دیوتا - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ہر انسان بت پرست ہے، بس اسے جانتا نہیں. ہر ایک نے اپنا اپنا دیوتا بنا رکھا ہے. اکثر لوگ تو اپنے اپنے دیوتا سے ہی ناواقف ہوتے ہیں، جس کی وہ پرستش کر رہے ہوتے ہیں. اور ایسا تب تک رہتا ہے جب تک وہ دیوتا کی طرف سے شدید مایوس نہ ہوں یا اس سے ٹھوکر نہ کھائیں.

یہ دیوتا محبت، محبوب، انا، وقار، نام و نمود، جاہ و حشم، استاد، والدین، بہن بھائی، دوست، اولاد، ترقی، کاروبار، گھر بار، ملک، عہدہ، فوج، آئیڈیل، باہر کا ملک، شادی، فٹنس و فگر، مذہب، فرقہ، یا اپنی ذات کچھ بھی ہو سکتا ہے.

اگر تو یہ دیوتا ذات اور ذاتی خواہش نہ ہو تو سمجھ میں جلد آ جاتا ہے، اور سدھرنے کا موقع بھی جلد مل جاتا ہے، خصوصا اگر اس دیوتا کے ٹوٹے بت کا فورا ہی کوئی متبادل نہ مل جائے. اور کچھ وقت اپنے زخمی پندار کے زخم چاٹنے کا موقع مل جائے تو یہ ٹوٹ پھوٹ ایک نعمت سے کم نہیں.

لیکن اگر یہ دیوتا اپنی ذات میں پوشیدہ ہو مثلا انا، خاندانی وقار، یکطرفہ محبت، کسی جیسا بننے کی چاہ یا کسی کی نگاہ میں سمانے کا شوق، تو عموما اس بت کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے. ایسی صورت میں عموما یہ دیوتا اس لاعلم انسان کے ساتھ ہی اس کی قبر میں جا لیٹتا ہے.

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے دیوتا سے ٹھوکر کھا کر اپنے رب کی جانب لوٹ آتے ہیں.

اور جو اپنے اندر کے دیوتا کی پرستش کرتے کرتے خود ایک دیوتا میں ڈھل جائے، اسے درست راستہ، اللہ کا کرم، کسی کی بے لوث دعا کے نتیجے میں دے دے تو دے دے، ورنہ تو مٹی کا یہ مادھو اپنی پرستش کی گود سے اپنی گور تک کا سفر ''بانجھ اصول پرستی'' اور ''میں درست ہوں'' کے زعم میں طے کر لیتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مریدکی واپسی- محمد عبداللہ بھٹی

اللہ کریم ہم سب کو اپنے نفس کے تراشے دیوی دیوتاؤں کو پہچاننے اور بت شکن و خدا پرست بننے کی توفیق عطا فرمائے.
اھدنا الصراط المستقیم. آمین

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.