تحریک پاکستان کا ایک کردار - سعدیہ نعمان

آج آپ کو تحریک پاکستان کے ایک کردار سے ملواتی ہوں.
یہ مری خالہ ہیں جن کی عمر قیام پاکستان کے وقت صرف سات دن تھی، جی سات دن کی یہ ننھی پری ہجرت کے اس قافلے کی سب سے چھوٹی شریک تھی جو اپنا سب کچھ قربان کر کے نکل پڑا تھا، اس پاک سر زمین کی جانب جو ایک کلمہ لا الہ الا اللہ کی سربلند ی کے لیے حاصل کی گئی تھی.

ہجرتوں کی یہ سچی کہانیاں ہم اپنے بچپن میں اپنی نانی بی بی سے سنتے رہے. ان کے جانے کے بعد خالہ اور امی کی زبانی سنتے ہیں. ہر دفعہ یوں لگتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہے. ذہن کے پردے پہ وہ مناظر ابھرنے لگتے ہیں، کچھ آوازیں کانوں سے ٹکراتی ہیں، پھر ان کی گونج بڑھنے لگتی ہے، یہاں تک کہ باقی سب پس منظر میں چلا جاتا ہے، اور صرف ان آوازوں کی گونج باقی رہتی ہے
پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
نیزوں کی نوکوں پہ اچھالے جانے والے بچوں کی چیخیں
کنوؤں میں کودنے والی نوجوان شہزادیوں کی دبی دبی سسکیاں
کٹے پھٹے لاشوں کو لیے والٹن اسٹیشن پہ رکنے والی ریل گاڑیوں کی سیٹیاں
پھر آہستہ آہستہ منظر صاف ہوتا ہے اور
چہروں پہ چمک لیے آزاد سرزمین پہ سجدہ کرتے مردو زن بچے بوڑھے مجھے نمناک آنکھوں سے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں.

آئیے آپ کو اس قافلے میں لیے چلتی ہوں.
7 اگست 1947ء کو محمد بخش کے ہاں یہ کلی کھلی تو نسیم نام رکھا گیا. کچھ ہی دنوں میں ضلع جالندھر کے اس گاؤں کو حملے کے ڈر سے خالی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو رات کی تاریکی میں بس کچھ مختصر سا زاد سفر ساتھ لیے قافلہ روانہ ہو گیا. اگست کے حبس زدہ موسم میں ننھی نسیم ماں کی گود میں تھی، پریشانی اور تفکرات نے ایسا گھیرا تھا کہ ماں کے بدن سے جیسے ساری طاقت ہی نچوڑ لی گئی ہو. سیماں کی خوراک کا کیا ہوگا؟ یہ سوال ماں کے دل میں مسلسل کھٹک رہا تھا، راستہ بڑی خاموشی سے طے ہو رہا تھا، کئی دیہات ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں آ چکے تھے، جہاں مخبری کی صورت میں پورے کے پورے قافلہ کا مارا جانا یقینی تھا. اسی اثنا میں ماں کا خوف حقیقت بن گیا اور ننھی نسیم بلک بلک کے رونے لگی. اس کے منہ میں ڈالنے کے لیے پورے قافلہ کے پاس کچھ نہ تھا، پانی کا گھونٹ تک نہ تھا، آس پاس کے سب کنوؤں میں یا تو زہر ملا دیا گیا تھا یا پھر پانی کی امید سے جھانکتے تو جوان مسلمان لڑکیوں کے لاشے سطح پر تیرتے نظر آتے جنھوں نے عزت بچانے کی خاطر جان قربان کر دی تھی.

ادھر ننھی نسیم پیاس سے چلا رہی تھی، قافلہ میں بےچینی پھیلنے لگی، اگر مخبری ہو گئی تو کیا ہوگا؟
بس پھر کچھ لمحے ہی لگے اور فیصلہ ہوگیا کہ محض سات دن کی بچی کی خاطر پورے قافلہ کو داؤ پہ کیسے لگایا جائے. ادھر ادھر کھیتوں میں کئی نو مولود بچوں کے لاشے سب ہی دیکھ چکے تھے.
زندگی ہوئی تو کوئی رحمدل اٹھا لے گا ورنہ آزادی کی خاطر اس ننھی جان کی قربانی کچھ بڑا سودا نہیں.
ماں نے کیسا بڑا حوصلہ کر کے یہ فیصلہ سنا دیا. سب مطمئن تھے مگر یہاں ہجرت کا ایک مسافر ایسا تھا جس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا. وہ خود بھی کوئی تیری چودہ برس کا نوجوان تھا. یہ میرے ماموں اسلم تھے، اللہ مغفرت کرے جو آنکھوں میں حیرت لیے تڑپ کے سوال کر رہے تھے،
"بی بی یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم سیماں کو بے یارو مددگار چھوڑ کے چلے جائیں، میں اپنی بہن کو مرنے نہیں دوں گا، میں پانی ڈھونڈ کے لاؤں گا"
یہ کہہ کر وہ قافلہ سے نظر بچا کے تیزی سے ایک جانب نکل گئے، اب ماں کا رواں رواں بیٹے کی سلامتی کے لیے سراپا دعا تھا.
ایک ایک پل قیامت کا تھا، پھر اسلم واپس آگیا، ماں سراپا شکر بن گئی، اسلم کے ہاتھ میں اپنا سر کا رومال تھا جو پانی سے بھیگا ہوا تھا. نجانے جان کو خطرے میں ڈال کر وہ کہاں سے رومال پانی میں بھگو کے لایا تھا. اس نے جلدی سے کچھ قطرے اپنی معصوم بہن کے حلق میں ٹپکائے جسے پیتے ہی تھکی ہاری اور نڈھال سیماں نے سکون سے آنکھیں بند کر لیں.
پھر پورا رستہ بھائی اپنی اس بہن کی زندگی بچانے کے لیے قطرہ قطرہ پانی اسے پلاتا رہا اور قافلہ نے چند گھنٹوں بعد ایک محفوظ مقام پہ پڑاؤ ڈال دیا. پھر خطرات سے پر کئی دنوں کا سفر طے کر کے بالآخر یہ قافلہ اپنی منزل پہ پہنچا.

اب پاکستان ستر برس کا ہے اور ہماری خالہ بھی ستر برس مکمل کر چکی ہیں. ان ستر برس میں خوشی غمی بہار و خزاں کے کتنے ہی ذائقے انہوں نے چکھے، زندگی کو کتنے زاویوں سے دیکھا، کبھی انعام پائے کبھی زخم لگے، ایسے ہی جیسے پیارے پاکستان کو لہو لہان کیا گیا، اسے دو لخت کیا گیا، اس کے بچوں پہ بم گرائے گئے، اسے تار تار کرنے کی سازشیں کی گئیں. لیکن خالہ اور پاکستان میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب اذیتیں سب مصائب انھیں ہرا نہیں سکے. یہ اب بھی مسکراتے ہیں، امید کی بات کرتے ہیں. ہمت سے حوصلہ سے چاہت سے ولولہ سے اس چمن کی آبیاری کر رہے ہیں جس میں محبتوں کے گلاب مہکیں گے. ان شاءاللہ

تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان کے سب کرداروں کو میرا اور آپ کا سلام
انہیں یاد رکھنا ہے ساتھیو بھلانا نہیں ہے یہ ہمارے محسن ہیں
اور ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر کاندھے سے کاندھا ملا کر نئے جذبے اور جنوں سے اس پاک سر زمیں کو ہمیشہ قائم اور پائندہ رکھنا ہے.
پاکستان زندہ باد

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.