جشن آزادی اور این جی اوز کے فکری پیادے - آصف محمود

کیا آپ نے غور فرمایا، چودہ اگست کو جب آپ سراپا جشن تھے، یاروں کے فکری ماتم سرائے سے آہوں کا شور اٹھ رہا تھا؟ میں غالب نہیں کہ گرہ لگاؤں کہ یہ ملامتی اہلِ دانش ’مثلِ خارِ خشک، مردودِ گلستاں ہیں‘ لیکن میں آپ سے یہ عرض ضرور کروں گا کہ اس دانش کے آزار سے ہشیار رہیے، جس کے فکری شجرہ نسب میں کہیں نہ کہیں ایک عدد این جی او موجود ہوتی ہے۔

آپ عید منا رہے ہوں یہ انگاروں پر لوٹنے لگتے ہیں، آپ قربانی کا جانور تلاش کرنے نکلیں تو انھیں غریبوں کا درد ستانے لگ جاتا ہے، آپ عمرے یا حج کو جانے لگیں تو یہ فضول خرچی کے خلاف لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں، آپ یومِ دفاع منانے لگیں تو یہ فقرے اچھالنا شروع کر دیتے ہیں کہ کامریڈ جنگ تو آپ ہارگئے تھے اب یہ جشن فتح کیسا، آپ یوم فضائیہ پر اپنے شاہینوں کو فضائے بسیط میں اڑتے دیکھ کر خوش ہوں تو یہ طنز اچھالتے ہیں کہ یہ جہاز کیا صرف کرتب کے لیے رکھے ہوئے ہیں یا دشمن کے لیے، آپ یوم پاکستان منا رہے ہوں تو یہ قراردادِ پاکستان پر سوال اٹھا دیتے ہیں، ہم محبت سے جنہیں قائد اعظمؒ کہتے ہیں یہ کندھے اچکا کر انہیں جناح صاحب کہتے ہیں، ہم اقبال ؒ سے پیار کرتے ہیں تو ان کے صحرا چہرے پر ببول اگ آتے ہیں اور زبان کانٹا بن جاتی ہے، اور آپ جشنِ آزادی کی خوشیوں میں بھیگ رہے ہوں تو منہ بسور کر آہ و زاری شروع کر دیتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو غالب یاد آ جائیں گے: ’’یہ مثل خارِ خشک، مردودِ گلستاں ہیں‘‘۔

خبث باطن کے یہ مظاہر اب ہمارے لیے اجنبی نہیں رہے، البتہ اس جشنِ آزادی پر ماتم سرائے سے اٹھنے والی آہوں میں این جی اوز کی فکری اولادِ نرینہ کے ساتھ ساتھ نومولود جمہوری انقلاب شریف کے پیادے بھی شاملِ تھے جن کی نفسیاتی گرہ اتنی شدید ہو چکی ہے کہ کسی سڑک پر فوجی ٹرک چلتا دیکھ لیں تو ان کی جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ جب قوم ملی نغمے گنگنا رہی تھی ’ہم ایک ہیں‘ تو ملامتی دانش کے یہ لشکری بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ماتم سرائے میں چیخ رہے تھے: ’ہم مثلِ خارِ خشک، مردودِ گلستاں ہیں‘۔ ان کی فکری واردات کی شانِ نزول پر بھی بات کریں گے لیکن پہلے ان کی واردات کا جائزہ لیتے ہیں۔

ماتم سرائے کے اعتراضات کو دیکھیے۔
پہلا اعتراض: آرمی چیف کی جانب سے واہگہ پر لہرائے گئے پرچم پر کیا گیا۔ شعلے کی مانند دہکتا یہ اعتراض بتا رہا تھا کہ پرچم صرف واہگہ ہی میں نہیں گڑا۔ ماتم سرائے سے چیخیں اٹھیں کہ ہمیں تو امن چاہیے، یہ خطے کو جنون کی راہ پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
دوسرا اعتراض: اگلے روز اسلام آباد اور کراچی میں فضائیہ کے طیاروں نے مظاہرہ کیا تو ماتم سرائے کے درودیوار سے وہ دھواں اٹھا کہ آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں والا معاملہ تھا۔ شور اٹھا، وہی قصابوں کی بارات جیسا، دیکھیے صاحب ہم سویلین کے پاس ایک یہی تو دن رہ گیا تھا منانے کو۔ اب یہ دن بھی چھ ستمبر بنا دیا گیا ہے تو ہم سویلین کہاں جائیں؟

یہ بھی پڑھیں:   نظریے کی کلینیکل موت - ثمینہ رشید

یہ دونوں اعتراضات، علم اور دلیل کی دنیا میں اجنبی ہیں۔ واہگہ بارڈر پر اگر آرمی چیف نے جھنڈا لہرا دیا تو اس سے خطے کے امن کو کیا خطرہ ہے؟ وہ اپنے ہی علاقے میں کھڑے ہو کر ملک سے محبت کے اظہار کے طور پر پرچم لہرا رہے ہیں تو اس پر اتنا برہم ہونے کا کیا جواز ہے؟ کیا آرمی چیف نے باقی سب کو منع کر رکھا تھا کہ وہ کوئی تقریب منعقد نہ کریں۔ حکومت موجود ہے، اس کی تمام وزارتیں موجود ہیں، وزارت اطلاعات بھی کام کر رہی ہے، پی ٹی وی بھی قوم سے بدستور بجلی کے بلوں پر پینتیس روپے کا جگا ٹیکس وصول فرما رہا ہے، ان سب کو کس نے روکا تھا کہ یوم آزادی بھر پور طریقے سے منائیں؟ آئی ایس پی آر نے ایک ترانہ جاری کیا، اس کے جنگی آہنگ پر اعتراض کرنے والے نومولود جمہوری انقلاب شریف کے پیادے اس سوال کے جواب میں گونگے شیطان کیوں بن جاتے ہیں کہ وزارت اطلاعات نے کتنے ملی نغمے جاری کیے؟ ٹی وی چینلز پر روز مزاحیہ گانے چل رہے ہوتے ہیں لیکن کتنوں کو توفیق ہوئی کہ ایک عدد ملی نغمہ ہی تیار کر لیا جاتا۔ اب اگر فوج نے بھر پور طریقے سے جشن آزادی منایا اور باقی ادارے اس طرح نہ منا سکے تو کیا اس سے بھی جمہوریت خطرے میں پڑگئی؟سیوک

جنگی طیاروں کے شو میں بھی یہ یاد رکھیے کہ بار بار یہی کہا جا تا رہا کہ یہ طیارے اب صدر پاکستان کو سلامی دیتے ہوئے گزر رہے ہیں۔گویا فوج اس موقع پر اپنے سویلین صدر کو سلامی دیتی رہی۔ صبح کی تقریب کے روح رواں وزیراعظم تھے کوئی فوجی نہ تھا۔ کسی نے ایوب خان، یحیی خان یا جنرل ضیاء الحق کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی نہیں کی، ہماری افواج نے صرف دو مزاروں پر سلامی دی ایک بابائے قوم حضرت قائد اعظمؒ کا مزار تھا اور دوسرا علامہ اقبال ؒ کا۔ اس سارے عمل میں کیا چیز غلط تھی جس پر رقص ابلیس شروع کر دیا گیا؟

ایک جدید ریاست میں فوج بھی بطور ادارہ موجود ہوتی ہے۔ آمروں سے نفرت کیجیے لیکن ادارے کو خبث باطن کا نشانہ نہ بنائیے۔ برطانیہ جیسے جمہوری ملک میں بھی جب شاہی خاندان کے مرد قومی تقاریب میں آتے ہیں تو فوجی یونیفارم میں آتے ہیں۔ یہ جو شہزادہ چارلس فوجی یونیفارم زیب تن کر کے مختلف تقاریب میں جاتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا کبھی کسی نے اس پر غور کیا؟ شہزادے نے محض چند سال فوج میں ملازمت کی لیکن وہ نیوی اور ائیر فورس کے اعلی عہدوں یعنی رئیر ایڈمرل اور ائیر وائس مارشل کے منصب سے رسمی طور پر ریٹائر کیے گئے۔ شہزادی Anne نے ایک دن فوج میں ملازمت نہیں کی لیکن وہ رئیر ایڈمرل کی یونیفارم زیب تن فرماتی ہیں اور اعزازی رئیر ایڈمرل ہیں۔ بر طانیہ میں انیسویں صدی سے روایت ہے کہ شاہی خاندان کے افراد فوج میں بھلے ایک دن میں نہ رہے ہوں لیکن اہم تقاریب پر فوجی یونیفارم پہن لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں عجب تماشا ہے کہ یہاں فوج جشن آزادی منا لے تو یاروں کے مزاج برہم ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   "مذہب تو موروثی چیز ہے"؛ تو پھر کیا ہوا؟ محمد زاہد صدیق مغل

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ریاست صرف این جی اوز کی فکری اولاد نرینہ پر مشتمل نہیں ہوتی، نہ ہی یہ محض ان خواتین و حضرات کا نام ہے جو سول سوسائٹی تخلص کرتے ہیں اور فارغ اوقات میں لبرلزم سے جی بہلاتے ہیں۔ فوج ہمارا دفاعی حصار ہے۔ وہ اگر یوم آزادی منا رہی ہے تو آپ کی زبانیں کیوں آگ اگلنا شروع کر دیتی ہیں۔

آئیے!
ہم سب مل کر ان حضرات سے پوچھیں کہ یہ چاہتے کیا ہیں؟ اسلام کی بات چل نکلے تو یہ کہتے ہیں دنیا میں امت نام کی کوئی چیز نہیں، اس لیے نیشن سٹیٹ کی بات کرو۔ جب ہم پاکستان اور پاکستانیت کی بات کرتے ہیں تو انہیں اس پر بھی تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہم قائداعظم کا نام لیں یہ بدمزہ ہو جاتے ہیں، ہم اقبال کا ذکر کریں یہ منہ بنا لیتے ہیں، ہم قومی ترانہ پڑھنے لگیں یہ حجتیں تراشنے لگ جاتے ہیں، اور جگن ناتھ آزاد کو لے بیٹھتے ہیں، ہم یوم دفاع منانے لگیں یہ طنز اور مذاق شروع کر دیتے ہیں، ان کے پاس کوئی سنجیدہ بیانیہ نہیں. طنز، دشنام، مذاق، تمسخر، بس یہی ان کی زادِ راہ ہے اور الا ماشاء اللہ، ان سب کے فکری شجرہ نسب میں ایک عدد این جی او موجود ہے۔

یہ نہ مسلمان بن کر سوچ سکتے ہیں نہ پاکستانی بن کر۔ یہ ہر اس شناخت کے درپے ہیں جس کی بنیاد مذہب ہے یا پاکستانیت۔ یہ ہر اس تصور کو پامال کرنے پر تلے ہیں جو ہمارے لیے باعث افتخار ہو سکتا ہے۔ ان سے نہ اسلامی پاکستان برداشت ہو رہا ہے نہ پاکستانی نیشنلزم۔ ہم مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہماری یہ غیر معمولی صلاحیت ہمیشہ ان خواتین وحضرات کی خبث باطن کا موضوع رہی ہے۔ ہماری صدیوں کی اسلامی تاریخ ہو یا ستر سال کی پاکستانی تاریخ، انہوں نے اسے ہمیشہ سینگوں پر ہی لیے رکھا ہے۔ ایک سے زیادہ براعظموں میں پڑھا جانے والا اقبالؒ ان کے نزدیک معمولی سا مقامی شاعر ہے لیکن منٹو کا ذکر آئے تو ان پر یوں وجد طاری ہوتا ہے جیسے مریخ، زہرہ اور مشتری میں بھی منٹو پر ڈاکٹریٹ ہو رہی ہو۔ یہ چی گویرا اور جارج واشنگٹن کی حریت پسندی کے گن گاتے ہیں لیکن علی گیلانی کا نام آ جائے تو یہ گونگے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ یہ اہلِ دانش نہیں، یہ ہم پر مسلط فکری واردات کے پیادے ہیں۔ یہ صرف اس ڈونر کی زبان بولتے ہیں جو ان کے پیٹ کے جہنم میں ڈالر اور پاؤنڈ کا ایندھن پھینکتا ہے۔ یہ ڈونر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، یہ ڈونر کے ذہن سے سوچتے ہیں اور ان میں صرف ایک بات پر اتفاق ہے: ڈونر جو کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے۔

میں غالب نہیں کہ گرہ لگاؤں کہ یہ ملامتی اہلِ دانش ’’مثلِ خارِ خشک ، مردودِ گلستاں ہیں‘‘ لیکن میں آپ سے یہ عرض ضرور کروں گا کہ اس دانش کے آزار سے ہشیار رہیے جس کے فکری شجرہ نسب میں کہیں نہ کہیں ایک عدد این جی اور موجود ہوتی ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں