احتساب کا عمل، قوم نگران بنے - احسان کوہاٹی

"آپ سیلانی بات کر رہے ہو؟"
"جی، فرمائیے"
"فرمانا نہیں پوچھنا ہے "
"جی پوچھیے" سیلانی نے فون ایک کان سے دوسرے کان پر منتقل کرتے ہوئے کہا
"آپ کو شرم نہیں آتی؟
"ہائیں۔۔۔ کیا مطلب؟"
"مطلب یہ کہ آپ میاں صاحب کے پیچھے پڑے ہوئے ہو، انہیں پاکستان کے عوام نے منتخب کیا ہے، وہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے نمائندے ہیں، وہ ہماری عزت ہیں اور آپ ان کی بے عزتی کر رہے ہو۔۔۔" فون پر بات کرنے والا یقیناً مسلم لیگ کاکوئی پکّا کارکن اور میاں صاحب کا متوالا تھا۔

سیلانی کوحیرت اس بات پر ہوئی کہ میاں صاحب کے ایسے متوالے کراچی میں بھی پائے جاتے ہیں؟ سیلانی نے خاموشی سے ناراض متوالے کی بات سننے لگا۔ اس نے انہیں اچھی طرح موقع دیا کہ وہ دل کی بھڑا س نکال لے اور جب اس کے غضب کے پریشر ککر کی ساری بھاپ نکل گئی تو سیلانی نے نرمی سے کہا
"جناب! میاں صاحب کو میں نے بے عزت نہیں کیا۔ انہیں ججوں نے وزیر اعظم ہاؤس سے نکالا ہے اور یقین کریں مجھے تو ان پانچ ججوں میں سے دو کے نام بھی یاد نہیں"
" جج تو آپ بھی بنے ہوئے ہو، ایک عدالت فیس بک پر لگائی ہوئی ہے اور دوسری امّت میں۔ دیکھیں آپ ایک شخص کی نہیں ملک کے کروڑوں ووٹروں کی توہین کر رہے ہیں۔ آپ کچھ بھی کرلیں میاں صاحب دوبارہ آئیں گے۔ " وہ صاحب کچھ زیادہ ہی غصے میں آگئے تھے جس پر سیلانی کو مجبوراً وہ کرنا پڑا جو عام طور پر وہ نہیں کرتا۔ اس نے لائن کاٹ دی۔

میاں صاحب کی نااہلی سے ایک نیا محاذ کھل گیا ہے بلکہ زیادہ درست یہ ہے کہ میاں صاحب نے یہ محاذ کھول دیا ہے۔ وہ پورے جی ٹی روڈ پر نااہلی کی دُہائی دیتے ہوئے عوام کو ان کی اس توہین کا احساس دلاتے رہے جن کی انہیں خبر ہی نہیں تھی۔ سیلانی نے دفتر کے سامنے روڈ پر موٹرسائیکل کھڑی کی اور دفتر آگیا۔

اگرچہ اب پانامہ کے زلزلے کے جھٹکے ختم ہوچکے ہیں لیکن ٹیلی ویژن کی اسکرین پرآفٹر شاکس کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ نون لیگ جی ٹی روڈ کی ریلی سے مقتدر اداروں کو باور کرا رہی ہے کہ لاہور والا نوازشریف بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا اسلام آباد والا وزیر اعظم تھا۔ سیلانی نے دفتر میں اپنی کرسی سنبھالی، کمپیوٹر آن کیااورکچھ کرنے سے پہلے انٹر نیٹ پر آوارہ گردی کرنے لگا۔ سوشل میڈیا اب عوام کی نبض بن چکی ہے۔ اس کی رفتار معلوم کرنا اب صحافیوں لکھاریوں کے لیے بڑا ضروری ہو چکا ہے۔ سیلانی نے فیس بک کھولی، یہاں ابھی تک میاں صاحب کے چاہنے اور لتاڑنے والوں میں گولہ باری چل رہی تھی۔ اگر چہ اس میں اب وہ پہلی جیسی شدت نہیں رہی ہے، بیشتر مقامات پرتوپیں خاموش ہو چکی ہیں، کہیں سیز فائر ہوچکا ہے اور کہیں سپاہی تھک چکے ہیں۔ البتہ کہیں کہیں اب بھی حزب الشریف اور عمران ٹائیگرز میں جھڑپیں جاری ہیں۔ بلاول ہاؤس کے جیالے ان جھڑپوں سے دور ہیں۔ انہوں نے قیادت کی ہدایت پر اپنی قوت سنبھال رکھی ہے۔ فضل الرحمان صاحب کے سپاہی بھی اس ساری صورتحال میں غیر جانبدار سے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر "تحریک تشکر"تو چلائی مگروہ محاسبہ تحریک کے بانی ہونے کے باوجود اس کا کریڈٹ لینے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی سیاست اور آئیڈیل ازم - صاحبزادہ محمد امانت رسول

سیلانی فیس بک کاجائزہ لے ہی رہا تھا کہ ایک خاتون قاریہ کا ان باکس میں لطیفہ ملا:
" امتحانی فارم بھیجنے کے لیے ایک اسکول کے ہیڈماسٹر نے فوٹو گرافر کو بلایااور دس روپے فی طالب علم پر بات پکی ہوگئی۔ ہیڈماسٹر نے ٹیچر کو کہا 30 روپے فی بچے سے جمع کرو۔ ٹیچر نے کلاس میں اعلان کیا کہ صبح ہر بچہ گھر سے 50 روپے لے کر آئے۔ ایک بچے نے گھر میں جا کر ماں سے 100 روپے مانگے اورماں نے شوہر کوفون کرکے کہا منّے کے ابا! کل اسکول والوں نے فوٹو گراف کے لیے 200 روپے مانگے ہیں۔" اس لطیفے کے نیچے لکھا تھا "سیلانی بھائی! ہم کسی صادق اور امین قیادت کے مستحق ہیں؟"
سیلانی نے جواب دیا"یہ بات تو ججوں کو سمجھنی چاہیے ناں"
" مجھے یہ فیصلہ سمجھ نہیں آیا"
"بات وہی لطیفے والی ہے۔ جہاں سب ہی ننگے ہوں وہاں کسی کو برہنگی کا طعنہ دیا جائے تو سمجھ کے کام کرنے کی رفتار بہت آہستہ ہو جاتی ہے۔ سیاست اب "سیاہ ست "ہو کر رہ گئی ہے۔ ممکن نہیں رہا کہ ایک صاف ستھرے کردار کا مڈل کلاس، تنخواہ دار شخص کونسلر کے الیکشن کے لیے بھی کھڑا ہوجائے۔ ایسے میں کوئی حق حلال اور پاکیزگی کی بات کرے تو سمجھ کہاں سے آئے؟"
"کہتے تو آپ ٹھیک ہیں لیکن میاں صاحب کا موقف بھی تو سنا جائے۔ وہ کہتے ہیں میں جھوٹ تب بولتا جب مجھے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لیتا اور چھپاتا، میں نے تنخواہ لی ہی نہیں توکیا بتاؤں؟"
"پاکستان ٹوڈے کی ویب سائٹ پر 11 اگست کو ایک خبر لگی تھی، میاں بابر صاحب کی 'ایکسکلوزِو اسٹوری' ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نوازشریف نے2013ء میں اپنے بیٹے کی کمپنی سے چھ تنخواہیں وصول کیں۔ انہوں نے ان مہینوں کے نام بھی بتائے ہیں کہ فروری، مارچ، اپریل جون اور جولائی میں انہوں نے تنخواہ وصول کی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ثبوت بھی ہیں۔ خیر، اس سے ہٹ کر میں آپ کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لیے چلتا ہوں۔ ذرا یاد کیجیے یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے، ان پر بھی الزامات تھے اور معاملہ عدالت میں تھا۔ یوٹیوب پر وہ کلپ موجود ہے آپ دیکھ سکتی ہیں کہ میاں صاحب نے ان دنوں خوشاب کے جلسے میں کیا کہا؟ میاں صاحب فرما رہے تھے یوسف رضاگیلانی صاحب سزا کو تسلیم نہیں کر رہے، کہتے ہیں میں اپیل میں جاؤں گا، اپیل سے پہلے نیچے اترو، گھر جاؤ! جب گھر جاؤ گے تو اپیل کرو۔ اپیل میں تمہارے خلاف فیصلہ ہوتا تو پکے پکے گھر جاؤگے۔ نہیں ہوتا تو واپس وزیر اعظم بن جانا، لیکن یہ بات نہیں کہ سپریم کورٹ فیصلہ کرے اور آپ نہ مانو!" آپ یہ کلپ دیکھیں میاں صاحب کی آواز اپنے کانوں سے سنیں اور انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں آج وقت نے کروٹ لی تو میاں صاحب سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے سے انکاری ہیں اور عدلیہ کے خلاف مہم چلا کر لوگوں سے کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا؟"
"اچھا! میں دیکھتی ہوں لیکن میاں صاحب نسبتاً اچھے نہیں؟ پیپلز پارٹی والوں سے تو اچھے ہیں، انہوں نے تو دیکھیں سندھ کا کیا حال کر دیا ہے؟"
"پھر وہی بات، بابا! نسبتاً ہی کیوں؟ پکا ٹکا صاف ستھرے کردار والا وزیر اعظم اورحکومت کیوں نہیں چاہیے؟ "
"اس سسٹم میں ایسا کوئی کہاں سے آسکتا ہے؟"
"پھر سسٹم بدلنے کی بات کریں، اس نظام کو لائیں جس میں سچے اور امانت دار ہی آگے بڑھ سکیں "
"سیلانی بھائی !آپ بھی کیا آئیڈیلزم کی باتیں لے بیٹھے"
"کبھی نہ کبھی تو یہ باتیں کرنی ہی ہیں جناب! پھر آج ہی کیوں نہیں ؟"سیلانی کی chat جاری تھی کہ اچانک تاریکی چھا گئی اور نیوز روم میں ایک ساتھ ساتھیوں کی آواز آئی
"او نہیں یار۔۔۔گئی بھینس پانی میں۔ یہ بجلی والے بھی نا؟" سیلانی مسکرادیا۔ اسے یاد آیا کہ میاں صاحب کے مصاحبوں نے بھی کئی بار لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ڈیڈلائن دی تھی جس میں ہر بار اضافہ ہی کیا گیا۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے تھوڑا سا چنّا منّا جھوٹ بولا یا بہت سارا، اچھی بات یہ نہیں کہ ایک احتساب کے عمل کا آغاز ہو رہا ہے قوم اس عمل کی نگراں کیوں نہیں بن جاتی؟وہ اس کرپٹ اور بدبو دار سسٹم سے غلاظت دور کیوں نہیں کردیتی؟ کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی تو اس احتساب کاآغاز ہونا ہی ہے اب غلط یا درست آغاز ہوہی گیا ہے تو ہم اس کا ساتھ کیوں نہ دیں؟ سیلانی یہ سوچتا ہوا اندھیرے میں موبائل کی روشنیوں میں یاروں دوستوں کو اپنی چیزیں سمیٹتے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں