علم کی بنیادی اہمیت - شاہد شفیع

علم کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اس کے بغیر تربیت مکمل نہیں ہو سکتی۔
تربیت کے بغیر فرد معیاری فرد نہیں بن سکتا۔
معیاری فرد کے بغیر معیاری خاندان وجود میں نہیں آسکتا۔
معیاری خاندان کے بغیر معیاری امت وجود میں نہیں آسکتی۔
معیاری اُمت کے بغیر انسانیت کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور ریاست قائم نہیں ہو سکتی۔
ریاست کی مدد اور وسائل کے بغیر شریعت کے بہت سے احکامات پر عمل نہیں ہو سکتا۔
اس لیے اصل الاصول بنیادی طور پر علم ٹھہرتا ہے۔ اب علم بھی ایک وحدت ہے، دینی علم ہو یا دنیاوی علم۔ دونوں ایک ہی حقیقت کبریٰ کے مختلف مظاہر ہیں، اس لیے جس علم کا تعلق اس حقیقت سے جتنا قریبی ہے، وہ علم اتنا ناگزیر ہے، جتنا دور ہے اتنا ہی ناگزیر نہیں ہے۔

ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ علم کی حیثیت فرض عین کی ہو جاتی ہے اور اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ علم کی حیثیت فرض کفایہ کی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک درجہ ہوتا ہے کہ علم کی کیفیت محض ایک ایسے نکتے کی ہوتی ہے جس کو برصغیر کے بعض علماء نے دستر خوان کی چٹنی سے تشبیہ دی ہے۔ دستر خوان میں چٹنیاں بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ main course کا حصہ نہیں ہوتیں، اور ہو بھی نہیں سکتیں، لیکن چٹنی کے بغیر دستر خوان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح سے علم کا ایک درجہ ہے جسے امام شاطبی نے مُلح العلم کے نام سے یاد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں علم کا صُلب یعنی core ہے، اور ایک وہ ہے کہ جو علم کا core تو نہیں ہے لیکن اس کی حدود پر ہے اور ایک وہ ہے جو مُلح العلم کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے اس کا تعلق علم سے نہیں، وہ علم غیر نافع ہے. یہ استدلال انہوں نے اس حدیث سے کیا جس میں حضورۖ نے فرمایا: اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع، اے اللہ میں علم غیر نافع سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   علم کی اہمیت - محمد ہشام

اس کا مطلب یہ ہوا علم کا ایک درجہ یا ایک سطح ایسی ہو سکتی ہے کہ وہ غیر نافع ہو، اس کو علم کہا جاسکتا ہے، اور وہ حقیقت سے کسی نہ کسی حد تک تعلق بھی رکھتا ہے، لیکن اس کا عمل کے میدان میں یا عملی کوئی فائدہ نہ ہو، لہذا اس کے حصول میں وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (قرآن کریم میں تقریباً سترہ سوالات کا ذکر ہے اور یوں ہی احادیث مبارکہ میں بھی کہ جن کا جواب انتہائی مجمل انداز سے دیا گیا یا دیا ہی نہیں گیا بلکہ جواباً سوال کا رخ ہی بدل دیا گیا، اس وجہ سے کہ عملی زندگی سے براہ راست ان کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا مثلاً۔۔ویسئلونک عن الروح۔۔۔۔۔۔)

گفتگو کو سمیٹتے ہوئے خلاصہ کرتے ہیں کہ
جو علم حصول کا مستحق ہے، وہ ہے جو حقیقت کی صلب core of reality سے تعلق رکھتا ہو، یہی علم فرض عین ہے۔ جو علم اس کے بعد والے دائرے سے تعلق رکھتا ہو، وہ فرض کفایہ ہوگا، اور علم و دانش اور ادب کا جو درجہ اس کے بھی بعد والے دائرے سے تعلق رکھتا ہوگا، وہ 'مُلح العلم' کہلائے گا۔ اور مُلح العلم کا تعین مجتہدین وقت کریں گے