بلڈی سویلینز کی معصومیت - صفی الدین اعوان

کیا اب قوم کو پانامہ بینچ کو تلاش کرنے کے لیے کوئی تلاش گمشدہ کا اشتہار اخبار میں دینا ہوگا کیونکہ بلڈی سویلین کے چیف کی برطرفی کے بعد پانامہ بینچ ایکسرے میں بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ قوم کو یہی خدشہ تھا کہ بلڈی سویلین کے احتساب کے بعد یہ بینچ تاریخ کے کسی کوڑے دان کا حصہ نہ بن جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاستدان کا اس طرح احتساب ہوا کہ سوائے میاں نواز شریف کی اہلیہ کے ان کا پورا خاندان احتساب کی زد میں آیا۔ مجھ سمیت کسی بھی پاکستانی کو احتساب کے اس عمل پر کوئی اعتراض نہیں تھا، نہ ہے اور نہ ہی ہونا چاہیے کسی بھی پاکستانی کو احتساب کے عمل پر اعتراض کیوں ہوگا ؟ لیکن صرف اور صرف ایک ہی اعتراض تھا کہ جس طرح وزیراعظم کا پورا خاندان عدالتی کٹہرے میں موجود ہے کیا باقی سیاستدان بھی اسی طرح عدالتی شکنجے میں آئیں گے؟ عدالتی کارروائی کے دوران ہی جسٹس صاحبان نے میاں صاحب کے لیے 'گاڈ فادر' کا لفظ استعمال کیا جس سے بینچ کی جانب سے نفرت کا پیغام واضح تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک سماعت کے دوران میاں صاحب کے لیے اٹلی کی 'سسلی مافیا' کا استعارہ بھی استعمال کیا گیا۔ یاد رہے کہ اٹلی کی بدنام زمانہ سسلی مافیا کے اراکین ججز عدالتی عملے اور عدالتی گواہان کو نشانہ بناتے تھے۔ 'بلڈی سویلینز' کو صرف ایک ہی خدشہ تھا کہ احتساب کا عمل صرف ایک ہی خاندان تک محدود نہ کردیا جائے اور بظاہر اب یہی محسوس ہورہا ہے کیونکہ میاں صاحب کو تو پانچ رکنی بینچ نے گھر روانہ کردیا ہے اور بظاہر خود بھی تاریخ کے کسی کوڑے دان کا حصہ بن چکا ہے۔

دوسری طرف سادہ لوح 'بلڈی سویلینز' اس محب وطن بینچ اور قومی ہیروز پر مشتمل جے آئی ٹی کو تلاش کرتے پھررہے ہیں کہ پانامہ بینچ باقی کے بدعنوان افراد کا "کڑا"احتساب کب شروع کررہا ہے؟ وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا اس کڑے احتساب کی زد میں عدلیہ خود بھی آئے گی؟ گستاخی معاف! جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟ چند 'بلڈی سویلینز' کو تو یہ بھی غلط فہمی ہے کہ یہ پانامہ بینچ فوجی جرنیلوں کا بھی احتساب کرے گا اور ابتداء پرویز مشرف کے اربوں ڈالرز کے سوئس اکاؤنٹ سے ہوگی جو مشرف کے بقول سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے ان کا اکاؤنٹ کھلواکر اس میں اربوں ڈالرز جمع کروائے تھے، جس کے بعد شاہ عبداللہ اس دنیا سے ہی رخصت ہوگئے

پانامہ بینچ کو پانامہ لیکس کے باقی افراد کے احتساب پر آمادہ کرنے کے لیے تو اب باقاعدہ مہم بھی شروع ہوچکی ہے اس کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔ سب سے دلچسپ طریقہ مجھے یہی لگا کہ پانامہ بینچ کے اراکین کی بازیابی کے لیے ان کو تلاش کرنے کے لیے تلاش گمشدہ کے اشتہارات شائع کررہے ہیں ۔

پاکستان مسلم لیگ ن لائرزفورم آئینی اور قانونی راستے استعمال کرکے عدلیہ کی توجہ اس جانب مسلسل دلارہی ہے کہ احتساب کا عمل اب مکمل کیا جائے۔ ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں ہے بلکہ پاکستان کی عوام اچھے طریقے سے یہ حقیقت جانتی تھی کہ بینچ کا اصل مقصد کیا ہے؟ جیسے ہی میاں صاحب کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے گا، یہ پورے کا پورا بینچ ہی لاپتہ ہوجائے گا اور احتساب کا عمل کبھی بھی مکمل نہیں ہوگا اور یہی ہوا ہے ۔

بظاہر یہی محسو س ہورہا ہے کہ یار لوگ پریشان ہیں کہ یہ بینچ اچانک کہاں غائب ہوگیا؟ اس بینچ نے تو تاریخی فیصلے دینے تھے، کرپشن کرنے والوں کا پیٹ پھاڑ کر اس میں سے اربوں روپیہ برآمد کرنا تھا۔ ایک شبہ تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ پاکستان کے 'گاڈ فادرز' اور 'سسلی مافیا' نے ان پر کوئی پریشر ڈال دیا ہے کہ اب مزید لوگوں کا احتساب نہیں کرنا، ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ یہ افواہ پہلے ہی پھیلی ہوئی تھی اور جاوید ہاشمی نے بھی اس سازش کا ذکر باربار کیا تھا کہ یہ سارا جال صرف میاں صاحب کی حکومت گرانے کے لیے بچھایا گیا ہے اور اب حکومت گرانے کے بعد یہ قابل احترام جسٹس پانامہ سے لاتعلق ہوچکے ہیں، جس سے اس سازش کو تقویت مل رہی ہے۔ آزاد عدلیہ اس ملک کی ضرورت ہے چند ماہ قبل یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ انصاف کیا جائے گا، چاہے آسمان گرجائے یا زمین پھٹ جائے۔ اسی دوران 'گاڈ فادر' کا بھی خوب ذکر خیر ہوتا رہا اور سسلی مافیا کا بھی باربار ذکر ہوا۔

'بلڈی سویلینز' کے منتخب وزیراعظم کو برطرف کیا جاچکا ہے، جس کے بعد یہ امکان تھا پاکستان میں کرپشن کے خلاف بھرپور مہم شروع کی جائے گی۔ ہمیں ان جسٹس صاحبان پر مکمل بھروسہ تھا اور ہے۔ ہمیں پورا پورا یقین ہے کہ یہ مشرف سمیت اربوں ڈالر ز کے اثاثے بنانے والے سابق فوجی جرنیلوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی بھروسہ ہے کہ جسٹس صاحبان اپنے پیٹی بھائیوں کے اثاثوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں جن میں بغیر کسی وجہ کے دن دوگنی رات چوگنی اضافہ ہورہا ہے۔ بہت سے لوگ تو اب ارسلان افتخار چوہدری کے کیس کو دوبارہ ری اوپن کرنے کی بھی باتیں کررہے ہیں۔ 'بلڈی سویلین' اب یہ سوچتے ہیں کہ اب ہر اس لٹیرے کا احتساب ہوگا، جس نے ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک کیا۔ ہم پانامہ بینچ کو پاکستان کا اثاثہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہی وہ بینچ ہے جس نے پاکستانیوں کا لوٹا ہوا مال واپس پاکستان لیکر آنا ہے ۔

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس بھی سامنے آگئے تھے کہ اگر کوئی شخص پبلک آفس استعمال کررہا ہے اور اس دوران اس کے بیٹے بیوی یا بھائی کے اثاثے بڑھ رہے ہیں تو یہ بھی ایک کرپشن ہے۔ ہمارا روز کا یہ مشاہدہ ہے کہ جن جسٹس صاحبان کے صاحبزادگان، داماد اور رشتے دار وغیرہ بحیثیت وکیل اپنی زیراثر عدالتوں میں" چھوڑ" رکھا ہے ان کو سارا زمانہ "ڈن" مافیا کے نام سے جانتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہمارے قابل احترام واجب الاحترام پانامہ جسٹس صاحبان ان کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ باپ اگر پبلک آفس استعمال کررہا ہے تو عدالتوں میں "چھوڑا" ہوا وکیل بیٹا اس دوران پبلک آفس کا ناجائز استعمال کرکے اربوں کھربوں روپے کے اثاثے "ڈن " پروگرام کے تحت بنالیتا ہے۔ یہ کرپشن کی وہ لعنت ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے جسٹس صاحبان کے عدالتوں پر "چھوڑے" ہوئے صاحبزادگان پر مشتمل "ڈن " فافیا عدلیہ کی جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے ۔

اصولی طورپر وزیراعظم کی برطرفی کے بعد تو پانامہ بینچ فارغ ہوچکا ہے اور احتساب کا عمل بھی روک دیا گیا ہے یا رکوا دیا گیا ہے۔ پانامہ بینچ نے جو اتنی بڑی بڑی ڈینگیں ماری تھیں جو اپنے قد سے بڑی بڑی باتیں کی تھیں، اب ان کا کیا ہوگا؟ لیکن یہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ اب وہ کون 'گاڈ فادر' ہے جو ججز کو پانامہ لیکس کے باقی ماندہ 399 کیسز کی سماعت سے روک رہا ہے آپ نے تو باری باری سب کو بلانا تھا۔

جب یوسف رضاگیلانی کو ہٹا دیا گیا تھا تو سوئس اکاؤنٹس میں موجود اربوں روپیہ کہاں اور کس کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگیا تھا، قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے اور وہ اربوں روپیہ کس ذریعہ سے کمایا گیا تھا قوم یہ بھی جاننا چاہتی ہے ۔ کوئی 'گاڈ فادر' موجود ہے، ضرور موجود ہے جو جسٹس عظمت سعید اور "کھوسہ" ساب کو ان 'گاڈفادروں' کے خلاف کارروائی سے روک رہا ہے۔ قوم اب یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ 'سسلی مافیا' کون ہے جو نوازشریف کی برطرفی کے بعد کرپشن کے باقی ماندہ کیسز کھولنے سے ججز کو روک رہی ہے ۔

میری ناقص معلومات کے مطابق ان تمام جسٹس صاحبان کو 'سسلی مافیا' اور 'گاڈفادروں' نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ وہ انصاف کرتے ہوئے نہ آسمان گراسکیں اور نہ ہی زمین کو پھاڑ سکیں ۔

یہ قوم اب سراج الحق صاحب کا گریبان بھی پکڑ کر پوچھنا چاہتی ہے (کیونکہ شیخ رشید اور عمران خان کا توگریبان ہے ہی نہیں )کہ 17 دن سے زیادہ گزرگئے، وزیراعظم کے خلاف کارروائی کے بعد سے یہ پانامہ بینچ مسلسل غائب ہے۔ کہیں پاکستان کے اصلی گاڈ فادرز اور سسلی مافیا نے پانچ ججز کو قید تو نہیں رکھا ؟ عدلیہ کو قید تو نہیں کر رکھا ہے تاکہ وہ کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز نہ کرسکیں تاکہ وہ کسی مشرف سے اس کے اثاثوں کے متعلق نہ پوچھ لیں تاکہ وہ کسی سے یہ نہ پوچھ لیں کہ جب ایان علی کے کیسز زیرسماعت تھے تو عدالت نے اس کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر فرارکروانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیوں کیا؟ قوم سراج صاحب سے بھی یہ پوچھنا چاہتی ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کیوں روک دی گئی ہے ان بڑی بڑی باتوں اور ڈینگوں کا کیا ہوگا جو سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر ماری گئی تھیں ؟

پوری قوم کو ملکر عدلیہ کی آزادی، ججز اور ان کے اہل خانہ کی رہائی کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے پڑھے لکھے کارکنان سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ 'سسلی مافیا' اور 'گاڈ فادر' کے آہنی شکنجے سے ججز کی رہائی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ملک گیر مہم شروع کریں تاکہ جن لوگوں کو آپ نے قومی ہیرو قرار دیا ہے، وہ بلڈی سویلین کے بعد دوسرے طبقات کے احتساب کا عمل بھی مکمل کرسکیں

چاہے آسمان گرجائے یا زمین پھٹ جائے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */