منہ بسورتے کالموں پر معذرت- عطا ء الحق قاسمی

مجھے سنجیدہ کالم لکھنااچھا نہیں لگتا اور خصوصاً جب یہ سنجیدگی کسی سیاسی کالم سے متعلق ہو، میں ایک پرسکون زندگی چاہتا ہوں، اپنے لئے بھی اور سب کے لئے بھی۔ میں اہل وطن کے چہروں پر سدا بہارمسکراہٹ دیکھنے کا خواہشمند ہوں مگر یہ اس صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے ہاں کسی نظام کو مستقل چلنے دیں، اگر عوام نے کسی جماعت کو پانچ سال کے لئے حکمرانی دی ہے تو اسے یہ مدت پوری کرنے کا حق دیا جائے۔ جب یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرلے تو اپنے اچھے یا برے اعمال کے ساتھ ایک بار پھر عوام کے پاس جائے اور انہیں فیصلہ کرنے دیا جائے کے اب بھی حکمرانی کا اختیار اسی کے پاس ہی رکھنا ہے یا اسے اٹھا باہر پھینکنا ہے۔
میں آزادی اظہار کا شدت سے قائل ہوں، چنانچہ اہل صحافت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت پر کڑی نظر رکھیں اور اگر وہ سمجھیں کہ حکومت کا کوئی عمل ملک و قوم کے مفاد میں نہیں تو وہ اس پر کڑی تنقید کریں اور اگر بہتر سمجھیں تو حکومت کے لئے کلمہ خیر ہی کہہ دیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں شائستگی اور اعتدال ضروری ہے۔
پاکستانی عوام کے چہروں پر سدا بہار مسکراہٹ لانے کے لئے ہماری عدالتوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان سے ایسے انصاف کی توقع ہے جو نظر بھی آتا ہو، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ انصاف کے لئے الگ الگ اصول بنائے جائیں۔ انصاف سب کے لئے ہے اور سب کے ساتھ ہونا چاہئے۔ عدالت مقدمے کی سماعت کے دوران ٹیلیویژن پر ہونے والے ٹاک شوز دیکھنے کی بجائے مقدمے کی فائلوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ ججوں میں مقبولیت اور شہرت کی خواہش نہیں ہونا چاہئے۔ انہیں کسی دبائو کے تحت اپنے فیصلوں کا رخ متعین کرنے کی بجائے قبلہ رو ہو کر فیصلے کرنا چاہئیں۔ اگر مقدمات سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ہیں تو عدالتی رویوں سے واضح طور پر نظر آنا چاہئے کہ اس کی ہمدردیاں یایوں کہہ لیں کہ وابستگی کسی جماعت یا کسی نظریے کے ساتھ نہیں بلکہ قانون کے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے مگر جج کا اندھا ہونا ضروری نہیں۔
میں پاکستانی عوام کے چہروں پر سدا بہار مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں، اس کے لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، وہ ایسی ’’پچ‘‘ تیار نہ کریں جو کسی ٹیم کے لئے میچ جیتنے یا ہارنے کا باعث بنے۔ وہ پویلین میں بیٹھ کر کسی کو بلاوجہ ہوٹ یا کسی کی بلاوجہ سپورٹ نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ میچ میں ہار جیت کا انحصار امپائر کی انگلی اٹھانے پر ہو بلکہ تمام اداروں کو اپنے کام سے کام رکھنا ہوگا، بصورت دیگر پاکستانی عوام کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی اگر ادارے اپنے اصلی فرائض سے منہ موڑ کر ایسے کاموں میں دخل اندازی شروع کردیں جو نہ ان کے فرائض میں شامل ہے اورنہ انہیں زیب دیتا ہے۔
مگر کچھ عرصے سے میں دیکھ رہا ہوں کہ تمام اداروں میں جو خرابیاں اپنی ابتدائی شکل میں تھیں وہ اب انتہائی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کو جسے عوام نے پانچ سال کے لئے حق حکمرانی دیا ہو، یا تو ’’عزیز ہم وطنوں‘‘ کے ابتدائی کلمات سے یہ حق ان سے چھین لیا جاتا ہے اور یا جوڈیشل مارشل لاء کے ذریعےعوام کی حکمرانی ختم کردی جاتی ہے۔ کچھ عرصے سے بعض میڈیا ہائوسز نے بھی تمام صحافتی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور بے بنیاد الزامات سے کردار کشی کی جاتی ہے، ایک کروڑ کے فنڈ میں سے ایک ارب کی کرپشن کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں۔ کچھ اینکر روزانہ جھوٹ بولتے ہیں اور ملک میں کوئی عدالتی نظام پورے اختیارات کے ساتھ کام کررہا ہو تو ان میں سے اکثر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔
جہاں تک انصاف کا تعلق ہے، اس کی ایک حالیہ مثال کا مضحکہ پوری دنیا کے میڈیا میں اڑایا گیا ہے اور یہ فیصلہ پاکستان کی بدنامیوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ میں یہ بات پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے پاس اس کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کچھ اینکرز اور کچھ فیصلے ’’مارکیٹ‘‘ میں پہلے سے دستیاب تھے۔ وہ جھاڑ پھونک کر استعمال میں لائے جارہے ہیں اور ابھی مزید بہت کچھ سامنے آنے والا ہے جو کچھ سامنے آنے والا ہے وہ ’’صدیوں یاد رہنے والا فیصلہ‘‘ نہیں ہوگا۔ وہ قوم کو ایک طویل عرصے کے لئے بہت پیچھے لے جانےوالا فیصلہ ہوگا۔
میں یہ کالم ان دنوں میرے قلم سے لکھے جانے والے دوسرے کالموں کی طرح، بادل نخواستہ لکھ رہا ہوں۔ میں ایک مزاح نگار ہوں، مجھے اس طرح کے منہ بسورتے ہوئے کالم اچھے نہیں لگتے۔ میں خود بھی خوش رہنا چاہتا ہوں اور پاکستانی عوام کے چہروں پر سدا بہار مسکراہٹ دیکھنے کا خواہشمند بھی ہوں۔ میری دعا ہے کہ مجھے آئندہ اس طرح کا کوئی کالم نہ لکھنا پڑے بلکہ میں آنے والے دنوں میں قوم کو کوئی ہنستی مسکراتی خوشخبری سنائوں۔ میری درخواست ہے کہ آپ میری اس خواہش پر آمین ضرور کہیں۔