ترقی خوشحالی موٹی ویشن اور ہم ۔ سید معظم معین

کارپوریٹ ورلڈ کو اپنے کاروبار چلانے کے لئے محنتی اور قابل کارندے درکار ہیں اور ان کو کام پر آمادہ رکھنے کے لئے ان کے ہمت بڑھاتے رہنا از حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے نت نئے آئیڈیاز اور اہداف وضع کیے جاتے رہتے ہیں۔ یہ آئیڈیاز اور نعرے دنیا بھر میں لوگوں کو کام پر آمادہ رکھنے کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ فیشن، موسیقی، نت نئے کمیونیکیشن کے آلات، مہنگے موبائل فون، گاڑیاں اور نجانے کیا کیا۔۔۔ انسان ان سب آلات اور مشینوں کو جمع کرتے کرتے زندگی گزار دیتا ہے اور وہ لمحہ کبھی نہیں آ پاتا جب وہ اپنی زندگی اور اس کے مقصد پر غور کرے۔ اپنی دنیا میں آمد کے مقاصد سوچے۔ دراصل شیطان کو اس بات کا سخت خدشہ ہے کہ انسان کبھی اپنے آپ پر غور نہ کرے۔ کیونکہ اگر انسان نے اپنے آپ پر غور کرنا شروع کیا تو وہ لازما اپنے رب کو پا لے گا اور دنیا پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کا کا جو طاغوتی منصوبہ ہے وہ ناکام ہو جائے گا اس مقصد کے لیے اسے مصروف رکھنا بے حد ضروری ہے۔

انسان کی ساری زندگی گھر گاڑی شادی بچے اور مشینیں جمع کرنے میں گزر جاتی ہے۔ صوفوں کے نئے ڈیزائن اور موبائل کے نئے ماڈل کے علاوہ زیادہ سے زیادہ ملکی سیاست میں ماہرانہ رائے کے اظہار سے آگے اس کی سوچ نہیں بڑھ سکتی۔ جب وہ کسی کے گھر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں میزبان کے گھر کی اشیا کا طواف کرنے میں مصروف رہتی ہیں اور اس کا ذہن میزبان کے خلوص سے زیادہ اس کے ڈرائیونگ روم کے صوفوں اور پردوں کی قیمت کا اندازی لگانے میں مصروف رہتا ہے۔ کسی شخص کی کامیابی کا معیار اس کے رکھ رکھاؤ، دیانتداری یا اس کی اولاد کے حسن اخلاق سے زیادہ اس کی گاڑی، بینک بیلنس اور اس کے ہاتھ میں موجود موبائل بن چکا ہے۔ اسی لئے اس کی ساری زندگی انہی چیزوں کو جمع کرنے میں گزر جاتی کے اور اسے اتنا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے آپ پر ہی غور کر سکے۔

اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالی نے سورہ التکاثر میں بھی اشارہ کیا ہے کہ الھکم التکاثر حتی زرتم المقابر (تمہیں دولت کی کثرت نے غفلت میں رکھا یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔)

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

موجودہ دور کے مسلمان بھی اسی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں اور اب انہیں بھی گھر گاڑی کے اس بھنور سے نکلنے کی فرصت نہیں۔ اللہ تعالی جو کام مسلمانوں سے لینا چاہتا تھا اس کی طرف دھیان نہیں ہے بس آلات اور آسائشیں جمع کرنے کی دوڑ پر دھیان ہے۔ بہترین امت کہلانے والی قوم کے لوگ بھی گھر گاڑی کے چکر میں گھن چکر بن چکے ہیں۔ بلا شبہ رزق حلال کمانا اور آسائش حاصل کرنا منع نہیں ہے مگر ان آسائشوں کو ہی زندگی کا حاصل سمجھ لینا اور ان کی خاطر سب کچھ لٹا دینا حتی کی کہ رشتے ناطے اور ایمان تک بھی یہ برا ہے۔ مگر یہ بات سمجھنا سمجھانا خاصا مشکل ہے جس زمانے میں کمپنیوں کا کاروبار ہو یا سیاستدانوں کی سیاست سب عوام کو سبز باغ دکھانے کے گرد ہی گھومتی ہو ایسے دور میں ایثار، دین، خدا، امت اور ایسے الفاظ اجنبی نہ بن جائیں تو اور کیا ہو۔

جو سیاستدان ہے وہ عوام کو نوکری اور خوشحالی کے خواب دکھا کر اپنا آلو سیدھا کرنا چاہتا ہے جو کاروباری ہیں وہ بھی عوام میں لالچ اور حرص کو بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ ان کا مال زیادہ بک سکے۔ میڈیا اس حرص افروزی کی مہم میں ان کا ہراول دستہ ہے۔ بینک دھڑا دھڑ سودی قرضے دیے جا رہے ہیں اور لوگ آلات اور مشینیں جمع کیے چلے جا رہے ہیں مگر آسودگی اور خوشی ہے کہ جنس نایاب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس مسئلے کے لئے پھر موٹی ویشنل سپیکنگ کا شعبہ میدان میں آتا ہے۔ اب ہمارے یہاں بھی موٹی ویشنل سپیکرز کا کاروبار عروج پر ہے جو لوگوں کو کامیابی اور خوشی حاصل کرنے کے طریقے بتاتے ہیں۔ یہ بھی مغرب کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ جس نبی کے ماننے والے ایک ایک فرد کو اپنی ذات میں موٹی ویشن کا ایک پہاڑ ہونا چاہیے تھا اب اسے الگ سے موٹی ویشنل سپیکرز کی ضرورت ہے۔ اور یہ موٹی ویشنل سپیکرز بھی چند ایک کو چھوڑ کر سب رٹی رٹائی باتیں کر کے مغرب سے درآمد شدہ مثالیں اور الٹے سیدھے کرتب دکھا کر لوگوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ عرصہ ہوا ایک بار ہمارے یہاں بھی ایک موٹی ویشنل سپیکر صاحب آئے تھے دو دن کے سیشن کے بعد جتنا مایوس لوگوں کو دیکھا اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال بزنس ہے چل رہا ہے مغرب کے یہاں ہر چیز بزنس ہے کسی کو موٹی ویشن دینا یعنی حوصلہ دینا اور ہمدردی کے دو بول بولنا بھی بزنس ہے اور اس سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ فیشن ہے اور ہمارے یہاں ہر چیز ضرورت سے زیادہ فیشن دیکھ کر اپنائی جاتی ہے اور خاص کر مغرب سے آئی ہو تو اسے تو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ بہر حال کچھ موٹی ویشنل سپیکرز مختلف بھی ہیں اور قابل قدر بھی مثال کے طور پر قاسم علی شاہ، زبیر منصوری، اختر عباس وغیرہ۔ ہمارے دور طالب علمی میں اور اس سے بہت پہلے بھی بابا جی اشفاق صاحب ہوتے تھے جو اصل "موٹی ویشنل سپیکر" تھے ایسے موٹی ویشنل سپیکرز ہوں تو بہت خوب ہے۔ ہمارے اصل موٹی ویشنل سپیکر تو علامہ اقبال ؒ تھے کیا سورس آف موٹی ویشن ہے جو آج تک جاری ہے۔
اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند
اور یہ کہ
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال ؒ اور آج کا پاکستان-میر افسر امان

ہمیں مغرب سے بہت کچھ لینا چاہئے اور مغرب کو اس سے بہت زیادہ دینا بھی چاہیے اور دے بھی سکتے ہیں اور یہ لوگ بتاتے ہیں کہ اس میدان میں ہم کتنے زرخیز ہیں اور مغرب کو کیا دے سکتے ہیں۔

کبھی دنیاوی جھنجھٹوں سے ہٹ کر تنہائی میں فطرت کے قریب بیٹھ کر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم کن چکروں میں صبح شام گھومتے رہتے ہیں دنیاوی آسائشوں کو حاصل کرتے کرتے کہیں اپنے رب سے دور ہی تو نہیں ہوتے جاتے۔ صبح شام ترقی ترقی خوشحالی خوشحالی کے نعرے اور لیڈروں کی تقریریں سنتے سنتے ترقی اور خوشحالی کو تو ہی اپنا رب نہیں بنا بیٹھے۔ وہ رب ہماری راہ تکتا ہے اور ہم اس سے دور خوشحالی کے سراب کے پیچھے بگٹٹ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ کبھی تنہائی میں سوچنا چاہئے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.