نیکی کا شکر اور توفیق - بشیر عبدالغفار

سلام پھیرتے ہی ایک نحیف وکمزور آواز قریب سے آئی شکر الحمدللہ ! یا اللہ تیرا شکر ہے۔

اس ناتواں وجود کو دیکھ کر میں اپنے اذکار بھول کر ان کی طرف دیکھتا رہا۔ اپنی عمر کے اس حصے میں پوری نماز چستی سے ادا کرنا اور پھر اس کا شکر ادا کرنا ۔ اسی بات نے مجھے ان سے ملاقات کے لیے مجبور کیا، جس کے لیے میں انتظار کررہا تھا۔ سنن اور نوافل کی ادائیگی کے بعد یہ انتظار اور زیادہ طویل ہوا جب ان کے لرزتے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے۔ اپنی عبادت کو دعا کے زیور سے سجانے کا اہتمام دیکھ کر میں نے بھی بے اختیار ہاتھ اٹھا لیے اور دعا میں شریک ہوگیا ۔ اب صرف ان کے الفاظ تھے اور میری آمین کی صدا!

دعا کے اختتام پر اس نورانی چہرے والے بزرگ نے میری طرف نگاہ کرکے نہایت پیار بھرے لہجے میں پوچھا "بیٹا خیریت ؟" جواب دیا "انکل بس آپ سے ملنا چاہ رہا تھا اس لیے رک گیا" بزرگ نے مسجد میں نظر دوڑا کر دیکھا ابھی چند ہی افراد تھے جو اذکار میں مشغول تھے۔ بزرگ نے اشارے سے قریب بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر بولے "بیٹا! مجھ گنہگار سے کیا ملنا؟" میں ان کی عاجزی پر قدردانی کی منزلوں پر چڑھتا جارہا تھا "بیٹا ! پوچھو!"

"انکل آپ نے فرض نماز کے فوراً بعدکہا شکر الحمدللہ ! جبکہ دوسرے تو اذکار میں مشغول ہوجاتے ہیں"

بزرگ ایک ٹھنڈی سانس لیتے گویا ہوئے، "بیٹا جیسے ہی اذان میرے کانوں سے ٹکراتی ہے مجھ پر یہ پریشانی سوار ہوجاتی ہے کہ نہ جانے یہ نماز ادا کر پاؤں گا یا نہیں ؟ ایک ایک لمحہ پریشانی کا پہاڑ بن کر گزرتا ہے، اذان سے اقامت تک کا وقت ۔ جب نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہوں تو وہ پریشانی خوشی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ جب سلام پھیرتا ہوں تو یہ زبان بے اختیار شکر الحمدللہ بول پڑتی ہے۔ اسے کچھ اور آتا ہی نہیں اس وقت۔ شاید میری زبان بھی اس پریشانی کا صحیح ادراک رکھتی ہے تبھی شکرانے کے پھول پیش کرتی ہے۔ بیٹا! مجھے تو اس آیت پر اتنا ایمان بڑھ گیا ہے کہ ہر نیکی کے کام کے بعد شکرالحمدللہ اپنے آپ نکل جاتا ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

"کون سی آیت؟" میں نے پوچھا

کہنے لگے لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ یعنی اگر تم شکروگے تو میں بڑھاؤں گا رب کی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور پھر ان میں اضافہ یہ سب دیکھا ہے میں نے۔ ان نعمتوں میں سے نیک عمل کی توفیق (آواز بھرا گئی)مجھے سب سے بڑی نعمت لگتی ہے۔ طاقت مل جاتی ہے لیکن توفیق تو رب کی عنایت خاص ہے جو مانگنے سے ملتی ہے۔

وہ بزرگ کہتے جارہے تھے اور میں خیالوں میں گم ہوگیا کہ کہاں یہ کمزور سا انسان اور کہاں میں نوجوانی کے عروج پر پہنچنے کے باوجود بہانوں کی اوٹ لینے والا؟ میں نے اس بزرگ کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے گزارش کی کہ "انکل! میرے لیے دعا کریں کہ میں بھی باعمل مسلمان بن جاؤں۔"

کہنے لگے "بیٹا! ضرور دعا کروں گا کیونکہ رب کو بھی جوانی کی عبادت بہت پسند ہے، جو جوانی آنکھوں کا تارا ہے اس کو عبادتوں کا ہالہ بنالو۔ جہاں تجھے سب پسند کرتے ہیں وہاں تم رب کی پسند بن جاؤ۔ بس بیٹا! ایک بات اپنے لیے لازم کرلو۔"

"جی انکل!"

"بیٹا! ہر نیکی کے بعد اس نیکی کا شکر ادا کرتے رہنا اور اگلی نیکی کے لیے توفیق مانگتے رہنا۔ ان شاءاللہ کبھی بھی آپ کو پریشانی نہیں ہوگی۔ اچھا، میں چلتا ہوں"۔یہ کہہ کر وہ اٹھے میں بھی ان کے ساتھ باہر نکلا۔

اپنی زندگی کا ایک عظیم سبق مسجد سے لے کر ایک عجیب سی سرشاری محسوس ہوئی گویا مجھے زندگی کا فارمولا مل گیا ہے۔ اور یہی بات ہے کہ نیکی کا آب حیات مل گیا۔ جب بھی کوئی نیکی انجام پاتی ہے اور اس پر شکر ادا ہوتا ہے تو اگلی نیکی کے لیے طاقت توفیق اور موقع اپنے آپ میسر ہوتے ہیں۔