دیا جلائے رکھنا ہے - شازیہ طاہر

اپنی مٹی، اپنے گھر اور بالخصوص اپنے وطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے. جس جگہ پر، جس وطن میں ہم پیدا ہوتے ہیں، اپنی زندگی کے شب و روز گزارتے ہیں، جہاں ہمارے پیارے رہتے ہیں۔ وہ جگہ ہمارا گھر کہلاتی ہے، وہاں کے گلی کوچوں، وہاں کے درو دیوار غرضیکہ وہاں کی ایک ایک چیز سے ہماری یادیں جڑی ہوتی ہیں. جب بھی ایک عرصے بعد ہم اپنے ملک کی سر زمیں پر قدم رکھتے ہیں تو ایک عجیب طمانیت اور خوشی کا احساس ہوتا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے. اور اس بات کو ہم دیارِ غیر میں رہنے والوں سے بہتر کون جان سکتا ہے جن کا دل اور دھیان ہزاروں سہولیات اور تعیّشات ہونے کے باوجود ہر وقت اپنے وطن کی طرف ہی رہتا ہے. پاکستان کا غم اور دکھ ہمارا غم ہوتا ہے اور پاکستان کی ہر خوشی میں ہم خوش ہوتے ہیں.

پاکستانی قوم دنیا کی بہادر ترین قوم ہے جو کئی سالوں سے دہشت گردی، بم دھماکوں، مختلف حادثات اور قدرتی آفات کے باوجود نہایت امن اور سکون سے کسی شکوہ شکایت کے بغیر زندگی کے پہیے کو دھکیل رہی ہے. اگرچہ پاکستان نے تعمیر کے شعبے میں بہت ترقی کی ہے. آپ کو ہر طرف بڑے بڑے شاپنگ مالز، پلازے، شادی ہال، ریسٹورنٹس وغیرہ کی بہتات نظر آئے گی لیکن مجموعی طور عوام کے لیے کوئی سہولیات نظر نہیں آتیں. ہر طرف گندگی کے ڈھیر اور کچرا مختلف بیماریوں کی پھیلنے کا باعث بنتا ہے. سڑکوں اور گلی محلوں میں صفائی کا ناقص انتظام بلدیہ جات کی کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے ناقص سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ذرا سی بارش اور خصوصاً برسات کے موسم میں پورا پورا شہر پانی میں ڈوب جاتا ہے، جس کی وجہ سے حبس، تعفّن اور گندگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور کئی قیمتی جانیں بھی حادثات کی نظر ہو جاتی ہیں. لیکن ہمارے حکمرانوں اور منتخب نمائندوں کو جلسے جلوس کرنے اور ایک دوسرے کے کردار پر حملے کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی تو عوام کی فلاح و بہبود کا کون سوچے.

یہ بھی پڑھیں:   گودار کے ماہی گیروں کا مستقبل کیا ہے - ایاز رانا

یہ وطن ہمارا ہے. ہم سب کومل کر اس کی حفاظت اور پاسبانی کرنی ہے اور اس کی ترقی اور سلامتی کے لیے انفرادی طور پر بھی حصہ ڈالنا ہے. ہمارے برسرِ اقتدار حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وطن کی سلامتی کے لیے لوگوں کے مال، جان، عزت اور خون کی حفاظت کریں اور وطن کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں.

کرپشن اور بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جو ملکی سطح پر ہر ادارے کو تباہ کر رہا ہے. جب تک حکمران طبقہ اور منتخب نمائندے خود اس میں ملوّث رہیں گے، یہ ناسور یوں ہی پھیلتا رہے گا. اور یونہی پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہو تی رہے گی. اب تو بیرونی ممالک میں بھی ہمارے حکمرانوں کی کرپشن کے قصّے اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے عام ہیں اور تارکینِ وطن کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہوتے ہیں.

لیکن ان سب باتوں کے باوجود وطن کے باسی اپنی مٹی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں شعور بیدار کیا جائے. اپنی نئی نسلوں کو ایک آزاد وطن کی قدر و قیمت بتائی جائے، انہیں باور کرایا جائے کہ یہ وطن ہمیں لاکھوں لوگوں کی جان، مال اور ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت و ناموس کی قربانیوں کے بعد ملا ہے. اس عظیم نعمت کی قدر کریں. ہم دنیا کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں. وہاں جا کر کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے وطن پر کوئی آنچ آئے.

وطن سے محبت صرف جذبات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمارے ایک ایک عمل، ہمارے گفتار اور کردار میں بھی نظر آنی چاہیے. اسی وطن کی وجہ سے ہماری شناخت اور عزّت ہے. پوری دنیا میں ہم سبز پاسپورٹ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہے. یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور ان شاءاللہ ہمیشہ قائم و دائم رہےگا.