ہم سیکھتے کب ہیں؟ - احمد حسین بدر

میں اگر یہ کہوں کہ انسان ایک عمر تک اپنی فطرت پر قائم رہتا ہے لیکن پھر وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنی فطرت سے ہٹنا شروع ہوجاتا ہے تو کیا آپ مجھ سے اتفاق کریں گے؟ممکن ہے کہ آپ کرلیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ارشاد فرمائیں کہ بھیا! ہمارے پلّے تو یہ بات نہیں پڑی۔ بھلا انسان بھی اپنی فطرت ہٹ سکتا ہے؟ یہ تو اپنی عادت نہیں چھوڑ پاتا، فطرت کیسے چھوڑ دے گا؟ لیکن حقیقت کیا ہے یہ جاننا موجودہ مسائل کے حل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تو آئیے ایک بچے کی کہانی پڑھتے ہیں:

یہ کہانی ہے دو بھائیوں کی، جن کی عمریں بالترتیب ایک اور ڈیڑھ سال تھیں۔ ایک دن بڑے بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو کاٹ لیا۔ تکلیف کے مارے چھوٹا بھائی بلبلا اٹھا۔ بڑا بھائی ڈر کے مارے جائے واردات سے فرار ہوگیا۔ گھر والے چھوٹے بچے کے پاس پہنچے اور اس کی جملہ تلاشی لی، جس سے ان پر عیاں ہوا کہ چھوٹے بچہ کے انگوٹھے پر دانتوں کے نشان ہیں۔ گھر کے دیگر افراد سے اس نوعیت کی عقلمندی محال تھی، چنانچہ بات بڑے بھائی پر آگئی۔ سب گھر والے مشترکہ طور پر اس کے پاس پہنچے، جو ڈرا سہما دوسرے کمرے میں بیٹھا تھا۔ ماں نےپوچھا "بیٹا! منّے کو آپ نے مارا ہے؟" بچہ نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔ یہ ڈھٹائی دیکھ کر ماں کو شدید غصہ آگیا اور اس نے بچے کو خوب ڈانٹا۔ چند دنوں بعد وہی واردات دوبارہ پیش آئی۔ اس بار تو گھر والوں کو یقین تھا کہ مجرم بڑا بھائی ہے۔ چنانچہ وہ رسمی کاروائی کے لیے اس کے پاس پہنچے اور اسے غصیلی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ لیکن اس بار بچہ نے اقرار نہیں کیا بلکہ ڈھٹائی سے جواب دیا کہ "میں نے نہیں کاٹا"۔ میرا سوال یہ نہیں کہ بچہ نے پہلے جس ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا وہ درست تھی یا بعد والا رویّہ؟ سوال یہ ہے کہ بچہ کے رویے میں اس فرق کی بنیاد کیسے پڑی؟

کیا یہ سبق اسے کسی کتاب سے ملا تھا؟

کیا اس نے کسی کو ایسا کرتے دیکھا تھا؟

کیا اسے کسی مربّی نے کہا تھا کہ آئندہ جب گھر والے پوچھیں تو انکار کرنا ہے؟

اگر میری طرح آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی فیکٹر بھی ایسا نہیں تھا جو بچہ کی اس سمت رہنمائی کر رہا توپھر سوال اُٹھتا ہے کہ بچے نے ایسا کیوں کیا؟

صرف اس لیے کہ اس نے ماقبل کے مشاہدہ سے "سیکھا" تھا کہ جب بھی جرم کا اقرار کرو گے تو ڈانٹ پڑے گی اور مار پڑنے کی دھمکیاں بھی ملیں گی۔ سیکھنا وہ واحد فیکٹر ہے جو بچہ کو اس دنیا میں جینے کے قابل بناتا ہے۔ اگر بچہ میں سیکھنے کی اس قدر سریع قوت نہ ہو تو وہ معاشرہ میں بہت پیچھے رہ جائے گا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت اپنی اس فطرت کو بھلا بیٹھی ہے چنانچہ ہم بار بار وہی غلطیاں دہرائی جن کا کفارہ ہمیں ادا کرنا پڑرہا ہے۔ ہم بار بار اُس سوراخ میں انگلی گھسا رہے ہیں جس میں سانپ پھن پھیلائے بیٹھا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ ہمارا دشمن منہ سے رام رام جبکہ ہاتھ میں چھرا لیے ہمارے گلے لگنے کو بڑھ رہا ہے لیکن ہم کبوتر کی طرح آنکھیں موندے بیٹھے ہیں۔ ہمیں قرآن بتا چکا ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دشمن ہیں لیکن ہم دنیا گلوبل ولیج کی کہانی پر آنکھیں بند کیے اعتبار کر رہے ہیں۔ آپس کی لڑائیوں میں ہم اتنے جرات والے ہیں کہ مسلکی، علاقائی اور لسانی اختلافات کی بنیاد پر سلام تک کرنا گوارا نہیں لیکن ازلی دشمن سے خفیہ امدادیں طلب کرتے ہیں۔

اسی طرح زندگی کے دیگر گوشوں پر نظر دوڑائیے، کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم مشکل اوقات میں حل تلاش کرنے کے بجائے مایوسی کی روش اختیار کرلیتے ہیں؟ باوجود اس کے ہمیں پتہ ہے اس مشکل کاکارخانہ قدرت میں حل موجود ہے۔ کیا ہم اُس مشکل کو اپنی ناکامی کے لیے ڈھال نہیں بنا لیتے؟ کیا ہم اپنی مشکلات کا محلہ بھر میں ڈھنڈورا نہیں پیٹنا شروع کردیتے؟ باوجود اس کے کہ ہمیں معلوم ہے مصائب کا حل انہیں فیس کرنے سے ملتا ہے۔ ڈھنڈورا پیٹنے اور واویلا مچانے سے ہمیشہ مشکلات بڑھتی ہیں لیکن ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ پریشانی اُس وقت تک پریشانی ہے جب تک میں اسے پریشانی سمجھتا ہوں۔ جیسے ہی میں نے مشکل کو ایک چیلنج اور ایڈوینچر کے طور پر دیکھا تو وہ ایک کھیل بن گئی۔ تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ میں مشکل میں اپنی مشکل کو مزید مشکل بنا لیتا ہوں؟کیا ہمیں نہیں معلوم کہ کامیابی کی چوٹی ناکامی کی گھاٹیوں سے گزر کر ملتی ہے؟ اور کیا ہمیں نہیں معلوم کہ سحر طلوع ہونے سے پہلے ظلمتِ شب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے؟

جب ہم یہ سب جانتے ہیں۔ جب ہمیں قانونِ قدرت کا ادراک ہے تو ہم اپنی حماقتوں میں کیوں پڑے رہتے ہیں؟ ایسے پیچیدہ معاملات میں ہم ماضی سے کیوں نہیں سیکھتے؟ دوسروں کے تجربات و مشاہدات سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ "الکتاب" سےرہنمائی کیوں نہیں لیتے؟ ایسے حالات میں ہماری سیکھنے کی صلاحیت کہاں چلی جاتی ہے؟

کسی نے کہا تھا کہ" جس انسان کو اپنی مشکلات پر قابو پانا آگیا اسے سیکھنا آگیا۔ جسے سیکھنا آگیا وہ ہر چیز سیکھ سکتا ہے۔ جو آدمی کچھ بھی سیکھ سکتا ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ جو کچھ بھی کر سکتا ہے وہ کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔" پھر سوچیے کہ کیا چیز ہے جسے وہ حاصل نہیں کر سکتا؟

انسان دنیا میں صرف ایک ہنر کے ساتھ آتا ہے اور وہ ہے سیکھنا۔ اس کی تمام صلاحیتوں کی ابتداء یہیں سے ہوتی ہے۔ یہی وہ ماخذ ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ یہ سوال بھی ذہن میں جگہ پکڑ سکتا ہے کہ جانور بھی تو سیکھتےہیں۔ انسان سیکھنے کے عمل سے گزر کر اشرف المخلوق بن جاتا ہے اور جانور حیوان کا حیوان رہ جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ سیکھنے کی بھی مختلف جہتیں ہیں۔ دیگر جانداروں اور انسان میں بنیادی فرق تبدیلی کا ہے۔ انسان تبدیلی کو قبول بھی کرتا ہے اور اس کا متلاشی بھی رہتا ہے۔ جانوروں میں ایسا نہیں ہے۔ آج تک کسی جانور نے بذاتِ خود اپنا طرزِ زندگی نہیں بدلا۔ کبھی کسی گوشت خور نے سبزی کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا۔ کبھی کسی بندر نے ادرک کھا کر شکر ادا نہیں کیا۔ کبھی کسی کتے نے اپنی دُم سیدھی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی کسی مچھلی نے اپنی رہائش کے لیے ایکویریم نہیں بنوایا۔ یہ تمام شوق انسان پالتا ہے۔

اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ انسان کے اندر پوٹینشلی طور پر موجود سیکھنے کی خواہش کیسے" اُڑن چھو" ہو جاتی ہے؟ دورِ حاضر میں کچھ چیزیں ہماری زندگیوں کا جزوِ لازم بن گئی ہیں۔ جیسے سمجھا جاتا ہے کہ پڑھائی لکھائی اور سیکھنا سمجھنا اسکول کی چار دیواری میں مقید ہے۔ سوچ کے اسی فرق نے ہمارے بچوں کو عملی طور پر ناکامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ آج بچے اُتنا ہی سیکھ رہے ہیں جتنا انہیں اسکول و کالج میں پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ بچوں نے لاشعوری طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم صرف وہی سیکھیں گے جو ہمیں "آٹھ سے دو" میں سکھایا جائے گا۔ یہی وہ لا شعوری فیصلہ ہےجس نے آج ہمارے ذوقِ مطالعہ اور ذوقِ تدبر اور غور و فکر کو بسترِ مرگ تک پہنچا دیا ہے۔ اقبال مرحوم نے کہا تھا؎

آتی ہے دمِ صبح سدا عرشِ بریں سے

کھویا گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک

کس طرح ہوا کند ترا نشترِ تحقیق

ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار

کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک

مہر و مہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں

کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک

یہی قرآن کا پیغام ہے۔ قرآنِ مجید میں سات سو سے زائد مقامات پر غور و فِکر کی تلقین کی گئی۔ دکھ درد سے کہنا پڑتا ہے کہ آج قوم قرآن کی مانتی نہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن اِس زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہی نہیں ہے۔ شاید تمام احکاماتِ شرعیہ و حِکمیہ ہمارے لیے غیر متعلقہ ہوگئے ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ ہمارا مذہبی طبقہ بھی قرآن مجید سے فقط فرائض و واجبات کی تخریج کرتا ہے۔ اور مسلکی طبقہ محض فریقِ مخالف کے کفر پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے لیے آیات ڈھونڈتا ہے۔ آج قرآن کو رہنمائی کے لیے کون پڑتا ہے؟ ہر بندہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قرآن کھولتا ہےاور اس بندے کی طرح بند کر کے رکھ دیتا جس نے "لاتقربوا الصلاۃ" کا لفظ سن کر سمجھ لیا تھا کہ نماز کے قریب بھی نہیں جانا۔ یہ حال ہمارا ہے۔ اللہم الہمنا رشدنا۔ آج جب غیر مسلم محقق کہتا ہے کہ سوچنے کی صلاحیت سے محروم انسان کچھ نہیں کرسکتا تو عیاں ہوتا ہے کہ قرآن نے سوچنے سمجھنے سے انکار کرنے والوں کو جانوروں سے بدتر کیوں کہا۔ سوچنے سمجھنے، غور و فکر کے اتنے بڑے فقدان کے باوجود اگر آپ کہتے ہو کہ ہماری اگلی نسل کامیاب ہوجائے گی تو یقین کیجیے آپ قوم کوناکامی کے تحت الثریٰ میں اُتار رہے ہیں۔ زمانہ طالبِ علمی میں یہ ایک غیر شعوری فیصلہ ہوتا ہے لیکن عملی زندگی تک پہنچتے پہنچتے انسان شعوری طور پر یہ فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ میرا سیکھنے کا زمانہ گزر گیا ۔ اب میں خود استاد ہوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا بھی نہایت ضروری ہے کہ سیکھنا کوئی فعلِ متعین نہیں ہے ، آپ جو کام کر رہے ہیں، جو بات سن رہے ہیں، جو کتاب پڑھ رہے ہیں، آپ اُس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ تمام چیزیں سیکھنا اُس وقت بنے گی جب آپ شعوری طور پر سیکھنے کا فیصلہ کرلیں گے۔ جب تک آپ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے آپ سیکھ نہیں پائیں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کھانا پلیٹ میں ڈال کر رکھ دیا جائے، آپ اس کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں لیکن یہ سوال آپ کے ذہن میں گردش کررہا ہو کہ میرا پیٹ کیوں نہیں بھر رہا۔حضور! پیٹ اسی وقت بھرے گا جب آپ کھانے کو معدہ تک پہنچائیں گے۔ اسی طرح سیکھیں گے اس وقت جب سیکھنے کا شعوری فیصلہ کرلیں گے۔ اور اگر آج فیصلہ نہیں کیا تو پھر زندگی تو گزر ہی رہی ہے، اس نے تو گزرنا ہی ہے۔ سانسیں تو چل رہی ہیں۔ انہوں نے چلتے جانا ہے۔ فیصلہ آپ کا ہوگا کہ آپ نے سانسوں کو لیکر چلنا ہے یا سانسوں نے آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر آگے کھینچنا ہے۔