تبدیلی آئین میں یا فکر و عمل میں؟ وقاص احمد

آج کل نواز شریف صاحب سویلین بالا دستی کی بات زور و شور سے کر رہے ہیں اور اس کے لیے آئین میں تبدیلی، سسٹم میں سے وائرس کی موجودگی کا انکشاف اور سویلین بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔ ایک مناسب بات بھی اگر متنازع حالات میں کسی متنازع شخص کی جانب سے کی جائے تو وہ غیر مناسب لگتی ہے اور سنجیدہ حلقوں میں اسے اہمیت ملنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ امریکا میں صدارتی امیدوار کے منتخب ہونے کے بعد اس کے حلف اٹھانے میں کئی مہینے کا وقفہ ہوتا ہے لیکن امریکی صدر، قانونی طور پر صدر ہونے کے باوجود اخلاقی طور پر اس عرصے میں کسی نئی پالیسی، کسی بڑی تبدیلی کا اعلان نہیں کرتا لیکن چونکہ پاکستان میں نیک و اعلیٰ جمہوری روایتوں بلکہ کہنا چاہیے کہ اخلاقی قدروں کا فقدان رہا ہے اور سیاسی اور مسلکی مفادات و عصبتیں ہمیشہ سے ہی خطرناک حدوں کو چھو تی رہی ہیں اور عقل و خرد پر پردے ڈالتی رہی ہیں اس لیے نواز شریف صا حب کی حالیہ دنوں کی "انقلابی " تقاریر، جو نااہلی کی وجہ سے نہ وزیر اعظم رہے ہیں اور نہ پارٹی صدر، زیرِ بحث بھی ہیں اور زیرِ نقد و نظر بھی۔

آئین میں تبدیلی کے حوالے سے کچھ گوشوں پر روشنی ڈالوں گا۔ پہلے یہ کہ گزشتہ دنوں ایک معروف ٹی وی اینکر نے جنرل حمید گل کا ایک انٹر ویو اپنے پروگرام میں نشر کیا جس میں حمید گل مرحوم فرما رہے تھے کہ یہ سسٹم (آئین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) اور یہ ملک ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ حمید گل صاحب نے اس بات پر کافی مایوسی کا اظہار کیا کہ آئین سے 58 ٹو بی کو نکال دیا گیا ہے اور سابق چیف جسٹس افتخار چودھری صاحب نے فل کورٹ اجلاس میں فیصلہ کردیا ہے کہ اب کبھی بھی نظریہ ضرورت کو استعمال کرکے ملٹری مداخلت اور آئین و قانون کو پامالی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ حمید گل مرحوم کی نظر میں یہ ملک ایسے نہیں چل سکے گا جس میں حکومت پر چیکس اور کنٹرولز نہ ہوں۔ سیاستدانوں پر ان کا عدم اعتماد واضح تھا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جنرل صاحب ایک بہت بڑے دانشور تھے اور مشکل چیزوں کو بڑے سلیقے سے سمجھانے کی قدرت رکھتے تھے لیکن اس معاملے میں پاکستان کے خاص حالات کی وجہ سے ان کے دلائل میں ابہام تھا۔ حمید گل مرحوم کے فوجی پس منظر کو جانتے ہوئے ان کی رائے کو غیر جانبدار بھی نہیں کہا جاسکتا۔

حمید گل کی طرح کچھ اور دانشور بھی صدارتی طرزِ حکومت کو پسند کرتے ہیں اور دینی رجحان رکھنے والے اسکالرز جیسے خود حمید گل صاحب یہ کہتے ہیں کہ صدارتی نظام (امریکن سسٹم) خلافت کے نظام سے قریب ہے اور یہ بات ایک حد تک ٹھیک بھی لگتی ہے۔ صدارتی نظام میں صدر کے عوام سے براہِ راست منتخب ہونے کی وجہ سے صدر کو صدر رہنے کے لیے پارلیمنٹ کی حمایت کی ضررو ت نہیں ہوتی اس لیے اس کو تمام جماعتوں کو خوش کرنے، ان کو وزارتیں اور فنڈ ز دے کر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی حاجت بھی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ وہ با لکل اپنی مر ضی و صوابدید پر اپنی ٹیم بناتا ہے اور بھی اچھی چیزیں گنوائی جاسکتی ہیں۔ لیکن صدارتی نظام پاکستان کے معروضی حالات میں فائدہ مند ثابت ہوگا یا نہیں اس پر کافی سوچ بچار کی ضرورت ہے اور اس بڑی تبدیلی سے پہلے کئی بڑی تبدیلیوں کا حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو مجھے ہوتی نظر نہیں آتی۔

ایک ایسا ملک جہاں تشویشناک حد تک لسانی عصبیتیں پائی جاتی ہیں اور ایک صوبے کی آبادی باقی تمام صوبوں کی آبادی سے زیادہ ہو تو اس نظام میں شدید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہم مزید انتظامی صوبے بنانے سے ڈرتے ہیں حتّٰی کہ کسی صوبے کی ایک لسانی اکثریت صرف زبان، روایت اور تاریخ کی بنیاد پر کسی دوسری بڑی لسانی اقلیت کے لیے صوبے کی تقسیم کے خلا ف ہے۔ پنجاب میں سرائیکی صوبہ، خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبہ اور سندھ میں اردو بولنے والوں کے لیے صوبہ اس کی مثال ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نئے صوبے لسانی طور پر نہیں بننے چاہئیں، تو پھر کس نے رو کا ہے انتظامی لحاظ سے صوبے بنانے سے؟ صوبوں کے نام میں بےشک آپ شمالی اور جنوبی لاحقے لگا لیں لیکن پارلیمنٹ میں بیٹھی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ عمل کتنا ممکن ہے ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔

صدر کے انتخاب کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح سینیٹ میں ہر صوبے کی برابر نشستیں ہیں اسی طرح چاروں صوبوں کو برابر الیکٹرول پوائنٹس(Points) دے دیے جائیں۔ فاٹا، گلگت کو بھی کوئی متفقہ پوانٹس (صوبوں سے قدرے کم) دے دیں۔ اس طریقہ کار سے صدارتی امیدوار کو ایک سے زیادہ صوبوں میں جیت کی ضرورت ہوگی جو فیڈریشن کی مضبوطی کا باعث ہوگی۔ مگر جو بھی منصوبہ اور تجاویز ہوں، اس وقت، موجودہ زمینی صورتحال میں صدارتی نظام میری رائے میں فیڈریشن کی کمزوری کا باعث بنے گا۔

آئین میں تبدیلیوں کے حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ اگر امریکی آئین کی بات کی جائے تو وہاں انتظامیہ (Executive)، مقننّہ (Legislator) اور عدلیہ (Judiciary) گوکہ اپنے اپنے گوشوں میں آزاد ہیں لیکن چند اہم معاملات میں ایک ستون پر Checks یا پابندیاں نافذ کر کے دوسرے ستون کو اختیارات دیے جاتےہیں۔ مثال دیتا ہوں:
1.صدر کا مؤاخذہ امریکی سینیٹ کرتا ہے، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کارروائی کا سربراہ ہوتا ہے۔
2.سپریم کورٹ کے ججز کے تعیناتی کا مشورہ صدر دیتا ہے لیکن اس کو قبول یا مسترد سینیٹ کی ایک بڑی کمیٹی کرتی ہے۔
3.کانگریس کے بل کو ایک اکیلا صدر ویٹو کر سکتا ہے۔
4.صدر کے حکم کو یا کانگریس کے کسی بل کو خلافِ آئین ہونے پر سپریم کورٹ مسترد کر سکتی ہے۔
5. سپریم کورٹ کے ججز کا مؤاخذہ سینیٹ کرتا ہے۔ وغیرہ

امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جمہوری تسلسل میں قوانین کی مسلسل مشق کے بعد جمہوریت ایک مستحکم روایت بن گئی ہے اور اوپر بیان کی گئی چیزیں ان کے لیے فِٹ بیٹھ گئی ہیں۔ پاکستان کے حالات میں اگر آپ نکتہ نمبر 2 اور 5 کو دیکھیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان کو ذہن میں لائیں خاص طور پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائدین کے معاملات کو دیکھیں تو کوئی بھی سلیم الفطرت، ذی شعور پاکستان سے محبت کرنے والا شخص ججز کی تعیناتی اور برطرفی کا معاملہ ان کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہے گا۔ سادہ مگر اندوہناک سی مثال آپ ہمارے سیاستدانوں کی طرف سے نیب، ایس ای سی پی کے چیئرمین، چیف الیکشن کمیشنر کی تعیناتی اور اپھر ان کی کارکردگی دیکھ کر کرسکتے ہیں۔ تو پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر کے حالات کیا ہیں؟ رہنماؤں کی ساکھ کیا ہے؟ عوام کی خدمت کے مقابلے میں اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کی خدمت میں کیا چیز مقدم ہے؟ اب کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان میں ججز کے معاملات عدلیہ کو ہی سونپنا اِن حالات میں بہتر ہے۔ ججز کو بر طرف کرنے کا اختیار صدرِ پاکستان کے ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے جو سپریم کور ٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔

بھارت میں البتہ معاملہ دوسرا ہے۔ بھارت میں ججز کی برطرفی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان الگ الگ ارکان کی دو تہائی اکثریت سے ہوتی ہے اور معاملہ صرف اخلاقی، مالی کرپشن، یا بیماری کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ اس میں بھی انڈین پارلیمنٹ کا سپیکر جو کمیٹی بناتا ہے اس میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس یا سینئر جج ایک ہائی کورٹ کا جج اور ایک سینئر قانون دان ہوتا ہے۔ انڈیا میں آج تک کسی جج کو مواخذے کے بعد بر طرف نہیں کیا گیا ہے۔ صرف ایک مرتبہ مواخذےکی کارروائی شروع ہوئی لیکن لوک سبھا میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

نواز شریف صاحب پر واپس آتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ سویلین بالادستی اور ووٹ کی حرمت کا مطلب اگر یہ ہے کہ حکومت کا احتساب ریاست کا کوئی اور ستون نہ کر سکے تو اس ملک میں بادشاہت رائج کرکے نواز شریف صاحب کو تا حیات بادشاہ بنا دینا چاہیے۔ کیونکہ چاہے نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی، عدلیہ تو عدلیہ، انتظامیہ کے احتسابی و تحقیقاتی ادارے بھی اتنے آزاد ہو تے ہیں کہ حکومت پر ہاتھ ڈال سکیں۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان بلکہ عام آدمی اور حکومت کے مابین تنازعات کا قانونی فیصلہ بھی عدالتوں کوکرنا ہوتا ہے۔ آئین ہوتا ہی اس لیے ہے کہ ر یاست کے تمام ادارے جس میں حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ خاص طور پر شامل ہیں نہ صرف قانون کے مطابق کام کریں بلکہ چیکس اینڈ بیلینس (Checks and Balances) کو بھی نافذ کریں۔

بنیادی انسانی حقوق جس میں عدل و انصاف کی فراہمی شامل ہے پارلیمنٹ بھی ختم نہیں کر سکتی کیونکہ ہر وہ بنیادی یا آفاقی اخلاقی اصول جو انسان اپنے لیے دوسرے میں دیکھنا پسند کرتا ہے جیسے اس کے ساتھ ہر عدل کیا جائے وہ صرف جنگل کے ہی قانون میں ختم ہو سکتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

تیسری بات آئین کے آرٹیکل 184 (3) کی ہے جس میں سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ عوامی اہمیت کے مسائل اور معاملات پر جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو ان پر ازخود نوٹس لے اور مقدمہ چلائے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے اس آرٹیکل کا بھرپور آزادانہ استعمال کرتے ہوئے جب چینی کی قیمت، کراچی میں ٹریفک جام کے مسائل پر ازخود نوٹس لیا تو یہ اہم اختیار متنازع بن گیا اور حکومت کے کام میں بے جا مداخلت نظر آیا۔ لیکن کراچی رینجر ز کی طرف سے سرفراز شاہ قتل کیس یا حج کرپشن کیس میں اس ا ٓرٹیکل کے فوائد بھی سامنے آئے۔ وہ ممالک جہاں عوامی خدمت کے ادارے اور محکمے سست، بے پروا اور کرپٹ ہوں۔ حکومتی اداروں کے ذریعے عوام کی شنوائی نہ ہو رہی ہو وہاں سپریم کورٹ کا یہ اختیار ضروری لگتا ہے لیکن اس اختیار کا استعمال صرف غیر معمولی واقعات پر اس وقت کرنا چاہیے جب حکومتی ادارے اُس پر لا پرواہی، کاہلی یا مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہوں۔ وقت اور اداروں کی ترقی ونشونما کے ساتھ ہی 184 (3) کو صحیح وقت و موقع پر استعمال کرنے کی روایت پروان چڑھ سکتی ہے۔

فی الحال نواز شریف کو یہ اعتراض ہے کہ ا س اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پانامہ اسکینڈل کا کیس سنا گیا اور ان کو نا اہل کرنے کی سازش کی گئی۔ حالانکہ کیس اگر سماعت کے لیے اٹھا بھی لیا گیا تھا تو چھ مہینے اس پر جرح اور صفائی پیش کرنے کا پورا موقع بھی دیا گیا۔ وا ضح رہے 2014ء میں نواز شریف کی حکومت ہی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ عدالت 184 (3) کو استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا دھرنا ختم کرائے۔

چوتھی اور اہم ترین بحث جو آئین میں تبدیلی سے متعلق کی جارہی ہے وہ آرٹیکل 62 اور 63سے متعلق ہے اس پر ابہام اور غلط فہمیوں کی حقیقت پر میں پہلے ہی ایک کالم ’ آرٹیکل 62 اور 63، ایک معمّہ یا؟ دلیل ڈاٹ پی کے پر لکھ چکا ہوں۔

مختصراً پاکستان کا موجودہ نظام جیسا بھی ہے اس میں میرے خیال میں فی الحال وہ ادارے جن کا با اختیار اور شفاف ہونا خاص طور پر ضروری ہے، جن کا کام دوسرے اداروں پر نظر بھی رکھنا ہے ان کو قانونی طور پر آزاد، شفّاف و با اختیار کیا جائے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس دیکھا جائے تو واقعتاً اب قانونی طور پر با اختیا ر ہیں لیکن وہاں مسئلہ خاص طور پر نچلی سطح پر انصاف کے سہل، جلد اور سستے انداز میں فراہمی کا ہے۔ آزادی، شفّافیت اور خود مختاری کا بنیادی مسئلہ نیب، ایف آئی اے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی محتسب جیسے اداروں کا ہے۔ اگر موجودہ حکومت اور دِلوں کے وزیرِ اعظم اس دشوار گھاٹی کو عبور کرسکیں تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ انقلابی تبدیلی ہے۔ لیکن جیسا کہ نظر آرہا ہے کہ اس وقت تمام انقلاب و بالادستی کے بھاشن کسی اور مقصد کے لیے ہیں اورسویلین بالادستی کے نام پر دھوکا ہی ہیں۔

سورۃ الحج کی آیت 74 نہایت غور طلب ہے ـ "کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا"۔ اور آگے آ یت نمبر 78 میں انسان کیسے اللہ کی طرف سے دی گئی زندگی اور نعمتوں کی قدر کرسکتا ہے، کرنے کا کام بتایا گیا کہ " اور اللہ کے لیے جہاد کرو جیسا کہ اس کے لیے جہاد کرنے کا حق ہے"۔

لوگوں کو گھروں سے نکالنا ہی ہے اور ان سے جدوجہد وقربانی کا وعدہ لینا ہی ہے، ان کے دلوں کو جذباتی اور پر اثر انداز میں چھوکر متحرک کرنا ہی ہے تو کاش ہمارے سارے رہنما سودی نظام اور کرپشن کی بیخ کنی کا کوئی پروگرام دیں۔ جاگیرداری کے ظلم کے خلاف لوگوں کو کھڑا کریں۔ تعصبِ جاہلیہ کی لعنت اور شناعت واضح کریں۔ سماجی، معاشی عدل و انصاف کے لیے کھڑے ہونے پر آمادہ کریں۔ تب یہ کہا جاسکتا ہے قوم کی اصل رہنمائی کا کچھ حق ادا ہوا۔ لوگوں کی محنتوں، کاوشوں کا صحیح رخ متعین ہوا۔ ذات و مفادات سے بلند ہوکر اللہ اور اسکی مخلوق کے لیے جدوجہد ہوئی۔ اگر یہ نہیں ہے تو سب تماشہ ہے۔ اللہ کے عطا کردہ وقت، قوت، صلاحیت، استعداد اور وسائل کی ناقدری، بے توقیری اور زیاں ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com