اجتہاد کا تصور جدید اور مدارس کے طلبہ - عادل لطیف

آج کل جدید تعلیم یافتہ طبقے کی طرف سے یہ بات بڑے طمطراق سے کہی جاتی ہے کہ علماء تنگ نظر ہیں، ان لوگوں کی سوچ میں وسعت نہیں ہے. وجہ اس تنگ نظری کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ علماء نئے پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد نہیں کرتے. یہی سوال جب ہمارے مدارس کے فضلاء سے کیا جاتا ہے کہ آپ لوگوں کو اجتہاد کرنا چاہیے، آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے تو اجتہاد کا جو تصور انھوں نے نورالانوار، حسامی یا توضیح تلویح میں پڑھا ہوتا ہے، اس کے مطابق تو اجتہاد ہو ہی نہیں سکتا، تو یہاں پر آکر مدارس کے فضلاء پریشان ہوتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جدید اذہان میں پیدا ہونے والے اشکالات کا جواب نہیں دے سکتے .ہمیں تو ایسا کچھ مدرسہ میں پڑھایا ہی نہیں گیا اور یوں یہ مدارس کے فضلاء اپنے ہی مادر علمی سے باغی ہو کر اس کی مخالفت کرنے لگ جاتے ہیں.

خوب سمجھ لیں جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا تصور اجتہاد مدارس میں پڑھائے جانے والے تصور اجتہاد سے بالکل مختلف ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مدارس کے فضلا کے دل میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے.

جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا علماء کے بارے میں یہ گمان ہے کہ علماء کے پاس شرعی احکام سے متعلق کچھ صوابدیدی اختیارات ہوتے ہیں اور علماء ان اختیارات کو استعمال نہیں کرتے علماء کو چاہیے کہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کریں اور اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے شریعت میں آسانی پیدا کریں حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ علماء کے پاس سرے سے ایسے اختیارات ہوتے ہی نہیں ہیں.

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اجتہاد کا یہ جدید تصور مسلمانوں میں آیا کیسے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اجتہاد کا یہ جدید تصور مسلمانوں میں عیسائیوں سے آیا ہے اس سلسلہ میں ایک حدیث شریف ہماری رہنمائی کرتی ہے.
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے (یہ حضرت عدی بن حاتم عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے) کہ انھیں سورۃ توبہ آیت نمبر 31 (ترجمہ: انہوں نے اپنے علماء، مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا) میں اشکال پیش آیا تو وہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ کے نبی قرآن کریم میں اللہ تعالی نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ نصرانیوں نے علماء، مشائخ کو خدا بنا لیا تھا حالانکہ ہم نے اپنے علماء کو خدا کا درجہ تو نہیں دیا تھا، پھر اللہ تعالی نے یہ بات کیوں ارشاد فرمائی؟ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کیا تم نے ''احبار و رھبان'' کو حلال وحرام میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا تھا؟ کیا تمہارے یہاں ''احبار ورھبان'' کی یہ حیثیت تسلیم نہیں کی گئی تھی کہ وہ اپنی صوابدید پر حلال وحرام میں رد و بدل کریں. حضرت عدی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ایسے تو تھا. حضور علیہ السلام نے فرمایا قرآن کریم کی آیت کی یہی مراد ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں - آصف محمود

اب سوال یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین بھی اشیاء کو حلال وحرام بتاتے ہیں تو ان کی پیروی کرنے والے بھی اس آیت کا مصداق ٹھہریں گے یا پھر ائمہ کے حلال وحرام کی بنیاد کچھ اور ہے.
اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین اور ''احبار ورھبان'' کے کسی چیز کو حلال وحرام کہنے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ائمہ دلیل اور استنباط کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال وحرام کہتے ہیں اور ان کی بات کو چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے، اسی لیے تو ہم اپنے امام کی تقلید ''ثواب يحتمل الخطاء'' کے اعتقاد سے کرتے ہیں جبکہ ''احبار ورھبان'' اپنے صوابدیدی اختیارات کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال و حرام کہتے ہیں اور ان کی بات کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا.

میں اپنے مدارس میں پڑھنے والے دوستوں سے کہنا چاہوں گا کہ آپ سالہا سال مدارس کے مخصوص ماحول میں رہنے کے بعد جب سوسائٹی میں آتے ہیں تو بہت سے حوالوں سے یہاں کا ماحول آپ کے لیے اور آپ اس ماحول کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، قدم قدم پر اس پریشانی اور الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو آپ دوبارہ اپنے اس مخصوص ماحول میں چلے جائیں اور یہ میدان باطل قوتوں کے لیے چھوڑ دیں، یا پھر اپنے آپ کو بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ ایڈ جسٹ کرلیں کیونکہ آپ نے اسی ماحول میں رہ کر کام کرنا ہے، اپنے ارد گرد کے ماحول سے مانوس ہوئے بغیر آپ کوئی بھی خدمت مؤثر طور پر انجام نہیں دے پائیں گے.

ماحول کی تبدیلیوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ آپ اپنے عقیدہ اور ایمان میں لچک پیدا کریں، یا اپنی دینی روایات اور اقدار سے دست بردار ہو جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقیدہ وایمان اور روایات اور اقدار کے ساتھ مکمل وابستگی اور وفاداری کو پورے احساس برتری کے ساتھ برقرار رکھتے ہوئے صرف ان کے اظہار کے لیے طریقہ کار، لب ولہجہ اور اسلوب وہ اختیار کریں کہ جن لوگوں میں آپ کام کر رہیں ہیں ان کے قلوب اور اذہان تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں.

یہ بھی پڑھیں:   مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں - آصف محمود

مقابلہ بہت سخت ہے اور ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ یہ مقابلہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے اس لیے ہمیں ان تبدیلیوں اور ضروریات کا احساس کرنا ہوگا اور دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تیاری کر کے اپنے طرز عمل، طریق کار اور لب ولہجہ کو اس کی روشنی میں ازسرنو تشکیل دینا ہوگا. اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے جس پر چل کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں.