، بالکل متضاد و مخالف۔

معروف حدیث جبریل علیہ السلام، جِس میں اللہ کے دو رسولوں علیہما السلام کی مبارک گفتگو ہوئی، اُن دونوں رسولوں علیہما السلام کی اُس مبارک گفتگو میں یہ بتایا گیا کہ الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً اِسلام یہ ہے کہ آپ اِس بات کی گواہی دیجیے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز ادا کیجیے اور زکوۃ ادا کیجیے اور رمضان کے روزے رکھیے اور اگر سفر کے لیے(جسمانی اور مالی اخراجات کی)استطاعت رکھتے ہیں تو حج کیجیے۔

اور آسمان والے رسول جبریل علیہ السلام کے پوچھنے پر زمین والے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِیمان کی تعریف اِن اِلفاظ میں فرمائی کہ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ یہ کہ تُم اللہ پر اِیمان لاؤ، اور اُس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور آخرت کے دِن پر، اور تقدیر میں خیر اور شر ہونے پر (صحیح مُسلم /حدیث/102کتاب الاِیمان /پہلا باب)

لہذا یہ واضح ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کی واحدنیت کا، اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہیں کرتا وہ اِسلام قبول کرنے والوں میں سے نہیں، مُسلمان نہیں، کافر ہے۔ خواہ وہ کسی اور آسمانی کتاب کے نام نہاد پیروکاروں کے کسی ٹولے، کسی جماعت یا کسی اُمت کا فرد ہی ہو، اور کِسی کافر کو اللہ کی جنّت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام شریف قران حکیم میں سے دو فرامین کے بارے میں کچھ اوہام اور سوالات پڑھنے سننے میں آئے، تو خیال ہوا کہ اِن فرامین کی دُرُست تفسیر کا ذِکر کروں، اور جو اوہام، اور سوالات اِن آیات کریمہ کو غلط طور پر سمجھنے کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں، یا کیے جاتے ہیں، اُن کی غلطی اللہ ہی کے کلام مُبارک اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین شریفہ (جو کہ اللہ کی وحی ہیں)کی روشنی میں واضح کر دیا جائے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام پاک قران کریم میں سے جِن دو آیات مُبارکہ کی میں نے ابھی بات کی کہ کچھ لوگ اُنہیں غلط طور پر سمجھتے اور سمجھاتے ہیں، وہ دو آیات شریفہ درج ذیل ہیں،

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ بے شک وہ لوگ جو اِیمان لائے، اور وہ جو یہودی تھے اور عیسائی تھے اور صابی تھے، (اُن میں سے )جو کوئی اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان لایا اور نیک عمل کیے تو اُن لوگوں کے لیے اُن کے رب کے پاس أجر ہے اور اُن لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے(سورت البقرہ (2)/آیت 62)

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَى مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وعَمِلَ صَالِحاً فَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ بے شک وہ لوگ جو اِیمان لائے، اور وہ جو یہودی تھے اور نصاریٰ (عیسائی) تھے اورصابی تھے، (اُن میں سے )جو کوئی اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان لایا اور نیک عمل کیے تو اُن لوگوں کے لیے اُن کے رب کے پاس أجر ہے اور اُن لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے ۔ (سورت المائدۃ (5)/آیت 69)

کچھ لوگ اِن دو آیات مبارکہ میں اِستعمال شدہ الفاظ کی وجہ سے اِس وہم کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی، عیسائی، صابی وغیرہ یا کوئی بھی اور غیر مُسلم اگر صرف اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں اور نیک عمل کریں تو ان کو آخرت میں اجر و ثواب ملے گا ، اور اس غلط فہمی کا ایک فلسفیانہ نتیجہ یہ بھی نکال لاتے ہیں کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دِن پر ایمان رکھتا ہو اسے کافر نہیں کہا جا سکتا، اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دِن پر ایمان رکھنے کے ساتھ نیک عمل کرتا ہو اُس کے لیے آخرت میں اجر و ثواب بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت میں عورتوں کو کیا ملے گا - امیرجان حقانیؔ

دو اہم نکات، دو اہم مسائل

(1) ۔ اِن دو آیات مُبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فقط سابقہ امتوں میں سے ہو گزرے ایسے لوگوں کے لیے آخرت کے انعام کی خبر دی ہے، جنہوں نے ان تک پہنچنے والے نبی یا رسول علیہ السلام کے ذریعے ملنے والے، اللہ کے فرامین اور احکام کے مُطابق، اللہ پر، یومء آخرت پر اور اُس نبی یا رسول علیہ السلام پر اِیمان لائے، اور پھر کسی تحریف اور تبدیلی وغیرہ کے بغیر انہی احکام اور تعلیمات کے موافق عمل کیے۔

(2) ۔ جو کوئی اللہ کی نازل فرمودہ آخری کتاب قران کریم پر ایمان نہیں رکھتا، اور اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک کی رسالت کا بھی انکاری ہے،اور اِس بات پر ایمان نہیں رکھتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول تھے، اور آخری رسول تھے،اُن کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں تھا، اور نہ ہی ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے اور اللہ کے احکام اور وحی کے مطابق ہی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کیے ہوئے حلال و حرام کو حلال و حرام نہیں مانتا، وہ اللہ کے ہاں کافر ہے، اور دُنیا میں بھی اُس کا شمار کافروں میں ہی ہے۔

ہم اگر صِرف یہاں زیر مطالعہ، مذکورہ بالا دو آیات مُبارکہ کے الفاظ پر ہی غور کریں تو میری طرف سے بیان کیے گئے مذکورہ بالا دونوں نُکات، دونوں مسائل کی دلیل میسر ہو جاتی ہے۔

خیال رہے کہ اللہ پر اور یوم آخرت پر اِیمان وہی شخص لایا ہو گا جِس نے اپنے پاس پہنچنے والے کسی نبی یا رسول علیہ السلام کی دعوت قبول کی ہو گی۔ جِس کا لازمی جُز اُس نبی یا رسول علیہ السلام کی نبوت یا رسالت پر اِیمان ہے، یا اُس تک پہنچنے والی کسی نبی یا رسول علیہ السلام کی تعلیمات پر اِیمان لایا ہو گا، اور اس کا بھی لازمی جُز اُس نبی یا رسول علیہ السلام کی نبوت یا رسالت پر اِیمان ہے کیونکہ اس اِیمان کے بغیر وہ اُس نبی یا رسول علیہ السلام کی بات ماننے والا نہیں بن سکتا، میرے اس بیان کی تاکید یہاں اسی آیت مُبارکہ میں موجود ہے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اِن دونوں آیات شریفہ میں سابقہ اُمتوں میں سے اللہ اور یومء آخرت پر اِیمان لانے والوں کے لیے اجر و ثواب کی خوشخبری ایک اور تیسری چیز سے مربوط فرمائی، اور وہ چیز ہے"عمل صالح، یعنی نیک عمل "۔ اوراِس حقیقت میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں "عمل صالح " وہی ہے جو اُس کی شریعت میں اُس کی طرف سے مقبول ہو، اور اُس کےنبی یا رسول علیہ السلام کےاقوال و اعمال کی موافقت رکھتا ہو۔

پس اِس تیسری چیز میں یہ شرط ہے کہ وہ شخص اس تک پہنچنے والے نبی یا نبی کی دعوت کے مطابق نیک عمل کرتا ہو نہ کہ اپنی مرضی سے بنائے ہوئے اعمال، تو، الحمد للہ، اِن دونوں مذکورہ بالا آیات کریمہ میں سے ہی یہ واضح ہوگیا کہ اِن دونوں مذکورہ بالا آیات شریفہ میں مذکورغیر مُسلم قوموں میں سے جِن تین قوموں کے لیے جو اجر و ثواب کی خوشخبری بیان ہوئی ہے، وہ بلا تمیز و لحاظ ساری ہی قوم کے لیے نہیں، قوم کے ہر فرد کے لیے نہیں، بلکہ اُن قوموں میں سے ایسے لوگوں کے لیے ہے جو محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہو گزرے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی آخری کتاب کے نزول سے پہلے ہو گزرے، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی آخری شریعت کے نازل ہونے سے پہلے ہو گزرے، اور اپنے تک پہنچنے والے انبیاء اور رُسل علیہم السلام کی اطاعت کرتے رہے، اُن کی تعلیمات کے مطابق اللہ اور یوم آخرت پر اِیمان لائے اور اُن کی تعلیمات کے مُطابق نیک عمل کیے،۔

اچھی طرح سے سمجھ لیجیے اور اسے یاد رکھیے کہ کسی شریعت کے کسی حکم پر عمل اُسی وقت تک نیکی رہتا ہے جب تک وہ حکم برقرار رہے، جب تک وہ شریعت برقرار ہو، اور جب وہ حکم منسوخ ہو جائے، وہ شریعت ہی منسوخ ہو جائے تو اُس شریعت پر، اُس کےکسی حکم پر عمل کرنا نیکی نہیں بلکہ گناہ ہو جاتا ہے۔

لہذا جو کوئی بھی اللہ کی آخری کتاب کے نزول کے بعد، اللہ کے آخری رسول محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت کے بعد، اللہ کے آخری دِین اور آخری شریعت کے ظہور کے بعد ان تینوں چیزوں بلکہ سابقہ شریعتوں کے نام پر پائی جانی والی غلط اور صحیح باتوں پر اِیمان رکھتا ہے اور ان کے مطابق ہی عمل کرتا ہے وہ کافر ہے، دُنیا اور آخرت میں کسی انعام و اکرام کا مُستحق نہیں۔

یہاں تک میری کہی ہوئی دو باتوں کی وضاحت ایک پہلو سے، ایک زاویے سے ہوئی، الحمد للہ کہ اِس وضاحت میں کہی گئی ہر بات کی دلیل اللہ کے کلام میں سے ہی میسر ہے،۔ اُن لوگوں کو کس طرح کسی اچھے انجام کا مستحق سمجھا جا سکتا ہے جو اللہ کی مقرر کردہ راہ کو چھوڑ کر اتنی دُور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہوں کہ اللہ کی کتاب قران کریم پر اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان ہی نہ رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   جنت میں عورتوں کو کیا ملے گا - امیرجان حقانیؔ

اللہ کی راہ سے بھٹکے ہوئے اور اللہ کے فرامین کا انکار کرنے والوں کے انجام کا منظر دکھاتے ہوئے اللہ پاک نےبڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اُن کے ساتھ قیامت والے دِن کیا ہو گا، سورت الواقعہ میں اصحاب الشمال یعنی اللہ کی راہ سے بھٹکے ہوئے اور اللہ کے فرامین کا انکار کرنے والوں کے انجام کی خبریں آیت رقم 41 تا 56 پڑھ لیجیے۔

محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت کے بعد اُن پر اِیمان نہ رکھنے والا کافر ہے، اور اللہ کے ہاں کسی رحمت، اَجر و ثواب، اِنعام و اِکرام کا حقدار نہیں ۔ اللہ پاک کےرسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان نہ رکھنے والے یقینی طور پر کافر ہیں إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا O أُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا O وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا وہ لوگ جو اللہ اور اُس کے رسولوں (میں سے کسی ایک کا سب )کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اُس کے رسولولوں کے درمیان علیحدگی بنا رکھیں، اور کہتے ہیں کہ ہم کچھ رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ کا اِنکار کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اِس کے درمیان کوئی راستہ اپنا لیں O وہ لوگ کسی شک کے بغیر یقینی طور پر کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر کھا ہے O اور وہ لوگ جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر اِیمان لائے اور اُن رسولوں کےدرمیان علیحدگی نہیں رکھی، وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ جلد ہی اُن کے اجر سے نوازے گا اور اللہ بہت بخشش کرنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے(سُورت النِساء(4)/آیات150 تا 152)

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے بھی یہ معاملہ بالکل واضح الفاظ میں بیان کروادیا، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے اللہ کی ہوئی وحی کے مُطابق اِرشاد فرمایا وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بیدہ لَا یَسمَعُ بِی أَحَدٌ مِن ہِذہِ الأُمَّۃِ یَہُودِیٌّ ولا نَصرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوتُ ولم یُؤمِن بِالَّذِی أُرسِلتُ بِہِ إلا کان مِن أَصحَابِ النَّارِ اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اِس اُمت( یعنی جِن کی طرف مجھے بھیجا گیا، اُن سب انسانوں) میں سے کوئی بھی میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی ہو، اور اُس چیز(یعنی قران، میری رسالت، اور میری شریعت)پر ایمان لائے بغیر مر جائے جو مجھے دے کر بھیجی گئی ہے تو وہ جہنمی ہے (صحیح مُسلم /حدیث 153/کتاب الاِیمان /باب 70)

واحد دین حق اِسلام کے ظاہر کیے جانے کے بعد، اِس کی اللہ کی طرف سے تکمیل کے بعد، اِس کو قبول نہ کرنے والے کا کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ۔ اللہ عَزَّ و جَلَّ نے فیصلہ فرما دیا وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ اور جو کوئی اِسلام کےعلاوہ کسی اور دِین کا طلب گار ہو گا اللہ اُس سے (کچھ بھی ) قبول نہ کرے گا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جائے (سورت آل عمران /آیت 85)

اللہ تعالیٰ کے اِن مذکورہ بالا فرامین مبارکہ سے ہی یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ قران پاک کے نزول کے بعد، محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بعثت کے بعد، شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کے نزول اور تکمیل کے بعد، جو کوئی بھی اللہ کے سارے ہی انبیاء اور رسولوں پر، اللہ کی ساری ہی کتابوں پر، اللہ پر، یوم آخرت پر، اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کیے ہوئے حلال کے حلال ہونے پر، اور حرام کے حرام ہونے پر اوردین اسلام پر ایمان نہیں لاتے وہ اللہ کے ہاں ایمان والے نہیں، اور آخرت میں کوئی اجر و ثواب پانے والے نہیں، بلکہ نُقصان اور خسارہ پانے والے ہیں۔

محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت کے بعد، قران کریم کے نزول کے بعد، اللہ کی آخری شریعت کے ظہور کے بعد جو کوئی بھی ان تینوں میں کسی ایک پر بھی اِیمان نہ رکھتا ہو وہ کافر ہے اُس کا کوئی بھی عمل نیک عمل نہیں، اور وہ اللہ کے ہاں کوئی اجر و ثواب پانے والا نہیں، چہ جائیکہ اُس کے بظاہر اچھے اعمال کو نیکی گردانا جائے اور اُسے جنّت میں داخلہ کا مستحق سمجھا جائے۔

اللہ کی عطاء کا فیصلہ صِرف اور صِرف اللہ ہی کرتا ہے، کِسی بھی اور کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ پاک کے فرامین اور احکام کے خِلاف اپنی عقل و سوچ، منطق و فلسفے کی بِناء پر کِسی کو جنتی یا جہنمی قرار دے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں