نئے دور کا کوہکن - رانا اورنگزیب رنگا

شیریں فرہاد ہمارے ادب کی ایک لوک کہانی ہے۔ اس میں عشق پیار محبت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ شیریں کی فرمائش پر کوہکن تیشہ پکڑے پہاڑ پر جا پہنچا (گیا تھا یا نہیں واللہ مجھے علم نہیں۔ مجھے تو یہ عالمی درجے کی گپ لگتی ہے) بہرحال کہنے والے شدومد سے کہتے ہیں کہ گیا تھا۔

اس نے پہاڑ کاٹنا شروع کیا اور نہر بنا کے محل تک لے آیا۔ یار لوگ تو دودھ کی نہر کہتے ہیں۔ چلیں اگر پانی بھی لے آیا ہو تو بھی ہمارے واسا والوں سے بہتر ہی تھا کہ اکیلا ہی نہر بنا لایا۔ یہاں تو اتنا بڑا محکمہ جدید مشینری استعمال کر کے بھی پانی نہیں پہنچا سکا۔

کوہکن کا ایک احسان اردو پر بھی ہے کہ نئے الفاظ اس کی وجہ سے اردو کو ملے اور جوئے شیٍر لانے جیسا محاورہ بھی مل گیا۔ مجھے نہ فرہاد کے عشق پر اعتراض ہے نہ شیریں کی بیوفائی پر حیرت! کیونکہ میں روز ہزاروں کوہکن دیکھتا ہوں، ان کو ملتا ہوں، جب وہ تیشہ اٹھائے صبح صبح کسی پہاڑ کی تلاش میں جاتے ہیں تو ان کے چہروں پر امید ہوتی ہے اور چال میں اک جوش۔ یہ میری قوم کے کوہکن ہیں، ان کو روز اک نئی جوئے شیر لانا ہوتی ہے۔ جس دن یہ بغیر پہاڑ کھودے واپس آئیں تو ان کے چہروں سے لے کر چال تک میں ایسی تکھاوٹ ہوتی ہے جس کا عشر عشیر بھی فرہاد کے حصے میں نہ آیا ہوگا۔

شیریں کی بے وفائی پر تیشے سے خودکشی کرنے والے کوہکن کی آنکھوں میں وہ دکھ اور سوال نہیں تھے جو میں نے پہاڑ کی بیوفائی پر اپنے کوہکن کی آنکھ میں دیکھے۔

یہ دیہاڑی دار مزدور بھی تو عاشق ہیں بلکہ عاشق صادق ہیں۔ جو مزدوری نہ ملنے پر یعنی معشوق کی بے وفائی اور بے اعتنائی پر اگلی صبح پھر اسی کے دروازے کی زنجیر ہلا رہے ہوتے ہیں۔