حب الوطنی کا نیا معیار اور 70 سالہ خواب (1) - نوفل ربانی

حب الوطنی کے نئے معیارات پر پورا اترتے ہوئے مولوی صاحب اپنے بچوں کو 14 اگست والی شرٹیں پہنائے "بیج " سینوں پر سجائے سر پر سبز ہلالی پرچم بنی ٹوپیاں رکھے رات بارہ بجے والی آتش بازی دکھانے لے جارہے تھے۔ بچے بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے. آتشبازی سے متعلق سوالات کے انبار تھے کیونکہ وہ پہلی مرتبہ آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے جارہے تھے یہ نیا معیار بھی وہ دیکھیں گے ۔

اس سے پہلے تک جب حب الوطنی کا معیار یہ نہیں تھا تو وہ بچے آدھی رات کو ابا، اماں، دادا، دادی سب کو نوافل شکرانہ ادا کرتے دیکھتے تھے۔
اور کئی تو رات گئے سحری کرتے اور صبح کا روزہ رکھتے بچے پوچھتے کہ رمضان تو ہے نہیں آپ روزہ کیوں رکھ رہے ہیں؟
تو مولوی صاحب کی آنکھوں میں عقیدت کے موتی جھلملانے لگتے اور ایک خاص تشکر کی چمک امڈ آتی اور آنسووں کو پلکوں کی منڈیر پر روک کر گلو گیر آواز میں بڑے فخر سے بتاتے کہ
بیٹا !!!
پاکستان رمضان کی 27 ویں شب کو بنا تھا تو یہ اس یاد کی تازگی میں روزہ رکھتے ہیں، کوئی شریعت کا حکم نہیں ہے۔

ایسے ہی اس رات دادو کو بہت روتے دیکھتے تھے، وہ شکر ہے شکر ہے بھی کہتیں اور روتی بھی جاتیں، بچے امی سے پوچھتے دادو کیوں روتی ہیں؟ اور داداجی کیوں غمگین ہوتے ہیں؟ تو مولوی صاحب ان کو بتاتے کہ تقسیم کے وقت جب وہ ( دادا جی وغیرہ )چھوٹے تھے تو ایک نعرہ لگتا تھا
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ
اس نعرے پر دادا جی کے جوان بھائی انگریزوں نے مار دیے تھے اور پھر جب لوگوں کی قربانیوں، جو سید احمد شہید بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید نے شاہ عبدالعزیز کے فتوی کی روشنی میں جو جدوجہد شروع کی، وہ 1857ء، شاملی، ریشمی رومال، سے ہوتی ہوئی تحریک پاکستان میں بدلی، کا جو سلسلہ تھا، وہ بالآخر 14اگست 1947 کو پورا ہونے جا رہا تھا. دنیا کے نقشے پر برصغیر کا بڑا حصہ دو ریاستوں میں تقسیم ہوا اور اس کی سرحدات پاکستان و ہندوستان کے نام سے ابھر آئی تھیں۔

ایلیٹ کلاس جب زمام اقتدار کی باگوں کی "کھینچاتانی" میں مصروف تھی تو اس وقت گلی محلے میں مسلم لیگ کے قائدین کے سکھائے ہوئے نعرے لاالہ الااللہ، لے کر رہیں گے پاکستان بن کر رہے گا پاکستان، کے پرزور نعرے لگتے تھے. اسی شور میں کہیں کہیں ایک اندوہ ناک چیخ نکلتی، شور اور بڑھ جاتا اور چیخ کی بازگشت ہی ختم ہوجاتی، صبح کو چیخیں نکلی لاشیں اس نعرے پر قربان ہوئی اٹھائی جاتیں، لیکن کسی نے نعرہ نہیں چھوڑا، سب کی آنکھوں مین ایک ہی خواب تھا
اسلام کا قلعہ پاکستان !!!
نفرت کی لکیر کے اس پار ان کو اسلام جیتاجاگتا نظر آتا، وہ دور دیکھو عدالت میں جج فیصلہ کرتے ہوئے انگریزوں کا پینل کوڈ نہیں قرآن کھول رہا ہے، وہ سرحد پار کے اس طرف کا بازار سود سے پاک ہے، ادھر کی معاشرت شریعت کے تابع ہے۔
یہ خواب دکھائے جاتے تو لوگ جوانوں کی لاشوں کا بوجھ بھول جاتے، وہ رات والی دل دوز چیخیں کانوں سے جھٹک دیتے، وہ معصوم کلیوں کا مسلا جانا بھلا دیتے، اور پھر نعرہ لگتا لاالہ الااللہ، تو یہ سادہ لوح من کے سچے قول کے پکے اسلام کے بیٹے پھر تازہ دم ہوکر اور زور سے نعرہ لگاتے۔
پاکستان کا مطلب کیا
لاالہ اللہ لاالہ الااللہ

عجیب وارفتگی تھی، اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے لیے دیوانگی کی آخری حدیں تھیں، "قیس مجنوں" بھی کھڑا شرما رہا تھا کہ یہ تو اسلام کے عشق میں مجھ سے بھی بڑھ گئے، ان کی لیلی تو اسلامی ملک ہے، اس کی معطر لہراتی زلفوں کو چھونے کےلیے ہر دیوانہ لپک رہا تھا. ہمیشہ کی طرح سرمایہ دار وڈیرہ انگریزی فوجیوں کی نگرانی میں مکمل آرام کے ساتھ شفٹ ہوگئے، پیچھے بچے وہ نعرہ باز، ان کا اب قربانیوں کی نئی داستان کا دبستان کھل گیا اور تاریخ ہکی بکی کھڑی ساکت و جامد دیکھتی رہ گئی کہ میرے صفحات پر یہ انسانیت سوز مظالم بھی ہوں گے اور اسلام کی محبت میں یہ وارفتہ لوگ ان پر قربان بھی ہوں گے۔

قافلے اٹھے، اٹھنا ہی ایک قیامت تھی کہ جہاں صدیوں کی یادیں ہیں، وہاں سے اٹھنا کون سا سہل ہے لیکن اسلامی مملکت کی محبت میں ان آشفتہ سروں نے ابھی بہت سارے قرضے اتارنا تھے جو کبھی واجب بھی نہ تھے، اول اٹھے اور پھر چلے اور پھر چلتے چلتے جو حشر بپا ہوئے، سہاگ اجڑے، بچے یتیم ہوئے، عزتیں پامال ہوئیں، ناموس چھلنی ہوئے، پگڑیاں اچھلیں، دوپٹے کھنچے، بند قبائیں کھلیں، بوڑھوں کی توقیر رسوا ہوئی، بھائیوں کے مان ٹوٹے، بہنیں خودکشیاں کرگئیں، بیویاں خاوندوں سے نگاہ کے ملانے قابل نہیں رہیں، اور کنووں میں چھلانگیں لگا دیں. وہ وہ کچھ ہوا جس کا صرف تصور ہی انسانی جبین کو عرق ندامت سے غرق کردے.

ایسے میں دادا اور دادو کے بھائی بہن اور چھوٹے بچے ہمارے تایا وغیرہ بھی اسی چلنے ہی میں کام آئے، لیکن ان کے قدم کوئی نہیں روک سکا، نہ تو وہاں کے چند مولویوں کی پکاریں، نہ ہی ان کے ترلے واسطے، نہ ہی زمین کی محبت، یہ تو بس اسلام کے دیوانے تھے، یہاں کراچی اور پھر لاہور آکر ہی دم لیا اور اس کے بعد مسلسل ان کے خواب کو تعبیر نہیں مل رہی۔
مولوی صاحب ایک تسلسل سے بولے جا رہے تھے کہ کب ان کی آنکھوں سے جھرنے پھوٹنے لگے،
بچوں کی طرف دیکھا تو وہ سب بھی دکھی ہوکر اپنے آستینوں سے آنکھیں پونچھ رہے تھے
خیر آنسو پونچھتے ہوئے مولون بولی جائیں، بچوں کو لے جائیں، ان کا دل خراب مت کریں

مولوی صاحب نے سبز "پرنا" (لمبا رومال) جو انہوں نے حب الوطنی کے نئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خریدا تھا، کچھ اس طرح گلے میں لٹکایا کہ وہ دونوں شانوں سے سامنے کی طرف لٹک گیا، بچوں کو لیا، موٹرسائیکل جس پر پرچم لگا رکھے تھے، کو کک ماری۔
مولوی صاحب کی آرزوؤں کی طرح موٹرسائیکل کی حالت بھی خستہ تھی اور ہر پرزے سے نکلنے والی آواز اسی طرح رندھی ہوئی تھی جیسے کہ پرانے بابوں کی اسلام کی بہاریں نہ دیکھ سکنے پر سسکیوں اور کھانسی کے بیچ سے نکلتی ہیں ۔
باہر نکلے تو ہر طرف سائلنسر نکلے موٹرسائیکلیں تھیں جن کے شور میں کان پڑی صدا بھی سنائی نہ دیتی، کاروں میں نوجوان لڑکے بالک موج مستی کی کیفیت میں تھے، بڑی گاڑیوں پر ڈیک نصب تھے جس میں ہر طرز کے میوزک میں ملی نغمے بجائے جارہے تھے، دھنیں ہندوستانی تھیں لیکن بول پاکستانی تھے، پاپ میوزک، کلاسیکل موسیقی، لوک غنائی، ہر قسم کے ہنگم بے ہنگم میوزک میں خدائے عزوجل کے شکرانے کے بھجن تھے۔
سمجھ نہیں آرہی تھی کہ خدا تعالی کا شکر ادا کیا جارہا تھا یا چیلنج کیا جارہا تھا کہ تیرا نبی باجے توڑنے آیا تھا اور ہم تیرا شکر بھی باجوں کے ساتھ ادا کریں گے۔

مرکزی شاہراہ پر پہنچے تو ایک الگ ہی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا نظارہ تھا.
وہ بچیاں جو آیات حجاب کی مخاطب تھیں، جو تبرج جاہلیت کے لیے منع کی گئیں تھیں، وہ خوب خوب حجاب کی ایسی تیسی کرکے اور تبرج جاہلیہ کا بھر پور مظاہرہ کر کے پوری میک اپ کٹ کے ساتھ جشن آزادی منانے میں"نوجوانان قوم" کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم شامل تھیں۔ بلکہ عجیب منظر تھا کہ یک قدم یک آواز یک زبان تھیں، دھنوں پر معماران قوم کے رقص کردہ وجود تھرکتے تھے اور تکبیر کے نعرے پر دختران ملت سمیت ابنائے امت کے بازو لہراتے تو بغلوں کی سفیدی نظر پڑتی، جوش اور ولولے سے ایڑھیوں کے بل اٹھتے تو لحمیات کے گولے تھرتھرا جاتے اور ولولوں کو مزید گرما جاتے۔
عجیب معیار طے کر رکھا تھا نوجوان نسل نے!
ایک مشہور باغ میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے جو نین و نقش ابھارے، وہ اسلام میں کہیں بھی نہیں ہیں، مخلوط اجتماع اور اس پر قائدین کا خوشی سے باچھیں کھل جانا۔
اس سے پہلے کہ سیاسی جانبداری کا الزام لگے!
مولوی صاحب بچوں کو سڑکوں پر گھماتے رہے اور رات بارہ بجے جب سر سجدے میں ہونا چاہیے تھا تو ایک دم آسمان آتش بازی سے چمک اٹھا، علماء سے سنا تھا کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور ہم اس رات اللہ کی طرف کلمات طیب کا صعود کرنے کے بجائے شیطانی مادہ تخلیق آسمان کی طرف اچھالتے رہے.

تھوڑی دیر یہ منظر دیکھنے کے بعد مولوی صاحب نے بچوں سے کہا،
گھر چلتے ہیں، صبح کو آزادی کی ریلی بھی نکلنی ہے اور اس کی قیادت کرنی ہے اور مدرسے میں بھی کل دن کو ایک آزادی کی تقریب منانی ہے، اس کی تیاری بھی کرنی ہے اور کچھ پرانے طریقے کی حب الوطنی بھی منانی ہے اور وہ ہے تہجد کے نوافل جس میں خطے کی آزادی سے زیادہ مشکل اور کٹھن چیز فکری آزادی کی بھیک مانگنی ہے، ہم جسمانی طور پر آزاد تو ہوئے لیکن ذہنی فکری حوالے سے ابھی بھی غلام ہیں.

مولوی صاحب نے گھر پہنچتے ہی بچوں کو سلادیا اور خود گہری سوچ میں ڈوب گئے کہ وہ کیسے ان نئے معیارات کے لیے مجبور کیے گئے ہیں کہ وہ بھی اپنے بچوں کو یہ ساری خرافات دکھلائیں؟
اس سوال کے جواب کی تلاش میں ڈوب گئے اور یہ سوال ان کو مضطرب کرنا شروع ہوگیا کہ یہ ساری خرافات انہوں نے خود سے بچوں کو دکھلائی ہیں، اب کیسے ان کو بتائیں کہ آپ کے اور میرے نبی نے ان تمام کاموں سے منع کیا ہے۔
ایک طرف حب الوطنی کے نئے معیارات کے تقاضے تھے اور دوسری طرف دین اسلام کے تقاضے، حب الوطنی کے جدید تقاضے پورے نہیں کرتے تو غدار وطن کہلاتے ہیں، "کانگریسی" ہونے کا طعنہ ملتا ہے.
لاکھ سمجھائیں کہ بھائی میں نے نوافل ادا کیے تھے شکرانے کے، لیکن کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں، سب رپورٹ کریں گے کہ مولوی کو وطن کی آزادی کی کوئی خوشی نہیں،
عجیب حالت تھی نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن
(جاری ہے)