شدت پسندجماعتوں کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت - مولانا محمد جہان یعقوب

آرمی چیف محترم قمر جاوید باجوہ نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں خبردار کیا ہے کہ داعش کا اصل ہدف تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، لہٰذا اوہ ملک میں موجود تمام انتہاپسند تنظیموں سے بچیں، تاکہ یہ تنظیمیں انھیں داعش کے چنگل میں نہ پھنسا سکیں۔ انھوں نے ہر پاکستانی کو رد الفساد کا سپاہی قرار دیتے ہوئے ملک سے فساد کے قلع قمع میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی بھی ترغیب دی ہے۔

داعش (ISIS) یا'' دولت اسلامیہ''عراق اور شام میں ایک فعال عسکریت پسند گروپ ہے ۔داعش کی قائم کردہ ریاست کے سربراہ کانام پروفیسر ابوبکر البغدادی ہے، جس کے بارے میں عالمی ذرایع ابلاغ سے ملنے والی معلومات کا لبّ لباب یہ ہے کہ: ابراہیم بن عواد ابراہیم السامرائی ،جو ابو بکر البغدادی کے نام سے معروف ہے، خود کو امیر المؤمنین بھی کہلاتا ہے۔ اس کے سخت نظریات اور اسلام کو بطور سخت دین متعارف کرانے کے سبب اسلامی دنیا میں میں اس پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم اور کئی علما ئے کرام بغدادی کو خارجی قرار دے چکے ہیں، تجزیہ نگار اسے موساد کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں، ایڈورڈ سنوڈن کے انکشاف کے مطابق بغدادی اصل میں اسرائیلی شہری ہے۔

''القاعدہ ''کے اس منحرف گروپ کو عالم اسلام کے علمائے کرام نے روزِ اول سے ہی مغرب واسرائیل کا ایجنٹ، اسلام کے روشن چہرے پر کلنک کا ٹیکا اور اسلام کے فلسفہ ٔرواداری کے خلاف عالمی سازش کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس گروپ کی کارروائیوں کی کبھی تائید کی ہے اور نہ ہی اس کے نظریات کی حمایت، بلکہ اس کے اقدامات کو سراسر اسلام سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسلام کے فلسفۂ جہاد کے خلاف ہونے کی وجہ سے یک سر و یک قلم مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے عالم اسلام کے تمام دینی رہنما یک زبان ہیں اور کسی کا کوئی اختلاف نہیں، اگر کسی قدآور علمی شخصیت نے اپنی ذاتی تحقیق یا کسی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر سادہ لوحی کی بنا پر داعش کی کسی بھی پیرائے میں تحسین و تائید کی بھی ہے، تو علمائے کرام نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ مقام ِاطمینان ہے کہ داعش کے ایک فتنہ ہونے پر پاکستان کے تمام مسالک و مکاتب فکر کے علماو زعما بھی متحد و متفق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل - گل رحمان ہمدرد

افواج پاکستان اس ملک کی بقا کی ضامن ہیں۔ فوج نے جنرل راحیل شریف کے دور میں ملک میں قیام امن ، مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خلاف جس تندہی سے سول ادار وں کا تعاون کیا ہے، اس کی وجہ سے اہل وطن فوج ہی کو اب اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔ یہ فوج ہی تھی جس کی وجہ سے برسہا برس بعد پہلی مرتبہ جنرل راحیل شریف کے دور میں بلوچستان اور فاٹا میں جشن آزادی منایا گیا، قومی پرچم لہرائے گئے اور ملک سے اپنی محبت وعقیدت اور وابستگی کا اظہار کرنے کی وہاں کے مکینوں کو جرات ہوئی تھی، یہی فوج تھی جس کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے فساد کا قلع قمع ہوا، موت کے سوداگروں سے عوام کی جان چھوٹی، بھتا اور پرچی مافیا جس نے تاجروں اور سفید پوشوں کا جینا دوبھر کر رکھا تھا، کاخاتمہ ہوا۔ اب بھی اہل وطن ملک میں فساد کے خاتمے اور امن کی بحالی کو فوج ہی کا کا رنامہ سمجھتے ہیں اور امید بھری نگاہوں سے فوج ہی کی طرف دیکھتے ہیں، ورنہ سیاست دانوں سے اب عوام کو کوئی حسن ظن نہیں رہا۔ یہ تو وہ ٹولہ ہے جس کو ملکی مفاد بھی اسی وقت یاد آتا ہے جب اپنے مفادات خطرے میں پڑتے دکھائی دیتے ہیں، ووٹ کے تقدس کی بات بھی اسی وقت کی جاتی ہے جب اپنا مینڈیٹ ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے، احتساب کی بات بھی اسی وقت کی جاتی ہے جب احتساب کا رخ صرف سیاسی مخالفین کی طرف موڑا جاچکا ہو، ورنہ یہی احتسابی ادارے دشمن نظر آتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے برعکس جنرل راحیل شریف اور اب ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے پیش رو جرنیلوں سے اس حوالے سے منفرد ہیں، کہ ان کی نظریں اقتدار پر نہیں ہیں، وہ اداروں کے معاملات میں مداخلت کے بھی روادار نہیں اور ذاتیات کی بنیاد پر ملک کا پہیہ جام بھی نہیں کرنا چاہتے. یہی وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے ان کی وقعت میں آئے روزاضافہ ہورہا ہے۔ قیام امن کے حوالے سے ان کے سنہری کارناموں میں یہ بھی ہے کہ انھوں نے ملک کی ایک ایسی جماعت کو سیاسی پلیٹ فارم پر آنے پر تیار کرلیا ہے، جو اپنی رفاہی،فلاحی و تعلیمی خدمات کے باوجود کبھی کشمیر کے ریگزاروں میں برسر پیکار نظرآتی تھی اور کبھی افغانستان کے مرغزاروں میں، وہ ملی مسلم لیگ کا نام اختیار کر کے سیاسی میدان کو اپنی جدوجہد کا محور بنائے گی، اس کا عسکریت پسندانہ پس منظر دیکھتے ہوئے بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کل ملا کر بات یہ ہے - خرم اقبال اعوان

جنرل باجوہ نے نوجوانوں کو انتہا پسند نظریات رکھنے والی عسکریت و شدت پسند تنظیموں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ان کی یہ تلقین بجا ہے۔ ہم یہاں ان کی توجہ ایک اور امر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں سے تو سختی سے نمٹا جائے لیکن جن جماعتوں پر ماضی میں شدت پسندی کا الزام لگتا رہا ہے اور اب وہ سیاسی و انتخابی عمل کا حصہ بننا چاہتی ہیں، انھیں اس کا موقع دیا جائے. ان جماعتوں کی عوامی مقبولیت سے بخوبی واقف ہیں، جماعۃ الدعوۃ کی طرح ان کے تحفظات کا ازالہ کریں، ان کو بھی قومی دھارے میں آنے کا پابند کریں، اس کے لیے مواقع فراہم کریں، ان کے ووٹ کے حق کو تسلیم کروائیں۔ بعض جماعتوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ قومی دھارے کاحصہ بنناچاہتی ہیں، لیکن بڑی سیاسی جماعتیں انھیں اپنی راہ کا روڑا سمجھتے ہوئے مختلف ہتھکنڈوں سے ان کا راستہ روکتی ہیں. حال ہی میں بازیاب ہونے والے مولانا معاویہ اعظم کی جبری گمشدگی کو بھی سیاسی مخاصمت سے جوڑا جا رہا ہے، کہ اپنی شکست محسوس کرتے ہوئے '' ن'' لیگی امیدوار نے انھیں غائب کرادیا تھا. ایک اہلسنت والجماعت کے سربراہ کا مقدمہ اب بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ زیادہ ووٹ ہونے کے باوجود انھیں اسمبلی میں نہیں جانے دیا گیا. ایسی شکایات کا ازالہ کیے بغیر یہ جماعتیں ووٹ کا راستہ اور سیاسی جدوجہد کا میدان بھلا کس طرح اختیار کرسکتی ہیں؟ لہٰذا ان کی شکایات کا ازالہ کیا جانا ضروری ہے، بایں ہمہ جوجماعتیں اس کے لیے آمادہ نہ ہوں، ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ یہ قوم اب مزید زخم سہنے کی متحمل نہیں۔ شایداس طرح ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی جو آگ دو عشروں سے لگی ہوئی ہے، وہ بھی سرد ہو جائے اور امن و آشتی اور پیار و محبت کے پھول کھل اٹھیں!

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں