ضیاء الحق کی ایک لائق تعریف بات - محمد زاہد صدیق مغل

کل ضیاء الحق صاحب کی برسی گزری ہے۔ ہم مرحوم کی مغفرت کے لیے دعاگو ہیں، غلطیاں سب انسانوں سے ہوتی ہیں، کچھ اچھی نیت سے اور کچھ بری نیت سے۔ پاکستان میں اسلامی پالیسیوں کے اجراء کے حوالے سے ان کی نیت، حکمت عملی اور اثرات پر چاہے کتنی ہی بحث کر لی جائے، البتہ اس حوالے سے ایک نہایت اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

جن لوگوں نے انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں بچپن و جوانی کی منازل کے ساتھ ساتھ تعلیمی منازل طے کیں، انہوں نے یہاں مرد و زن کے اختلاط کے حوالے سے ایک خاص ماحول کو دیکھا۔ یہ عام انسانی نفسیات ہے کہ لباس اور دوسری جنس کے ساتھ ملاپ وغیرہ کے جن طور طریقوں کو وہ بچپن سے دیکھتا چلا آتا ہے، بہت حد تک انھیں ہی فطری، نارمل اور کمفرٹ ایبل محسوس کرتا ہے۔ اس سے بہت زیادہ یا بہت کم، ہر جہت اس کے لیے اجنبی، غیر فطری و نامانوس سی ہوتی ہے، یا کم از کم برداشت و قابل قبول کی نفسیاتی حد سے باہر۔ چنانچہ جن لوگوں نے اس دور میں شعور و تعلیم کی منازل طے کیں، ان کے لیے ایوب و بھٹو صاحبان کے دور کا ماحول ایک بنچ مارک بن گیا۔ اس کے بعد جب ضیاء الحق مرحوم کا دور آیا تو انہیں یہ "گھٹن زدہ" محسوس ہوا۔ اکثریت کے لیے اس کی بنیادی وجہ دین بیزاری نہیں تھی بلکہ بچپن سے تعمیر شدہ ایک "قابل قبول رویے" کا فطری معلوم ہونے والا احساس تھا۔ جب مشرف دور میں "آزادی" کا غلغلہ عام ہوا تو پچھلے دور والے اب کے بوڑھوں اور ادھیڑ عمر والوں کے لیے یہ گویا "فطرت و اصل" کی طرف واپسی کا سفر تھا (back to the origin) کیونکہ یہی ان کا اصل کمفرٹ زون تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ حضرات جن تعلیمی (یا دیگر) اداروں میں کلیدی پوسٹس پر براجمان ہیں، وہ بالعموم وہاں مشرف دور کی "تنویریت" والے طرز عمل کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ اسے بطور پالیسی فروغ بھی دیتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں جس نسل سے میرا تعلق ہے، اس نے ضیاء الحق دور میں آنکھ کھولی، جب پی ٹی وی پر خبریں پڑھنے والی خاتون بھی سر پر دوپٹہ اوڑھ کر رکھتی تھی، ان کے دور میں اس حوالے سے ادارتی سطح پر بہت سی اصلاحات کی گئیں۔ میری نسل والوں کے لیے یہ "کم سے کم قابل قبول" کا بنچ مارک تھا کیونکہ اس نسل نے اپنے گھر، اسکول اور میڈیا ہر طرف یہی دیکھ رکھا تھا کہ "ایک خاتون دوپٹہ و چادر تو ضرور اوڑھتی ہے"۔ چنانچہ میری جنریشن سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بالعموم مشرف و مابعد "بگاڑ کا دور" ہے جسے اپنی اصل کی طرف پلٹانا ازحد ضروری ہے۔ اس نسل کے جو لوگ بہت زیادہ دیندار نہیں، وہ بھی اس جدید صورت حال سے نالاں ہیں، جبکہ آج کی جدید نسل کے لیے یہ سب کچھ کم سے کم قابل قبول کا بنچ مارک بنتا جا رہا ہے۔

یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ فرد کے شعور کی تعمیر میں جدید ریاست کی پالیسیاں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں، نیز اس کی پہنچ بڑی دور رس ہے۔ دوسری دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آیا کس کی پالیسیوں سے فرد کے شعور کی تعمیر و بنچ مارکنگ اسلام اور خود آئین پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ہوئی؟ میں خود کو اس اعتبار سے بہرحال خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرا تعلق اس جنریشن سے ہے جس کے لیے بنچ مارک "درست" سیٹ کیا گیا تھا۔ اس بنچ مارک کو درست کرنے میں مرحوم سمیت جس جس شخص نے بھی اپنا حصہ ڈالا اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اسے اس عمل کا پورا پورا اجر ملے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com