وہ ایک سجدہ - بریرہ صدیقی

کمال اناڑی پن سے پراندے کو اپنے بمشکل کاندھوں تک آئے گھنگھریالے بالوں میں اٹکانے کی اس کی یہ تیسری کوشش تھی۔ اب کی بار قاہرہ واپس گئی تو اور کچھ بھلے نہ جاسکے، یہ ضرور جائے گا، میرا دلہن بننے میں یہ بالوں کا مسئلہ تو حائل ہوا۔ میوزیکل ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کے لیے آنے والی مصری طالبہ ایمن اداوی مُصرتھی۔ تمہاری سفید میکسی کے ساتھ اس کالے پراندے کا کمبی نیشن بالکل ویسا ہی تاثر دے گا جیسے تمہارے مصری فلافل پر ہمارے سالن کا شوربہ، ملکہ قلوپطرہ بننے کا باقی جواب سوتے میں دیکھنا۔ اب میرے کمرے کا پوسٹ مارٹم بند کرو۔ "کیا کوئی بتا سکتا ہے پیزا کے ڈو میں خمیر کا کیا تناسب ہونا چاہیے؟ پچھلی بار کی کوشش میں یہ اتنا پھول گیا کہ کیک کا گمان ہو رہا تھا۔" اس سے پہلے کہ اس مسئلے کا حل پیش کیا جاتا ایک مغموم آواز ابھری۔" تازہ مچھلی کا حصول مجھے یہاں ناممکن نظر آرہا ہے۔"

لندن سٹی یونیورسٹی کے ہاسٹل کا یہ اپارٹمنٹ عموماً ویک اینڈ کی راتوں پر کچھ ایسا ہی نقشہ پیش کرتا تھا۔ ملٹی نیشنل، ملٹی کلچرڈ لوگوں کے ملٹی نوعیت کے مسائل! مجوزہ حل، فوری تردید، بحث و مباحثے، اسٹوڈنٹ طبقہ اپنے اپنے مزاج، رجحان اور ترجیحی بنیادوں پر مصروف عمل نظر آتا۔ ہفتے بھر کی لانڈری، شاپنگ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی فارجہ کا یہ کمرہ اس کے مزاج اور مرضی کے برعکس اس قبضہ گروپ کی دسترس میں رہتا جو مصر، چین، پاکستان کے حسین امتزاج کا مظہر تھا اور جس میں نیا اضافہ سوڈان کی ھنادی کا تھا۔

بغیر کسی ٹائم لمٹ کے انہیں بولنے کا موقع دیا جائے تو ان میں سے ہر ایک کئی گھنٹے بے تکان بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کم و بیش دنیا کے ہر گوشے کی خواتین کے مسائل ان ہی چند نکات پر آکر کیوں ٹھہر جاتے ہیں؟ اچھے سے اچھے کھانے بنانے کی کوشش، حسین سے حسین تر نظر آنے کی خواہش ناتمام، عروسی جوڑے کی تیاری اور شادی ہو جانے کے بعد شوہر کی شکایات کا پنڈورا باکس۔ زیر لب مسکراتے ہوئے کسی قدر بیزاری سے اس نے سوچا۔ ان کو روکا نہ گیا تو یہ سلسلہ اگلے کئی گھنٹوں پر پھیلتا نظر آرہا ہے۔عین اسی لمحے اس کے خیال کی عملاً تردید کرتے ہوئے ھنادی، اس کا جائے نماز لیے اس دلچسپ نشست سے معذرت کرتی سامنے بالکنی میں نماز کا گوشہ تلاش کرتی نظر آئی۔ چاند کی روشنی میں اس کا گہرا سانولا رنگ عجیب تاثر دے رہا تھا۔ قارحہ نے جیسےا سے فوکس کر لیا ہو۔ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ اس کے آس پاس بھی اور عین اس کی نگاہوں کے سامنے بھی۔ یہاں بلند آواز تھی، وہاں سرگوشیاں تھیں۔ یہاں بلند آبنگ قہقہے تھے اور وہاں زاروقطار سسکیاں تھیں۔ یہاں تو دنیا کے مسائل زیر بحث تھے، وہاں ھنادی اور اس کا رب ہی جانتے تھے کیا رازونیاز تھے ان بیچ؟ کتنا ہی عرصہ بیت گیا۔ اس کے اردگرد کے چہرے اور مناظر رفتہ رفتہ دھندلا کر محض عکس میں تبدیل ہونے لگے اور باہر کا منظر نمایاں تر۔ اس کی 26 سالہ زندگی میں عشا کی طویل ترین نماز کا وقت بلا مبالغہ 10 منٹ سے زیادہ کا نہ ہوگا۔ آج بھی نماز ادا کر کے وہ مطمئن تھی۔ لیکن نماز کا یہ رنگ؟ کیا پڑھا ہو گا اتنے طویل قیام میں اس نے؟ کیا راز دارانہ معاملات ہیں اتنے طویل سجدوں میں اس کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ؟ دفعتاً اس پر یہ راز آ شکار ہوا کہ زچ کر دینے کی حد تک کا جو اطمینان ھنادی کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ اس کے پیچھے یقیناً یہی سپر ہیلنگ پاور کار فرما ہے۔ وہ انجانے حسد میں مبتلا ہو گئی۔ بالآخر نماز کا اختتام ہوا اور دعا کا آغاز۔۔۔۔ وہ یہ دیکھ سکتی تھی۔ ھنادی کا پورا بدن سراپا دعا تھا، سراسردعا، مجسم دعا۔ شاید ایسے ہی اٹھے ہوئے ہاتھوں کو خالی ہاتھ لوٹاتے اللہ تعالیٰ کو بھی شرم آتی ہے۔ پتہ نہیں کیا کیا کچھ نہیں مانگ لیا اس نے؟ اور جو سب اسی نے مانگ لیا تومیرے لیے کیا رہ جائے گا؟ عجیب طفلانہ سوچ پیداہوئی۔ یہ جو دعاؤں میں اتنے اشک بہاتی ہے تبھی تو اس کی آنکھیں غیر معمولی شفاف ہیں۔ اسے یاد آیا! ھنادی سے اتفاقیہ سپر سٹور میں پہلی ملاقات میں اس کی آنکھوں کی غیر معمولی کشش کو قارحہ نے بیحد متاثر کیا تھا۔ تویہ راز ہے اس کی کشش کا۔ اس نے جیسے کھوج لگا لیا ہو، اس کے من کا اجلا پن اس کی آنکھوں کی پاکیزگی کے ذریعے بولتا ہے اور اپنے سیاہ رنگ کے باوجود تبھی وہ مصری حسیناؤں کو بھی مات دیتی نظر آتی ہے۔ شخصیت کی یہ مضبوطی، اعتماد اور وقار صرف نماز ہی کا ادا کردہ عطیہ کیسے ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا ایک بہترین سرمایہ - خواجہ مظہر صدیقی

پرسنالٹی بلڈنگ میں نماز کا ایسا ایکٹو رول؟ وہ خود ہی تجزیے کرنے اور نتائج اخذ کرنے میں مشغول تھی۔ مجھے آج اپنی پڑھی ہوئی نماز کو دوبارہ پڑھنا ہے۔وہ جیسے کسی فیصلے پر پہنچ چکی تھی۔ اس کی یادداشت میں یہ اس کی پہلی نماز تھی جس کا شوق اس قدر غالب ہوا تھا۔ اس کے پیچھے کوئی وعظ و نصیحت تھی نہ کوئی لیکچر۔ محض ایک لائیو پرفارمنس تھی۔ شاہ اسمٰعیل شہید کو سید احمد شہید نے صرف دو نفل ایسے پڑھنے کی تاکید کی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے۔ رات سے صبح ہو گئی، ہانپ گئے لیکن ایک بار بھی مطمئن نہ ہوسکے۔ اس کی کیفیت چنداں مختلف نہ تھی۔ نامکمل وضو اور بے روح نمازوں کے ڈھیر کا ایک ریکارڈ تھا اس کے پاس اور اب یہاں آکر جو شکل اپنی صوابدید کے مطابق اس نے دی تھی وہ یقیناً زیادتی تھی۔ اپنی فراغت، مصروفیت اور موڈ کے مطابق دو، تین حتیٰ کہ چار نمازوں کو یکجا کر کے ادائیگی۔ اس نے ایمانداری سے اپنا تجزیہ کیا۔ رنج، غم اور دکھ اور شکووں کو شیئر کرنے کے لیے تو اس نے اور کئی چینل بنا رکھے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی ہر شیئرنگ کے بعد دل کے سناٹے پہلے سے بھی سوا ہو جاتے تھے۔ لیکن نماز ایسا طاقتور وسیلہ ہو سکتی ہے اس کا تجربہ اسے آج کرنا تھا کہ آج سے پہلے اس کے لیے یہ عبادت محض تھی۔ اسے یکدم یاد آیا۔ رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے اس نے ابو کو اقبال کا یہ شعر اکثر گنگناتے سنا تھا:

شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام

میرا سجود بھی حجاب، میرا قیام بھی حجاب

تب یہ باتیں اور اشعار اس کی عقل و خرد سے بالا بالا رہتے تھے اور آج اسے معلوم ہوا کہ وہ خود مجسم تشریح تھی۔ ایک عزم مصمّم کے ساتھ وہ اٹھی۔ آج اسے اپنی نماز سے بہت کچھ لے کر آنا تھا جس سے وہ آج سے پہلے نادانستگی میں محروم تھی۔