ماٹی ویشنل اسپیکنگ، یا ایک میم سینی وعظ - محمد دین جوہر

سر شام ہم بھی ایک میم سین سے مل کے، اس کے ارشادات سن کے، اور احوالِ گھامڑی میں سرشار گھر لوٹے ہیں۔ پردے کے آگے پیچھے کے حالات سے پیش آگہی تو بالکل ہی کسی کام نہ آئی، اور بڑی غنیمت کہ بس کچھ گفتنی بچا لائے۔ امیدوں کی تجارت کا میم سینی نسخہ بھی عجائبات سے ہے۔ اس میں فلسفہ، تصوف، سلوک، عرفان، فقر، تفسیر، فقہ، وعظ، تاریخ، لوک داستانیں، فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، علمیات، وجودیات، انتظامی سائنس، کلچر، مذہب، تقابلی مذہب، نفسیات، اناٹومی، اخلاقیات، نصیحت، سیاسیات، صحافت، تقدیر، فرجامیات، تدبیر، جُرمیات، طب، خیرات، مطبوعات، سماجی تجزیات اور بین الاقوامی تعلقات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ کچھ اجزائے ترکیبی ایسے بھی تھے جن کا کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ لیکن اس سادہ امتزاج کا پتہ چلتے ہی مجھے تو اس نسخے کے پیچیدہ تناسب کی فکر ہوئی۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ تناسب کو گولہ مارو، امتزاج تو حسین ہے۔ فوراً ہاں میں ہاں ملائی کہ سنا تو ایسے ہی ہے۔ پھر فکر ہوئی کہ ہر نسخے میں ایک مصلح بھی تو ہوتا ہے؟ اور وہ ڈانٹتے ہوئے بولے کہ آخر جناب تو رہے گھامڑ کے گھامڑ، اتنا بڑا مصلح تو ڈَلا ہے، کیا وہ نہیں دِکھتا؟ فرمانے لگے کہ اقبال بطور مصلح ہی تو ہے۔ یاد رہے کہ خودی کا ذکر بھی بطور سند آیا تھا، اور جب اس کی بلندی کا ذکر ہوا تو فقیر سمیت سب اوپر دیکھنے لگے تاکہ عملی تجربہ بھی ہو جائے، اور خودی سمیت دیگر قویٰ بھی محکم رہیں۔ بہرحال مصلح کا پتہ چلتے ہی دل کو بڑی تسلی ہوئی، اور ہم خوش خوش یا خوشی خوشی گھر کو لوٹے۔

کارپوریٹ میلے میں آنے والوں کے ساتھ ہوتا وہی کچھ ہے جو میراسی کے ساتھ ہوا تھا، لیکن اس کی بصیرت کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔

میم سین کی جولانی میں حکمت کی ارزانی ایسی تھی کہ اصل بات ان جانی ہی رہی۔ بات تو تب ہے کہ اصل بات نہ آئے۔ ٹوٹکوں اور اپنی تہذیب کی ایک ساتھ پریڈ یہیں دیکھنے کو ملی۔ نہ جانے اُس تہذیب پہ ایسی کیا بیت گئی ہوگی کہ میم سینی ٹوٹکوں کا دم چھلا بننے کے علاوہ اس کی سمائی اب کہیں نہیں۔ اب تہذیب کے چیتھڑے کارپوریٹ ٹوٹکوں کو مانجھا لگانے میں کام آتے ہیں، تاکہ سینے پہ سلا ایک چیتھڑا ہی پوری تہذیب بن جائے۔ بھلا مذہب کا کیا فائدہ ہوا اگر وہ کارپوریٹ ٹوٹکوں کو مقدس بنانے میں کام نہ آئے؟ اب کامیابی اور منافع ہی سب کچھ ہے اور جو چیز اس کا ایندھن نہ بنے، آدمی اس پر تلملاتا بہت ہے۔ عین جو درد ہے وہی دوا بن کے نہ بکے تو کیا خاک مارکیٹنگ ہوئی؟ میم سین کا کمال یہ ہے وہ امید اور اعتماد کو ایسی گراسری بنا دیتا ہے جو ہر روز اسی کے سٹور سے خریدنی پڑے، اور خریداری بھی ایسی کہ میلہ بن جائے۔ اور میلے میں شریک میراسی کے کھیس کا ذکر کرنا ویسے ہی بدتہذیبی ہے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ کارپوریٹ میلے میں آنے والوں کے ساتھ ہوتا وہی کچھ ہے جو میراسی کے ساتھ ہوا تھا، لیکن اس کی بصیرت کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اب کھیس، میراسی اور میلہ سب کارپوریٹ سایہ عاطفت میں پناہ لے چکے ہیں۔

مارکیٹنگ اور منافع کی ضروریات میں ایک بالکل نئی قسم کی مذہبیت سامنے آ رہی ہے جس کا مقصد دینداری کے جھانسے میں صرف دنیاداری ہے۔

لیکن اگر منافعے کی تقدیس اور مفاد کی علوِ شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے اخلاص، نیک نیتی، نفسیاتی بصیرت اور کاروباری مہارت سے مارکیٹنگ اور وعظ کا حسین امتزاج دریافت کر لیا جائے تو اس سے بڑی سائنسی اور منافع بخش دریافت کوئی نہیں ہو سکتی۔ خاموش، ہاں بالکل خاموش کارپوریٹ ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے اگر اعلیٰ اخلاقی اقدار، مثلاً شکر، ایثار، خیرخواہی، انسانی خدمت، وفاداری، دینداری، علم دوستی، علم پروری، اطاعت گزاری، فرض شناسی وغیرہ وغیرہ کا ذکر نقیب کی طرح ہٹو بچو کرتا رہے، تو دینداری کی دھوم مچ جاتی ہے، ریا کاری کا خاتمہ بالخیر ہو جاتا ہے، قلب صاف ہو جاتا ہے، امید کا گراسری سٹور بہت اچھا چلتا ہے، اور فلاح دارین بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ عام سے عام مولوی بھی جب وعظ کہے تو اس میں کوئی نہ کوئی کام کی بات ضرور ہوتی ہے، جو فائدہ بخش ہوتی ہے، اور سامع کوئی نہ کوئی سبق ضرور حاصل کرتا ہے کیونکہ اس وعظ کا ایک سیاق و سباق ہوتا ہے۔ لیکن یہ میم سینی وعظ ”مذہبیت“ کی ایک بالکل ہی نئی قسم سامنے لا رہا ہے، جس کا مقصد الل ٹپ مذہبی اور اخلاقی باتوں کو کارپوریٹ منافع کے لیے استعمال کرنا ہے۔ مارکیٹنگ اور منافع کی ضروریات میں ایک بالکل نئی قسم کی مذہبیت سامنے آ رہی ہے جس کا مقصد دینداری کے جھانسے میں صرف دنیاداری ہے۔

میم سینی خطاب جدید عہد کی سب سے بڑی دریافت ہے، اتنی بڑی کہ بندہ اس کی شان بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اس میں ”قول سدید“ کا ہر تصور ہی ملیامیٹ ہو گیا ہے۔ اہم یہ ہے کہ اگر یہ کوئی خطاب یا وعظ یا تقریر ہو تو اس میں کچھ اچھے، کچھ کمزور پہلو ضرور ہوں گے۔ لیکن میم سینی خطاب ایک بالکل نئی چیز ہے اور اس میں کوئی عیب قابل تصور بھی نہیں، کیونکہ یہ کان تک خطاب ہوتا ہے، اور کان سے آگے یہ زمان و مکان کی حدیں عبور کر کے ماورا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور کس کی مجال کہ ماوراء میں عیب کی بات کرے؟ میم سینی خطاب کا نہ کوئی آغاز ہے، نہ انجام، نہ سر ہے پیر، نہ کوئی آگا نہ پیچھا، نہ کوئی دایاں نہ کوئی بایاں۔ یہ بس ایسا خطاب ہوتا ہے جس کا مقصد انسانی ذہن کو سلانا ہے تاکہ وہ سوچ اور غور و فکر کی معمولی ترین صلاحیت سے بھی محروم ہو جائے۔ ابھی تک تو یہی پتہ نہیں چلا کہ یہ ماٹی ویشن کیا بلا ہوتی ہے جس کی بنیاد پر سپیکری کا اتنا بڑا کاروبار چل نکلا ہے۔ جیسے:
آپ کو تو پتہ ہے کہ ٹمبکٹو مالی میں ہے۔ جناب ہوشیار باش، کہیں یہ باغ والا مالی نہ سمجھ لینا۔ یہ ایک ملک کا نام ہے جو افریقہ میں ہے (تالیاں)۔ اور افریقہ میں دریائے نیل ہے، اس کے آس پاس نیل گائے نہیں ہوتی، لیکن کپاس ہوتی ہے جو آپ کو معلوم ہے کہ لمبے ریشے والی ہوتی ہے۔ اور یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ جنوبی پنجاب کی کپاس سے اچھی ہوتی ہے۔ پروپیگنڈہ بہت بری چیز ہے (تالیاں)۔ اور امریکہ سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کرتا ہے، لیکن افسوس اسے پتہ نہیں کہ بزرگ فرما گئے ہیں چاہ کَن را چاہ درپیش۔ چاہ کنوئیں کو بھی کہتے ہیں، اور محبت کو بھی۔ پرانے زمانے میں کنوئیں بھی ہوتے تھے اور لوگ محبت بھی کرتے تھے (تالیاں)۔ بلھے شاہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ چلتے کنوئیں کو رہٹ بھی کہتے تھے جسے چلانا خاصا مشکل ہوتا تھا۔ الحمد للہ اب ایک کمپنی نے آبپاشی کی کنواٹم ٹکنالوجی دریافت کر لی ہے، جو ان شاء اللہ اس خطاب کے بعد آپ کو فلم کے ذریعے متعارف کرائی جائے گی اور آپ کے علم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا (تالیاں)۔ اس کنواٹم پمپ سے پانی بہت تیزی سے آتا ہے۔ پانی اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کا شکر واجب ہے (تالیاں)۔ تیزی توانائی سے آتی ہے، اور اس پمپ میں توانائی بہت کم خرچ ہوتی ہے لیکن تیزی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان کو اس وقت توانائی بچانے کی اشد ضرورت ہے اور محب وطن کمپنی نے یہ پمپ قومی ترجیحات کے عین مطابق تیار کیا ہے۔ اس کی تیاری میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ ہارورڈ سے آئی ہے (تالیاں)۔ یہ امریکہ کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی ہے جو کئی ہزار ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کی عمارات بہت اچھی ہیں۔ وہاں جو درخت ہیں وہ بھی کئی سو سال پرانے ہیں کیونکہ یونی ورسٹی بھی کئی سو سال پہلے بنی تھی۔ میں اب تک ہارورڈ میں بھی تین لیکچر دے چکا ہوں۔ امریکہ کی طاقت کا راز ایسی ہی یونی ورسٹیاں ہیں جہاں علم اور ٹیکنالوجی عام ہے، ہمیں بھی علم حاصل کرنا چاہیے تاکہ ہم ترقی کر سکیں (تالیاں)۔ ترقی بہت اچھی چیز ہے، ہمارا مذہب بھی ترقی کا سبق دیتا ہے کہ آپ کا ہر دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہونا چاہیے (تالیاں)۔ اگر آپ خود ترقی کریں گے تو ہی کسی کی مدد کر سکیں گے۔ کامیاب آدمی ہی دوسروں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، اور ناکام آدمی تو خود زمین پر بوجھ ہوتا ہے۔ یورپ میں بچہ بچہ جانتا ہے کہ کامیابی محنت اور منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ابھی تعویذ گنڈوں سے نجات نہیں ملی، ترقی ہم نے کیا خاک کرنی ہے؟ یہ قوم ہی بڑی بدنصیب ہے، لیڈر بہت لوٹ مار کرتے ہیں۔ جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ لیکن ذرا غور تو کیجیے کہ اگر چپیڑ بڑی ہوتی تو ہمارے منہ کا کیا بنتا؟ منہ کی فکر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ خود غرضی بہت بری چیز ہے۔ بلکہ یہ شکر کا مقام ہے کہ چپیڑ اور منہ برابر ہیں اور ہمارے بزرگوں کی کہاوت غلط ثابت نہیں ہوئی (تالیاں)۔ ہمارے پرانے بادشاہ بھی ان پیروں اور لیڈروں کی طرح تھے۔ جب ملکہ برطانیہ کیمبرج اور آکسفورڈ بنا رہی تھی، اس وقت ہمارے بادشاہ عیاشی کر رہے تھے اور تو اور شاہجہاں غریبوں کا خون چوس کر تاج محل بنا رہا تھا (تالیاں)۔ ہمارے حکمران آج بھی عیاشی میں پڑے ہوئے ہیں، وہ دیکھو ناروے کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے (تالیاں)۔ سائیکل کے دو پہیے ہوتے ہیں اور کشتی کے دو چپو۔ ایک دفعہ ایک عالم کشتی میں سوار ہوا اور نوجوان ملاح سے پوچھا کچھ پڑھے لکھے ہو؟ بولا چٹا ان پڑھ ہوں۔ فرمایا کہ آدھی عمر ضائع کر دی۔ جب کشتی بھنور میں پھنسی تو ملاح نے پوچھا کہ اسکالر صاحب تیرنا آتا ہے، بولا نہیں۔ تو ملاح نے کہا تو نے ساری عمر ضائع کر دی اور خود تیر کے نکل گیا (تالیاں)۔ ایسے بے فائدہ علم سے کیا حاصل؟ اگر اس عالم نے کنواٹم سائنس پڑھی ہوتی اور بھنور کے ایٹموں اور مالیکیولوں سے واقف ہوتا تو بچ جاتا کیونکہ ترقی کا راز سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہے (تالیاں)۔

تو یاد رہے کہ میم سینی خطاب تالیوں سمیت علیٰ ہذا القیاس ہوتا ہے، اس میں تمام براعظموں کے مسائل، سارے لوگوں کے نفسیاتی مسائل، کل عوالم و علوم کے تناظر میں بتائے جاتے ہیں۔ حکمت ارزاں اور اصل بات نہاں ہوتی ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کیا بات ہوئی، لیکن کس کو جرأت کہ کہے کوئی بات نہیں ہوئی۔ پردے کے پس و پیش پیسہ دبے پاؤں حرکت میں ہوتا ہے، لوگوں کی پیشینی جیب میں دانائی، بغلی جیب میں اعتماد، اور دماغ میں کامیابی بھری جا رہی ہوتی ہے، اور میم سینی جیب میں پیسے۔ آخر میں شاندار پروگرام پر سب مل کر شکر ادا کرتے ہیں۔ کامیابی کا پتہ نہیں، لیکن ثواب فوری مل جاتا ہے۔